
منصور احمد,October11,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
اتوار کو جاری کیے گئے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے شہریوں اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے قطعی ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کے مطابق ایسے واقعات علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور انہیں فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے تشدد کے ایسے واقعات کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے شہری آبادی اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
شہباز شریف نے سعودی عرب، اس کی قیادت اور عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ ان کے بیان کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی تعلقات اور دفاعی تعاون کو اہمیت دیتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری و علاقائی سالمیت کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں اہم تنصیبات کے تحفظ کا معاملہ توجہ حاصل کر رہا ہے۔ تاہم، فراہم کردہ بیان میں ایئرپورٹ پر حملے کے طریقۂ کار، ممکنہ نقصان یا جانی و مالی نقصانات کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
پاکستان کی جانب سے مذمت اور یکجہتی کا اظہار دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سفارتی روابط کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ حملے کی تفصیلات اور اس کے نتائج سے متعلق مزید معلومات کے لیے متعلقہ سعودی حکام کے باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اس خبر میں حملے کی مذمت اور سعودی عرب سے یکجہتی سے متعلق وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف فراہم کردہ بیان کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔ حملے کی نوعیت، نقصان اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں، اس لیے ان پہلوؤں پر کوئی اضافی دعویٰ شامل نہیں کیا گیا۔
ماخذ: وزیراعظم شہباز شریف سے منسوب بیان