Latest news

جنگ کے دوران صوبہ تہران پر 23 ہزار ٹن سے زائد بم گرائے گئے، گورنر

Spread the love

منصور احمد,October03,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 اکتوبر 2026ء

تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے حملوں میں تقریباً 45 فیصد حملوں کا ہدف صوبہ تہران تھا، جس کے نتیجے میں صوبے کو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

تہران کے گورنر کے مطابق صوبہ تہران اور شہر تہران میں مجموعی طور پر 23 ہزار ٹن سے زائد بم استعمال کیے گئے، جبکہ حملوں کے نتیجے میں 60 ہزار سے زیادہ رہائشی یونٹس کو مختلف نوعیت کا نقصان پہنچا۔ ان میں معمولی نقصان سے لے کر مکمل تباہ ہونے والی رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں۔

محمد صادق معتمدیان نے بتایا کہ حملوں کے نتیجے میں صوبہ تہران میں بڑی تعداد میں رہائشی عمارتیں متاثر ہوئیں، جس سے شہریوں کی معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہوئے۔ ان کے مطابق نقصانات کا دائرہ مختلف علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اور کئی رہائشی یونٹس کو شدید نقصان پہنچا۔

گورنر تہران نے مزید کہا کہ حالیہ جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد میں ایک تہائی سے زیادہ کا تعلق صوبہ تہران سے تھا۔ تاہم انہوں نے مجموعی ہلاکتوں یا صوبہ تہران میں جاں بحق ہونے والوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

ان کے بیان کے مطابق حملوں کا بڑا حصہ صوبہ تہران کو نشانہ بنانے کے باعث یہاں دیگر علاقوں کے مقابلے میں نقصان کی شدت زیادہ رہی۔ تاہم بمباری میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں، حملوں کے مقامات اور جانی و مالی نقصانات کی آزادانہ تفصیلات اس بیان میں فراہم نہیں کی گئیں۔

حالیہ جنگ کے دوران ایران کے مختلف علاقوں میں حملوں اور جوابی کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم تہران کے گورنر کی جانب سے بیان کیے گئے اعداد و شمار صوبہ تہران میں ہونے والے نقصانات سے متعلق مقامی حکام کا مؤقف ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
23 ہزار ٹن سے زائد بم، 60 ہزار سے زیادہ متاثرہ رہائشی یونٹس اور ہلاکتوں میں ایک تہائی سے زائد حصہ صوبہ تہران سے ہونے کے اعداد و شمار تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان کے بیان پر مبنی ہیں۔ خبر میں ان اعداد و شمار کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ حتمی اعداد و شمار کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

ماخذ: تہران کے گورنر محمد صادق معتمدیان کا بیان