

محمود احمد, August 14,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اگست 2026ء
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، نیویارک کے مشترکہ اور باہمی اہتمام سے چانسلری کی عمارت میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی شاندار، والہانہ اور پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی اور اہم تقریب میں امریکہ بالخصوص نیویارک اور گرد و نواح میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی اہلکاروں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے انتہائی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ اور پروقار آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور روح پرور دھن سے ہوا، جس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام حاضرین کی موجودگی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر چانسلری کا احاطہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے فوراً بعد تقریب میں موجود تمام ارکان اور معزز مہمانوں نے ملکی سلامتی، پائیدار ترقی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کو خراجِ عقیدت
تقریب کے باقاعدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت، پاکستان کے بنیادی نظریہ اور قومی مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت، اصول پسندی اور دوراندیشی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی مدبر اور تاریخی ریاست ساز قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تاریخی جدوجہد کی باوقار قیادت کی بلکہ عالمی نقشے پر ایک آزاد، خود مختار اور باوقار قومی ریاست کی بنیاد بھی رکھی۔
اپنے خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے مشہور و معروف امریکی مؤرخ اور سوانح نگار اسٹینلے وولپرٹ کے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تاریخی قول کا بالخصوص حوالہ دیا۔ انہوں نے اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا:
“بہت کم افراد تاریخ کے دھارے کا رخ نمایاں طور پر بدلتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ دنیا کے نقشے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اور شاید ہی کسی کو ایک قومی ریاست کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں عظیم الشان کارنامے تنہا انجام دیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے متعین کردہ اصول—اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط—آج بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی اصولوں پر کاربند رہ کر ہم دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔
1947ء سے 2026ء تک کا شاندار قومی سفر اور مسلح افواج کو سلام
سفیر عاصم افتخار احمد نے 14 اگست 1947ء سے لے کر آج یعنی 14 اگست 2026ء تک کے قومی سفر کی کٹھن راہوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد سخت، جیو پولیٹیکل اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی استقامت، اتحاد اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی تحفظ کی خاطر دن رات کوشاں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، شجاعت اور مسلسل ثابت قدمی کو دل کھول کر سراہا۔ سفیر عاصم افتخار نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والی حالیہ شدید کشیدگی اور سرحدی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے مئی 2025ء کے دوران جس بے مثال طاقت، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور دفاعی عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ انہوں نے شہدائے وطن کو سلام پیش کیا جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ملک آزاد اور محفوظ فضا میں سانس لے رہا ہے۔
پاکستانی خواتین، نوجوانوں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی
پاکستانیوں کی عالمی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص شعبہ سائنس، تکنیکی جدت، کھیلوں، فن و ثقافت اور سفارت کاری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کی تعریف کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود سفارتی مشن سے منسلک ممتاز خواتین محترمہ صائمہ سلیم اور محترمہ علینہ مجید کی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مستقل مشن میں سب کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔
عالمگیر امن کے قیام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ ایران تنازع کے دوران پاکستان کے مثبت اور مؤثر ثالثانہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن اور استقامت کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کی پاسداری کی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل اخلاقی و سفارتی حمایت
سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے غیر ملکی تسلط میں محصور عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ عرب علاقوں اور فلسطین کے عوام کو ان کا جائز اور قانونی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کا خطاب اور پاک امریکہ تعلقات
تقریب سے قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد اتوزئی نے بھی ایک فکر انگیز اور تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے تمام شہداء و مجاہدین کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت اور عظیم الشان ورثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری قومی ذمہ داری بھی ہے۔
قونصل جنرل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اصل سرمایہ اور ہمارا فخر ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف معاشی ترسیلاتِ زر، براہ راست سرمایہ کاری، خیراتی کاموں اور اپنے تعلیمی و معاشی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ پاکستان اور امریکہ کے کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ شکست سفارتی و ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یومِ آزادی کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مضبوط، خوشحال، مساوی اور جدت پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کو دہرانے کا دن قرار دیا۔ قونصل جنرل نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو دہائیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں، تاکہ جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو۔
پیغامات کی خواندگی اور بچوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں چانسلری کے سینئر افسران ذوالفقار علی، عمر شیخ اور محمد فہیم نے بالترتیب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی، فکر انگیز اور تہنیتی پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ پرچم کشائی اور پورے پروگرام کی باقاعدہ نظامت و کارروائی کے فرائض قونصلر جواد اجمل نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی، ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، سفارتی افسران اور تقریب میں موجود بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے انہیں پاکستان کا تابناک مستقبل قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان سونپیں جو ہمیشہ روشن، پائیدار اور خود مختار رہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے پرکلف روایتی پاکستانی refreshments کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جہاں برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے مل کر جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔