

منصور احمد، 25 اکتوبر 2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اکتوبر 2026ء
سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کی صبح یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے دارالحکومت ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضائی دفاعی نظام نے راستے میں روک کر تباہ کر دیا۔ اتحاد کے ترجمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میزائل کو سعودی دارالحکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع دی گئی اور شہریوں کو فضائی خطرے سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے۔ ان پیغامات میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر رہنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
سعودی اتحاد کا میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے حوثی گروہ کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں ہی روک کر تباہ کر دیا۔
ترجمان نے حوثیوں کو ’’دہشت گرد ملیشیا‘‘ قرار دیتے ہوئے میزائل حملے کی ذمہ داری ان سے منسوب کی۔ تاہم دستیاب معلومات میں میزائل کے داغے جانے کے مقام، اس کے ممکنہ ہدف یا اسے تباہ کرنے کے طریقۂ کار سے متعلق مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
میزائل کو تباہ کرنے کے دعوے کے بعد یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی عمارت یا تنصیب کو نقصان پہنچا یا نہیں۔ اسی طرح کسی جانی نقصان کی تصدیق بھی فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
ریاض میں دھماکوں کی آوازیں، شہریوں کو انتباہ
فوجی اتحاد کے ترجمان کے بیان سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی نے اطلاع دی تھی کہ ریاض میں تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یہ آوازیں اس وقت سنائی دیں جب مقامی رہائشیوں کو فضائی خطرے سے متعلق انتباہی پیغامات موصول ہوئے تھے۔
ان پیغامات میں شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دی گئی۔ ایسے انتباہی نظام کا مقصد ممکنہ خطرے کی صورت میں لوگوں کو بروقت آگاہ کرنا اور انہیں حفاظتی اقدامات کا موقع فراہم کرنا ہوتا ہے۔
تاہم دھماکوں کی آوازوں اور میزائل کو تباہ کرنے کے دعوے کے درمیان تعلق کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ سنی گئی تمام آوازیں کس نوعیت کے واقعے کا نتیجہ تھیں۔
سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی جاری رہی ہے۔ اس تنازع کے دوران سعودی سرزمین کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششوں سے متعلق دعوے مختلف اوقات میں سامنے آتے رہے ہیں۔
ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کی تازہ اطلاع ایسے ماحول میں سامنے آئی ہے جب خطے میں وسیع تر سکیورٹی کشیدگی بھی برقرار ہے۔ سعودی دارالحکومت کی جانب کسی میزائل حملے کی کوشش شہریوں کے تحفظ اور اہم تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش پیدا کر سکتی ہے۔
فضائی دفاعی نظام ایسے خطرات کو روکنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، جبکہ ہنگامی انتباہی پیغامات شہریوں کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم کسی بھی واقعے کے بارے میں حتمی معلومات کے لیے متعلقہ حکام کے بیانات اور آزادانہ تصدیق اہم ہوتی ہے۔
صورتِ حال پر نظر رکھنے کی ضرورت
اتوار کی صبح پیش آنے والے واقعے کے بارے میں فی الحال بنیادی معلومات سعودی اتحاد کے ترجمان کے بیان اور ریاض میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع پر مشتمل ہیں۔ میزائل کو تباہ کرنے کے دعوے کے باوجود حملے کے مکمل حالات، ممکنہ نقصان اور حوثیوں کے ردعمل سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
اگر سعودی حکام مزید معلومات جاری کرتے ہیں تو میزائل کی نوعیت، دفاعی کارروائی اور واقعے کے اثرات کے بارے میں صورتِ حال زیادہ واضح ہو سکتی ہے۔ فی الحال کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر تباہی کی تصدیق دستیاب معلومات میں نہیں کی گئی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ریاض کی جانب داغے گئے بیلسٹک میزائل کو تباہ کرنے کا دعویٰ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان سے منسوب ہے۔ شہر میں تین دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاع ایک صحافی نے دی تھی۔ واقعے کے ممکنہ نقصان اور دونوں اطلاعات کے درمیان تعلق کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔
ماخذ: سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے ترجمان کا بیان، اے ایف پی کے صحافی کی اطلاع، سعودی شہریوں کو جاری کردہ ہنگامی انتباہات