مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کا تاریخی سنگِ میل ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا جامعہ لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, September 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع اور خطے میں پائیدار استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس معاہدے کی طویل المدتی کامیابی اور افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔

جامعہ لاہور میں “مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام وجود میں آ رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کا مقصد رکھتا ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مالیاتی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی بنیاد اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری صلاحیت، جغرافیائی رابطے اور عظیم الشان نوجوان آبادی مل کر اس اتحاد کو لازوال طاقت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی کی ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ کاری اور پاکستانی انسانی وسائل کو یکجا کر کے اسے وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اگلی بڑی جدوجہد “معرکۂ ترقی” ہے، جس کے تحت ‘اڑان پاکستان’ منصوبے کے ذریعے 2035ء تک ملکی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی سائنسز میں مہارت حاصل کریں کیونکہ جنگی طیارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جامعات قوموں کے مستقبل کا دفاع کرتی ہیں۔

دنیا کی تین بڑی مسلم طاقتوں کا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مشترکہ دفاعی اتحاد کی اہم خصوصیات

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

دنیا کی تین بڑی اور اہم مسلم طاقتوں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ‘مکہ معاہدے’ کے تحت ایک جدید اور تاریخی مشترکہ دفاعی اتحاد وجود میں آ گیا ہے جس نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا بلکہ عالمی جیو پولیٹیکل منظر نامے پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس دفاعی معاہدے کو عالمی و علاقائی سیاست کے ماہرین خطے میں طاقت کے توازن اور پائیدار امن کی جانب ایک انتہائی اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

اس تاریخی معاہدے کے تحت تینوں ممالک دفاعی اور معاشی اعتبار سے اپنی اپنی منفرد خصوصیات اور اعلیٰ صلاحیتوں کا اشتراک کریں گے۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کے تجزیے کے مطابق اس معاہدے کی بنیادی اور علامتی اہمیت یہ ہے کہ اس میں پاکستان کی مانی ہوئی جوہری و ملٹری صلاحیت، سعودی عرب کی بے پناہ توانائی، مالیاتی وسائل و معاشی طاقت اور ترکی کی جدید اور تیزی سے ابھرتی ہوئی دفاعی و ٹیکنالوجیکل صنعت ایک ساتھ مجتمع ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل یہ تینوں مسلم ممالک مختلف بلاکس یا معاہدوں کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک تھے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں طاقتور ممالک نے ایک مشترکہ چھتری تلے جمع ہو کر دفاعی اشتراک کا اعلان کیا ہے۔

اگرچہ مکہ معاہدے کا پورا باضابطہ متن تاحال عام نہیں کیا گیا، تاہم تینوں ممالک کی سفارتی اور دفاعی قیادت کی جانب سے جاری کردہ اشاروں کے مطابق اس باہمی معاہدے کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ کسی بھی ایک رکن ملک پر غیر ملکی جارحیت یا حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ شق نیٹو یعنی نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کے مشہور زمانہ ‘آرٹیکل 5’ سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اہم شق کا سیدھا اور واضح مقصد خطے میں کسی بھی ممکنہ دشمن یا جارح قوت کو حملے سے باز رکھنا اور رکن ممالک کی سلامتی کی مکمل ضمانت دینا ہے۔

دفاعی و سٹریٹیجک تجزیہ کاروں کی رائے کے مطابق اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر جنوبی ایشیا میں کسی بھی قسم کے مسلح تنازع یا جنگ کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو سعودی عرب اور ترکی پاکستان کی دفاعی مدد، لاجسٹکس اور سفارتی حمایت فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔ اسی طرح اگر مشرقِ وسطیٰ، شام یا مشرقی بحیرۂ روم کے علاقوں میں اسرائیل یا کسی دوسری قوت کے ساتھ ترکی یا سعودی عرب کا سامنا ہوتا ہے تو پاکستانی مسلح افواج اور انٹیلی جنس ادارے اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔

تاہم دیگر بین الاقوامی سیاسی مبصرین اور سفارت کاروں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاہدے میں شامل کسی ایک ملک کو کسی تنازع کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو دیگر دو ممالک کا فوری اور راست طور پر جنگ میں کود پڑنا واحد راستہ نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے معاہدے کی شرائط کے تحت متاثرہ ملک کو اعلیٰ درجے کا جدید ترین اسلحہ، دفاعی ڈرونز، مشترکہ انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور عالمی فورمز پر بھرپور سفارتی و معاشی تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ کسی بھی جارحیت کا کامیابی کے ساتھ مقابلہ کر سکے۔

اس کے علاوہ اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کی برّی، بحری اور فضائی افواج کے درمیان باقاعدگی سے مشترکہ فوجی مشقوں، جنگی سامان کی باہمی تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ڈرون ٹیکنالوجی کی ترقی پر بھی کام کیا جائے گا۔ اس اقدام سے دفاعی پیداوار میں خودانحصاری حاصل ہوگی اور مغربی یا بیرونی ممالک پر فوجی انحصار میں نمایاں کمی آئے گی۔

صنعتی اور معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی سطح تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے ذریعے تینوں ممالک کے درمیان تجارتی راستوں کی حفاظت، توانائی کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں بھی تعاون بڑھایا جائے گا۔ پاکستان کی جیو سٹریٹیجک پوزیشن، سعودی عرب کے مالیاتی وسائل اور ترکی کی صنعتی طاقت کا یہ ملاپ ایک ایسا نیا معاشی و دفاعی بلاک تشکیل دے رہا ہے جو خطے میں پائیدار استحکام لانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

عالمی طاقتوں کی جانب سے اس نئے اتحاد کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اسلامی دنیا میں اس پیش رفت کو انتہائی خوش آئند اور مسلم امہ کے اتحاد کی جانب بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے، وہاں دوسری جانب روایتی حریف ممالک اور عالمی سیاسی کھلاڑی اس نئے طاقت کے مرکز کی تشکیل کو باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں۔ مکہ معاہدہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آنے والے دور میں علاقائی خود مختاری اور باہمی دفاعی تعاون ہی کسی بھی ملک کی سلامتی کی حتمی ضمانت بن کر سامنے آئے گا۔

مکہ معاہدہ دفاعی اور امن و ترقی کے لیے ہے، کسی خلاف جارحانہ مقاصد نہیں: وفاقی کابینہ کے اجلاس سے وزیراعظم شہباز شریف کا خطاب

منصور احمد, August 10,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اگست 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی ‘مکہ معاہدے’ کے کوئی جارحانہ مقاصد نہیں، بلکہ یہ صرف دفاعی مقاصد اور خطے میں امن، ترقی و خوشحالی کے فروغ کے لیے ہے۔ انہوں نے اس معاہدے کو مسلم امہ کے لیے باعثِ تقویت قرار دیتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کو سراہا۔

وزیراعظم نے ہنگو اور سوات سمیت دیگر علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر حافظ احسان الٰہی، کیپٹن حمزہ اکرم اور ڈی ایس پی دیار خان سمیت تمام شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔ اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے دیرینہ رہنما اقبال چنڑ کے انتقال پر بھی گہرے دکھ کا اظہار اور ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) وہاں اکثریتی جماعت بن کر ابھری ہے، جو قائد نواز شریف کی قیادت پر عوام کے اعتماد کا مظہر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر میں کسی کو لاقانونیت یا انارکی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، تاہم امن اور تحمل کے ساتھ بات چیت کرنے والوں کے لیے نئی حکومت کے قیام کے بعد مذاکرات کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

خطاب کے اختتام پر وزیراعظم نے قوم کو 14 اگست کا جشنِ آزادی بھرپور شان و شوکت اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منانے کی ہدایت کی اور عزم ظاہر کیا کہ پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرکے قائد اعظم کا واقعی پاکستان بنایا جائے گا۔