Latest news

اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی

Spread the love

کاشف عباسی ,October03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں پاکستان رینجرز کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کردی ہے۔ رینجرز اہلکار اب 15 اکتوبر تک سکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیں گے، جبکہ اس سے قبل ان کی تعیناتی کی منظوری 5 اکتوبر تک دی گئی تھی۔

اسلام آباد میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پاکستان رینجرز کے 3 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی میں بھی توسیع کردی گئی ہے۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز اہلکار 5 اکتوبر سے 15 اکتوبر تک وفاقی دارالحکومت میں اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔

حکام کے مطابق رینجرز کی تعیناتی کا مقصد اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنانا، امن و امان برقرار رکھنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت کرنا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنا ہے۔

تعینات اہلکار حساس مقامات، سرکاری عمارتوں اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی میں معاونت کریں گے۔ ضرورت پڑنے پر رینجرز اہلکار پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان سے متعلق کارروائیوں میں بھی معاونت فراہم کریں گے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد اور پنجاب میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دارالحکومت میں سیاسی سرگرمیوں اور ممکنہ عوامی اجتماعات کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ رینجرز کی موجودگی کا مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد بڑھانا اور اہم مقامات پر سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پنجاب کے مختلف علاقوں میں رینجرز کی تعیناتی بھی امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال کے تناظر میں جاری ہے۔

اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی کی نئی مدت 5 اکتوبر سے شروع ہوکر 15 اکتوبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران متعلقہ انتظامیہ کی ضرورت کے مطابق اہلکار مختلف مقامات پر سکیورٹی فرائض انجام دیں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
رینجرز کی تعیناتی میں توسیع کا بنیادی مقصد امن و امان برقرار رکھنے اور پولیس و انتظامیہ کو سکیورٹی معاونت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ اسلام آباد کے لیے 3 ہزار اہلکاروں کی تعداد اور 15 اکتوبر تک تعیناتی کی مدت واضح ہے، جبکہ پنجاب کے لیے مجموعی اہلکاروں کی تعداد اس خبر میں شامل نہیں کی گئی۔

ماخذ: وزارتِ داخلہ، متعلقہ سرکاری حکام