Latest news

کوہاٹ دھماکہ: وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی کی شدید مذمت، شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا

Spread the love

کاشف عباسی , September 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی نے کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب ہونے والے المناک دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک مذمتی بیان میں وفاقی وزیر نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا اور شہداء کی مغفرت و بلندیِ درجات کے ساتھ ساتھ سوگواران کے لیے صبرِ جمیل اور تمام زخمیوں کی جلد اور مکمل صحتیابی کے لیے بالخصوص دعا کی۔

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی نے کہا کہ بزدلانہ دہشت گردی اور تخریب کاری کے ذریعے ملک کے امن و استحکام کو کسی صورت متاثر نہیں کیا جا سکتا اور ایسی تمام ناپاک کوششیں ناکام ثابت ہوں گی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سکیورٹی فورسز اور پولیس کی مسلسل جدوجہد اور لازوال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف جاری اس قومی جنگ میں پوری قوم اپنی سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بزدلانہ واقعات ہماری فورسز اور پولیس کے حوصلے متزلزل نہیں کر سکتے اور قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب وقوع پذیر ہونے والے اس دھماکے کے فوری بعد پولیس اور امدادی اداروں کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، جبکہ زخمیوں کو فوراً طبی امداد کی فراہمی کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے واقعے کی نوعیت، محرکات اور ذمہ دار عناصر کا تعاقب کرنے کے لیے جامع تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر کا یہ ردعمل ان حکومتی و سیاسی بیانات کے سلسلۂ جنبانی کا حصہ ہے جو کوہاٹ دھماکے کے بعد متاثرین سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر جاری کیے جا رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

وفاقی وزیر خالد حسین مگسی کا بیان واقعے کی شدید مذمت اور شہداء و زخمیوں کے ساتھ ہمدردی کا مظہر ہے۔ دھماکے کی نوعیت، ذمہ دار عناصر اور حتمی نقصانات کے بارے میں سکیورٹی اداروں اور پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

ماخذ: قومی و سائنس و ٹیکنالوجی ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔