

روزینہ اسماعیل,October22,2026
ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اکتوبر 2026ء
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے اپنی وزیرِ مملکت اور سینئر سفارت کار لانا ذکی نسیبہ کو باضابطہ امیدوار نامزد کر دیا ہے۔ اس نامزدگی کا اعلان اماراتی صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے صدور کو خطوط ارسال کرکے کیا گیا۔ لانا ذکی نسیبہ اقوام متحدہ کے نظام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں طویل تجربہ رکھتی ہیں اور اس سے قبل عالمی ادارے میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔
اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ نامزدگی عالمی سفارت کاری میں یو اے ای کی شمولیت اور اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین انتظامی عہدے کے لیے اس کے امیدوار کو باضابطہ طور پر پیش کرنے کی اہم پیش رفت ہے۔ سیکریٹری جنرل کا منصب اقوام متحدہ کے انتظامی نظام کی سربراہی کے ساتھ ساتھ عالمی امن، بین الاقوامی تعاون اور مختلف ممالک کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
لانا ذکی نسیبہ 2013 سے 2024 تک اقوام متحدہ میں متحدہ عرب امارات کی مستقل مندوب رہیں۔ وہ اس عہدے پر تعینات ہونے والی پہلی اماراتی خاتون تھیں۔ اپنے دور میں انہوں نے جنرل اسمبلی، سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے دیگر فورمز پر اماراتی مؤقف پیش کیا اور مختلف عالمی مسائل پر سفارتی رابطوں میں حصہ لیا۔
ان کے سفارتی تجربے میں بین الاقوامی امن و سلامتی، انسانی امداد، پائیدار ترقی اور کثیرالجہتی سفارت کاری جیسے شعبے شامل ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی نائب صدر کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یو این ویمن کے ایگزیکٹو بورڈ میں قیادت کا کردار ادا کیا اور خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات سے متعلق عالمی مباحثوں میں حصہ لیا۔
سلامتی کونسل کی صدارت کا تجربہ
لانا ذکی نسیبہ 2022 اور 2023 کے دوران دو مرتبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر بھی رہیں۔ اس عرصے میں متحدہ عرب امارات سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن تھا۔ سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران کونسل کے اجلاسوں کی کارروائی، مباحثوں اور بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق امور پر سفارتی رابطوں کی ذمہ داریاں اہمیت رکھتی ہیں۔
ان کا تجربہ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے طریقۂ کار اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کی نوعیت سے واقفیت فراہم کرتا ہے۔ تاہم سیکریٹری جنرل کے انتخاب میں سفارتی تجربے کے ساتھ رکن ممالک کی حمایت، سلامتی کونسل کی سفارش اور جنرل اسمبلی کے فیصلے کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔
تعلیم اور پیشہ ورانہ پس منظر
لانا ذکی نسیبہ نے برطانیہ کی یونیورسٹی آف کیمبرج سے تاریخ میں بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونیورسٹی آف لندن کے اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز (SOAS) سے اسرائیلی اور یہودی ڈائسپورا اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی تعلیمی تربیت اور سفارتی ذمہ داریوں کا تجربہ انہیں مشرقِ وسطیٰ اور بین الاقوامی امور سے متعلق مباحثوں میں شرکت کا پس منظر فراہم کرتا ہے۔
وہ اس وقت متحدہ عرب امارات کی وزیرِ مملکت ہیں اور اس سے پہلے سیاسی امور کی معاون وزیر کے طور پر بھی کام کر چکی ہیں۔ ان کے سرکاری اور سفارتی کردار میں عالمی اداروں کے ساتھ رابطے، بین الاقوامی پالیسی اور اماراتی خارجہ تعلقات سے متعلق ذمہ داریاں شامل رہی ہیں۔
سیکریٹری جنرل کی تقرری کا طریقۂ کار
اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق سیکریٹری جنرل کی تقرری جنرل اسمبلی کرتی ہے، لیکن اس سے پہلے سلامتی کونسل کی سفارش ضروری ہوتی ہے۔ اس عمل میں سلامتی کونسل کے ارکان کی حمایت فیصلہ کن اہمیت رکھتی ہے، جبکہ جنرل اسمبلی تقرری کی منظوری دیتی ہے۔ اسی لیے کسی امیدوار کی باضابطہ نامزدگی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کی تقرری یقینی ہو گئی ہے۔
لانا ذکی نسیبہ کی نامزدگی کے بعد توجہ اس بات پر رہے گی کہ انہیں سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے کتنی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ ان کا طویل سفارتی تجربہ اور اقوام متحدہ کے مختلف اداروں میں خدمات ان کے پیشہ ورانہ پس منظر کا اہم حصہ ہیں، تاہم انتخاب کے نتیجے کا انحصار مقررہ ادارہ جاتی طریقۂ کار اور رکن ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
متحدہ عرب امارات کی جانب سے لانا ذکی نسیبہ کو نامزد کرنا سیکریٹری جنرل کے انتخابی عمل میں ایک باضابطہ پیش رفت ہے، حتمی تقرری نہیں۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت سلامتی کونسل کی سفارش اور جنرل اسمبلی کی منظوری کے بعد ہی نئے سیکریٹری جنرل کی تقرری ہوتی ہے۔
ماخذ: اماراتی سرکاری خبر رساں ایجنسی، اقوام متحدہ، یو این ویمن