یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان: سی ڈی اے اور ایم سی آئی کا مسلح افواج اور شہداء کے اہل خانہ سے بھرپور یکجہتی اور عقیدت کا اظہار

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے پوری پاکستانی قوم کے ساتھ مل کر 6 ستمبر ‘یومِ دفاع و شہداء’ کے تاریخی اور پروقار موقع پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج، غازیوں اور شہداء کے لائقِ تحسین اہل خانہ کے ساتھ بھرپور عقیدت، احترام اور یکجہتی کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور سی ڈی اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، اس عظیم اور قابلِ فخر قومی دن کی مناسبت سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھر کو سبز و سفید قومی اور علامتی پرچموں سے سجا دیا گیا۔ شہر کی تمام اہم ترین شاہراہوں، چوراہوں، عوامی مقامات، قومی یادگاروں اور ریاستی عمارتوں—بالخصوص پارلیمنٹ ہاؤس—پر قومی پرچم پوری شان و شوکت کے ساتھ آویزاں کیے گئے، جس سے وفاقی دارالحکومت حب الوطنی، قومی یکجہتی اور شاندار قومی جذبوں کا مرکز بن گیا۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع محض ایک کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شہداء کی یاد، ان کے عظیم ایثار پر تشکر اور تجدیدِ عہد کا ایک مقدس دن ہے۔ یہ دن ہمیں ان سرحدوں کے محافظوں کی غیر معمولی بہادری، جرات، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے امن، وقار اور محفوظ کل پر قربان کر دیا۔

بیان میں شہداء کے سوگوار خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہید کے پیچھے ایک ایسا صابر خاندان ہے جس نے ملک و قوم کی خاطر ناقابلِ تصور جدائی اور نقصان برداشت کیا۔ کسی ماں باپ نے اپنا لختِ جگر کھویا، کسی بیوی نے سہاگ اور کسی بچے نے اپنے والد کا سایہ، مگر ان خاندانوں کا حوصلہ، صبر اور حب الوطنی پوری قوم کے لیے فخر، طاقت اور تحریک کا سرچشمہ ہے۔ قوم شہداء کے ان عظیم خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان کی احسان مند رہے گی۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر ایک پُرامن، خوشحال، مضبوط، سرسبز اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شہری انتظامیہ نے واضح کیا کہ اسلام آباد پاکستان کے تمام محافظوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گی۔

پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سی ڈی اے کی فائر سیفٹی موک ڈرل: آتشزدگی سے نمٹنے کی عملی مشقیں مکمل

منصور احمد, September 04,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی جانب سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی عمارت میں فائر سیفٹی اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے حوالے سے ایک خصوصی موک ڈرل کا باقاعدہ انعقاد کیا گیا ہے۔

سینیٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس عملی مشق کا بنیادی مقصد کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار واقعہ یا آتشزدگی کی صورتحال میں فوری کارروائی، مؤثر حفاظتی اقدامات اور ہنگامی ردِعمل کے پورے نظام کی صلاحیتوں کو آزمائشی بنیادوں پر جانچنا اور مزید مضبوط بنانا تھا۔

موک ڈرل کے دوران پارلیمنٹ ہاؤس کی اہم عمارت میں آتشزدگی کی فرضی صورتحال پیدا کی گئی اور امدادی کارروائیوں کا عملًا معائنہ کیا گیا۔ اس موقع پر آگ لگنے کی صورت میں عمارت کے اندر موجود افراد کے محفوظ انخلا، ریسکیو اداروں کو بلا تاخیر اطلاع دینے، آگ پر قابو پانے اور ضروری طبی امداد کی فراہمی جیسے تمام مرحلہ وار طریقہ کار کی مشقیں انجام دی گئیں۔

مشق میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سینیئر افسران، ملازمین اور سی ڈی اے کی فائر فائٹنگ و ریسکیو ٹیموں نے مکمل ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ حصہ لیا۔

حکام نے اس موقع پر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے موجود تمام موجودہ انتظامات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق ایسی فرضی اور عملی مشقوں کا مقصد ادارہ جاتی تیاریوں کو ہر وقت فعال رکھنا ہے تاکہ کسی بھی واقعی ایمرجنسی میں قیمتی انسانی جانوں کا تحفظ اور مالی نقصانات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے۔

سپریم کورٹ کا حکم نہ ماننے پر توہینِ عدالت ہوگی: سلمان اکرم راجہ کا پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران بڑا بیان

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے آرڈر کے تحت حکومت کے پاس کل تک کا وقت موجود ہے، اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو فوری طور پر الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو یہ سیدھی توہینِ عدالت تصور ہوگی۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ انہیں ایسا نہیں لگتا کہ حکومت کی نظرثانی درخواست اتنی جلدی کل تک سنی جا سکے گی، کیونکہ سپریم کورٹ میں جب بھی کوئی درخواست دائر ہوتی ہے تو اس کی ابتدائی پڑتال اور انتظامی کارروائی میں ہی چار سے چھ دن لگ جاتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتی حکم پر آج یا کل تک عملدرآمد نہ ہونے کی کوئی قانونی جواز یا وجہ موجود نہیں ہے، اور عمران خان کو آئینی و عدالتی احکامات کے عین مطابق الشفاء انٹرنیشنل ہسپتال لازمی منتقل کیا جانا چاہیے۔

سلمان اکرم راجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے اس واضح عدالتی حکم کی عدولی یا توہینِ عدالت کی تو پی ٹی آئی نہ صرف عدالتِ عظمیٰ میں توہینِ عدالت کی باضابطہ درخواست دائر کرے گی بلکہ عوام اور قوم کے سامنے بھی اس معاملے کو رکھے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد کی اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یہ ایک محض خیرسگالی ملاقات تھی جس میں پی پی پی نے اپوزیشن کے ساتھ رابطے بحال کرنے اور انتخابی اصلاحات پر مکالمے کی خواہش ظاہر کی، تاہم سلمان اکرم راجہ نے واضح کر دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے تفصیلی مشاورت کے بغیر کوئی بھی سیاسی یا پارلیمانی بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے عدالتی حکم کو سراہا جبکہ نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔