Latest news

ایرانی بحری کمانڈر کا دعویٰ: خلیج فارس میں اب امریکی جہاز موجود نہیں، آبنائے ہرمز سے دور چلے گئے

Spread the love

منصور احمد,October23,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 23 اکتوبر 2026ء

ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر علی عظمایی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحری جہاز اب خلیج فارس میں موجود نہیں اور آبنائے ہرمز سے 600 سے 700 کلومیٹر دور ہیں۔ ان کے مطابق اس علاقے میں امریکی جہاز دکھائی نہیں دیتے اور آبنائے ہرمز میں امریکہ کے لیے اب کوئی جگہ نہیں رہی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔

ایرانی بحری کمانڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحری افواج خلیج فارس سے دور چلی گئی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں امریکی جہازوں کی موجودگی نظر نہیں آ رہی۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کے لیے امریکی حکام کی وضاحت یا بحری نقل و حرکت سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات درکار ہیں۔

علی عظمایی نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کی موجودگی کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ میں اپنی پوزیشن کو نمایاں کرنا چاہتا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان کے دعوے سے مراد امریکی بحری جہازوں کی مکمل واپسی ہے یا کسی مخصوص علاقے میں ان کی موجودگی میں کمی۔

ٹرمپ کے ایران پر الزامات

ایرانی کمانڈر کا بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان الزامات کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے جن میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی حکام بارودی سرنگوں کے دھماکوں اور آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملوں سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں تاکہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو۔

امریکی صدر نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں اب آبنائے ہرمز سے زیادہ تیل گزر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران تیل کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔ تاہم ان الزامات کے حق میں پیش کردہ معلومات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے، جبکہ ایران کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر ردعمل کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔

خام تیل کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے اثرات عالمی توانائی کی منڈی میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ جمعہ کو برینٹ خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت 113 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران اس کی بلند ترین سطح بتائی گئی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔ خلیج فارس کے تیل پیدا کرنے والے ممالک سے عالمی منڈیوں تک پہنچنے والے خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہو یا حملوں کا خطرہ بڑھے تو تیل کی ترسیل کے اخراجات اور عالمی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے صرف موجودہ سپلائی نہیں بلکہ مستقبل میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے امریکہ اور ایران کے درمیان بیانات، فوجی سرگرمیوں اور آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق پیش رفت پر عالمی منڈی کی گہری نظر ہے۔

آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث ایران، امریکہ اور خطے کے دیگر ممالک کے درمیان بحری سکیورٹی کا معاملہ مسلسل توجہ کا مرکز رہتا ہے۔ اس راستے میں کسی بڑی رکاوٹ سے عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور درآمدی ممالک کے اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں۔

پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں مسلسل مہنگائی تشویش کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے سے درآمدی بل اور مقامی ایندھن کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ تاہم مقامی قیمتوں کا تعین عالمی نرخوں کے ساتھ ساتھ زرِ مبادلہ کی شرح، ٹیکس اور حکومتی پالیسیوں پر بھی منحصر ہوتا ہے۔

فی الحال ایرانی بحری کمانڈر کا بیان اور امریکی صدر کے الزامات خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ امریکی بحری جہازوں کی موجودگی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی صورتِ حال اور تیل کی عالمی قیمتوں کا آئندہ رخ مزید مصدقہ معلومات اور متعلقہ فریقوں کے عملی اقدامات سے واضح ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

خلیج فارس میں امریکی بحری جہازوں کی عدم موجودگی سے متعلق بیان ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر کا دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ تصدیق درکار ہے۔ اسی طرح ایران کی جانب سے تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عائد کیا ہے؛ اسے ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے عوامی بیانات، عالمی تیل منڈی کے اعداد و شمار