Latest news

ٹرمپ کا ایران سے متعلق سخت بیان، معاہدے یا فوجی کارروائی کا عندیہ

Spread the love

محمود احمد, October01,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں کہا ہے کہ واشنگٹن کو جلد یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ تہران کے ساتھ معاہدہ کیا جائے یا فوجی کارروائی کی جائے۔ ان کے بقول اس معاملے کا فیصلہ بہت جلد کسی نہ کسی صورت میں ہو جائے گا۔

ٹرمپ نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یہ بیان دیا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے صدر سے سوال کیا کہ اگر ایران کو امریکہ کے مقابل ایک غیر منطقی فریق سمجھا جا رہا ہے تو ایسی صورتحال میں اس کے ساتھ معاہدہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے ایران کو بمباری کا نشانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے یا کوئی معاہدہ کیا جائے، تاہم ان کے مطابق اب اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا وقت قریب آ گیا ہے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ معاملہ ’’بہت جلد، کسی نہ کسی صورت میں‘‘ ختم ہو جائے گا۔ تاہم امریکی صدر نے اپنی گفتگو میں یہ واضح نہیں کیا کہ واشنگٹن نے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا حتمی فیصلہ کیا ہے یا کسی ممکنہ معاہدے کی مخصوص شرائط کیا ہوں گی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور پابندیوں سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران سفارتی رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں بھی سامنے آتی رہی ہیں، جبکہ امریکی صدر کی تازہ گفتگو میں بھی فوجی دباؤ کے ساتھ معاہدے کے امکان کا ذکر کیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے بیان میں ایران کے خلاف کارروائی کا امکان ضرور ظاہر کیا گیا ہے، تاہم صرف اس بیان کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ امریکہ نے جنگ یا کسی مخصوص فوجی آپریشن کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی طرح ایران کی جانب سے اس بیان کے جواب یا کسی ممکنہ معاہدے کے بارے میں حتمی مؤقف کی تفصیلات بھی اس خبر کے دستیاب مواد میں شامل نہیں ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
صدر ٹرمپ کا بیان ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے اور اس میں مذاکرات اور فوجی کارروائی، دونوں امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم بیان میں کسی مخصوص فوجی کارروائی کی تاریخ، نوعیت یا حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ اس لیے اسے امریکی پالیسی کے حتمی فیصلے کے بجائے صدر کا تازہ بیان سمجھا جانا چاہیے۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صحافیوں سے گفتگو؛