Latest news

شہباز شریف کا پی ٹی آئی پر دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا لانے کا الزام

Spread the love

منصور احمد,October13,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اکتوبر 2026ء

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے الزام عائد کیا ہے کہ 2018ء تک پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو چکا تھا، تاہم پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران دہشت گردوں کو خیبر پختونخوا میں واپس لایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سابقہ حکومت کی پالیسیوں سے ملک کی ترقی، معیشت اور امن و امان کی صورتِ حال کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوئے۔

منگل کو اسلام آباد میں اتحادی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بہتری اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو اہم ترجیح بنایا ہے۔ ان کے مطابق سابقہ پی ٹی آئی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی اور نہ ہی ایسے واقعات کی کھل کر مذمت کی۔

شہباز شریف نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے مشاورت کے بعد آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔ وفاقی حکومت ان اقدامات کو صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتِ حال اور انتظامی مسائل سے نمٹنے کے لیے ضروری قرار دے رہی ہے۔

حالیہ آئینی اقدامات کے بعد خیبر پختونخوا کے انتظامی امور میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور گورنر کی معاونت کے لیے ٹیکنوکریٹ ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق اس کونسل کا مقصد صوبے میں انتظامی معاملات بہتر بنانا، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اقدامات میں معاونت فراہم کرنا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا میں خوشحالی اور ترقی کا عمل آگے بڑھایا جائے گا۔ ان کے مطابق صوبے میں امن قائم کرنے کے ساتھ عوام کو بہتر معاشی مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

دوسری جانب پی ٹی آئی وفاقی حکومت کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔ پارٹی نے صوبے میں وفاقی مداخلت اور آئینی اقدامات پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اس معاملے پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ صوبے میں امن و امان اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمتِ عملی قومی سیاست کا اہم موضوع بن گئی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: وزیرِ اعظم کے بیان میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت پر دہشت گردی سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ان الزامات کو ثابت شدہ حقائق کے بجائے حکومتی مؤقف کے طور پر پیش کرنا ضروری ہے، کیونکہ پی ٹی آئی ان کی تردید کرتی رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں امن کے قیام کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی مکالمے، مؤثر انتظامیہ اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی اہم ہیں۔

ماخذ:

  • وزارتِ اطلاعات و نشریات پاکستان
  • ریڈیو پاکستان
  • دستیاب سرکاری بیانات اور متعلقہ سیاسی مؤقف