Latest news

ذمہ دار میڈیا اقوام کے درمیان اعتماد اور بین الثقافتی مکالمے کو فروغ دے سکتا ہے، وجیہہ قمر

Spread the love

کاشف عباسی , October01,2026

باکو (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء

وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت وجیہہ قمر نے کہا ہے کہ تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی اور ڈیجیٹل ماحول میں میڈیا کی ذمہ داری صرف معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں رہی بلکہ ذمہ دار صحافت اقوام کے درمیان اعتماد، سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بات آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں منعقدہ پہلے سی آئی سی اے میڈیا فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ فورم کا مرکزی موضوع ’’تقسیم شدہ دنیا میں میڈیا کے ذریعے اعتماد کا فروغ‘‘ تھا، جبکہ وجیہہ قمر نے ’’سماجی ہم آہنگی اور بین الثقافتی مکالمے کے فروغ میں میڈیا کا کردار‘‘ کے موضوع پر پاکستان کی نمائندگی کی۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا صرف معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے عامہ کی تشکیل اور مختلف معاشروں اور اقوام کے بارے میں تصورات پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے۔ میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے ساتھ اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے، کیونکہ غلط یا گمراہ کن اطلاعات معاشروں کے درمیان فاصلے، غلط فہمیاں اور عدم اعتماد پیدا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مستند اور ذمہ دار صحافت مختلف اقوام، ثقافتوں اور معاشروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد دے سکتی ہے۔ ان کے مطابق میڈیا معاشروں کے درمیان فاصلے بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے اور انہی فاصلوں پر پل تعمیر کرنے کا کردار بھی ادا کر سکتا ہے، اس لیے پاکستان ذمہ دارانہ اور تعمیری ابلاغ کو فروغ دینے کی حمایت کرتا ہے۔

وزیرِ مملکت نے ڈیجیٹل دور کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا نے لاکھوں افراد کو اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا موقع فراہم کیا ہے، تاہم اس کے ساتھ غلط معلومات، گمراہ کن مواد اور تقسیم پیدا کرنے والے بیانیوں کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے زیادہ مستند معلومات، مضبوط صحافتی معیار، میڈیا لٹریسی اور ذمہ دار ڈیجیٹل شہریت کو فروغ دینا ضروری ہے۔

انہوں نے نوجوانوں میں میڈیا لٹریسی کو تعلیم کا اہم حصہ بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو صرف معلومات حاصل کرنے کے بجائے ان کی سچائی، ماخذ اور مقصد کا تنقیدی جائزہ لینے کے قابل ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق نوجوانوں میں یہ صلاحیت پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ کسی بھی معلومات کو قبول کرنے سے پہلے اس کی قابلِ اعتماد حیثیت، ماخذ اور ممکنہ مقصد کا جائزہ لے سکیں۔

وجیہہ قمر نے سی آئی سی اے کے رکن ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک مستقل سی آئی سی اے میڈیا کوآپریشن فریم ورک کی جانب پیش رفت کی تجویز بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے تحت رکن ممالک کے میڈیا اداروں، صحافیوں، ماہرینِ تعلیم اور نوجوان ڈیجیٹل تخلیق کاروں کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے صحافیوں کے تبادلے، مشترکہ دستاویزی فلموں اور میڈیا پروڈکشنز، مواد کے تبادلے، یوتھ میڈیا اقدامات اور مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے فروغ کی تجویز بھی پیش کی۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ نوجوان اب صرف میڈیا کے صارف نہیں رہے بلکہ وہ خود مواد تخلیق کرنے، ابلاغ اور رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایشیا ثقافتی، لسانی اور تہذیبی تنوع سے مالا مال خطہ ہے، تاہم مختلف معاشروں کے عوام امن، وقار، تعلیم، مواقع اور اپنی آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل جیسی مشترکہ خواہشات رکھتے ہیں۔

وجیہہ قمر نے کہا کہ سی آئی سی اے جیسے پلیٹ فارمز مشترکہ اقدار کو اجاگر کرنے اور خطے کے عوام کے درمیان روابط مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اعتماد مسلط نہیں کیا جا سکتا بلکہ اسے حاصل کرنا پڑتا ہے، جبکہ باہمی تفہیم کے بغیر مؤثر مکالمہ ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار امن صرف حکومتوں کی کوششوں سے قائم نہیں ہوتا بلکہ اس کی بنیاد اس بات پر بھی ہوتی ہے کہ مختلف معاشرے ایک دوسرے کو کس طرح دیکھتے، سمجھتے اور ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہیں۔

وجیہہ قمر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سی آئی سی اے کے رکن ممالک کے ساتھ مل کر میڈیا کے ذریعے اعتماد سازی، مکالمے، ثقافتی تنوع کے احترام اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باکو میں ہونے والا پہلا سی آئی سی اے میڈیا فورم میڈیا کے کردار پر گفتگو کے ساتھ ساتھ مستقبل میں عملی اور دیرپا تعاون کی بنیاد بھی بنے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

وجیہہ قمر نے باکو میں منعقدہ پہلے سی آئی سی اے میڈیا فورم سے خطاب میں ذمہ دار صحافت، میڈیا لٹریسی اور بین الثقافتی مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کی گفتگو میں خاص طور پر نوجوانوں، ڈیجیٹل میڈیا اور سی آئی سی اے رکن ممالک کے درمیان میڈیا تعاون کے ممکنہ طریقوں کو اجاگر کیا گیا۔

ماخذ:
اے پی پی