سینیگال کے لیے آئی ایم ایف کا نیا قرض پروگرام: تکنیکی مذاکرات اور اصلاحات کے جائزہ کے لیے فنڈ کا مشن واشنگٹن سے روانہ

محمود احمد, August 19,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ اس کی عملہ ٹیم 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا دو ہفتے طویل اہم دورہ کرے گی۔ اس دورے کے دوران آئی ایم ایف حکام سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت ممکنہ طور پر معاونت حاصل کرنے والی پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور مزید تکنیکی امور پر سینیگالی انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی بات چیت جاری رکھیں گے۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کی ٹیم کا یہ جامع دورہ سینیگال کے لیے ایک نئے معاشی پروگرام کی سمت اہم پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ اس وقت تکنیکی سطح کے مذاکرات کے لیے بالکل تیار ہے جب سینیگال کے حکام خود کو اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے تیار قرار دیں گے۔

آئی ایم ایف کا یہ تازہ اقدام اور دو ہفتوں کا دورہ 2024ء میں سینیگال کی جانب سے قومی قرضوں کی غلط رپورٹنگ کے سامنے آنے والے معاملے کو بحسن و خوبی حل کرنے اور شفافیت قائم کرنے کی کوششوں کا اگلا مرحلہ ہے۔ یاد رہے کہ قرض کے ڈیٹا میں گڑبڑ اور غلط معلومات کی فراہمی کی وجہ سے آئی ایم ایف کا سابقہ قسط اور امدادی پروگرام روک دیا گیا تھا، جس کے بعد اب نئی اصلاحات کی روشنی میں نیا فریم ورک طے کیا جا رہا ہے۔

سینیگال کے لیے نیا قرض پروگرام: آئی ایم ایف کی ٹیم تکنیکی مذاکرات کے لیے 19 اگست کو ڈکار پہنچے گی

محمود احمد, August 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اعلان کیا ہے کہ فنڈ کا وفد 19 اگست سے یکم ستمبر تک مغربی افریقی ملک سینیگال کا اہم دورہ کرے گا۔ اس دو ہفتہ وار دورے کے دوران آئی ایم ایف کی ٹیم سینیگال کے لیے ایک نئی مالیاتی قرض سہولت کے تحت مجوزہ پالیسیوں، معاشی اصلاحات اور تکنیکی امور پر سینیگالی حکام کے ساتھ تفصیلی بات چیت کرے گی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، آئی ایم ایف کی مکمل ٹیم کا یہ دورہ سینیگال کے ساتھ نئے معاشی پروگرام کی بحالی کی جانب اہم پیش رفت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل 3 اگست کو آئی ایم ایف کے ترجمان نے واضح کیا تھا کہ فنڈ کا عملہ سینیگال کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور یہ دورہ ملکی حکام کی آمادگی کے بعد ممکن ہوا ہے۔

یہ مذاکرات سال 2024ء میں سینیگال کے سابقہ حکومت کی جانب سے قومی قرضوں سے متعلق کی جانے والی غلط رپورٹنگ اور غلط اعداد و شمار کے معاملے کو حل کرنے کی کوششوں کا تسلسل ہیں۔ اس مالیاتی بے ضابطگی کے باعث آئی ایم ایف نے سینیگال کا سابقہ مالیاتی پروگرام معطل کر دیا تھا۔ اب نئے جائزے اور اصلاحاتی فریم ورک کے بعد سینیگال کے لیے نئے قرض پروگرام کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔

عالمی سطح پر اہم معدنیات کا بڑھتا ہوا انحصار اور جیو پولیٹیکل تبدیلیاں: آئی ایم ایف کا جائزہ

کاشف عباسی , August 17,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 17 اگست 2026ء

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنے حالیہ بلاگ میں اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں ماحول دوست و شفاف توانائی کی طرف منتقلی، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی وسعت اور دفاعی صلاحیتوں کی ازسرِ نو ترتیب کے باعث عالمی سطح پر معدنیات کی اسٹریٹجک اہمیت میں ایک بار پھر بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق اہم اور نایاب معدنیات پر دنیا کے بڑھتے ہوئے انحصار نے عالمی سیاسی اور معاشی تناظر میں نئی جیو پولیٹیکل فالٹ لائنز کو جنم دیا ہے۔

بلاگ کے متن کے مطابق لیتھیم، کوبالٹ اور دیگر نایاب زمینوں سے حاصل ہونے والی معدنیات آج عالمی معیشت میں بالکل وہی کلیدی اور اسٹریٹجک مقام حاصل کر چکی ہیں جو ماضی میں خام تیل، کوئلہ اور سٹیل وغیرہ کو حاصل تھا۔ آئی ایم ایف نے مزید نشاندہی کی کہ بین الاقوامی سطح پر برآمدات پر پابندیاں، تجارتی کنٹرول اور دیگر جیو پولیٹیکل رکاوٹیں اس شعبے کو شدید متأثر کر رہی ہیں۔ مالیاتی ادارے کے مطابق یہی اہم معدنیات مستقبل میں دنیا کی اقتصادی، صنعتی، ٹیکنالوجیکل اور عسکری طاقت کے نئے معیار طے کریں گی۔

عالمی تحفظ پسندی کے باوجود چین کا معاشی معجزہ: 7 ماہ میں غیر ملکی تجارت 30 ٹریلین یوآن سے متجاوز

محمود احمد, August 08,2026

بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

عالمی سطح پر معاشی سست روی، تجارتی رکاوٹوں اور تحفظ پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے باوجود چین کی غیر ملکی تجارت نے غیر معمولی استحکام اور لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ رواں سال (2026ء) کے پہلے سات ماہ کے دوران چین کی اشیاء کی تجارت کا کل حجم 30.13 ٹریلین یوآن تک پہنچ گیا ہے، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 17.3 فیصد زیادہ ہے۔

سی جی ٹی این اور عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق، اس عرصے کے دوران چین کی عالمی برآمدات میں 14 فیصد جبکہ درآمدات میں 22 فیصد کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رائٹرز سمیت دیگر بین الاقوامی میڈیا اداروں نے چینی تجارت کے ان اعداد و شمار کو متوقع اندازوں سے کہیں بہتر اور حیران کن قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خاص طور پر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی مصنوعات کی بین الاقوامی طلب نے چینی برآمدات کو زبردست تقویت بخشی ہے۔

چائنا رین مین یونیورسٹی کے ممتاز پروفیسر وانگ شیاؤ سونگ نے اس معاشی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ چین کے پاس دنیا کا سب سے مکمل اور مربوط صنعتی نظام موجود ہے، جو بلا تعطل اور مؤثر سپلائی چین کو یقینی بناتا ہے۔ یہی مضبوط پیداواری بنیاد چین کی تجارتی اور معاشی پائیداری کی اصل ضامن ہے۔

چین کی اس شاندار کارکردگی کے بعد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ، ڈوئچے بینک اور دیگر معروف عالمی مالیاتی اداروں نے سال 2026ء کے لیے چین کی جی ڈی پی کی متوقع شرحِ نمو میں اضافہ کر دیا ہے، جو عالمی معیشت میں چین کے قائدانہ کردار کا واضح ثبوت ہے۔