

روزینہ اسماعیل, September 23,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 23 ستمبر 2026ء
پاکستان نے اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل تعاون ڈے 2026ء کے موقع پر ٹوکنائزیشن سے متعلق عالمی پالیسی ڈائیلاگ کی مشترکہ میزبانی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو مستقبل کے عالمی ڈیجیٹل مالیاتی نظام کے قوانین کو محض قبول کرنے کے بجائے ان کی تشکیل اور پالیسی سازی میں بھی فعال اور بنیادی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ’’بلاک چین اور ٹوکنائزڈ مستقبل: خودمختار انتخاب اور نیکسٹ جنریشن ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کے لیے حفاظتی اقدامات‘‘ کے عنوان سے اس اہم عالمی سیشن کا انعقاد اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے اشتراک سے کیا گیا۔ سیشن میں اس بات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی کہ ٹوکنائزیشن کس طرح صرف ڈیجیٹل کرنسیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ زرعی اراضی، مالیاتی سیکیورٹیز اور بین الاقوامی اجناس جیسے بڑے حقیقی اثاثوں تک پھیل رہی ہے، جس کے لیے عوامی مفاد کے تحفظ کی خاطر جامع اور عالمی ضوابط کی ضرورت ہے۔
اس عالمی اجلاس کا باقاعدہ آغاز وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جبکہ پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین و وزیر مملکت بلال بن ثاقب سمیت مختلف ممالک کے وزراء، اعلیٰ سفارت کاروں اور بین الاقوامی فن ٹیک انڈسٹری کے نمائندوں نے سیشن میں شرکت کی۔ تقریب کے ممتاز شرکاء میں عالمی مالیاتی ادارے ‘سرکل’ کے شریک بانی اور سی ای او جیریمی آلئیر، پے اسٹینڈ کے سی ای او جیریمی آلمنڈ، وائی زیڈ آئی لیبز کی مینیجنگ پارٹنر ایلا ژانگ، تنزانیہ کی وزیر مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی اینجلا جاسمین کیروکی اور اقوام متحدہ میں سنگاپور کے مستقل نمائندے برہان غفور شامل تھے۔ ان تمام مندوبین نے بلاک چین ٹیکنالوجی کی افادیت اور اس کے خطرات پر تبادلہ خیال کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ ٹوکنائزیشن اور جدید ڈیجیٹل مالیاتی نظام کو محض نظریاتی حد تک رکھنے کے بجائے حقیقی معاشی ضروریات اور عوامی مسائل کے حل سے جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کم لاگت ترسیلاتِ زر کی فوری منتقلی، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (SMEs) کے لیے مالی معاونت کی فراہمی، خودمختار ملکی قرضوں کی شفاف مدیریت اور وسیع تر مالیاتی شمولیت جیسے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کے بے پناہ مثبت امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ نجی شعبے کی جدت طرازی کو مضبوط اور شفاف ریاستی حفاظتی اقدامات، جامع ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی تعاون کے ساتھ ہی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔
پی وی اے آر اے کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان نے ورچوئل اثاثوں کے شعبے کو منظم کرنے اور ریگولیٹری نظام کی مضبوط بنیاد رکھنے کی جانب تیز رفتاری سے پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی پر مکمل پابندی لگانے یا اسے روکنے کے بجائے اسے مناسب نگرانی اور قانونی ضوابط کے دائرے میں لانا دانشمندی ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی جانے والی ترسیلاتِ زر کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کم لاگت اور تیز رفتار بلاک چین ادائیگیوں کا نظام ہماری معاشی اصلاحات کا اہم حصہ ہے۔ پاکستانی حکام نے نئی پاس کردہ ‘ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026’ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ لائسنسنگ اور شفافیت کا یہ جدید فریم ورک اس شعبے میں ذمہ دارانہ پیش رفت کو یقینی بنائے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کی سائیڈ لائنز پر ہونے والے اقوام متحدہ کے ڈیجیٹل تعاون ڈے، پاکستان کے مستقل مشن اور ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے مشترکہ اعلامیے کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔
ماخذ: فارن ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک / اسلام آباد۔