
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 ستمبر 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ مبینہ والد کے ساتھ براہ راست ڈی این اے ٹیسٹ نہ ہونے کی صورت میں کسی دوسرے رشتہ دار کے ساتھ کیا گیا جینیاتی موازنہ ولدیت ثابت کرنے کے لیے حتمی ثبوت نہیں بن سکتا۔ عدالت کے مطابق ایسے ٹیسٹ کی قانونی اہمیت کا تعین دیگر دستیاب شواہد، سرکاری ریکارڈ اور گواہوں کی شہادتوں کو مجموعی طور پر دیکھ کر کیا جانا چاہیے۔
یہ فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس عرفان سعادت خان اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے برکت خان اور دیگر کی جانب سے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواست پر جاری کیا۔
عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں وضاحت کی کہ براہ راست ڈی این اے ٹیسٹ میں بچے اور مبینہ والد کے جینیاتی نمونوں کا موازنہ کیا جاتا ہے، جس سے حیاتیاتی تعلق کے تعین میں مدد ملتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر مبینہ والد دستیاب نہ ہو اور بچے کا ڈی این اے کسی دوسرے رشتہ دار کے نمونے سے ملایا جائے تو اسے براہ راست ولدیت کا ٹیسٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بالواسطہ جینیاتی تجزیہ ہوتا ہے، جس سے خاندانی یا حیاتیاتی تعلق کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں، تاہم اسے تنہا ولدیت کا قطعی ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
عدالتوں کو تمام شواہد کا جائزہ لینا ہوگا
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ولدیت سے متعلق مقدمات میں ڈی این اے رپورٹ کو دیگر شواہد سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ عدالتوں کو نادرا اور یونین کونسل کے سرکاری ریکارڈ، متعلقہ دستاویزات اور گواہوں کے بیانات سمیت تمام دستیاب مواد کا مجموعی جائزہ لینا ضروری ہے۔
فیصلے کے مطابق زیرِ سماعت مقدمے میں پیش کی گئی ڈی این اے رپورٹ مبینہ والد کے ساتھ براہ راست جینیاتی موازنے پر مبنی نہیں تھی، اس لیے اسے ولدیت کے سوال کا حتمی جواب قرار نہیں دیا جا سکتا۔
عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے ایبٹ آباد بینچ کے فیصلے کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے دستیاب شواہد اور سرکاری ریکارڈ کو تفصیل سے پرکھا تھا۔ سپریم کورٹ کو ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ ہائی کورٹ نے کسی اہم شہادت کو نظرانداز کیا یا اسے غلط طور پر پڑھا۔
درخواست میرٹ پر مسترد
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت کے لیے کوئی قابلِ قبول قانونی بنیاد پیش نہیں کی گئی۔ چنانچہ عدالت نے درخواست میں میرٹ نہ ہونے کی بنا پر اسے خارج کر دیا۔
فیصلے میں بنیادی طور پر یہ اصول واضح کیا گیا ہے کہ بالواسطہ ڈی این اے رپورٹ کو ولدیت کا قطعی ثبوت سمجھنے کے بجائے اس کی اہمیت دیگر قانونی اور دستاویزی شواہد کے ساتھ جانچی جائے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سپریم کورٹ کے فیصلے میں براہ راست ڈی این اے موازنے اور رشتہ دار کے ذریعے کیے گئے بالواسطہ جینیاتی تجزیے کے درمیان فرق واضح کیا گیا ہے۔ عدالت نے ڈی این اے ٹیسٹ کی افادیت کو مسترد نہیں کیا بلکہ ولدیت کے تعین کے لیے تمام متعلقہ شواہد کو مجموعی طور پر دیکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ فیصلہ زیرِ سماعت مقدمے میں دستیاب شواہد اور قانونی نکات کی بنیاد پر دیا گیا۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کی فراہم کردہ خبر۔