
کاشف عباسی ,October02,2026
تعز (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اکتوبر 2026ء
یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ ملکی فضائیہ نے جنوب مغربی صوبے تعز میں حوثی جنگجوؤں اور ان کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف گزشتہ تین گھنٹوں کے دوران 20 فضائی حملے کیے ہیں۔
یمنی فوج کے ترجمان ماجد عبداللہ النزیلی کے مطابق فضائی کارروائیوں میں حوثیوں کی نقل و حرکت، کمک، جنگجوؤں کے اجتماعات، گاڑیوں اور فوجی سازوسامان کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے بقول حملوں میں متعدد اہداف کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا اور حوثیوں کے اہلکاروں، سازوسامان اور فوجی نقل و حرکت کو نقصان پہنچا۔
فوجی ترجمان کے مطابق حملے تعز کے مختلف علاقوں میں کیے گئے، جن میں حمیر، بنی بکاری، سامع، الاقروض، شارع الستین، العمور، میڈی بنی حسن اور الوازعیہ شامل ہیں۔ حوثی گروپ کی جانب سے فوری طور پر ان حملوں یا نقصانات کے بارے میں کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ فضائی کارروائیاں یمن میں حکومت کے حامی فورسز اور حوثیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے دوران ہوئی ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں جنوبی اور جنوب مغربی یمن کے مختلف علاقوں میں لڑائی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے کے خلاف کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔
تعز کو یمن کے موجودہ تنازع میں اہم تزویراتی حیثیت حاصل ہے۔ یہ صوبہ بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور ملک کے جنوبی حصوں کے درمیان واقع ہے۔ تعز پر مکمل کنٹرول کسی بھی فریق کو ملک کے شمالی علاقوں، بحیرہ احمر کے ساحل اور جنوبی یمن کی جانب نقل و حرکت کے حوالے سے اہم جغرافیائی فائدہ فراہم کر سکتا ہے۔
حالیہ لڑائی میں حوثیوں کی جانب سے بعض اہم علاقوں میں پیش قدمی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے فضائی کارروائیاں اسی پیش قدمی کو روکنے اور اپنے زیرِ کنٹرول علاقوں کے دفاع کی کوششوں کا حصہ بتائی جا رہی ہیں۔
یمن میں یہ تازہ فوجی کشیدگی 2022 میں اقوام متحدہ کی حمایت سے ہونے والی جنگ بندی کے بعد نسبتاً پرسکون رہنے والے عرصے کے خاتمے کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس جنگ بندی نے بڑی حد تک سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں کو روکنے میں کردار ادا کیا تھا، تاہم یمن میں تنازع کا سیاسی اور عسکری حل مکمل طور پر نہیں ہو سکا تھا۔
حالیہ لڑائی کے نتیجے میں دسیوں ہزار افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ اہم سڑکوں اور رسد کے راستوں پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔ تعز اور اس کے اطراف میں جاری لڑائی سے شہری آبادی کے لیے نقل مکانی، خوراک اور بنیادی سہولیات تک رسائی کے مسائل مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
یمن کی موجودہ صورتحال کا اثر ملک کی حدود سے باہر بھی پڑ سکتا ہے۔ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازرانی اور آبنائے باب المندب عالمی تجارت کے لیے اہم گزرگاہیں ہیں، اس لیے یمن میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی سے ان راستوں کی سکیورٹی اور علاقائی تجارت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تعز میں 20 فضائی حملوں کی اطلاع یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے فوجی ترجمان کی جانب سے دی گئی ہے۔ حملوں میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی مکمل آزادانہ تصدیق فی الحال دستیاب نہیں، جبکہ حوثیوں کی جانب سے بھی فوری طور پر تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ موجودہ کشیدگی کے دوران تعز کی تزویراتی اہمیت اور بحیرہ احمر و باب المندب کی سکیورٹی پر ممکنہ اثرات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماخذ:
رائٹرز، انادولو ایجنسی، عرب نیوز، شفق نیوز