’اٹھائیسویں آئینی ترمیم‘ یا نیا قانون سازی پیکج؟ پسِ پردہ بڑی آئینی تبدیلیوں کی بازگشت

کاشف عباسی ,May 18 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی ذرائع نے عندیہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں اہم آئینی تبدیلیوں کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ حکومت کی جانب سے باضابطہ طور پر ’’28ویں آئینی ترمیم‘‘ کی تردید کی جا رہی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی جماعت کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے کسی مجوزہ آئینی ترمیم کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کسی بھی آئینی تبدیلی سے قبل اتحادی جماعتوں سے مشاورت کی جائے گی۔

تاہم، حکمران اتحاد کے اندر موجود ذرائع کے مطابق پس پردہ مختلف آئینی اور انتظامی امور پر غور جاری ہے، جنہیں باضابطہ ’’آئینی ترمیم‘‘ کے بجائے ایک وسیع ’’قانون سازی پیکج‘‘ کی شکل دی جا سکتی ہے۔

سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم سے متعلق بعض شعبے دوبارہ مرکز کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔ ان میں نصابِ تعلیم، آبادی بہبود، معدنیات و کان کنی اور بعض انتظامی شعبے شامل بتائے جا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت بظاہر کسی بڑی آئینی تبدیلی کی تردید کر رہی ہے، تاہم پارٹی کے اندر یہ تاثر موجود ہے کہ ’’کچھ نہ کچھ ضرور پک رہا ہے‘‘۔

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس معاملے کو محتاط انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے تاکہ اتحادی جماعتوں خصوصاً پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے تحفظات کو مدنظر رکھا جا سکے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی کسی بڑے قانون سازی پیکج یا آئینی اصلاحات کی طرف بڑھتی ہے تو اس کے ملکی سیاست، وفاقی ڈھانچے اور صوبائی خودمختاری پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں

عالمی یومِ ٹیلی مواصلات: جدید ٹیکنالوجی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر ہے، یوسف رضا گیلانی

منصور احمد ,May 18,2026

اسلام آباد: نیوز اینڈ نیوز

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے عالمی یومِ ٹیلی مواصلات و انفارمیشن سوسائٹی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ جدید دور میں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی مواصلات نے دنیا کو ایک گلوبل ویلج میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں معلومات تک بروقت رسائی، مؤثر رابطے اور ڈیجیٹل سہولیات ترقی اور عوامی فلاح کے لیے ناگزیر حیثیت اختیار کر چکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال 17 مئی کو منایا جانے والا یہ عالمی دن 1865 میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے قیام کی یاد دلاتا ہے، جبکہ اس دن کا مقصد دنیا بھر میں مواصلاتی ٹیکنالوجی، جدید رابطوں اور معلومات کی منتقلی کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے تعلیم، صحت، تجارت، پارلیمانی امور اور عوامی خدمات سمیت زندگی کے ہر شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان میں جدید مواصلاتی نظام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے نوجوان نسل کو عالمی سطح پر ترقی کے مساوی مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل شمولیت، سائبر سیکیورٹی اور جدید ٹیکنالوجی تک مساوی رسائی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی پارلیمنٹ اور ریاستی ادارے جدید انفارمیشن سسٹمز کے فروغ، ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور ڈیجیٹل ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جدید مواصلاتی نظام، ڈیجیٹل اختراعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ کے ذریعے ایک ترقی یافتہ اور مربوط معاشرے کے قیام کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔

رویت ہلال کمیٹی کا ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کا اعلان، پاکستان میں عید الاضحیٰ 27 مئی کو ہوگی

محمود احمد May17,2026

کراچی: نیوز اینڈ نیوز

مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے پاکستان میں ذوالحجہ 1447 ہجری کا چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں عید الاضحیٰ بدھ 27 مئی 2026 کو مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جائے گی۔

چیئرمین مرکزی رویت ہلال کمیٹی مولانا عبدالخبیر آزاد نے کراچی میں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے مختلف حصوں سے چاند کی معتبر اور شرعی شہادتیں موصول ہوئیں، جن کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد اتفاقِ رائے سے چاند نظر آنے کا فیصلہ کیا گیا۔

مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس محکمہ موسمیات کراچی کے دفتر میں منعقد ہوا، جس میں کمیٹی اراکین کے علاوہ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے ماہرین نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں زونل رویت ہلال کمیٹیوں کی جانب سے موصول ہونے والی شہادتوں کا شرعی اور تکنیکی بنیادوں پر جائزہ لیا گیا۔

اعلان کے مطابق پاکستان میں یکم ذوالحجہ پیر 18 مئی 2026 کو ہوگی، جبکہ یومِ عرفہ 26 مئی بروز منگل ادا کیا جائے گا اور عید الاضحیٰ 27 مئی بروز بدھ منائی جائے گی۔

اس موقع پر مولانا عبدالخبیر آزاد نے پوری قوم کو عید الاضحیٰ کی مبارکباد دیتے ہوئے دعا کی کہ یہ بابرکت مہینہ پاکستان کے لیے امن، استحکام اور خوشحالی کا باعث بنے۔

ذرائع کے مطابق اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف شہروں سے چاند کی رویت کی متعدد معتبر شہادتیں موصول ہوئی تھیں، جن کی بنیاد پر حتمی اعلان کیا گیا۔

معرکۂ حق میں قومی اتحاد نے عسکری کامیابی کو سفارتی فتح میں بدل دیا، سفیر عاصم افتخار احمد

محمود احمد May17,2026

نیویارک: نیوز اینڈ نیوز

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ معرکۂ حق کے دوران پاکستانی قوم کے اتحاد، سیاسی قیادت، سفارتی حکمت عملی اور مسلح افواج کے عزم نے پاکستان کی عسکری کامیابی کو ایک بڑی سفارتی اور سیاسی فتح میں تبدیل کر دیا۔

بروکلین میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ قوموں کی اصل طاقت بحران کے وقت سامنے آتی ہے اور معرکۂ حق کے دوران پوری پاکستانی قوم بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔

انہوں نے پاکستانی عوام، سیاسی و عسکری قیادت اور افواجِ پاکستان کے غیر متزلزل اتحاد اور قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر حقائق اور اصولوں پر مبنی مؤقف پیش کیا، جسے عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی میڈیا میں بھرپور پذیرائی ملی۔

تقریب ممتاز کمیونٹی رہنما ملک خالد اعوان کی جانب سے بروکلین میں منعقد کی گئی، جس میں پاکستانی کمیونٹی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ تقریب سے سینیٹر رانا محمود الحسن نے بھی خطاب کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے وزیر اعظم کی ہدایت پر بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اقوام متحدہ آنے والے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے نمائندوں اور اسلامی تعاون تنظیم کے سفیروں سمیت اہم عالمی شخصیات سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس بھارتی وفد نے اقوام متحدہ میں مؤثر سفارتی روابط سے گریز کیا۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی ہے، جبکہ تنازع کے باوجود پاکستان نے ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیا۔

انہوں نے جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے “تنازعات کے پُرامن حل” سے متعلق قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، ایسے وقت میں جب سلامتی کونسل اہم عالمی معاملات پر شدید تقسیم کا شکار تھی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے، لیکن اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون سمیت بین الاقوامی شراکت داریوں کا فروغ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کا ثبوت ہے۔

اپنے خطاب میں سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکۂ حق جیسے لمحات اقوام کی تاریخ میں بہت کم آتے ہیں، جو ان کی تقدیر اور عالمی مقام کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی، عسکری اور سفارتی قیادت نے اس نازک مرحلے پر قوم کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے دشمن کے عزائم ناکام بنائے۔

انہوں نے پاکستانی سفارت کاروں، خصوصاً سفیر عاصم افتخار احمد، کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ایک بڑی سفارتی کامیابی تھی۔

سینیٹر نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے اور پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔

تقریب سے ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، عطیہ شیراز، جاوید چوہدری، روحیل ڈار، میاں عظیم، صفدر گجر، نگہت فاروق، عظریٰ ڈار اور اقبال کھوکھر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

پانڈا بانڈ پاکستان کیلئے نئی امید یا قرضوں کا نیا بوجھ؟

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے چین کی مقامی بانڈ مارکیٹ میں اپنا پہلا “پانڈا بانڈ” کامیابی سے جاری کرتے ہوئے ایک اہم مالیاتی سنگ میل عبور کر لیا ہے، جسے ماہرین نے نہ صرف بیرونی فنڈنگ کے نئے دروازے کھلنے بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کے بحال ہوتے اعتماد کی علامت بھی قرار دیا ہے۔

پاکستان نے اس بانڈ کے ذریعے 1 ارب 75 کروڑ رینمنبی (چینی کرنسی) حاصل کیے، جبکہ اس پر شرحِ منافع صرف 2.5 فیصد رکھی گئی، جو پاکستان کے روایتی بیرونی قرضوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔ حکومتی حکام کے مطابق اس بانڈ کو سرمایہ کاروں کی جانب سے غیر معمولی پذیرائی ملی اور طلب مقررہ حجم سے پانچ گنا زیادہ رہی۔

وزارت خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا کہ اس تاریخی بانڈ کے اجرا سے 8 ارب 80 کروڑ رینمنبی سے زائد سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی، جو پاکستان کے معاشی استحکام اور جاری اصلاحات پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔ ان کے مطابق پانڈا بانڈ پاکستان کی مالیاتی حکمتِ عملی میں ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس کا مقصد قرضوں کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور عالمی سرمایہ کاروں تک رسائی بڑھانا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کئی دہائیوں سے مغربی مالیاتی اداروں اور عالمی بانڈ مارکیٹوں پر انحصار کرتا رہا ہے، تاہم پانڈا بانڈ کے ذریعے اب چین کی دوسری بڑی عالمی بانڈ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہو گئی ہے۔ مالیاتی امور کے ماہر عبدالرحمان وڑائچ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کو چینی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس سے مستقبل میں نجی چینی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان معاشی استحکام اور اصلاحات کا تسلسل برقرار رکھتا ہے تو یہ بانڈ ملک کے لیے مزید سستی بیرونی فنانسنگ کے دروازے کھول سکتا ہے۔ ان کے مطابق عالمی بانڈ مارکیٹوں میں مستقل رسائی حکومتوں کو مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت اور بہتر گورننس پر بھی مجبور کرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق صرف دو سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے دوچار تھا، زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر پہنچ چکے تھے اور عالمی سرمایہ کار پاکستان سے دور ہو رہے تھے، ایسے میں 2.5 فیصد شرح پر فنڈنگ حاصل کرنا غیر معمولی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔

تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کامیابی کے باوجود پاکستان کی بنیادی معاشی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بانڈ کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی ضمانتوں کی وجہ سے بہتر ریٹنگ حاصل ہوئی، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے۔ اگر یہ ضمانتیں نہ ہوتیں تو پاکستان کو کہیں زیادہ شرح سود پر قرض لینا پڑتا۔

ماہرین کے مطابق پانڈا بانڈ وقتی مالیاتی ریلیف ضرور فراہم کر سکتا ہے، لیکن پائیدار معاشی بہتری کے لیے ٹیکس اصلاحات، برآمدات میں اضافہ، مالیاتی نظم و ضبط اور سیاسی استحکام ناگزیر ہیں

خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کا فیصلہ، 6 وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل

منصور احمد ,May 17,2026

پشاور: فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا کابینہ میں توسیع کی سمری منظور کر لی، جس کے تحت صوبائی حکومت میں 6 نئے وزراء، 4 مشیر اور 8 معاونین خصوصی شامل کیے جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے کابینہ میں توسیع کے لیے سمری گورنر ہاؤس بھجوائی گئی تھی، جسے گورنر فیصل کریم کنڈی نے باقاعدہ منظوری دے دی۔ نئے اراکین کی حلف برداری کی تقریب کل بروز اتوار گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوگی۔

کابینہ میں شامل کیے جانے والے نئے وزراء میں نذیر احمد عباسی، شکیل احمد، محمد عدنان قادری، محمد عارف احمدزئی، طارق محمود آریانی اور شفیع اللہ جان شامل ہیں۔ شفیع اللہ جان اس سے قبل معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

چار نئے مشیروں میں پیر مصور خان، لیاقت علی خان، ہمایوں خان اور میاں محمد عمر شامل ہیں۔

اسی طرح 8 نئے معاونین خصوصی میں طارق سعید، محمد عثمان، طفیل انجم، افتخار اللہ جان، سمیع اللہ خان، ملک عدیل اقبال، محمد خورشید اور محمد اسرا کے نام شامل کیے گئے ہیں۔

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کابینہ میں یہ توسیع صوبے میں انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے اور مختلف محکموں کی کارکردگی بہتر بنانے کے مقصد سے کی جا رہی ہے۔

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی اختلافات اور قیادت کے بحران سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کے باوجود پارٹی قیادت نے واضح کیا ہے کہ تمام رہنما، کارکنان اور پارلیمانی اراکین بانی چیئرمین عمران خان کے مؤقف پر متحد ہیں۔

رپورٹ: نیوز اینڈ نیوز

پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے کہا ہے کہ پارٹی کے اندر رائے کا اختلاف ایک فطری سیاسی عمل ہے، اسے تقسیم یا دھڑوں کی سیاست سے تعبیر نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف رہنماؤں کی آرا الگ ہو سکتی ہیں، تاہم جب بات عمران خان کی ہو تو پوری جماعت ایک صف میں کھڑی نظر آتی ہے۔۔

یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پارٹی کے اندر سے بعض رہنماؤں اور ذرائع کی جانب سے یہ دعوے سامنے آئے کہ عمران خان کی طویل جیل مہم کے دوران پی ٹی آئی اب تک ایک متفقہ سیاسی حکمت عملی ترتیب دینے میں مشکلات کا شکار ہے۔ ذرائع کے مطابق احتجاجی سیاست، پارلیمانی کردار، فیصلہ سازی اور پارٹی میں مختلف اثر و رسوخ رکھنے والے حلقوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پارٹی کے بعض اندرونی ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی میں اس وقت مختلف گروپس متحرک ہیں جن میں مرکزی قیادت، عمران خان کا خاندان، پارلیمانی پارٹی، خیبرپختونخوا حکومت اور بیرون ملک مقیم سوشل میڈیا کارکن شامل ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حلقوں کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ فیصلوں کا فقدان پایا جاتا ہے، جس کے باعث سیاسی حکمت عملی پر اتفاق رائے میں مشکلات سامنے آ رہی ہیں۔

ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ پارٹی کی سابقہ پولیٹیکل کمیٹی کو ختم کرکے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جہاں اہم فیصلوں پر بحث کی جاتی ہے، تاہم حساس معاملات اکثر عمران خان کو بھجوا دیے جاتے ہیں جس سے فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ جاتا ہے۔

پارلیمانی کردار کے حوالے سے بھی بعض پی ٹی آئی اراکین نے تحفظات کا اظہار کیا۔ ایک رکنِ اسمبلی کے مطابق پارٹی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں موجود ہونے کے باوجود پارلیمانی کمیٹیوں میں مؤثر نمائندگی حاصل نہیں کر سکی، حالانکہ اصل قانون سازی انہی کمیٹیوں میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی کو کمیٹیوں میں فعال کردار ملے تو وہ قانون سازی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، بصورت دیگر اسمبلی میں موجودگی کا فائدہ محدود رہ جاتا ہے۔

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پارٹی کو سیاسی گنجائش بڑھانے کے لیے زیادہ منظم حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ ان کے مطابق احتجاجی سیاست اور سوشل میڈیا بیانیے میں توازن پیدا کیے بغیر مطلوبہ سیاسی نتائج حاصل کرنا مشکل ہوگا۔

پارٹی کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے یہ رائے بھی سامنے آئی کہ تجربہ کار سیاسی قیادت کو زیادہ فعال کردار دینا چاہیے۔ بعض رہنماؤں نے شاہ محمود قریشی کو عمران خان کے بعد ایک اہم سیاسی شخصیت قرار دیا، تاہم وہ اس وقت جیل میں ہیں

اٹھائیس ویں آئینی ترمیم کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے، اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

لاہور: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ فی الحال انہیں مستقبل قریب میں 28 ویں آئینی ترمیم متعارف کرائے جانے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے، تاہم اگر ایسی کوئی آئینی تبدیلی لائی گئی تو وہ اتحادی جماعتوں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور اتفاق رائے سے ہی ممکن ہوگی۔

اقلیتوں کے حقوق سے متعلق ایک کانفرنس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئینی ترامیم کسی ایک جماعت کی خواہش پر نہیں بلکہ سیاسی اتفاق رائے سے ہی منظور ہوتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اتحادی شراکت داروں کو اعتماد میں لیے بغیر کسی بھی آئینی ترمیم کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔

وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کا عمل جاری ہے، جبکہ کئی آئینی اور گورننس سے متعلق امور اب بھی زیر بحث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات کے حل کے لیے آئینی اصلاحات کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے، لیکن ہر قدم وسیع تر قومی اتفاق رائے کے تحت ہی اٹھایا جائے گا۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ قانون سازی ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے اور آئینی معاملات میں تمام سیاسی قوتوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے 18 ویں آئینی ترمیم کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی تمام سیاسی جماعتوں کے باہمی اتفاق اور مشاورت سے منظور ہوئی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر قانون نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے، ہزارہ اور سرائیکی صوبوں کے قیام جیسے معاملات بھی مختلف حلقوں میں زیر بحث ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ طویل عرصے سے بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے آئینی اصلاحات کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اتحادی حکومت کو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف انتظامی اور گورننس چیلنجز کا سامنا رہا ہے، جن کے حل کیلئے سیاسی ہم آہنگی اور متفقہ اصلاحات ناگزیر ہیں۔

بھارتی آرمی چیف کا بیان اشتعال انگیز اور خطے کے امن کیلئے خطرناک ہے، آئی ایس پی آر

منصور احمد ,May 17,2026

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھارتی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور خطے کے امن و استحکام کیلئے خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور ایٹمی صلاحیت رکھنے والی اہم ریاست ہے، جس کے خلاف دھمکی آمیز زبان ناقابل قبول ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت آج تک پاکستان کے وجود کو دل سے تسلیم نہیں کر سکا، جبکہ ہندوتوا سوچ نے جنوبی ایشیا کو متعدد بار جنگوں، کشیدگی اور بحرانوں کی طرف دھکیلا ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیے سے مٹانے جیسے بیانات ذہنی دیوالیہ پن، جنگی جنون اور غیر سنجیدہ سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ کسی ایٹمی ہمسائے کو ختم کرنے کی بات کرنا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے، جبکہ ذمہ دار ایٹمی طاقتیں ہمیشہ تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت خطے میں دہشتگردی، عدم استحکام اور پروپیگنڈے کا ایک بڑا مرکز رہا ہے، جبکہ پاکستان کے خلاف مسلسل جارحانہ زبان اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے مذموم عزائم میں ناکام رہا ہے۔

ترجمان پاک فوج کے مطابق “معرکۂ حق” میں بھارت کی ناکامی دنیا کے سامنے واضح ہو چکی ہے اور اب بھارت کو خطے کو نئی جنگ یا کسی بڑے بحران کی طرف دھکیلنے سے باز رہنا چاہیے۔

آئی ایس پی آر نے خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کے نتائج محدود نہیں رہیں گے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ بھارت کو پاکستان کے ساتھ پُرامن بقائے باہمی، علاقائی استحکام اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل سیکھنا ہوگا

امریکہ۔ایران مذاکرات کی بحالی کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز، محسن نقوی تہران پہنچ گئے

کاشف عباسی ,May 17 ,2026

اسلام آباد: پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو بحال کرنے کیلئے اپنی سفارتی کوششیں مزید تیز کر دی ہیں، اسی سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی غیر اعلانیہ دو روزہ دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ پاکستان کی جاری “شٹل ڈپلومیسی” کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکراتی عمل کو مکمل تعطل سے بچانا اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکراتی ادوار کے بعد پیدا ہونے والی پیش رفت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہو گئی تھی، جس کے بعد پاکستان نے دوبارہ متحرک کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس دورے کو باضابطہ طور پر دوطرفہ تعلقات اور سرحدی سیکیورٹی تعاون کے تناظر میں رکھا گیا ہے، تاہم اس کے پس منظر میں خطے کی بدلتی صورتحال اور ایران۔امریکہ کشیدگی بھی اہم عنصر ہے۔ توقع ہے کہ محسن نقوی ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں علاقائی سیکیورٹی، سرحدی تعاون اور وسیع تر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین اور چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے باوجود ایران کے معاملے پر کوئی بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آ سکا۔ اگرچہ قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ چین تہران کو کسی ممکنہ سمجھوتے پر آمادہ کر سکتا ہے، تاہم عملی طور پر صورتحال میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران “حقیقی ضمانت” فراہم کرے تو امریکہ یورینیم افزودگی پر 20 سالہ معطلی کے فارمولے پر غور کر سکتا ہے، تاہم انہوں نے ایرانی تجاویز کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تنقید بھی کی۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکی بیانات میں تضاد پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے تہران کو واشنگٹن کے حقیقی ارادوں پر شکوک ہیں۔

ادھر ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ کشیدگی اور حملوں کے نتیجے میں تہران میں 1,260 افراد جاں بحق جبکہ 2,800 سے زائد زخمی ہوئے ہیں، جب کہ ہزاروں رہائشی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سیدوف سے بھی رابطہ کیا، جس میں علاقائی امن، پاک۔ازبک تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ازبک وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا

62 سال پرانا ضابطۂ اخلاق ختم، سرکاری ملازمین کے لیے نیا سخت کنڈکٹ رولز 2026 نافذ

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے لیے 62 سال پرانے ضابطۂ اخلاق کو ختم کرتے ہوئے نیا “سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026” نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اثاثوں کے اظہار، مالی شفافیت اور سوشل میڈیا سرگرمیوں پر سخت اور واضح قواعد متعارف کرا دیے گئے ہیں۔

نئے ضابطے کے مطابق گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے تمام افسران کو ہر سال 30 اکتوبر تک اپنے اثاثوں کی تفصیلات ڈیجیٹل نظام کے ذریعے جمع کرانا لازمی ہوگا۔ ان اثاثہ جات کی معلومات کو شفافیت کے لیے عوامی سطح پر بھی جاری کیا جائے گا، تاہم ذاتی اور حساس تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ان اثاثوں کی جانچ پڑتال اور نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔

پہلی بار قواعد میں کرپٹو کرنسی، بینک اکاؤنٹس، شیئرز، سیکیورٹیز، انشورنس پالیسیوں اور 50 لاکھ روپے یا اس سے زائد مالیت کے زیورات کو بھی اثاثوں میں ظاہر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

نئے ضابطے میں مفادات کے ٹکراؤ (Conflict of Interest) کے حوالے سے بھی سخت نظام شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت سرکاری ملازمین کو اپنے یا اہلِ خانہ کے مالی و ذاتی مفادات واضح طور پر ظاہر کرنا ہوں گے تاکہ سرکاری فیصلوں پر کسی قسم کے اثرانداز ہونے سے بچا جا سکے۔

سوشل میڈیا اور آن لائن سرگرمیوں پر بھی پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔ سرکاری ملازمین کو بغیر پیشگی اجازت کسی بھی ویب سائٹ، بلاگ، پوڈکاسٹ یا یوٹیوب چینل چلانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ سرکاری کام یا سہولیات کو ذاتی تشہیر کے لیے استعمال کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

مزید برآں تحائف اور مہمان نوازی سے متعلق قوانین بھی سخت کیے گئے ہیں۔ سرکاری ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ غیر متعلقہ افراد یا اداروں سے تحائف قبول نہیں کر سکیں گے، سوائے ان صورتوں کے جو توشہ خانہ قواعد کے تحت قابلِ اجازت ہوں۔

قواعد میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ افسران اپنی آمدن سے زائد اخراجات نہیں کر سکیں گے، جبکہ شادیوں اور دیگر تقریبات پر غیر معمولی اخراجات کی صورت میں وضاحت دینا لازم ہوگا۔

سٹی کورٹ کا انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کیس کا تحریری فیصلہ جاری، 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

محمود احمد May16,2026

کراچی: سٹی کورٹ کراچی کی اسپیشل جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی نے ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں درج قتل کے مقدمے کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ملزمہ نے دورانِ سماعت پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کے تشدد یا ناروا سلوک کی کوئی شکایت نہیں کی۔ تفتیشی افسر نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہی ہے اور اس کیس میں مزید شواہد و ملزمان تک پہنچنے کے لیے اس کا جسمانی ریمانڈ ضروری ہے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جاں بحق ہونے والے شخص کے پاس سے بھی مبینہ طور پر وہ منشیات برآمد ہوئی جو ملزمہ سے منسوب کی جا رہی ہیں، جس سے تفتیشی ٹیم کے مطابق اس کے نیٹ ورک سے تعلق کا شبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی نوعیت سنگین ہے اور مزید گرفتاریوں کے لیے ملزمہ سے تفتیش ناگزیر ہے۔

عدالت نے ابتدائی شواہد اور تفتیشی مؤقف کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمہ کو دو روز کے جسمانی ریمانڈ پر بغدادی پولیس کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ اسے دوبارہ 18 مئی کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ تفتیش شفاف طریقے سے مکمل کر کے پیش رفت رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔

تحریری حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ابتدائی شواہد بظاہر ملزمہ کے خلاف ہیں، تاہم حتمی فیصلہ مکمل تفتیش کے بعد ہی کیا جائے گا۔

دوسری جانب کراچی پولیس کی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے بھی کیس کی پیشرفت کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس میں ایف آئی اے، اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط لکھنے اور مالی لین دین، بینک اکاؤنٹس اور ممکنہ نیٹ ورک کی تفصیلی چھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مزید یہ بھی طے پایا کہ نیٹ ورک سے منسلک افراد کے بیانات حاصل کیے جائیں گے تاکہ پورے کارٹیل تک پہنچا جا سکے

حافظ نعیم الرحمن: ملک میں گولی اور گالی کی سیاست عام، نظام کرپشن اور اقربا پروری کے زیر اثر

چترال (انٹرنیشنل پریس ایجنسی/نیوز اینڈ نیوز)

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت گولی اور گالی کی سیاست عام ہو چکی ہے جبکہ تعلیم مہنگی اور طبقاتی نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ان کے مطابق ہر شعبہ کرپشن اور اقربا پروری کے زیر اثر ہے۔

چترال میں بنو قابل پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت نئی نسل کا ہاتھ تھامنے کو تیار نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے تحت جاری مفت آئی ٹی تربیتی پروگرام “بنو قابل” ایک گیم چینجر منصوبہ بن چکا ہے، جس کے تحت اب تک چودہ لاکھ پچاس ہزار سے زائد بچے رجسٹر ہو چکے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن کے مطابق اس پروگرام کے تحت ہزاروں طلبہ و طالبات مختلف تربیتی کورسز میں داخلہ لے رہے ہیں اور کامیاب امیدواروں کو جدید آئی ٹی مہارتوں کی تربیت دی جا رہی ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ بنو قابل پروگرام کے دائرہ کار کو مزید بڑھاتے ہوئے اب اس میں ٹیکنیکل کورسز بھی شامل کیے جا رہے ہیں، جبکہ ملک بھر میں ہزاروں آئی ٹی لیبارٹریز قائم کی جا چکی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کو مزید وسعت دے کر اسے “زی کنیکٹ” کا نام دیا گیا ہے، جس میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوانوں کی اخلاقی تربیت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کو دین اور جدید تعلیم سے آراستہ کر کے ملک و قوم کی خدمت کے قابل بنایا جا رہا ہے، جبکہ جماعت اسلامی نظام کی تبدیلی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا قیام جن مقاصد کے لیے عمل میں آیا تھا، بدقسمتی سے وہ آج تک حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق ملک میں اشرافیہ، جاگیردار اور وڈیرے نظام پر قابض ہیں جبکہ عوام کو انصاف اور بنیادی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے چترال کے مسائل پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علاقے میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور حکمران جماعتیں عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پرامن جدوجہد کے ذریعے عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے کوشاں ہے اور نوجوانوں کو اس تحریک کا حصہ بننا چاہیے۔

کوکین ڈیلر انمول عرف پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

محمود احمد May16,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز)
کراچی کی سٹی کورٹ نے منشیات فروشی کے مقدمے میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو بائیس مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔

عدالت نے تفتیشی حکام کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزمہ کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے سپرد کرنے کا حکم جاری کیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ مختلف مقدمات میں مطلوب ہے اور اس سے اہم معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق انمول عرف پنکی نے منشیات کا اپنا ایک باقاعدہ “برانڈ” بنا رکھا تھا، جبکہ پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور حساس ایجنسیاں طویل عرصے سے اس کی تلاش میں تھیں۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ حالیہ کارروائی کے دوران ملزمہ کی نشاندہی پر مزید منشیات برآمد کی گئی ہیں جبکہ اس کے خلاف مزید گیارہ مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمہ کا تعلق اصل میں لاہور سے ہے، تاہم اس کے شناختی کارڈ پر اب بھی کراچی کا پتہ درج ہے۔

تفتیشی افسر کے مطابق ملزمہ کا پرانا ریکارڈ اس کے سابق شوہر نے بلاک کر رکھا ہے، جبکہ وہ گزشتہ پندرہ برس سے مبینہ طور پر منشیات کا نیٹ ورک چلا رہی تھی۔

پولیس نے عدالت کو آگاہ کیا کہ قانون کی گرفت سے بچنے اور سیکیورٹی معاملات سے نمٹنے کے لیے ملزمہ نے پنجاب پولیس کے ایک ڈی ایس پی سے بھی شادی کی تھی۔

تفتیش کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ ملزمہ مجموعی طور پر تین شادیاں کر چکی ہے، تاہم حیران کن طور پر نادرا کے ریکارڈ میں ان شادیوں کا اندراج موجود نہیں۔

دورانِ سماعت عدالت نے قتل کے ایک مقدمے سے متعلق بھی استفسار کیا، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ مقتول کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی، تاہم لاش کی تلاشی کے دوران ملزمہ کے مبینہ برانڈ کی منشیات کی ڈبی برآمد ہوئی تھی، جس سے مقتول کا تعلق ملزمہ سے جوڑا جا رہا ہے۔

عدالت نے ملزمہ کے خلاف درج مجموعی طور پر بارہ مقدمات سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کراچی کی ملیر کورٹ نے سچل تھانے میں درج مقدمے میں انمول عرف پنکی کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جبکہ جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی

کراچی صرافہ بازار چھاپہ معاملہ، ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور کا نوٹس، 48 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

محمود احمد May16,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز)
کراچی کے صرافہ بازار میں ایف آئی اے کے چھاپے کے دوران پیش آنے والے واقعے کا ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے نوٹس لے لیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے ڈائریکٹر کراچی زون کو واقعے کی مکمل انکوائری کے احکامات جاری کرتے ہوئے اڑتالیس گھنٹوں میں جامع رپورٹ طلب کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق کراچی صدر میں ایف آئی اے کی جانب سے جیولرز کی دکانوں پر چھاپے مارے گئے، جس کے بعد صورتحال کشیدہ ہوگئی۔

کارروائی کے دوران ایک جیولر اور دکان میں موجود دیگر افراد کے ساتھ مبینہ تشدد اور ناروا سلوک کے الزامات بھی سامنے آئے، جس پر تاجر برادری نے شدید احتجاج کیا اور سڑک بلاک کر دی۔

واقعے کے بعد صرافہ بازار اور تاجر تنظیموں کی جانب سے ایف آئی اے کی کارروائی کے طریقہ کار پر سخت تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور نے معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ چھاپے کے دوران اختیار کیے گئے طریقہ کار اور سامنے آنے والے تمام الزامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی اہلکار کی غفلت، اختیارات سے تجاوز یا بدسلوکی ثابت ہوئی تو متعلقہ افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

.ادھر تاجر برادری نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے

پی ٹی آئی اراکین کا وفاق کے ’دوہرے معیار‘ پر سوال، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر سخت تنقید

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز)
پاکستان تحریک انصاف کے اراکینِ قومی اسمبلی نے قومی اسمبلی میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر وفاقی حکومت کے مبینہ دوہرے معیار پر سوالات اٹھا دیے۔

ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی عادل خان بازئی نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کا ذمہ دار صوبائی حکومت کو ٹھہرایا جاتا ہے تو پھر بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی پر وہاں کی حکومت سے سوال کیوں نہیں کیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات، اضافی اختیارات اور سخت سیکیورٹی انتظامات کے باوجود دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

عادل خان بازئی نے ایوان میں کہا،
“سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ موجودہ صورتحال ملک کو تباہی کی طرف لے جا رہی ہے۔”

انہوں نے بلوچستان میں عوامی بے چینی، بدامنی اور حکومتی کارکردگی پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے عادل بازئی کے بعض ریمارکس کارروائی سے حذف بھی کر دیے۔

پی ٹی آئی اراکین کا مؤقف تھا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے معاملے پر سخت مؤقف اختیار کرتی ہے، لیکن بلوچستان میں مسلسل خراب ہوتی صورتحال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔

ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما اور وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے معاملات بنیادی طور پر صوبائی نوعیت کے ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر اپوزیشن اراکین چاہیں تو ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ملاقات کروا دی جائے تاکہ مسائل پر براہ راست بات چیت ہو سکے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق قومی اسمبلی میں ہونے والی یہ بحث ملک میں سیکیورٹی، صوبائی اختیارات اور وفاقی پالیسیوں سے متعلق بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے۔

بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری پر اتفاق

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

دبئی (نیوز اینڈ نیوز)
بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک دفاعی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ پیش رفت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے خلیجی ملک کے دورے کے دوران سامنے آئی۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کے جامع فریم ورک پر اتفاق کیا، جبکہ اس موقع پر توانائی کے شعبے میں بھی اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور متحدہ عرب امارات نے اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر اور مائع پٹرولیم گیس کی فراہمی سے متعلق معاہدے بھی طے کیے ہیں۔

اسٹریٹجک دفاعی شراکت داری کے تحت دونوں ممالک دفاعی صنعت، جدید ٹیکنالوجی، تحقیق، تربیت، مشترکہ فوجی مشقوں، سمندری سلامتی، سائبر دفاع، محفوظ مواصلاتی نظام اور معلومات کے تبادلے میں تعاون بڑھائیں گے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں فریقین نے خطے میں سیکیورٹی تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ تیل کے نئے معاہدے کے تحت بھارت میں ابو ظہبی نیشنل آئل کمپنی کے خام تیل کے ذخائر کو ممکنہ طور پر تین کروڑ بیرل تک بڑھایا جائے گا۔

دوسری جانب ایران جنگ کے معاملے پر اختلافات کے باعث برکس ممالک کے مذاکرات کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ہی ختم ہو گئے، جس کے بعد خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں مزید تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

مبصرین کے مطابق بھارت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی اور اقتصادی تعاون خطے کی بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال میں اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں خطرناک حد تک اضافہ، ہر گھنٹے درجنوں کیسز درج ہونے لگے

منصور احمد ,May 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں طلاق کے مقدمات میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں خاندانی نظام پر بڑھتے دباؤ نے سماجی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق رواں سال اب تک مجموعی طور پر پینتالیس ہزار طلاق کے مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں، جبکہ ہر ماہ تقریباً نو ہزار نئے کیسز فیملی کورٹس میں سامنے آ رہے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد میں روزانہ تین سو سے زائد طلاق کی درخواستیں دائر کی جا رہی ہیں، جبکہ اوسطاً ہر گھنٹے اڑتیس طلاقیں رجسٹر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران طلاق کے مقدمات میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سال دو ہزار تئیس میں پچاسی ہزار مقدمات دائر ہوئے، جو دو ہزار چوبیس میں بڑھ کر اکانوے ہزار تک پہنچ گئے، جبکہ دو ہزار پچیس میں یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

دوسری جانب وفاقی دارالحکومت میں روزانہ تیس سے زائد کورٹ میرجز بھی ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران اڑتیس ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں شادی کے صرف ایک سے تین ماہ کے اندر ہی طلاق کی درخواستیں دائر کر دی گئیں۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح معاشرتی ڈھانچے، خاندانی نظام اور نئی نسل کے مستقبل کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔

ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں پر زور دیا ہے کہ نوجوان نسل میں برداشت، باہمی احترام اور خاندانی ذمہ داریوں سے متعلق شعور اجاگر کیا جائے تاکہ اس بڑھتے ہوئے سماجی مسئلے پر قابو پایا جا سکے۔

حکومت کا پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5، 5 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان

کاشف عباسی ,May 16 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز):
حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں پانچ، پانچ روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر آئندہ ہفتے کے لیے ہوگا۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی سطح پر بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی ایکس ڈپو قیمت چار سو نو روپے اٹھاون پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل قیمت چار سو چودہ روپے اٹھاون پیسے فی لیٹر تھی۔

اسی طرح پٹرول کی نئی ایکس ڈپو قیمت چار سو نو روپے اٹھہتر پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جو پہلے چار سو چودہ روپے چھیہتر پیسے تھی۔

حکومتی ذرائع کے مطابق دونوں مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً ایک اعشاریہ دو فیصد کمی کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل ٹرانسپورٹ اور مال برداری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں کمی سے مہنگائی کے دباؤ میں کچھ حد تک کمی آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں رواں برس اپریل میں پانچ سو بیس روپے پینتیس پیسے کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں، تاہم اب اس میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی شرط پر حکومت نے گزشتہ ہفتے دونوں مصنوعات پر اوسطاً اسی روپے فی لیٹر پٹرولیم لیوی بحال کی تھی۔

اس وقت پٹرول پر پٹرولیم لیوی ایک سو سترہ روپے اکتالیس پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل پر بیالیس روپے ساٹھ پیسے فی لیٹر عائد ہے۔