پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی , September 07,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، عظیم شہداء اور جری غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی تاریخی خدمات، بے مثال قربانیاں اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، کوئٹہ سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر ہیرو راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ ان بہادر سپوتوں کا عظیم ایثار اور خون آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاک فضائیہ کی تاریخی اور حالیہ پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کر کے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس مؤثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر دنیا میں فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کا فضائی دفاع مکمل طور پر محفوظ اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 7 ستمبر کا دن محض ایک روایتی قومی دن نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے بے لوث وفاداری کے جذبے کی تجدید کا ایک خاص موقع ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنے شاہینوں کی فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم ان کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک فضائیہ کے غازیوں و موجودہ افسران و جوانوں کی مزید سربلندی اور کامرانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

دو سالوں میں 133 ارب روپے کی منشیات تلف؛ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح

کاشف عباسی , September 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سخت اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب اور موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر کے تلف کی جا چکی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور اداروں کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضہ میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ دو سال کے عرصے میں 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کر کے تلف کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جاری یہ مہم محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع اور منظم جدوجہد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبے کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔

کویٹہ میں سیف سٹی اتھارٹی کا اہم اجلاس: وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے پنجاب سے تعاون حاصل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 24,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی سرکوبی اور شہریوں کے تحفظ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے بتایا کہ سیف سٹی کے نگرانی کے جدید نظام کی مدد سے ملک بھر سے چوری کی گئی 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے ذریعے دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے جن سے ملزمان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسلک کر دیا گیا ہے تا کہ ہنگامی حالات میں بروقت ایکشن لیا جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ بلوچستان میں اس نظام کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو باضابطہ مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے تاکہ عوامی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان: امن و امان کے باعث خضدار، قلات اور حب میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ملتوی، 3 اضلاع میں پولنگ کی تمام تیاریاں مکمل

منصور احمد, August 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ اور حساس صورتحال کے پیشِ نظر ضلع خضدار، قلات اور حب میں دوسرے مرحلے کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس التوا کے بعد صوبہ بلوچستان کے باقی 3 اضلاع — ژوب، لورالائی اور سبی — میں مختلف میونسپل کمیٹیز اور یونین کونسلز کی 6 خالی جنرل نشستوں پر دوسرے مرحلے کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تمام انتظامی و سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان 6 نشستوں پر کل 19 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 5 ہزار 546 ہے، جن میں 2 ہزار 942 مرد اور 2 ہزار 604 خواتین ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

ووٹرز کی سہولت کے لیے مجموعی طور پر 8 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 2 مردانہ، 2 زنانے اور 4 مشترکہ (کمبائنڈ) پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 پولنگ اسٹیشنز کو ‘حساس’ جبکہ 2 کو ‘نارمل’ قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان اضلاع میں پولنگ کل بروز اتوار (09 اگست) کو صبح 8:00 بجے سے بغیر کسی وقفے کے شام 4:00 بجے تک جاری رہے گی۔