درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں “پودے لگاؤ، ملک سنوارو” مون سون شجرکاری مہم کا آغاز: کیمپس کو سرسبز بنانے اور مصنوعی جنگل کے قیام کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, August 11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اگست 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی نے بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی کیمپس کو ماحول دوست بنانے کے لیے ”پودے لگاؤ، ملک سنوارو“ کے عنوان سے مون سون شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کی عمارت کے سامنے واقع مرکزی پارک میں ”کوریزیا“ کا پودا لگا کر اس مہم کا افتتاح کیا۔ افتتاح کے پروقار موقع پر یونیورسٹی کے تمام ڈینز، رجسٹرار، تمام پرنسپل افسران اور شعبہ ہارٹیکلچر کے حکام بھی موجود تھے۔ وائس چانسلر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ درخت لگانا صرف خوبصورتی کی سرگرمی نہیں بلکہ ہماری اجتماعی بقا اور صحت مند مستقبل کا ضامن ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے شجرکاری کو ہر شہری کے لیے قومی فرض کا درجہ دینا ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے شعبہ ہارٹیکلچر کو ہدایت جاری کی کہ یونیورسٹی کیمپس کے اندر ایک مصنوعی جنگل کے قیام کے لیے تمام ضروری انتظامات کو فوری طور پر حتمی شکل دی جائے تاکہ کیمپس کو جدید اور پائیدار ماحولیاتی ماڈل میں ڈھالا جا سکے۔

شعبہ زرعی سائنس کے ہارٹیکلچر آفیسر وجیح الحسن نے مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے آگاہ کیا کہ پہلے مرحلے میں کیمپس کے اندر ستر خوبصورت پھول دار پودے لگائے جا رہے ہیں، جبکہ اس پوری مون سون مہم کے لیے کل دو سو پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی دوران پروفیسر ڈاکٹر ارشاد احمد ارشد نے بتایا کہ اس مہم میں استعمال ہونے والے ستر فیصد پودے کسی باہر کی نرسری سے خریدنے کی بجائے یونیورسٹی میں پہلے سے موجود پودوں ہی سے تیار کیے گئے ہیں، جو کہ حکومتی و ادارے کے مالی وسائل کے انتہائی موثر اور پائیدار استعمال کا بہترین ثبوت ہے۔

تقریب کے اختتام پر تمام ڈینز اور سینئر افسران نے بھی پودے لگائے اور یونیورسٹی میں سبزہ زاروں کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اس مہم کا بنیادی مقصد کیمپس کو خوبصورت بنانے کے ساتھ ساتھ اساتذہ، طلبہ اور ملازمین میں ماحولیاتی تحفظ اور شجرکاری کی اہمیت کا شعور بیدار کرنا ہے۔

گرین لیگیسی انیشیٹو: ایتھوپین سفارتخانے کا اسلام آباد میں شجرکاری مہم کا انعقاد، پاکستانی شہریوں کی بھرپور شرکت

منصور احمد, August 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اگست 2026ء

ایتھوپیا کے وزیراعظم ڈاکٹر ابی احمد کے تاریخی ‘گرین لیگیسی انیشیٹو’ کے تحت ایک ہی دن میں شجرکاری کی عالمی مہم میں پاکستانی شہریوں نے بھی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی ہے۔

اسلام آباد میں قائم ایتھوپین سفارتخانے نے کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے تعاون سے ایک خصوصی شجرکاری مہم کا اہتمام کیا، جس میں سفارتی برادری، تاجر برادری، میڈیا نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

پاکستان میں اس تقریب کا بنیادی مقصد ایتھوپیا کے اس عظیم الشان قومی ہدف کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار تھا جس کے تحت ایک ہی دن میں 80 کروڑ پودے لگائے جا رہے ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسلام آباد میں ایتھوپین سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز مسٹر میلاؤ گیٹاچو نے گرین لیگیسی انیشیٹو کے ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایتھوپیا اب تک 48 ارب سے زائد پودے لگا چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ “آج کی اس مہم کا مقصد ایتھوپیا میں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونا اور 80 کروڑ پودے لگانے کے ان کے عظیم ہدف کی حمایت کرنا ہے۔” انہوں نے موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایتھوپیا کی عالمی قیادت پر بھی زور دیا اور بتایا کہ ادیس ابابا جلد ہی بین الاقوامی کلائمیٹ سمٹ کی میزبانی بھی کرے گا۔

اس موقع پر کلین اینڈ گرین موومنٹ اسلام آباد کے چیئرمین اور اسلام آباد چیمبر آف کامرس کے سابق صدر ظفر بختاوری نے جنگلات کی بحالی کے لیے ایتھوپیا کی ان شاندار کاوشوں کو زبردست الفاظ میں سراہا۔

انہوں نے کہا کہ “گرین لیگیسی انیشیٹو کا وژن اسلام آباد کی ہماری ‘کلین اینڈ گرین موومنٹ’ کے اہداف سے مکمل طور پر مطابقت رکھتا ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر متحد ہو کر مشترکہ اقدامات کرنا وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔

جامعہ ہری پور میں مشترکہ شجرکاری مہم کا پروقار افتتاح؛ سرسبز اور صحت مند پاکستان کے عزم کا اعادہ

روزینہ اسماعیل, JULY 27,2026

ہری پور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

محکمہ جنگلات خیبر پختونخوا، آر ای سی پی پاکستان اور یونیورسٹی آف ہری پور کے شعبہ ماحولیاتی سائنسز کے باہمی اشتراک سے پیر کے روز یونیورسٹی آف ہری پور میں ایک پروقار شجرکاری مہم کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس ماحول دوست پیش رفت کا بنیادی مقصد اجتماعی اور ہم آہنگ کوششوں، ماحولیاتی آگاهی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بیدار کر کے سرسبز و شاداب مستقبل کی بنیا د رکھنا ہے۔ ترجمان یونیورسٹی کے مطابق تقریب سے ڈویژنل فارسٹ آفیسر ہری پور عقیل عباسی، انسپکٹر جنرل آف فارسٹس سید محمود ناصر اور سی ای او آر ای سی پی پاکستان ڈاکٹر ارشاد رامی نے خطاب کیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عابد فرید نے اپنے کلیدی خطاب میں پائیدار ماحولیاتی توازن کے لیے درختوں کی افادیت پر زور دیتے ہوئے تینوں اداروں کے مشترکہ جذبے کو سراہا۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں کو معلوماتی و انتظامی خدمات کے اعتراف میں شیلڈز پیش کی گئیں، جس کے بعد کیمپس میں یادگاری پودے لگائے گئے اور یادگاری گروپ فوٹو لی گئی۔