Latest news

باغ دھماکہ: پولیس کا دعویٰ بارودی مواد مکان کے اندر رکھا گیا، متاثرہ خاندان نے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

Spread the love

منصور احمد,October31,2026

باغ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع باغ کے گاؤں پندی میں 29 اکتوبر کو ہونے والے دھماکے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ واقعے کی نوعیت اور بارودی مواد گھر تک پہنچنے کے حوالے سے پولیس اور متاثرہ خاندان کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس باغ امیرالدین کے مطابق جائے وقوعہ کے معائنے سے بظاہر یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکہ خیز مواد مکان کے اندر رکھا گیا تھا، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بارودی مواد باہر سے گھر کے اندر پھینکا گیا تھا۔

ایس پی امیرالدین نے بتایا کہ دھماکے میں دو خواتین اور دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔ انہوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم شہریوں کو اس طرح نشانہ بنانا غیر قانونی اور وحشیانہ عمل ہے۔ پولیس کے مطابق دھماکے کی اصل نوعیت اور اس میں استعمال ہونے والے مواد کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

پولیس کا مؤقف: بارودی مواد مکان کے اندر موجود تھا

ایس پی باغ امیرالدین کے مطابق جائے وقوعہ کے معائنے کے دوران متاثرہ مکان کی دیواروں پر دھماکے کے واضح نشانات دیکھے گئے، تاہم فرش پر کوئی گڑھا نہیں بنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی شواہد اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بارودی مواد مکان کے اندر رکھا گیا تھا، نہ کہ باہر سے کوئی دھماکہ خیز چیز پھینکی گئی تھی۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ابتدائی تحقیقات میں یہ پہلو بھی سامنے آیا ہے کہ بعض شرپسند عناصر مبینہ طور پر عام شہریوں کے گھروں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

ایس پی کے مطابق واقعے کے بعد علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا تو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی اور مبینہ طور پر گرینیڈ لانچر بھی استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور ملوث افراد کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر گمراہ کن مہم چلانے کا الزام

ایس پی امیرالدین نے الزام عائد کیا کہ واقعے کے بعد کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ بعض شرپسند عناصر نے سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے منظم مہم چلائی اور دھماکے کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں پر ڈالنے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق اس مہم کا مقصد ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان تصادم کی فضا پیدا کرنا اور واقعے کے بارے میں گمراہ کن بیانیہ پھیلانا ہے۔ تاہم ان الزامات کے حوالے سے مزید تفصیلات یا متعلقہ اکاؤنٹس کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

متاثرہ خاندان نے مکمل تحقیقات کا مطالبہ کر دیا

دوسری جانب دھماکے میں تباہ ہونے والے مکان کے مالک شیکدر کے بھتیجے باسط نے واقعے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خاندان چاہتا ہے کہ تمام شواہد سامنے لائے جائیں اور عوام کو بتایا جائے کہ دھماکہ کس طرح ہوا اور اس میں استعمال ہونے والا مواد کہاں سے آیا تھا۔

باسط کے مطابق واقعے کے وقت ان کے چچا گاؤں میں موجود نہیں تھے بلکہ روزگار کے سلسلے میں پاکستان میں تھے۔ گھر میں ان کی والدہ، اہلیہ اور بچے موجود تھے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پولیس کے مطابق دھماکہ خیز مواد گھر کے اندر رکھا گیا تھا تو یہ مواد وہاں کیسے پہنچا؟

ان کا مطالبہ ہے کہ گھر سے ملنے والے مبینہ بارودی آلے کی مکمل فارنزک تحقیقات کی جائیں اور اس کی تیاری کے ملک، نوعیت اور ممکنہ استعمال کے بارے میں تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ باسط نے کہا کہ جس فریق کے زیرِ استعمال ایسا اسلحہ یا مواد ہونے کا شبہ ہو، اس پہلو کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

خاندان کا کہنا ہے کہ پولیس کے کام میں رکاوٹ نہیں ڈالی

باسط نے بتایا کہ دھماکے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور اس کے بعد بھی تحقیقات کے لیے آتی رہی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ خاندان نے پولیس کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی میں کبھی رکاوٹ نہیں ڈالی اور نہ ہی پولیس کے ساتھ تعاون سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی ہونے والی بچی انیقہ اس سے قبل ایک احتجاج کے دوران شیلنگ سے زخمی ہوئی تھی۔ تاہم ان کے مطابق دھماکے والے روز علاقے میں کوئی احتجاج نہیں ہو رہا تھا، حالات پُرامن تھے اور شام کے وقت اچانک یہ واقعہ پیش آیا۔

پوسٹ مارٹم پر خاندان کی رضامندی نہیں تھی

باسط کے مطابق پولیس اور انتظامیہ نے اہلِ خانہ سے لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے بارے میں بات کی تھی، تاہم خاندان نے اس کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ لاشوں کی حالت ایسی تھی کہ اہلِ خانہ پوسٹ مارٹم کے لیے رضامند نہیں ہو سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خاندان کی جانب سے تھانے میں کوئی درخواست یا ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی، تاہم پولیس اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

واقعے کے بعد پولیس اور متاثرہ خاندان کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ دھماکے کی اصل وجہ، بارودی مواد کی موجودگی اور اس کے مکان تک پہنچنے کے طریقے سے متعلق کئی سوالات ابھی جواب طلب ہیں۔ ان سوالات کا حتمی جواب جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد، فارنزک رپورٹ اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی سامنے آ سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس واقعے میں چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق پولیس کے بیان میں کی گئی ہے، تاہم دھماکے کی اصل نوعیت اور بارودی مواد مکان میں موجود ہونے یا باہر سے پھینکے جانے کے معاملے پر اختلاف موجود ہے۔ پولیس اور متاثرہ خاندان کے مؤقف کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے؛ کسی بھی فریق کے الزام کو حتمی حقیقت قرار دینے کے لیے آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔

ماخذ: سپرنٹنڈنٹ پولیس باغ، متاثرہ خاندان کے نمائندے باسط، مقامی معلومات