عوامی اعتماد وراثت میں نہیں، دیانت داری سے ملتا ہے: سپریم کورٹ میں قومی کانفرنس سے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا تاریخی خطاب

منصور احمد,September 12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ عدلیہ کے لیے عوام کا اعتماد کسی وراثت کا نام نہیں بلکہ یہ محض دیانت داری اور شفافیت سے حاصل ہوتا ہے، اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے اصلاحات کرتے وقت زمینی حقائق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔

ہفتے کے روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے زیرِ اہتمام سپریم کورٹ اسلام آباد میں “عدالتی نظام میں اصلاحات اور عوام کو فوری انصاف کی فراہمی” کے موضوع پر منعقدہ قومی کانفرنس (جوڈیشل ویل بیئنگ) سے بطور مہمانِ گرامی خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے واضح کیا کہ ماتحت عدلیہ پورے نظامِ انصاف کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سخت مشکلات کے باوجود کام کرنے والے ماتحت عدلیہ کے ججوں کو بااختیار بنانا عدلیہ کی اولین ترجیح ہے اور انہیں اپنی ضلعی عدلیہ پر فخر ہے۔

چیف جسٹس نے ماضی میں ضلعی عدلیہ اور پالیسی ساز اداروں کے درمیان رابطے کے فقدان کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب ضلعی عدالتوں اور ہائی کورٹس کے درمیان رابطہ کاری کو جدید اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی افسران کی سہولیات، شرائطِ ملازمت اور تحفظ کے لیے خاص کمیٹی قائم کی گئی ہے جبکہ پاکستان بھر کے عدالتی افسران کے لیے ‘ہیلتھ انشورنس’ کی سہولت کا حتمی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

خطاب کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ایک بڑا اور اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی افسران پر کسی بھی قسم کے بیرونی، سیاسی یا انتہا پسند عناصر کے دباؤ کے خلاف باقاعدہ حفاظتی طریقہ کار یقینی بنایا گیا ہے، اور ججز کے ضابطۂ اخلاق میں بھی اس حوالے سے ضروری تبدیلیاں لا کر پوری عدلیہ کو ججوں کے پیچھے کھڑا کر دیا گیا ہے۔

مالی و بنیادی سہولیات پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے بتایا کہ عدلیہ کی بہتری اور عوامی رسائی کے پروگرام کے تحت رواں سال ۳ ارب روپے سے زائد کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ماضی کے ۲۰ سالوں میں اس مقصد کے لیے صرف ۹۰ کروڑ روپے دیے گئے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بلوچستان کے ۱۸ اضلاع سمیت تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر اور دیگر دور دراز علاقوں میں عدالتوں کو شمسی توانائی، تیز ترین انٹرنیٹ، ای لائبریریوں اور صاف پانی کی سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں اور تمام تحصیلوں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے انصاف کی راہ میں جانوں کی قربانیاں دینے والے ججوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ خطاب کے دوران جب شرکاء نے تالیاں بجائیں تو چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے انہیں روکتے ہوئے یاد دہانی کرائی کہ اس چھت کے نیچے ہم سب جج ہیں اور ہمیں مکمل طور پر ججوں جیسا ہی و قار برقرار رکھنا چاہیے۔

بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی کی درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات کالعدم: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے چیمبر اپیل منظور کر لی

کاشف عباسی , JULY 31,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بانی پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی ہسپتال منتقلی سے متعلق درخواست پر رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ تمام اعتراضات کے خلاف دائر کی گئی چیمبر اپیل منظور کر لی ہے۔ اعلیٰ عدالت نے رجسٹرار آفس کے ابتدائی اعتراضات کو مکمل طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے درخواست کو باضابطہ کیس نمبر الاٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے جمعہ کے روز اپنے چیمبر میں اس اہم اپیل کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عذیر کرامت بھنڈاری عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی کے وکیل کو موکل کا دستخط شدہ قانونی وکالت نامہ جمع کرانے کی ہدایت جاری کی۔

سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو باضابطہ حکم دیا کہ بانی پی ٹی آئی کی ہسپتال منتقلی سے متعلق اس اپیل کو فوری طور پر نمبر الاٹ کیا جائے اور اسے پہلے سے زیرِ سماعت ‘عظمیٰ خان’ کے مقدمے کے ساتھ یکجا یعنی منسلک کر دیا جائے۔ مزید برآں، چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی اور عظمیٰ خان کی درخواستوں کو اعلیٰ عدلیہ میں جلد از جلد سماعت کے لیے مقرر کرنے کی استدعا بھی منظور کر لی ہے۔

المیزان فاؤنڈیشن میں مالیاتی نظم و ضبط اور ڈیجیٹل تبدیلی میں نمایاں پیش رفت؛ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کی صدارت

کاشف عباسی , JULY 22,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 22 جولائی 2026ء

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ المیزان فاؤنڈیشن میں ادارہ جاتی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، ڈیجیٹل تبدیلی اور فلاحی خدمات کی فراہمی کے شعبوں میں نمایاں اور مثبت پیش رفت حاصل ہوئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں المیزان فاؤنڈیشن کے ایڈوائزری بورڈ کے سالانہ جنرل اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں ملک بھر کی تمام ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس صاحبان نے شرکت کی۔ بورڈ نے سابقہ فیصلوں پر عمل درآمد، واجبات کی وصولی، ریکارڈ مینجمنٹ اور جدید طرزِ حکمرانی کے اقدامات کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔

اجلاس کے دوران المیزان فاؤنڈیشن کے 2025ء تا 2030ء کے پانچ سالہ اسٹریٹجک اہداف اور مالی سال 2026-27ء کے سالانہ بجٹ کی باقاعدہ منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ فاؤنڈیشن کے قواعد و ضوابط، مالی اختیارات کے شیڈول، اینڈومنٹ و انویسٹمنٹ فنڈ رولز، ویلفیئر پالیسی اور گورننس اینڈ ایڈمنسٹریشن پالیسی 2026ء کا جدید ترین اصلاحاتی پیکیج بھی منظور کر لیا گیا۔

بورڈ نے اسلامی انٹرنیشنل میڈیکل کالج ٹرسٹ کے ساتھ مزید 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیرمقدم کیا، جس کے تحت فاؤنڈیشن کو 148 فیصد زائد رائلٹی، میڈیکل پروگراموں میں سالانہ 43 وظائف اور جدید طبی سہولیات میسر آئیں گی۔ علاوہ ازیں المیزان فاؤنڈیشن کی حدود میں مجوزہ میڈیکل کمپلیکس کے قیام اور گزشتہ سالوں کے بیرونی مالیاتی آڈٹ کی منظوری دیتے ہوئے شفافیت کو مزید یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔