Latest news

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی سے سیاسی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ہے: ایچ آر سی پی

Spread the love

کاشف عباسی ,October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج لگانے کی ممکنہ کارروائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ اور جمہوری عمل کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔

کمیشن نے اپنے بیان میں وفاقی حکومت اور پارلیمان پر زور دیا کہ وہ صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے معاملے پر محتاط طرزِ عمل اختیار کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو سیاسی اختلافات کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ ایچ آر سی پی کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں سیاسی مسائل کا حل غیر معمولی انتظامی اقدامات کے بجائے مذاکرات اور آئینی طریقۂ کار کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔

وفاقی حکومت اور تحریک انصاف سے مذاکرات کی اپیل

ایچ آر سی پی نے وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر بامعنی سیاسی مذاکرات کا دوبارہ آغاز کریں۔ کمیشن کے مطابق اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے سے سیاسی تناؤ کم کرنے اور جمہوری عمل کو آگے بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

بیان میں شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمیشن نے کہا کہ کسی بھی صورتِ حال یا بہانے کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق معطل نہیں کیے جانے چاہییں۔ اس مؤقف کے تحت حکومت اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ سکیورٹی اور سیاسی مسائل سے نمٹتے ہوئے شہری آزادیوں اور قانونی تحفظات کو برقرار رکھا جائے۔

ایمرجنسی اور گورنر راج پر بحث

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج سے متعلق معاملہ وفاق اور صوبے کے اختیارات، امن و امان اور جمہوری نظام کے تسلسل سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے اقدامات کی آئینی حیثیت اور عملی اثرات کا تعین متعلقہ آئینی دفعات، سرکاری اعلان اور قانونی تقاضوں کی روشنی میں کیا جانا ضروری ہے۔

ایچ آر سی پی کے بیان میں سیاسی فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو اہم قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، اس معاملے پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مؤقف کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہوگا تاکہ تنازع کے مختلف پہلوؤں کا جامع جائزہ لیا جا سکے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایچ آر سی پی کا بیان ایمرجنسی یا گورنر راج کے ممکنہ اثرات کے بارے میں انسانی حقوق اور جمہوری عمل سے متعلق تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ کمیشن کا یہ مؤقف بذاتِ خود کسی اقدام کی آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ نہیں ہے؛ اس کا تعین آئین اور متعلقہ قانونی طریقۂ کار کے مطابق ہوگا۔

ماخذ: ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی)، فراہم کردہ متن