
کاشف عباسی ,October11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اسلام آباد کی جانب آنے والے لانگ مارچ کو دارالحکومت میں داخل نہیں ہونے دے گی اور اس معاملے میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں سیاسی صورتحال اور خیبر پختونخوا میں امن و امان کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں ماضی کے احتجاجی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ایسے حالات دوبارہ پیدا نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے بعض واقعات کا ذکر کیا اور کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں کی جانے والی گفتگو ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔ شہباز شریف کے مطابق انہوں نے کابینہ کو معاملے پر فیصلہ کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے ردعمل یا کسی باضابطہ پیش رفت کی تفصیلات شامل نہیں۔
خیبر پختونخوا میں امن و امان پر تنقید
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک اور بنوں جیسے علاقوں میں حملوں کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ انہوں نے صوبائی حکومت کے ردعمل پر تنقید کی، تاہم ان حملوں کی تعداد، نوعیت یا متعلقہ اعداد و شمار فراہم کردہ متن میں بیان نہیں کیے گئے۔
شہباز شریف نے کہا کہ سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کے مسائل پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے کی فراہمی کا دعویٰ
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو دہشت گردی سے متاثر ہونے کے تناظر میں ایک فیصد اضافی وسائل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق اب تک اس مد میں صوبے کو 800 ارب روپے دیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ رقم کہاں خرچ ہوئی اور کہا کہ اس کا مقصد انسدادِ دہشت گردی کے محکمے (سی ٹی ڈی) اور پولیس کو جدید ہتھیاروں اور ضروری وسائل سے لیس کرنا تھا۔
تاہم، فراہم کردہ بیان میں اس رقم کی مدت وار تفصیل، اخراجات کی تقسیم یا صوبائی حکومت کا جواب شامل نہیں۔ اس لیے رقم کے استعمال اور سکیورٹی اداروں کی استعداد سے متعلق حتمی نتیجے کے لیے سرکاری مالیاتی ریکارڈ اور متعلقہ حکام کا مؤقف اہم ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
لانگ مارچ کو روکنے سے متعلق وزیراعظم کا بیان حکومتی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال سے متعلق دعووں کا مکمل جائزہ لینے کے لیے وفاقی مالیاتی ریکارڈ اور صوبائی حکومت کا مؤقف بھی ضروری ہے۔
ماخذ: وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب