Latest news

حوثیوں کا سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن اور ریاض ایئرپورٹ پر حملے کا دعویٰ

Spread the love

محمود احمد, October26,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک تیل منتقل کرنے والی اہم پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے ان تازہ دعوؤں پر تاحال کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ ایک ماہ کے دوران سعودی عرب کے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور تیل کی تنصیبات پر حوثیوں کے حملوں کی اطلاعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں اور سکیورٹی خدشات کے باعث مملکت میں فضائی آمدورفت اور توانائی کی تنصیبات کے تحفظ سے متعلق تشویش بڑھ گئی ہے۔

حوثیوں کے تازہ دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی، اس لیے پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کی نوعیت واضح نہیں ہے۔

سعودی اتحاد کی یمن میں کارروائی

اس سے قبل یمن میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے دارالحکومت صنعا میں بیلسٹک میزائل داغنے کے دو مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

اتحاد کے مطابق ان میں سے ایک مقام سے ریاض کی جانب میزائل داغا گیا تھا، جسے سعودی فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔ یہ کارروائی سعودی عرب کی جانب میزائل حملوں کے خطرے کو روکنے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آئی۔

حوثیوں اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے درمیان حملوں اور جوابی کارروائیوں کے دعوے خطے میں جاری کشیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم تازہ واقعات کے مکمل نتائج اور ان سے ہونے والے ممکنہ نقصانات کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک تیل پائپ لائن کی اہمیت

سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی تیل پائپ لائن تقریباً 1,200 کلومیٹر طویل ہے اور ملک کے وسیع علاقے سے گزرتی ہے۔ سعودی تیل کمپنی آرامکو کے زیرِ انتظام یہ پائپ لائن مشرقی سعودی عرب سے خام تیل بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع بندرگاہ ینبع تک پہنچاتی ہے۔

اس پائپ لائن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کے ذریعے سعودی عرب آبنائے ہرمز سے گزرے بغیر تیل کی ترسیل کر سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کا ایک اہم سمندری راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل کی عالمی ترسیل اور قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایسی متبادل پائپ لائن سعودی عرب کو تیل کی برآمدات کے لیے ایک اضافی راستہ فراہم کرتی ہے۔ اگر اس کے پمپنگ اسٹیشنوں یا دیگر اہم حصوں کو نقصان پہنچتا ہے تو تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ دعوے کے بعد پائپ لائن کی عملی حالت کے بارے میں سعودی حکام کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

پائپ لائن پہلے بھی نشانہ بن چکی ہے

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب کی اس اہم پائپ لائن اور اس کے پمپنگ اسٹیشنوں کو اس سے پہلے بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ اس نوعیت کے واقعات توانائی کی تنصیبات کے تحفظ اور تیل کی برآمدات کو بلا تعطل جاری رکھنے کے حوالے سے اہم سوالات پیدا کرتے ہیں۔

سعودی عرب عالمی تیل منڈی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کی تیل کی پیداوار اور ترسیل میں کسی بڑے خلل کے ممکنہ اثرات صرف مملکت تک محدود نہیں رہتے۔ تاہم عالمی منڈی پر حقیقی اثرات کا انحصار حملے کی تصدیق، نقصان کی نوعیت، ترسیل میں ممکنہ رکاوٹ اور متبادل راستوں کے استعمال پر ہوگا۔

ریاض ایئرپورٹ پر سکیورٹی خدشات

حوثیوں کی جانب سے ریاض ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی دارالحکومت کے ہوائی اڈے پر پروازوں کا نظام پہلے ہی متاثر ہو چکا ہے۔ گزشتہ دنوں سعودی حکام نے ایئرپورٹ کی سرگرمیاں جزوی طور پر بحال کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت اندرونِ ملک اور بعض بین الاقوامی پروازیں دوبارہ شروع کی گئیں۔

تاہم تازہ حملے کے دعوے کے بعد ایئرپورٹ کی سکیورٹی اور پروازوں کے معمول کے مطابق جاری رہنے سے متعلق صورتِ حال پر مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔ کسی بھی نئے حملے کی تصدیق کی صورت میں مسافروں، فضائی کمپنیوں اور ایئرپورٹ انتظامیہ کے لیے سکیورٹی انتظامات اہم رہیں گے۔

فی الحال سعودی حکام کی جانب سے تازہ دعوے کی تفصیلات، ممکنہ نقصان یا فضائی آپریشن پر کسی نئے اثر کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ریاض ایئرپورٹ یا تیل کی پائپ لائن کی سرگرمیاں دوبارہ معطل ہوئی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: حوثیوں نے سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض ایئرپورٹ پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، لیکن سعودی حکام کی تصدیق اور نقصانات کی تفصیلات دستیاب نہیں۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے اس سے قبل صنعا میں میزائل داغنے کے دو مقامات کو نشانہ بنانے اور ریاض کی جانب داغے گئے میزائل کو تباہ کرنے کا بیان دیا تھا۔

ماخذ: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے بیانات، سعودی تیل کمپنی آرامکو سے متعلق معلومات، رائٹرز