

محمود احمد, October18,2026
تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی صوبے تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے دوران پیش رفت حاصل ہوئی ہے اور حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔ سرکاری فوج کے مطابق اتوار کی صبح شروع کیے گئے آپریشن میں حوثی جنگجوؤں کو مختلف مقامات پر نشانہ بنایا گیا، جبکہ صوبے کے شمال مغربی علاقوں میں فضائی حملے بھی کیے گئے۔ دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت کے باعث دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
یمنی سرکاری فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سنامہ اور صراری کے محاذوں پر آپریشن کے دوران حوثی جنگجوؤں کی پوزیشنوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ فوج کے مطابق تعز کے شمال مغربی علاقوں میں حوثی جنگجوؤں کو نشانہ بنانے کے لیے تین فضائی حملے بھی کیے گئے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائیوں کے نتیجے میں مخالف جنگجوؤں کی عسکری پوزیشنیں متاثر ہوئیں، تاہم ہلاکتوں، زخمیوں یا تباہ ہونے والے فوجی سازوسامان کی تعداد سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
فوجی بیان کے مطابق صوبے کے مختلف محاذوں پر لڑائی جاری ہے۔ اس صورتِ حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعز میں زمینی کارروائیوں کے ساتھ فضائی حملے بھی تنازع کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ تاہم سرکاری فوج کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے بارے میں دستیاب معلومات میں کچھ نہیں بتایا گیا اور حوثی گروپ کا ان تازہ دعوؤں پر مؤقف بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
تعز میں لڑائی اور عسکری صورتِ حال
صوبہ تعز یمن کے ان علاقوں میں شامل ہے جہاں مختلف فریقوں کے درمیان طویل عرصے سے لڑائی جاری رہی ہے۔ یہاں محاذوں پر ہونے والی جھڑپیں مقامی آبادی کی سلامتی، نقل و حرکت اور بنیادی سہولتوں تک رسائی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ سنامہ اور صراری کے محاذوں پر تازہ کارروائیوں سے متعلق سرکاری فوج کے بیان میں پیش رفت کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم علاقے میں زمینی صورتِ حال کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
فوجی کارروائیوں کے دوران فضائی حملوں کی اطلاع بھی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یمن کے مختلف حصوں میں انسانی ضروریات پہلے ہی بڑھ چکی ہیں۔ لڑائی کے باعث متاثرہ علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کو محفوظ مقامات کی تلاش، خوراک اور دیگر ضروری سامان کے حصول اور علاج معالجے تک رسائی جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کسی بھی فوجی کارروائی کے اثرات کا درست اندازہ لگانے کے لیے ہلاکتوں، زخمیوں، شہری تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان اور آبادی کی نقل مکانی سے متعلق مصدقہ معلومات اہم ہوتی ہیں۔ فی الحال یمنی سرکاری فوج نے اپنی کارروائیوں کے عسکری نتائج کا اعلان کیا ہے، لیکن ان کے انسانی اثرات سے متعلق مکمل تفصیلات دستیاب نہیں۔
آئی او ایم کی رپورٹ، دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد بے گھر
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق یمن میں حالیہ ہفتوں کے دوران لڑائی میں شدت آنے سے دو لاکھ 30 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ متاثرہ افراد میں خواتین، بچے، بزرگ اور معذور افراد شامل ہیں، جنہیں پہلے ہی گنجان اور غیر محفوظ حالات میں زندگی گزارنے کے باعث تحفظ کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔
آئی او ایم کے مطابق بے گھر ہونے والے بہت سے خاندان اس سے قبل بھی متعدد مرتبہ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مسلسل نقل مکانی کے نتیجے میں ان کے مالی وسائل ختم ہو رہے ہیں، روزگار کے ذرائع متاثر ہو رہے ہیں اور روزمرہ ضروریات پوری کرنا مزید مشکل بنتا جا رہا ہے۔
بار بار نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کو صرف رہائش کی تبدیلی کا مسئلہ درپیش نہیں ہوتا بلکہ انہیں خوراک، پینے کے صاف پانی، طبی سہولتوں، تعلیم اور محفوظ ماحول کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے نقل مکانی کے دوران بنیادی سہولتوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
ادارے کے مطابق نئے بے گھر ہونے والے خاندان ایسے علاقوں میں پہنچ رہے ہیں جہاں مقامی برادریوں کے پاس پہلے ہی محدود وسائل موجود ہیں۔ اس اضافی دباؤ سے رہائش، پانی، صحت اور دیگر بنیادی خدمات کی فراہمی مزید مشکل ہو سکتی ہے۔
انسانی امداد اور تحفظ کی بڑھتی ہوئی ضرورت
یمن میں جاری تنازع کے باعث بے گھر ہونے والے خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انسانی امداد اور تحفظ کے اقدامات اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ آئی او ایم کی نشاندہی کے مطابق مسلسل بے دخلی سے متاثرہ خاندانوں کے وسائل کم ہو رہے ہیں اور ان کے لیے دوبارہ معمول کی زندگی شروع کرنا مشکل بنتا جا رہا ہے۔
انسانی امدادی اداروں کے لیے ایسے حالات میں متاثرہ آبادی کی ضروریات کا جائزہ لینا، انتہائی کمزور افراد تک مدد پہنچانا اور محفوظ رہائش کے انتظامات کی حمایت کرنا اہم ہوتا ہے۔ تاہم امدادی سرگرمیوں کی کامیابی کا انحصار محفوظ رسائی، دستیاب وسائل اور متاثرہ علاقوں میں صورتِ حال پر بھی ہوتا ہے۔
یمن میں عسکری کارروائیوں اور انسانی بحران کے بیک وقت جاری رہنے سے شہری آبادی کو دوہرا دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف لڑائی سے تحفظ کے خدشات ہیں، جبکہ دوسری جانب بے گھر خاندانوں کو بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
تعز میں فوجی کارروائیوں کے نتائج اور بے گھر ہونے والوں کی تعداد سے متعلق تازہ معلومات آنے والے دنوں میں صورتِ حال کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔ فی الحال یمنی سرکاری فوج نے محاذوں پر پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آئی او ایم نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور انسانی ضروریات میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: تعز کے سنامہ اور صراری محاذوں پر پیش رفت اور حوثی پوزیشنوں کو نقصان پہنچانے کی اطلاعات یمنی سرکاری فوج کے دعوؤں پر مبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کی بے دخلی کا عدد آئی او ایم سے منسوب ہے۔ دونوں پہلو یمن میں جاری تنازع کے عسکری اور انسانی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں، تاہم تازہ زمینی صورتِ حال کے لیے مزید مصدقہ معلومات ضروری ہیں۔
ماخذ: یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی مسلح افواج، اقوامِ متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم)