Latest news

پاکستان اور سعودی عرب میں پٹرولیم، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق

Spread the love

منصور احمد,October30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء

وفاقی وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک سے سعودی عرب کے نو تعینات سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کان کنی، پٹرولیم اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے، سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور دوطرفہ تجارتی روابط کو مزید مستحکم بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں اسٹریٹجک آئل اسٹوریج، ریفائنریوں کی جدید کاری، ایل پی جی کی فراہمی اور تجارتی سرگرمیوں میں سہولت کاری کو خصوصی اہمیت دی گئی۔

ترجمان پٹرولیم ڈویژن کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے پاکستان اور سعودی عرب کے دیرینہ اسٹریٹجک تعلقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور توانائی سمیت اہم شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ اپنے حالیہ دورۂ ریاض کے دوران انہوں نے سعودی قیادت کو پاکستانی قیادت اور عوام کی جانب سے سعودی عرب کے لیے یکجہتی اور محبت کے جذبات پہنچائے تھے۔ انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

پاکستان میں سعودی تیل ذخیرہ کرنے کی پیشکش

ملاقات کے دوران علی پرویز ملک نے بتایا کہ پاکستان نے ٹیکس نیوٹرل بانڈڈ اسٹوریج پالیسی کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سعودی کمپنیوں کو تجارتی بنیادوں پر پاکستان میں تیل کے ذخائر قائم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات سعودی عرب کو اپنی بحری ترسیل کے راستوں میں تنوع پیدا کرنے اور ایشیائی منڈیوں تک رسائی کے لیے اضافی امکانات فراہم کر سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں آبنائے ہرمز اور آبنائے باب المندب سے منسلک سمندری ترسیل کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل انتظامات کی اہمیت بھی زیرِ بحث آئی۔

انہوں نے بلوچستان کے علاقے حب میں ایک بڑے پٹرولیم اسٹوریج اور ریفائننگ کمپلیکس کے مجوزہ منصوبے سے بھی سعودی سفیر کو آگاہ کیا۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں بڑے خام تیل بردار بحری جہازوں کے لنگرانداز ہونے کی سہولت فراہم کرنے کا تصور شامل ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ مجوزہ کمپلیکس پاکستان کو علاقائی توانائی راہداری کے طور پر ترقی دینے میں مدد دے سکتا ہے اور وسطی ایشیائی و چینی منڈیوں کو خدمات فراہم کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کر سکتا ہے۔

ریفائنریوں کی اپ گریڈیشن میں سعودی سرمایہ کاری کی دعوت

ملاقات میں پاکستان کے جاری ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ علی پرویز ملک نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد ملک کے ریفائننگ انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، پیداواری اور عملی کارکردگی بہتر کرنا اور یورو 5 ایندھن کے معیار کی جانب پیش رفت کرنا ہے۔

انہوں نے سعودی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی۔ ان کے مطابق ریفائنریوں کی جدید کاری سے نہ صرف ملکی توانائی کے شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے بلکہ بہتر معیار کے ایندھن کی پیداوار اور آپریشنل استعداد میں بھی بہتری لائی جا سکتی ہے۔

وفاقی وزیر نے سعودی حکام کی جانب سے ینبع بندرگاہ پر پاکستان کے لیے خام تیل کی ترسیل کو ترجیح دینے پر بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اسے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی ایک اہم مثال قرار دیا۔

سعودی آرامکو سے ایل پی جی اور اضافی خام تیل کی فراہمی پر بات چیت

پاکستان میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات، خصوصاً سردیوں کے موسم میں گیس کی طلب میں اضافے کے پیش نظر، سعودی عرب سے ایل پی جی کی اضافی فراہمی کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔

اس موقع پر سعودی آرامکو سے اضافی خام تیل اور مخصوص مقدار میں ایل پی جی کی فراہمی کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطوں اور ممکنہ تجارتی انتظامات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

پاکستان کے لیے ایل پی جی کی اضافی فراہمی سردیوں میں گھریلو اور دیگر ضروریات پوری کرنے کے حوالے سے اہم ہو سکتی ہے، تاہم ملاقات کے بعد کسی حتمی سپلائی معاہدے یا مقدار کا اعلان نہیں کیا گیا۔

سعودی سفیر کا دفاعی اور اقتصادی تعاون پر اظہارِ تشکر

سعودی سفیر ڈاکٹر راجح بن طامی البقمی نے پاکستان کی دیرینہ حمایت پر سعودی عرب کی جانب سے تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دفاعی و توانائی تعاون کا مقصد خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ملاقات میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی مضبوط دفاعی اور اسٹریٹجک شراکت داری وسیع تر علاقائی امن اور اقتصادی تعاون کے لیے اہم بنیاد فراہم کرتی ہے۔

پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پراسیسنگ میں سہولت

سعودی سفیر نے ملاقات کے دوران یہ بھی بتایا کہ اسلام آباد میں سعودی عرب کے سفارت خانے نے پاکستانی شہریوں کی ویزا درخواستوں کی اسی دن پراسیسنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد پاکستانی شہریوں کے لیے سفر کے عمل کو آسان بنانا اور کاروباری، ثقافتی اور عوامی سطح پر دونوں ممالک کے روابط کو فروغ دینا ہے۔

اس سہولت سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان کاروباری سرگرمیوں، عوامی روابط اور باہمی دوروں میں آسانی پیدا ہونے کی توقع ہے۔

پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت

وفاقی وزیرِ پٹرولیم نے سعودی نائب وزیر برائے معدنیات خالد المدیفر کو 12 اور 13 نومبر کو منعقد ہونے والے پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

یہ فورم پاکستان کے معدنی وسائل اور کان کنی کے شعبے میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کے امکانات اجاگر کرنے کے لیے اہم موقع فراہم کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کی معدنیات کے شعبے میں دلچسپی کے تناظر میں دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے توانائی، پٹرولیم، کان کنی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داریوں کے ذریعے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ملاقات میں متعدد منصوبوں اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے، تاہم تیل ذخیرہ کرنے، ریفائنری اپ گریڈیشن اور ایل پی جی کی اضافی فراہمی کے حوالے سے کسی حتمی معاہدے یا سرمایہ کاری کی رقم کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سعودی سفارت خانے کی جانب سے اسی دن ویزا پراسیسنگ شروع کرنے کا بیان بھی سعودی سفیر سے منسوب ہے۔

ماخذ: پٹرولیم ڈویژن پاکستان،