

کاشف عباسی ,October18,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف پیر کو ایران کے دارالحکومت تہران کا دورہ کریں گے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دورے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایران اور روس کے درمیان جاری سفارتی مشاورت کا حصہ ہے۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔
اسماعیل بقائی کے مطابق تہران اور ماسکو مختلف شعبوں میں تعاون اور رابطوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور روسی وزیرِ خارجہ کا دورہ اسی سفارتی عمل کی کڑی ہے۔ تاہم ایرانی ترجمان نے ملاقاتوں کے تفصیلی ایجنڈے، طے شدہ معاہدوں یا کسی نئے مشترکہ اقدام کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
لاوروف کے دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطوں کے تسلسل کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے دوروں میں عموماً دوطرفہ تعلقات، پہلے سے طے شدہ معاہدوں پر پیش رفت اور اہم علاقائی مسائل پر دونوں حکومتوں کے مؤقف کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس دورے میں کن معاملات کو ترجیح دی جائے گی، اس کی مزید وضاحت ملاقاتوں کے بعد جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے متوقع ہے۔
دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ دورے کے دوران ایران اور روس کے درمیان ہونے والے دوطرفہ معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملاقاتوں میں صرف سیاسی مشاورت ہی نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے وعدوں اور تعاون کے عملی مراحل پر بھی توجہ دی جائے گی۔
ایران اور روس کے تعلقات میں سیاسی رابطوں، اقتصادی تعاون اور علاقائی معاملات پر مشاورت کو اہمیت حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک مختلف بین الاقوامی مسائل پر اپنے مؤقف کا تبادلہ کرتے ہیں اور باہمی تعاون کے شعبوں میں رابطے برقرار رکھتے ہیں۔
تاہم اسماعیل بقائی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سے معاہدے زیرِ جائزہ آئیں گے، ان پر عمل درآمد کس مرحلے میں ہے یا دورے کے دوران کسی نئے معاہدے پر دستخط کیے جائیں گے۔ اس لیے کسی مخصوص شعبے میں نئی پیش رفت کے بارے میں حتمی دعویٰ کرنا قبل از وقت ہوگا۔
علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال بھی زیرِ بحث آئے گی
ایرانی ترجمان کے مطابق سرگئی لاوروف اور ایرانی حکام کی ملاقاتوں میں علاقائی اور بین الاقوامی صورتِ حال پر بھی گفتگو ہوگی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی سطح پر بدلتی ہوئی سیاسی صورتِ حال کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مشاورت اہمیت رکھتی ہے۔
علاقائی امور پر گفتگو کے دوران دونوں حکومتیں اپنے خدشات، ترجیحات اور ممکنہ سفارتی راستوں پر تبادلۂ خیال کر سکتی ہیں۔ تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے بیان میں ان مخصوص معاملات کی نشاندہی نہیں کی گئی جن پر ملاقاتوں میں بات ہوگی۔
روسی وزیرِ خارجہ کے دورے کے موقع پر یہ بھی اہم ہوگا کہ دونوں ممالک علاقائی مسائل پر اپنے مشترکہ مؤقف کو کس حد تک واضح کرتے ہیں اور آیا ملاقاتوں کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ یا عملی اقدامات کا اعلان کیا جاتا ہے۔
ایران اور روس کے سفارتی رابطوں کا تسلسل
اسماعیل بقائی نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور روس مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور مشاورت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لاوروف کا دورہ اسی سلسلے کا حصہ ہے، جس کے ذریعے دونوں ممالک اعلیٰ سطح پر رابطے برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔
اعلیٰ سطحی سفارتی ملاقاتیں حکومتوں کو دوطرفہ معاملات کا جائزہ لینے، اختلافات یا مشترکہ خدشات پر گفتگو کرنے اور مستقبل کے رابطوں کی سمت طے کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم کسی دورے کی اہمیت اور اس کے عملی نتائج کا اندازہ صرف ملاقاتوں کے اعلان سے نہیں بلکہ بعد میں سامنے آنے والے فیصلوں اور پیش رفت سے لگایا جا سکتا ہے۔
فی الحال تصدیق شدہ معلومات کے مطابق روسی وزیرِ خارجہ پیر کو تہران کا دورہ کریں گے اور ملاقاتوں میں دوطرفہ معاہدوں، علاقائی امور اور بین الاقوامی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ دورے کے اختتام پر جاری ہونے والے سرکاری بیانات سے اس کے نتائج اور آئندہ تعاون کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سرگئی لاوروف کے دورے اور اس کے مجوزہ موضوعات سے متعلق معلومات ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے بیان پر مبنی ہیں۔ دورے کے ایجنڈے، کسی نئے معاہدے یا مخصوص علاقائی معاملے پر ممکنہ فیصلے کی تفصیلات ابھی فراہم نہیں کی گئیں۔ ان امور کی وضاحت دونوں ممالک کے سرکاری بیانات کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
ماخذ: ایرانی وزارتِ خارجہ، ترجمان اسماعیل بقائی کا بیان