وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔
ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔
وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026ء کے اختتام تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے تحت مجموعی ترسیلاتِ زر بڑھ کر 13.647 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو جون 2026ء کے اختتام پر 13.365 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق صرف جولائی 2026ء کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 282 ملین ڈالر بھیجے، جبکہ جون میں 306 ملین ڈالر اور مئی 2026ء میں 312 ملین ڈالر موصول ہوئے تھے۔ پروگرام کے تحت رجسٹرڈ اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد جولائی میں 10 ہزار 589 کے اضافے سے 9 لاکھ 56 ہزار 790 ہو گئی ہے، جبکہ جون میں یہ تعداد 9 لاکھ 46 ہزار 201 ریکارڈ کی گئی تھی۔
جولائی کے اختتام تک تارکینِ وطن نے مختلف مالیاتی اسکیموں میں نمایاں سرمایہ کاری کی۔ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں 684 ملین ڈالر، نیا پاکستان اسلامی سرٹیفکیٹس میں 1316 ملین ڈالر اور روشن ایکویٹی انویسٹمنٹ میں 151 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطنِ عزیز میں براہِ راست بینکاری، رقوم کی منتقلی اور مختلف شعبوں میں محفوظ سرمایہ کاری کے لیے جدید اور آسان سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
کینیڈا کے دارالحکومت اوٹاوا میں واقع پاکستان کے ہائی کمیشن سمیت مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور میں قائم پاکستان کے تینوں قونصل جنرلز کے زیرِ اہتمام پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی کی انتہائی پروقار، عظمت والی اور روح پرور تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان تاریخی تقریبات کا ایک اور نہایت اہم اور دلکش پہلو بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کا باقاعدہ آغاز تھا، جس نے کینیڈا میں مقیم پاکستانی برادری کے ملی جوش و جذبے کو دوبالا کر دیا۔
اوٹاوا میں پاکستان ہائی کمیشن کی چانسری میں مرکزی اور پُرجوش پرچم کشائی کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں کینیڈا بالخصوص گریٹر اوٹاوا کے علاقے سے تعلق رکھنے والی پاکستانی کمیونٹی کی معزز شخصیات، خواتین، بچوں، مقامی کینیڈین شہریوں اور پاکستان کے دوستوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے فوراً بعد پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور باوقار دھن کے ساتھ ہی قومی پرچم فضا میں لہرایا گیا اور پورا احاطہ “پاکستان زندہ باد” کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔
صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم کے خصوصی پیغامات
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں سفارتی مشن کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کی اعلیٰ ترین القيادت کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی اور فکر انگیز پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ جن میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے پیغامات شامل تھے۔ پیغامات میں ملکی آزادی کی تاریخ، بانیانِ پاکستان کی لائقِ تحسین قربانیوں، اوورسیز پاکستانیوں کے بے مثال معاشی و سفارتی کردار اور ملک و قوم کو درپیش چیلنجز پر قابو پانے کے لیے اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط کے اصولوں پر کاربند رہنے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔
قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کی تقریبات، تصویری نمائش اور ڈاکیومنٹری
اس مبارک موقع پر بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کی مناسبت سے سال بھر جاری رہنے والی خصوصی تقریبات کی افتتاحی مہم کا باقاعدہ آغاز بھی کیا گیا۔ اس سلسلے میں ہائی کمیشن کے احاطے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے مثال زندگی، قیادت اور قیامِ پاکستان کی تاریخی و بے باک جدوجہد پر مبنی ایک اعلیٰ معیار کی دستاویزی فلم پیش کی گئی، جسے حاضرین نے انتہائی دلچسپی سے دیکھا۔
علاوہ ازیں، بانیٔ پاکستان کی زندگی کے یادگار و تاریخی لمحات، تحریکِ پاکستان کے اہم موڑ اور پاکستان کے قائم ہونے سے لے کر اب تک کے تاریخی سنگِ میل پر مبنی ایک شاندار ڈیجیٹل تصویری نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تصویری نمائش نے نوجوان نسل اور بچوں کو اپنے آباؤ اجداد کی قربانیوں اور قائد کی بے مثال قیادت سے آگاہی حاصل کرنے کا نایاب اور بہترین موقع فراہم کیا۔
ہائی کمشنر محمد سلیم کا تقریب سے بصیرت افروز خطاب
تقریب کے مرکزی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کینیڈا میں پاکستان کے ہائی کمشنر محمد سلیم نے کینیڈا میں مقیم تمام پاکستانیوں اور پوری قوم کو یومِ آزادی کے پرمسرت موقع پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور ان کے رفقائے کار کی ناقابلِ فراموش خدمات اور لازوال ورثے کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ہائی کمشنر نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان قائداعظم کے متعین کردہ وژن کے مطابق ایک پُرامن، جمہوریت پسند، ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کی تعمیر و تشکیل کے لیے اپنے عزم پر پوری طرح قائم و دائم ہے۔ ہائی کمشنر محمد سلیم کا کہنا تھا:
“پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی سطح پر امن، بات چیت، باہمی احترام اور ریاستوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا ہے اور مستقبل میں بھی دنیا بھر میں امن و استحکام کے لیے اپنا مثبت اور مؤثر سفارتی کردار جاری رکھے گا۔”
انہوں نے کینیڈا اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات کی مظبوطی پر بات کرتے ہوئے کینیڈا میں مقیم اوورسیز پاکستانی کمیونٹی کی خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ کینیڈا میں آباد پاکستانی اپنے اخلاق، محنت، پیشے اور علمی صلاحیتوں کی بدولت نہ صرف کینیڈین معاشرے کی ترقی میں اپنا اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ عوامی سطح کے روابط کو مضبوط بناتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان ایک پائیدار اور مضبوط پل کا کام بھی انجام دے رہے ہیں۔
پاک مساوات، مسلح افواج کو خراجِ تحسین اور جوانوں کا جذبہ
تقریب میں شرکت کرنے والے کینیڈین اور پاکستانی خاندانوں، بالخصوص نوجوانوں اور بچوں کی شمولیت نے تقریب کے ماحول کو حب الوطنی اور قومی یکجہتی کے رنگوں سے بھر دیا۔ شرکاء نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت، ملکی خودمختاری کے تحفظ اور دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والی پاکستان کی بہادر مسلح افواج اور غیور عوام کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
تقریب کے شرکاء کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح کے 150ویں یومِ پیدائش کا سال بھر جاری رہنے والا سلسلہ ہماری نئی اور آنے والی نسلوں کو بانیٔ پاکستان کے بلند اصولوں، دوراندیشی اور وژن سے رہنمائی حاصل کرنے کا ایک عظیم اور تحریکی موقع فراہم کرے گا۔ شرکاء نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی اپنے وطنِ عزیز کی معاشی و سماجی ترقی کے لیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
اوٹاوا، ٹورنٹو، مونٹریال اور وینکوور میں یومِ آزادی کا جوش و خروش
اوٹاوا کے علاوہ مونٹریال، ٹورنٹو اور وینکوور کے قونصلیٹ جنرلز میں بھی پرچم کشائی کی علیحدہ اور پروقار تقریبات منعقد کی گئیں، جہاں قونصل جنرلز نے پاکستانی پرچم لہرائے اور اپنی اپنی تحویل کے علاقوں میں رہنے والی پاکستانی کمیونٹی کو یکجا کیا۔ ان تمام تقریبات میں قائداعظم کے 150ویں یومِ پیدائش کے حوالے سے شمعیں روشن کی گئیں اور خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر ہائی کمشنر محمد سلیم نے سفارتی حکام، کمیونٹی کے معززین اور بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی اور قائد کے 150ویں یومِ پیدائش کی خوشی میں خصوصی کیک کاٹا۔ تقریب کے اختتام پر وطنِ عزیز کی ترقی، سلامتی اور پائیدار امن کے لیے اجتماعی دعائیں کی گئیں اور حاضرین کی تواضع روایتی پاکستانی کھانوں اور مٹھائیوں سے کی گئی۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور قونصلیٹ جنرل آف پاکستان، نیویارک کے مشترکہ اور باہمی اہتمام سے چانسلری کی عمارت میں ملک کے 79ویں یومِ آزادی کی مناسبت سے ایک انتہائی شاندار، والہانہ اور پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد کی گئی۔ اس تاریخی اور اہم تقریب میں امریکہ بالخصوص نیویارک اور گرد و نواح میں مقیم پاکستانی برادری، سفارتی اہلکاروں، خواتین، بچوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے انتہائی جوش و جذبے اور ملی یکجہتی کے ساتھ شرکت کی۔
تقریب کا باقاعدہ اور پروقار آغاز پاکستان کے قومی ترانے کی دلکش اور روح پرور دھن سے ہوا، جس کے ساتھ ہی اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے تمام حاضرین کی موجودگی میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر چانسلری کا احاطہ پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ پرچم کشائی کے فوراً بعد تقریب میں موجود تمام ارکان اور معزز مہمانوں نے ملکی سلامتی، پائیدار ترقی، استحکام اور امن و امان کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی۔
بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح اور تحریکِ پاکستان کو خراجِ عقیدت
تقریب کے باقاعدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس دن کی تاریخی اہمیت، پاکستان کے بنیادی نظریہ اور قومی مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی لازوال قیادت، اصول پسندی اور دوراندیشی کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہیں ایک غیر معمولی مدبر اور تاریخی ریاست ساز قرار دیا۔ سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے نہ صرف برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کی تاریخی جدوجہد کی باوقار قیادت کی بلکہ عالمی نقشے پر ایک آزاد، خود مختار اور باوقار قومی ریاست کی بنیاد بھی رکھی۔
اپنے خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد نے مشہور و معروف امریکی مؤرخ اور سوانح نگار اسٹینلے وولپرٹ کے قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں تاریخی قول کا بالخصوص حوالہ دیا۔ انہوں نے اسٹینلے وولپرٹ کے الفاظ کو دہراتے ہوئے کہا:
“بہت کم افراد تاریخ کے دھارے کا رخ نمایاں طور پر بدلتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ دنیا کے نقشے میں تبدیلی لاتے ہیں۔ اور شاید ہی کسی کو ایک قومی ریاست کے قیام کا اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناح نے یہ تینوں عظیم الشان کارنامے تنہا انجام دیے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے متعین کردہ اصول—اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط—آج بھی پاکستانی قوم کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور انہی اصولوں پر کاربند رہ کر ہم دنیا میں پیش آنے والے کسی بھی چیلنج پر آسانی سے قابو پا سکتے ہیں۔
1947ء سے 2026ء تک کا شاندار قومی سفر اور مسلح افواج کو سلام
سفیر عاصم افتخار احمد نے 14 اگست 1947ء سے لے کر آج یعنی 14 اگست 2026ء تک کے قومی سفر کی کٹھن راہوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے متعدد سخت، جیو پولیٹیکل اور معاشی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، لیکن پاکستانی قوم نے ہر مشکل گھڑی میں غیر معمولی استقامت، اتحاد اور عالی ہمتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے وطنِ عزیز کی سرحدوں کے دفاع اور شہریوں کی تحفظ کی خاطر دن رات کوشاں پاکستان کی مسلح افواج کی جرات، شجاعت اور مسلسل ثابت قدمی کو دل کھول کر سراہا۔ سفیر عاصم افتخار نے مئی 2025ء میں بھارت کے ساتھ پیش آنے والی حالیہ شدید کشیدگی اور سرحدی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری افواج نے مئی 2025ء کے دوران جس بے مثال طاقت، پیشہ ورانہ مہارت، حکمتِ عملی اور دفاعی عزم کا مظاہرہ کیا، اس نے پوری دنیا پر ثابت کر دیا کہ پاکستان کی سرحدیں مکمل طور پر محفوظ اور ناقابل تسخیر ہیں۔ انہوں نے شہدائے وطن کو سلام پیش کیا جن کی عظیم قربانیوں کی بدولت آج ملک آزاد اور محفوظ فضا میں سانس لے رہا ہے۔
پاکستانی خواتین، نوجوانوں اور بین الاقوامی سفارت کاری میں کامیابی
پاکستانیوں کی عالمی سطح پر حاصل کردہ کامیابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں بالخصوص شعبہ سائنس، تکنیکی جدت، کھیلوں، فن و ثقافت اور سفارت کاری میں نمایاں کارکردگی دکھانے والی شخصیات کی تعریف کی۔ انہوں نے تقریب میں موجود سفارتی مشن سے منسلک ممتاز خواتین محترمہ صائمہ سلیم اور محترمہ علینہ مجید کی خدمات کو بالخصوص سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی مسلسل محنت اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں مستقل مشن میں سب کے لیے باعثِ فخر اور مشعلِ راہ ہیں۔
عالمگیر امن کے قیام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں پاکستان کے مثبت کردار پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے تنازعات کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا راستہ اپنایا ہے۔ انہوں نے حالیہ ایران تنازع کے دوران پاکستان کے مثبت اور مؤثر ثالثانہ کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر پائیدار امن اور استقامت کے لیے ہمیشہ ذمہ دارانہ سفارت کاری کی پاسداری کی ہے۔
کشمیر اور فلسطین کے لیے غیر متزلزل اخلاقی و سفارتی حمایت
سلامتی کونسل اور اقوامِ متحدہ کے فورمز کا حوالہ دیتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور اصولی موقف پر سختی سے قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے غیر ملکی تسلط میں محصور عوام کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کے لیے پاکستان کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے مظلوم فلسطینی عوام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ جب تک مقبوضہ عرب علاقوں اور فلسطین کے عوام کو ان کا جائز اور قانونی حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا، پاکستان عالمی سطح پر ان کی آواز بلند کرتا رہے گا۔
قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی کا خطاب اور پاک امریکہ تعلقات
تقریب سے قونصل جنرل پاکستان نیویارک عامر احمد اتوزئی نے بھی ایک فکر انگیز اور تفصیلی خطاب کیا۔ انہوں نے بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح، مصورِ پاکستان علامہ محمد اقبال اور تحریکِ پاکستان کے تمام شہداء و مجاہدین کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی ایک انمول نعمت اور عظیم الشان ورثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بھاری قومی ذمہ داری بھی ہے۔
قونصل جنرل نے امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد برادری کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اصل سرمایہ اور ہمارا فخر ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نہ صرف معاشی ترسیلاتِ زر، براہ راست سرمایہ کاری، خیراتی کاموں اور اپنے تعلیمی و معاشی تجربات کے ذریعے ملکی ترقی میں اہم ترین حصہ ڈال رہے ہیں، بلکہ وہ پاکستان اور امریکہ کے کے درمیان ایک مضبوط، پائیدار اور ناقابلِ شکست سفارتی و ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے یومِ آزادی کو صرف ایک روایتی جشن تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مضبوط، خوشحال، مساوی اور جدت پسند پاکستان کی تعمیر کے لیے اپنے عزم کو دہرانے کا دن قرار دیا۔ قونصل جنرل نے نوجوان نسل پر زور دیا کہ وہ آئندہ دو دہائیوں کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو علم، ٹیکنالوجی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار سے آراستہ کریں، تاکہ جب پاکستان اپنی آزادی کے سو سال مکمل کرے تو وہ دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو۔
پیغامات کی خواندگی اور بچوں کے ساتھ کیک کاٹنے کی تقریب
تقریب کے ابتدائی مرحلے میں چانسلری کے سینئر افسران ذوالفقار علی، عمر شیخ اور محمد فہیم نے بالترتیب صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کے یومِ آزادی کی مناسبت سے بھیجے گئے خصوصی، فکر انگیز اور تہنیتی پیغامات تمام حاضرین کو پڑھ کر سنائے۔ پرچم کشائی اور پورے پروگرام کی باقاعدہ نظامت و کارروائی کے فرائض قونصلر جواد اجمل نے انتہائی خوش اسلوبی سے انجام دیے۔
تقریب کے اختتامی مرحلے پر سفیر عاصم افتخار احمد نے قونصل جنرل عامر احمد اتوزئی، ڈپٹی مستقل مندوب سفیر عثمان جدون، سفارتی افسران اور تقریب میں موجود بچوں کے ساتھ مل کر یومِ آزادی کا کیک کاٹا۔ بچوں سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار نے انہیں پاکستان کا تابناک مستقبل قرار دیا اور کہا کہ یہ ہماری اجتماعی قومی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسا پاکستان سونپیں جو ہمیشہ روشن، پائیدار اور خود مختار رہے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شرکاء کے لیے پرکلف روایتی پاکستانی refreshments کا انتظام بھی کیا گیا تھا، جہاں برادری کے افراد نے ایک دوسرے کو گلے مل کر جشنِ آزادی کی مبارکباد دی۔
قونصلیٹ جنرل آف پاکستان سڈنی میں مالی سال 2025-26ء کے دوران آسٹریلیا سے پاکستان کو 1 ارب امریکی ڈالر سے زائد (1.14 ارب ڈالر) کی ریکارڈ ترسیلاتِ زر کی موصولی کی خوشی میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں آسٹریلیا میں پاکستان کے ہائی کمشنر عرفان شوکت، بینکوں، ایکسچینج کمپنیوں، کاروباری تنظیموں اور پاکستانی برادری کے نمایاں نمائندوں نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہائی کمشنر عرفان شوکت نے اس تاریخی کامیابی پر آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی برادری، بینکوں اور ریمیٹنس پرووائیڈرز کے کردار کی بھرپور تعریف کی اور قانونی ذرائع سے پیسے بھیجنے کے عمل کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ تقریب میں بتایا گیا کہ آسٹریلیا سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، جو مالی سال 2020-21ء کے 598 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025-26ء میں 1.14 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
آسٹریلین ریمیٹنس اینڈ کرنسی پرووائیڈرز ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر منیر محمد، اعزازی ٹیکس ایڈوائزر علی چوہان اور بینک الفلاح کے نمائندے پرویز شہباز نے خطاب کرتے ہوئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ، محفوظ ترسیلات اور مالیاتی آگاہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندے ارشد ستار اور آسٹریلیا پاکستان یوتھ ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلیٰ چوہدری شکیب نے بھی پاکستانی معیشت میں اوورسیز پاکستانیوں کے کردار کو سراہا۔
تقریب کے اختتام پر قونصل جنرل قمر زمان نے تمام مہمانوں اور اسٹیک ہولڈرز کا شکریہ ادا کیا، جبکہ اس تاریخی کامیابی کی یاد میں کیک بھی کاٹا گیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرونِ ملک مقیم تمام پاکستانیوں کو ملک کا انتہائی قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ انہیں سفارتخانوں اور کونصل خانوں میں تمام ممکنہ آسانیاں اور اعلیٰ ترین سہولیات کی فراہمی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے تاکید کی ہے کہ کیو آر کوڈ کی مدد سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی تمام شکایات کے براہِ راست اندراج اور ڈیجیٹائزیشن کے حوالے سے وسیع پیمانے پر آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ تمام شہری اس جدید نظام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے سفارتخانوں میں سہولیات کی فراہمی میں اضافے، تمام سرکاری و قانونی دستاویزات کی تصدیقی عمل کی ڈیجیٹائزیشن، شکایت کے طریقہ کار کو مزید آسان بنانے اور بیرونِ ملک سے پاکستان میں معاشی و دیگر ادائیگیوں کے لیے قائم جدید ڈیجیٹل نظام سے متعلق وزارتِ خارجہ کے ایک اعلیٰ سطحی بریفنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے پنجشنبہ (جمعرات) کو جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا احد خان چیمہ، عطا اللہ تارڑ، چوہدری سالک حسین، شزہ فاطمہ خواجہ، وزیرِ مملکت عون چوہدری، معاونِ خصوصی طارق باجوہ اور دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں کے سفرائے کرام، وزارتِ داخلہ، ایف آئی اے، اور این آئی ٹی بی سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ اوورسیز پاکستانیوں کی آسانی کے لیے پاور آف اٹارنی، جائیدادوں کی خرید و فروخت کے معاملات اور اہم دستاویزات کی تصدیق کو آسان بنانے کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ سفارتخانوں میں کیو آر کوڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاں کیا جائے اور خصوصی مہم کے ذریعے اس کی افادیت کو اجاگر کیا جائے۔
بریفنگ کے دوران وزیراعظم کو بتایا گیا کہ عوام الناس اور بیرونِ ملک جانے والے شہریوں کی سہولت کے پیشِ نظر وزارتِ خارجہ اسلام آباد کے مرکزی دفتر میں حال ہی میں شام کی شفٹ کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ آسان خدمت مرکز اسلام آباد میں بھی دستاویزات کی تصدیق کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوریئر سروسز کے ذریعے تصدیقی عمل متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اس نظام کو ہائر ایجوکیشن کمیشن ، انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن ، نادرا اور نیشنل پولیس بیورو کے مرکزی ڈیٹا بیس سے منسلک کر دیا گیا ہے جس سے تصدیقی مراحل کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ حکام نے بتایا کہ اپوسٹائل کنونشن کے تحت دستاویزات کی تصدیق کو ‘ون سٹیپ’ کر دیا گیا ہے اور نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تعاون سے ایک جدید موبائل ایپلی کیشن بھی تیار کی جا رہی ہے، جس کے ذریعے برتھ، ڈیتھ، میرج اور فیملی رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی گھر بیٹھے ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہو سکے گی۔