

محمود احمد, October09,2026
کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے لیے اپنا فضائی آپریشن عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے پروازیں معمول کے مطابق جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
پی آئی اے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے باعث ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایئرلائن نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایئرپورٹ روانہ ہونے سے پہلے اپنی پرواز کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنے کے لیے پی آئی اے کے کال سینٹر سے رابطہ کریں۔
ایئرلائن کے مطابق سعودی عرب کے دیگر شہروں کے لیے اس کا فضائی آپریشن معمول کے مطابق جاری ہے۔ ان شہروں میں جدہ، مدینہ منورہ، دمام اور القصیم شامل ہیں۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مبینہ میزائل حملوں کے بعد خطے میں فضائی سفر اور ہوابازی کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ گزشتہ تین روز کے دوران حوثی گروپ کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کے دعوے سامنے آئے ہیں۔
جمعرات کو ہونے والے تازہ حملے کے بعد ایئر انڈیا سمیت بعض بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے بھی ریاض کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کرنے کی اطلاعات دی ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں اداروں اے ایف پی اور روئٹرز کے مطابق تازہ حملے میں سعودی قومی فضائی کمپنی کے ایک طیارے کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض تصاویر میں ایک طیارے سے دھواں اٹھتا دکھائی دیتا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تفصیلات اور نقصان کی نوعیت کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں۔
سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق 6 اور 7 اکتوبر کی درمیانی شب کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے حملے میں سوڈانی شہریت رکھنے والا ایک شخص ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق زخمیوں میں سعودی، مصری اور پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے حوثیوں سے فوری طور پر حملے بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پی آئی اے کی جانب سے ریاض کے لیے پروازیں عارضی طور پر معطل کرنے کی وجہ خطے کی موجودہ صورتحال بتائی گئی ہے۔ ریاض ایئرپورٹ پر حملوں، طیارے کو پہنچنے والے نقصان اور دیگر ایئرلائنز کے فیصلوں سے متعلق تفصیلات متعلقہ حکام اور خبر رساں اداروں سے منسوب ہیں؛ مسافروں کو سفر سے قبل اپنی پرواز کی صورتحال کی تصدیق کرنی چاہیے۔
ماخذ: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز، سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن، اے ایف پی، روئٹرز