

منصور احمد,October14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کر دی گئی ہے، جس پر ایوان میں بحث جاری ہے۔ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے قرارداد پیش کی، جبکہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس اقدام کے حق میں حکومتی مؤقف بیان کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں نظام کو ختم نہیں کیا گیا بلکہ حکومت کو غیرفعال کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے داخلی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے باعث ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
وزیر قانون نے بتایا کہ وفاقی کابینہ میں صورتِ حال پر تفصیلی غور کیا گیا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے کی بحث کے بعد وزیراعظم کو ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و استحکام کے لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبہ مل کر سکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ کریں۔
دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار پیش
اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں سکیورٹی کی صورتِ حال مسلسل خراب ہوئی ہے۔ ان کے مطابق 2021ء سے 2024ء تک دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق 2,911 واقعات رپورٹ ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025ء سے 9 اکتوبر 2026ء کے دوران ان واقعات کی تعداد 3,787 رہی۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں پیش آنے والے واقعات بھی صوبے میں سکیورٹی کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وزیر قانون نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے صورتِ حال کے مطابق مؤثر ردِعمل نہیں دیا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے سیاسی دوروں اور سرگرمیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ متاثرہ علاقوں کے دورے، زخمیوں کی عیادت اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی زیادہ ضروری تھی۔
وزیر قانون کے مطابق غیرمعمولی حالات سے نمٹنے کے لیے غیرمعمولی اقدامات درکار ہوتے ہیں اور معمول کے انتظامی طریقے ہر صورتِ حال میں کافی نہیں ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے سیاسی کشیدگی کے باوجود طاقت کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا اور اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی بات چیت کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ دارالحکومت پر چڑھائی اور اسے ’’فتح‘‘ کرنے جیسے اعلانات بھی کیے گئے، تاہم حکومت نے صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے مذاکرات کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی سیاسی فریقوں کے درمیان بات چیت کے لیے اپنا پلیٹ فارم فراہم کیا تاکہ معاملے کا پُرامن حل تلاش کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی گرفتار شخص کی رہائی کا فیصلہ کرنا عدالتوں کا اختیار ہے اور اس معاملے میں عدالتی عمل کو ہی فیصلہ کن حیثیت حاصل ہے۔
قومی اسمبلی میں سیاسی رہنماؤں کے خطاب
اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف بھی ایوان میں پہنچ گئے۔ ان کی آمد سے قبل پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خطاب کیا، تاہم فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ان کی تقریر کی براہِ راست نشریات روک دی گئیں۔
اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ایوان سے خطاب کر رہے تھے، جن کی تقریر سرکاری ٹیلی وژن سمیت متعدد نیوز چینلز پر براہِ راست نشر کی جا رہی تھی۔
قومی اسمبلی میں قرارداد پر بحث جاری ہے اور ایوان کی کارروائی کے دوران مختلف سیاسی جماعتوں کے مؤقف سامنے آنے کا امکان ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دہشت گردی کے واقعات کے اعداد و شمار اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سے متعلق الزامات وفاقی وزیر قانون کے بیان پر مبنی ہیں۔ قرارداد کی منظوری اور ایمرجنسی یا گورنر راج کے آئینی اثرات سے متعلق حتمی صورتِ حال کا تعین پارلیمانی کارروائی اور متعلقہ سرکاری فیصلوں کے بعد ہوگا۔
ماخذ: قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر قانون کا خطاب، فراہم کردہ پارلیمانی کارروائی کی تفصیلات