

روزینہ اسماعیل,October14,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے جمہوریہ کانگو کے مشرقی علاقوں میں مؤثر اور پائیدار جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سفارتی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کریں تاکہ خطۂ گریٹ لیکس میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے شمالی اور جنوبی کیوو میں جاری لڑائی، مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات سے شہری آبادی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں اور خطے کے استحکام پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے ایبولا کی وبا کے باعث پیدا ہونے والی اضافی انسانی مشکلات کی جانب بھی توجہ دلائی۔
سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کی قراردادوں 2773 اور 2808 پر مکمل عمل درآمد کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے افریقی یونین کی قیادت میں جاری ثالثی، واشنگٹن عمل اور دوحہ فریم ورک کے تحت سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف امن اقدامات کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کرنا اور ان کے نتائج کو زمینی سطح پر یقینی بنانا ضروری ہے۔
انہوں نے جنگ بندی کی نگرانی کے انتظامات کو عملی شکل دینے کی پیش رفت کا بھی خیرمقدم کیا، جن میں منیمبوی اور مسیسی کے علاقوں میں مشترکہ توثیقی میکانزم EJVM+ کے ابتدائی تصدیقی مشن شامل ہیں۔ پاکستان کے مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے ایک مؤثر، قابلِ اعتماد اور غیر جانب دار نگرانی کا نظام ضروری ہے۔
سفیر عثمان جدون نے مسلح گروہ FDLR کو غیر مسلح کرنے اور اس کے ارکان کو غیر متحرک کرنے کے لیے جاری کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے امن، سلامتی اور تعاون کے فریم ورک کی تجدید اور اس میں افریقی ممالک کی قیادت اور ملکیت مضبوط بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال اور اسمگلنگ خطے میں عدم استحکام کے اہم عوامل میں شامل ہیں۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون، شفافیت اور قدرتی وسائل کی ترسیل و تجارت کا قابلِ سراغ ہونا ناگزیر ہے۔
پاکستان نے جمہوریہ کانگو میں اقوام متحدہ کے مشن برائے استحکام (MONUSCO) کے تعمیری کردار کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے مسلسل سیاسی عزم، قابلِ تصدیق اقدامات اور متعلقہ ممالک و فریقوں کے درمیان اعتماد کی بحالی ضروری ہے۔
پاکستان نے جمہوریہ کانگو کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے خطۂ گریٹ لیکس میں دیرپا امن اور استحکام کے فروغ کے عزم کا اظہار کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پاکستان کا مؤقف خطے میں جنگ بندی، سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی اور مسلح گروہوں کے خلاف متفقہ اقدامات کی حمایت پر مبنی ہے۔ پائیدار امن کے لیے سفارتی معاہدوں پر عمل درآمد، شہریوں کا تحفظ اور قدرتی وسائل کی غیر قانونی تجارت کی روک تھام اہم چیلنجز ہیں۔
ماخذ: اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مشن، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل