

کاشف عباسی ,October12,2026
مردان (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے خیبر پختونخوا میں شروع کیے گئے لانگ مارچ اور احتجاجی جلسوں کی سرگرمیاں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد نئی صورتحال سے دوچار ہو گئی ہیں۔ فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو خدشۂ نقصِ امن کے تحت تحویل میں لیے جانے کے بعد وہ کنٹینر نما ٹرک بھی مردان میں کھڑا ہے جس پر سوار ہو کر وہ اپنے قریبی ساتھیوں کے ہمراہ مختلف علاقوں میں احتجاجی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی سے منسوب تصاویر میں ٹرک کو مردان کے ایک بس ٹرمینل پر کھڑا دکھایا گیا ہے۔ تصاویر کے مطابق، گاڑی کے اطراف پولیس اہلکار اور دیگر افراد موجود ہیں۔ تاہم، فراہم کردہ معلومات سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ ٹرک کو وہاں کس حکم کے تحت کھڑا کیا گیا یا اس کی نقل و حرکت پر کوئی باضابطہ پابندی عائد کی گئی ہے یا نہیں۔
احتجاجی مہم کے لیے استعمال ہونے والا ٹرک مردان میں موجود
سہیل آفریدی اور ان کے ساتھی اس کنٹینر نما ٹرک کو صوبے کے مختلف علاقوں میں احتجاجی اجتماعات کے دوران استعمال کر رہے تھے۔ اس ٹرک سے جلسوں سے خطاب اور عوامی رابطے کی سرگرمیاں جاری تھیں۔
اب اس گاڑی کا مردان کے بس ٹرمینل پر کھڑا ہونا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صوبے کی سیاسی اور انتظامی صورتحال میں اہم تبدیلیوں کی اطلاعات دی جا رہی ہیں۔ تاہم، صرف ٹرک کی موجودگی کی بنیاد پر لانگ مارچ کے باضابطہ خاتمے یا تمام احتجاجی سرگرمیوں کی معطلی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
لانگ مارچ اور صوبائی سیاسی صورتحال
فراہم کردہ متن کے مطابق، پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر سے خیبر پختونخوا میں لانگ مارچ شروع کیا تھا اور سہیل آفریدی مختلف مقامات پر احتجاجی جلسوں سے خطاب کر رہے تھے۔ بعد ازاں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد ان کی تحویل سے متعلق اطلاعات سامنے آئیں۔
اس پیش رفت کے سیاسی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ پی ٹی آئی اپنی احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے یا نہیں، اور پارٹی قیادت کی جانب سے آئندہ لائحۂ عمل کے بارے میں کیا اعلان کیا جاتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سہیل آفریدی کو تحویل میں لیے جانے اور ٹرک کی موجودہ جگہ سے متعلق تفصیلات فراہم کردہ متن پر مبنی ہیں۔ ٹرک کی موجودگی بذاتِ خود کسی گرفتاری، ضبطی یا احتجاجی مہم کے خاتمے کا ثبوت نہیں۔ ان امور کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ماخذ: اے ایف پی فوٹو سروس، مردان نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز پشاور/مردان۔