Latest news

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کی دو کارروائیاں، آئی ایس پی آر کے مطابق 9 مبینہ شدت پسند ہلاک

Spread the love

منصور احمد,October28,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز نے 26 اکتوبر کو بلوچستان کے ضلع کچھی اور ضلع وڈھ میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر دو الگ الگ کارروائیاں کرتے ہوئے نو مبینہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔ فوج کے بیان کے مطابق دونوں کارروائیوں کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جبکہ جائے وقوعہ سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع کچھی میں مبینہ شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا گیا۔ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک مبینہ شدت پسند ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ وہاں شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سات مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ فورسز نے کارروائی کے مقام سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا۔

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ نے بتایا کہ دوسری کارروائی ضلع وڈھ میں کی گئی، جہاں سکیورٹی فورسز نے مبینہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور انہیں روکنے کے لیے کارروائی کی۔ اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں مزید دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس کارروائی کے بعد بھی اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

ضلع کچھی میں سات مبینہ شدت پسند ہلاک

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق ضلع کچھی میں کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی، جس کا ہدف مبینہ شدت پسندوں کا ٹھکانہ تھا۔ فوج کے مطابق کارروائی کے دوران فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا اور سات افراد ہلاک ہوئے۔

بیان میں اسلحے اور گولہ بارود کی برآمدگی کا بھی ذکر کیا گیا، تاہم فراہم کردہ معلومات میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت، ان سے وابستہ تنظیم یا برآمد کیے گئے اسلحے کی تفصیلی نوعیت بیان نہیں کی گئی۔ ان تفصیلات کی عدم موجودگی میں کارروائی کے دیگر پہلوؤں کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

ضلع وڈھ میں دوسری کارروائی

آئی ایس پی آر کے مطابق ضلع وڈھ میں سکیورٹی فورسز نے مبینہ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے بعد کارروائی کی۔ فوج کے بیان میں کہا گیا کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران دو مبینہ شدت پسند ہلاک ہوئے اور موقع سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران حکام عموماً خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مشتبہ ٹھکانوں اور نقل و حرکت کو ہدف بنانے کی بات کرتے ہیں۔ تاہم ہر واقعے کی تفصیلات الگ ہوتی ہیں، اس لیے ہلاک ہونے والوں کی شناخت اور کسی تنظیم سے وابستگی کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کی مزید معلومات اہم ہوتی ہیں۔

علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری

فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق دونوں کارروائیوں کے بعد علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس کا مقصد کسی دوسرے مبینہ شدت پسند کی موجودگی کا پتا لگانا اور ضرورت پڑنے پر اسے گرفتار یا ہلاک کرنا بتایا گیا ہے۔

اس نوعیت کے آپریشنز میں سکیورٹی فورسز علاقے کا جائزہ لیتی ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔ کارروائیوں کے بعد سرچ آپریشن جاری رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام علاقے میں مزید مشتبہ نقل و حرکت کے امکان کو نظرانداز نہیں کر رہے۔

تاہم آئی ایس پی آر کے فراہم کردہ بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سرچ آپریشن کب تک جاری رہے گا، کسی گرفتاری کی اطلاع ہے یا نہیں، اور شہری آبادی پر ان کارروائیوں کے ممکنہ اثرات کیا رہے۔

عزمِ استحکام کے تحت کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’عزمِ استحکام‘‘ کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔

اس بیان میں حکام نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ تاہم بیرونی سرپرستی سے متعلق دعوے کے حق میں اس مخصوص بیان میں مزید شواہد یا تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بلوچستان میں امن و امان کی صورتِ حال اور سکیورٹی سے متعلق اقدامات صوبے اور ملک کے لیے اہم ہیں۔ ان کارروائیوں کے نتائج، برآمد ہونے والے اسلحے کی تفصیلات اور ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے پر صورتِ حال کا زیادہ جامع جائزہ ممکن ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ہلاکتوں، برآمدگی اور کارروائیوں کی تفصیلات آئی ایس پی آر کے بیان سے منسوب ہیں۔ ہلاک ہونے والے افراد کو مبینہ شدت پسند کہا گیا ہے، کیونکہ فراہم کردہ معلومات میں ان کی شناخت اور وابستگی کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔

ماخذ: پاکستانی فوج کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)، فراہم کردہ سرکاری بیان