Latest news

پی ٹی آئی کے مطالبات میں کوئی غیر آئینی یا غیر قانونی بات نہیں، سہیل آفریدی

Spread the love

کاشف عباسی ,October04,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات میں سے کوئی بھی غیر آئینی یا غیر قانونی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مطالبات پہلے بھی پی ٹی آئی کے مؤقف کا حصہ تھے، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔

سہیل آفریدی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی جماعت کے مطالبات کا مقصد ملک میں سیاسی استحکام، آئین و قانون کی بالادستی، جمہوری عمل کے تسلسل، عدالتی آزادی اور امن و امان کے قیام کے لیے عملی اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ ان کے بقول صوبے کے عوام کو دوسرے درجے کے شہری کی طرح سمجھا جا رہا ہے اور ریاست ان کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مذاکراتی کمیٹی کو بھیجے گئے مطالبات سے متعلق پی ٹی آئی اپنے مؤقف پر قائم ہے۔

سہیل آفریدی کی جانب سے جاری کیے گئے سات نکاتی مسودے میں وفاقی اور اپوزیشن قیادت کے درمیان باقاعدہ سیاسی مذاکرات، حکومت اور اپوزیشن پر مشتمل مشترکہ مذاکراتی کمیٹی کے قیام اور جمہوریت، سیاست، عدلیہ اور صحافت کے لیے آزادی کی بات کی گئی ہے۔

مسودے میں سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل قوانین، آئین اور قانون کے تحت دستیاب قانونی، انسانی اور طبی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اہل خانہ، وکلا اور مجاز افراد سے ملاقاتوں کی اجازت اور زیرِ سماعت یا سزا یافتہ قیدیوں کے قانونی معاملات کو قانون کے مطابق مقررہ مدت میں نمٹانے پر زور دیا گیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سات نکاتی مسودے میں خیبر پختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان بامعنی مشاورت، دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ مسودے کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومت کے مجاز نمائندوں کی 72 گھنٹوں کے اندر ملاقات اور قانون و آئین کے دائرے میں سکیورٹی حکمت عملی مرتب کی جانی چاہیے۔

مسودے کے ساتویں نکتے کے مطابق پی ٹی آئی وفاقی حکومت کی جانب سے طے شدہ اقدامات پر تحریری یقین دہانی اور ان پر مؤثر عمل درآمد کی ضمانت ملنے کے بعد لانگ مارچ منسوخ کرنے کا اعلان کرے گی۔ تاہم مسودے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر طے شدہ یقین دہانیوں یا آئینی و قانونی تقاضوں کی خلاف ورزی ہوئی تو جماعت اپنے آئینی، قانونی اور پُرامن جمہوری احتجاج کے حق کو محفوظ رکھے گی۔

یہ مطالبات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری مذاکرات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔ حالیہ مذاکرات میں دونوں فریق کئی امور پر بات چیت کے باوجود اہم معاملات پر اتفاق رائے حاصل نہیں کر سکے، جبکہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور عمران خان سے ملاقات سمیت بعض امور اختلاف کا باعث بنے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سہیل آفریدی کی جانب سے مطالبات کو غیر آئینی یا غیر قانونی نہ ہونے کا مؤقف ان کا سیاسی دعویٰ ہے، جسے خبر میں انہی سے منسوب کرکے پیش کیا گیا ہے۔ مذاکراتی مسودے کے نکات بھی پی ٹی آئی کی پیش کردہ تجاویز ہیں؛ ان کی قانونی حیثیت کے بارے میں حتمی فیصلہ متعلقہ آئینی اور قانونی فورمز ہی کر سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مذاکرات اور سکیورٹی سے متعلق بعض نکات پر مختلف مؤقف سامنے آیا ہے۔

ماخذ: نیوز اینڈ نیوز پشاور ,دستیاب تازہ رپورٹس