

کاشف عباسی ,May 12 ,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے پیشِ نظر، وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز ملک گیر کفایت شعاری مہم میں 13 جون تک توسیع کا حکم دے دیا ہے۔
دریں اثنا، ممکنہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہوں کے درمیان، وزیراعظم اور ان کی ٹیم نے صدر آصف علی زرداری اور ان کے معاونین سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس جاری تھے۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی موجود تھے۔
18ویں ترمیم کا مستقبل
ذرائع نے ‘ڈان’ کو بتایا کہ اگر 28ویں ترمیم نافذ کی گئی تو اس کا مطلب 18ویں ترمیم کا مکمل خاتمہ ہوگا، جسے 2010 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس قانون سازی کے ذریعے صحت، آبادی، تعلیم اور معدنیات جیسے شعبے صوبوں سے واپس وفاق کو منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
تاہم، ایوانِ صدر سے جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں اس مجوزہ قانون سازی کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق صدر اور وزیراعظم نے ملک کی مجموعی صورتحال، افغانستان سے متعلق امور اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
کفایت شعاری کے اقدامات
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کفایت شعاری کے اقدامات میں درج ذیل فیصلے شامل ہیں:
سرکاری گاڑیوں کے فیول الاؤنس میں 50 فیصد کٹوتی (ایمبولینس اور پبلک بسوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا)۔
60 فیصد سرکاری گاڑیوں کو کھڑا کرنے (استعمال نہ کرنے) کا فیصلہ۔
سرکاری خرچ پر غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی۔




































