بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دو دنوں میں 48 عسکریت پسند ہلاک

منصور احمد, September 04,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

بلوچستان: امن و امان کے باعث خضدار، قلات اور حب میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ملتوی، 3 اضلاع میں پولنگ کی تمام تیاریاں مکمل

منصور احمد, August 08,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلوچستان میں امن و امان کی موجودہ اور حساس صورتحال کے پیشِ نظر ضلع خضدار، قلات اور حب میں دوسرے مرحلے کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کو عارضی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس التوا کے بعد صوبہ بلوچستان کے باقی 3 اضلاع — ژوب، لورالائی اور سبی — میں مختلف میونسپل کمیٹیز اور یونین کونسلز کی 6 خالی جنرل نشستوں پر دوسرے مرحلے کے ضمنی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کے لیے تمام انتظامی و سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ان 6 نشستوں پر کل 19 امیدوار مدِ مقابل ہیں۔ ان حلقوں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 5 ہزار 546 ہے، جن میں 2 ہزار 942 مرد اور 2 ہزار 604 خواتین ووٹرز اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔

ووٹرز کی سہولت کے لیے مجموعی طور پر 8 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں، جن میں 2 مردانہ، 2 زنانے اور 4 مشترکہ (کمبائنڈ) پولنگ اسٹیشنز شامل ہیں۔ سیکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے 6 پولنگ اسٹیشنز کو ‘حساس’ جبکہ 2 کو ‘نارمل’ قرار دیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق ان اضلاع میں پولنگ کل بروز اتوار (09 اگست) کو صبح 8:00 بجے سے بغیر کسی وقفے کے شام 4:00 بجے تک جاری رہے گی۔