

منصور احمد,October14,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق کے لیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں میں آج، بدھ کو الگ الگ قراردادیں پیش کی جائیں گی۔ قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بجے جبکہ سینیٹ کا اجلاس شام 4 بجے طلب کیا گیا ہے۔ دونوں ایوانوں کے اجلاسوں کے لیے بالترتیب آٹھ اور 13 نکاتی ایجنڈے جاری کیے گئے ہیں۔
اجلاسوں کے ایجنڈے میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی منظوری سے متعلق قراردادیں شامل ہیں۔ اس کارروائی کے ذریعے صدرِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمان کے سامنے توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ایجنڈے کے مطابق وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری آئین کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے تحت 11 اکتوبر 2026ء کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے پیش کریں گے۔ اس معاملے پر قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ہونے والی کارروائی صوبے کی آئینی اور انتظامی صورتِ حال کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے۔
دوسری جانب پارلیمان کا مشترکہ اجلاس جمعرات، 15 اکتوبر کو صبح ساڑھے 11 بجے منعقد ہوگا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق اس اجلاس میں آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج کی توثیق کا معاملہ بھی زیرِ غور آنے کا امکان ہے۔
ایمرجنسی اور گورنر راج سے متعلق کارروائی کے دوران پارلیمان میں مختلف سیاسی جماعتوں کا مؤقف اہم ہوگا۔ قراردادوں پر بحث اور ایوانوں کی کارروائی سے صوبے میں وفاق اور صوبائی انتظامیہ کے تعلقات پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ایمرجنسی کے اعلان کی پارلیمانی توثیق اور گورنر راج سے متعلق کارروائی آئینی طور پر الگ معاملات ہیں؛ ان کے لیے متعلقہ آئینی دفعات اور پارلیمانی کارروائی کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ قراردادوں کی منظوری یا مشترکہ اجلاس کے حتمی فیصلے سے متعلق کوئی نتیجہ پیشگی اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ماخذ: قومی اسمبلی سیکریٹریٹ، سینیٹ سیکریٹریٹ، فراہم کردہ پارلیمانی ایجنڈا