Latest news

شہباز شریف کا سعودی عرب سے یکجہتی کا اعادہ، آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع

Spread the love

منصور احمد,October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا جا رہا ہے، تاہم آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بڑھتی ہوئی کشیدگی باعثِ تشویش ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ اختلافات اور سکیورٹی مسائل کو پُرامن طریقے سے حل کیا جائے۔

اتوار کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے خلوصِ نیت کے ساتھ سفارتی کوششیں کیں، لیکن آبنائے ہرمز میں حالات خراب ہوئے۔ انہوں نے باب المندب میں جاری تشدد کو بھی افسوسناک قرار دیا اور خبردار کیا کہ اہم بحری گزرگاہوں پر کشیدگی کے اثرات علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

شہباز شریف کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ساتھ معاہدے کے تحت منسلک ہے اور سعودی عرب کے خلاف جارحیت کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ضرورت کے وقت تعاون کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے اس معاملے کو پاکستان کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ترجیح ہے کہ تنازع پُرامن انداز میں حل ہو۔ ان کے مطابق اگر صورتِ حال میں بہتری نہ آئی تو پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ہر طرح کا تعاون کرے گا۔ یہ بیان پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور سفارتی تعلقات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا چکا ہے۔ ان کے مطابق اس سال پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں رقم کی منتقلی کی حتمی تاریخ یا ادائیگی کی تفصیلات شامل نہیں۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے نیویارک میں ملاقات کے دوران پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو سراہا۔ اس حوالے سے انہوں نے اسے پاکستان کی معاشی کوششوں اور سفارتی رابطوں کے لیے مثبت پیش رفت قرار دیا۔

وزیراعظم کے خطاب میں علاقائی سکیورٹی اور معاشی استحکام دونوں کو اہم موضوعات کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم بحری گزرگاہوں کی صورتِ حال اور آئی ایم ایف کی رقم سے متعلق مزید تفصیلات کے لیے متعلقہ اداروں کے باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

وزیراعظم کے بیان میں علاقائی کشیدگی، سعودی عرب سے دفاعی تعاون اور پاکستان کی معاشی ضروریات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی متوقع وصولی کو حتمی ادائیگی سے الگ سمجھنا چاہیے؛ رقم کی فراہمی اور وقت سے متعلق تفصیلات کے لیے سرکاری اعلان اہم ہوگا۔

ماخذ: وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب