

منصور احمد,October02,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اکتوبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور وفاقی حکومت کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کے چیمبر میں شروع ہوگئے ہیں۔ مذاکرات میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی، پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر کو متوقع لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات سمیت مختلف معاملات زیر غور ہیں۔
حکومتی وفد کی قیادت وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کر رہے ہیں۔ چھ رکنی حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان و سیفران امیر مقام جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جھکرانی شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کے وفد میں پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق مذاکرات میں سہولت کار کے طور پر شریک ہیں۔
مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ پارٹی کی جانب سے سابق وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات، ان سے متعلق طبی سہولیات اور سیاسی معاملات سمیت مختلف مطالبات مذاکرات میں زیر بحث آنے کی توقع ہے۔
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان باضابطہ ملاقات سے قبل بھی دونوں جانب سے رابطے جاری تھے۔ وزیر اعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے یکم اکتوبر کو کہا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ ’’آف دی ریکارڈ‘‘ بات چیت جاری ہے اور لانگ مارچ کے معاملے پر پارٹی کی قیادت سے مشاورت ہو رہی ہے۔
رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ احتجاج کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنے کے بجائے سیاسی معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان کے خلاف مقدمات کے فیصلے حکومت نہیں بلکہ عدالتیں کریں گی۔
دوسری جانب بیرسٹر گوہر نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بات چیت سے معاملات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس سے قبل بھی کہا گیا تھا کہ سیاسی مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
مذاکرات سے قبل اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بھی مشاورت ہوئی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم وہ پیشگی شرائط قبول نہیں کرے گی۔
موجودہ مذاکرات کا پس منظر ملک میں جاری سیاسی کشیدگی ہے۔ پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا احتجاج، خیبر پختونخوا کی صورتحال اور عمران خان سے متعلق معاملات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے اہم نکات میں شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی نے اپنے احتجاج کو جاری رکھنے کا مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔
مذاکرات کے نتیجے میں لانگ مارچ کے حوالے سے کوئی فیصلہ ہوتا ہے یا نہیں، اس کا انحصار فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت اور آئندہ پیش رفت پر ہوگا۔ فی الحال دونوں جانب سے مذاکرات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات 2 اکتوبر 2026ء کو قومی اسمبلی کے اسپیکر کے چیمبر میں شروع ہوئے ہیں۔ مذاکرات کا ایک اہم پس منظر پی ٹی آئی کا 4 اکتوبر کا مجوزہ لانگ مارچ ہے، جبکہ عمران خان سے ملاقات اور دیگر سیاسی معاملات بھی زیر غور ہیں۔ مذاکرات کے حتمی نتائج یا لانگ مارچ کے مستقبل کے بارے میں اس مرحلے پر کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
ماخذ:
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ، نیوز اینڈ نیوز اسلام اباد ڈیسک