ایس آئی ایف سی کی تاریخی پیش رفت: بلوچستان میں 200 ملین ڈالر کا خضدار معدنی منصوبہ فعال، سالانہ 230 ملین ڈالر تک آمدن کی توقع

منصور احمد, August 16,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی خصوصی معاونت اور سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک نیا اور تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے، جس کے تحت بلوچستان کا اہم خضدار بارائٹ، لیڈ اور زنک منصوبہ باقاعدہ طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کا معدنی شعبہ اپنے وسیع اور غیر معمولی قدرتی وسائل کے باعث ملک کی معاشی بحالی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے میں انتہائی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ بارائٹ، لیڈ اور زنک کا شمار ملک کے ان اہم ترین اور بڑے معدنی منصوبوں میں ہوتا ہے جو طویل عرصے سے انتظامی پیچیدگیوں، قانونی رکاوٹوں اور نامساعد حالات کے باعث زیرِ التوا چلے آ رہے تھے۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل نے اس اہم منصوبے کو درپیش تمام دیرینہ مسائل بالخصوص کان کنی کی لیز سے متعلق پیچیدگیوں کو احسن طریقے سے حل کراتے ہوئے دو سو ملین ڈالر، یعنی تقریباً پچپن ارب روپے کی خطیر سرمایہ کاری کی راہ ہموار کی ہے۔ یہ اہم اور فائدہ مند منصوبہ پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ اور بولان مائننگ انٹرپرائزز کے باہمی اشتراک اور باہم تعاون سے بلوچستان کے اہم ضلع خضدار میں تیار اور فعال کیا جا رہا ہے۔ کان کنی کی لیز سے متعلق تمام قانونی اور انتظامی مسائل کے خاتمے کے بعد آپریشنل معاہدے کی حتمی تکمیل اس منصوبے کی عملی شروعات اور کان کنی کے آغاز میں سب سے اہم ترین پیش رفت ثابت ہوئی ہے۔

تخمینے اور فنی رپورٹس کے مطابق خضدار کا یہ اہم منصوبہ تقریباً انہتر ملین ٹن کے وسیع اور انتہائی قیمتی معدنی ذخائر پر مشتمل ہے، جبکہ اس منصوبے سے معدنیات نکالنے کی متوقع مدت چوتھیس سال مقرر کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے باقاعدہ فعال ہونے اور تجارتی پیداوار کے آغاز سے پاکستان کو سالانہ ایک سو پچاس ملین ڈالر سے لے کر دو سو تیس ملین ڈالر تک کی کثیر آمدن اور زرمبادلہ حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس سے نا صرف وفاقی اور صوبائی خزانے کو درکار معاشی تقویت ملے گی بلکہ بلوچستان بالخصوص خضدار اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں سڑکوں، اسکولوں اور ہسپتالوں کی تعمیر سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مقامی معاشی سرگرمیوں میں بھی بے پناہ اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے قدرتی اور معدنی وسائل میں مقامی اور غير ملکی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے مواقع عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کے پاکستان کی پالیسیوں پر بڑھتے ہوئے اعتماد کی واضع اور واضح عکاسی کرتے ہیں۔ ماہرینِ معیشت اور معدنیات کے مطابق خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے زیرِ اہتمام معدنی شعبے میں کی جانے والی یہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور عملی اقدامات پاکستان کی معدنی معیشت کو دنیا کے سامنے ایک نئی اور باوقار شناخت دے رہے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف خام مال کی برآمد ممکن ہوگی بلکہ ملک کے اندر صنعتی ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جو آنے والے دنوں میں ملکی معیشت کا رخ موڑنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوگا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کا بنیادی مقصد ملک میں موجود معاشی تعطل کو ختم کرنا اور مختلف شعبوں بالخصوص زراعت، معدنیات، معلومات عامہ اور توانائی میں سرمایہ کاری کے عمل کو تیز بنانا ہے۔ خضدار منصوبے کی بحالی سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب ریاست کے تمام ادارے ایک نقطے پر متفق ہو کر رکاوٹیں دور کرتے ہیں تو سالہا سال سے اٹکے ہوئے معاشی منصوبے بھی ریکارڈ مدت میں فعال ہو جاتے ہیں۔ اس منصوبے کی کامیابی سے بلوچستان میں موجود دیگر معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی راستے کھلیں گے اور عالمی کمپنیوں کا پاکستان کی طرف میلان مزید بڑھے گا۔

حکومت کا یہ اقدام بلوچستان کے عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے اور ان کے معاشی حقوق کی فراہمی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ خضدار کا یہ منصوبہ ان تمام افواہوں اور منفی تاثرات کا عمل جواب ہے جو بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے پھیلائے جاتے ہیں۔ جب مقامی آبادی کو روزگار کے باعزت مواقع ملیں گے اور ان کے خطے میں اربوں روپے کے منصوبے مکمل ہوں گے تو اس سے نہ صرف علاقے کی حالت بدلے گی بلکہ ملک میں امن و امان اور پائیدار معاشی استحکام کو بھی تقویب ملے گی۔ آنے والے وقت میں اس منصوبے سے حاصل ہونے والی آمدن کو بلوچستان کی مزید فلاح و بہبود کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کی معاونت سے امریکی کاروباری وفد کا کراچی کا دو روزہ دورہ: سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ

محمود احمد, August 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 اگست 2026ء

خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کی موثر سہولت کاری اور معاونت سے اعلیٰ سطحی امریکی کاروباری وفد نے کراچی کا دو روزہ دورہ مکمل کر لیا ہے۔ اپنے دورے کے دوسرے روز امریکی وفد نے صوبائی وزراء سے اہم ملاقاتیں کیں اور صوبہ سندھ میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع کا تفصیلی جائزہ لیا۔

ان ملاقاتوں کے دوران بن قاسم انڈسٹریل پارک، کراچی انڈسٹریل پارک اور دیگر اہم صنعتی منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر امریکی وفد کو سندھ بزنس ون اسٹاپ شاپ، کیٹی بندر پورٹ، این ای ڈی ٹیک پارک اور مجوزہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر سے متعلق جامع بریفنگ بھی دی گئی۔

بعد ازاں امریکی وفد نے پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے بھی اہم ملاقات کی، جس میں کیپٹل مارکیٹس، زراعت، ٹیکسٹائل، توانائی، معدنیات، صحت اور دیگر اہم شعبہ جات میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔

امریکی کاروباری وفد نے پاکستان میں قائم سرمایہ کاری کے سازگار ماحول اور مختلف معاشی شعبوں میں موجود کاروباری مواقع میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ کاروباری رہنماؤں نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے، پالیسیوں کے تسلسل کو یقینی بنانے اور کاروبار کو آسان بنانے کے حوالے سے ایس آئی ایف سی کے کلیدی کردار کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں جس سے پاک امریکہ معاشی تعاون مزید مضبوط اور مستحکم ہوگا۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی و معاشی تعاون کا نیا باب؛ 40 رکنی اعلیٰ سطح امریکی وفد پاکستان پہنچ گیا

منصور احمد, JULY 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مابین کاروباری و معاشی شراکت داری کے ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے، جس سلسلے میں معروف امریکی سرمایہ کاروں، کاروباری رہنماؤں اور ٹیکنالوجی ماہرین پر مشتمل 40 رکنی اعلیٰ سطح وفد 26 سے 31 جولائی تک پاکستان کے اہم دورے پر موجود ہے۔ خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل ، وزارتِ تجارت اور واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے باہمی اشتراک سے ترتیب دیے گئے اس دورے کا مقصد بی ٹو بی اجلاس، پالیسی بریفنگز اور سرمایہ کاری کے ٹھوس معاہدوں کو حتمی شکل دینا ہے۔ دورے کے دوران وفد کی وزیرِ اعظم، نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ، اور ایس آئی ایف سی کے حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔ امریکی وفد مصنوعی ذہانت ، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، ایرو اسپیس، معدنیات، توانائی اور دفاع جیسے جدید شعبوں میں پاکستان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔