تمام میڈیکل و ڈینٹل ڈاکٹرز کے لیے پی ایم ڈی سی کی اہم ہدایت: رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی تجدید کے لیے 6 ماہ کی حتمی مہلت جاری

روزینہ اسماعیل, August 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ملک بھر کے تمام میڈیکل اور ڈینٹل پریکٹیشنرز سمیت سپیشلسٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ پی ایم ڈی سی ایکٹ 2022ء اور متعلقہ قواعد و ضوابط کے تحت اپنے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی باقاعدہ تجدید کرائیں۔ پی ایم ڈی سی کے جاری کردہ اہم اعلان کے مطابق تمام ڈاکٹرز کو اپنے لائسنس کی تجدید کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے تاکہ قانونی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ تقاضوں کی مسلسل پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پی ایم ڈی سی حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک بھر میں لائسنس یافتہ ڈاکٹروں کے قومی رجسٹر کو اپ ڈیٹ اور قابلِ تصدیق بنانا ہے تاکہ جعلی پریکٹس، اتائی پن ، اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کے فراڈ پر مبنی استعمال کا خاتمہ کیا جا سکے۔ ایک جدید اور مستند ڈیٹا بیس کے ذریعے مرحوم یا غیر فعال ڈاکٹروں کی پیشہ ورانہ اسناد کے غلط استعمال کو روکا جا سکے گا، جس سے صحت عامہ کے نظام پر عوام کے اعتماد کو مزید تقویت ملے گی۔

کونسل نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بروقت تجدید نہ صرف پاکستان میں قانونی پریکٹس کے لیے ضروری ہے بلکہ بیرونِ ملک ملازمت، پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ اور عالمی لائسنسنگ کے لیے بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ پی ایم ڈی سی نے تمام ڈاکٹروں اور ڈینٹسٹس سے اپیل کی ہے کہ وہ چھ ماہ کی درکار مدت ختم ہونے کا انتظار کیے بغیر جلد از جلد اپنی رجسٹریشن کی تجدید کا عمل مکمل کریں۔

دنیا بھر میں 58 کروڑ سے زائد افراد ذیابیطس کا شکار، 25 کروڑ مریض اپنی بیماری سے بے خبر: ڈاکٹر سکندر اقبال

روزینہ اسماعیل, August 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 09 اگست 2026ء

دنیا بھر میں ذیابیطس (شوگر) کا مرض خطرناک حد تک پھیل چکا ہے اور اس وقت عالمی سطح پر تقریباً 58 کروڑ 90 لاکھ (589 ملین) بالغ افراد اس بیماری کا شکار ہیں، جبکہ 25 کروڑ 20 لاکھ (252 ملین) افراد ایسے ہیں جو ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود اپنی اس طبی حالت سے مکمل بے خبر ہیں۔

معروف طبی ماہر ڈاکٹر سکندر اقبال نے اپنی ایک تحریری تجزیاتی رپورٹ میں عالمی ادارہ صحت اور انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز فیڈریشن کی جاری کردہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں موٹاپا، پری ذیابیطس ، ٹائپ ٹو ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، نان الکوحلک فیٹی لیور اور دل کے امراض ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ذیابیطس کی شرح عالمی سطح پر بلند ترین حدود کو چھو رہی ہے۔ پاکستان میں شوگر کے مرض میں اس تیزی سے اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن اور پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں اور ورزش کی شدید کمی، موٹاپا اور غیر صحت مند طرزِ زندگی ہیں۔

ڈاکٹر سکندر اقبال کا کہنا تھا کہ صرف ادویات کے سہارے اس خاموش قاتل بیماری پر قابو پانا ناممکن ہے، جب تک کہ طرزِ زندگی میں بنیادی تبدیلیاں نہ لائی جائیں۔ انہوں نے جدید طبی تحقیق کے حوالے سے بتایا کہ شوگر کی روک تھام اور بہتر شوگر لیول برقرار رکھنے کے لیے ادویات کے ساتھ ساتھ صحت مند لائف اسٹائل اپنانا ناگزیر ہے۔ اسی ضرورت کے پیشِ نظر اس وقت عالمی سطح پر ‘انٹرمٹنٹ فاسٹنگ’ وقتاً فوقتاً فاقہ یا روزے کا طریقہ) کا رجحان اور مقبولیت تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو ذیابیطس کے کنٹرول اور موٹاپے کے خاتمے میں انتہائی مؤثر ثابت ہو رہی ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کی مؤثر حکمتِ عملی: 8 ماہ میں ڈینگی کے صرف 3 کیسز رپورٹ، انسدادِ ڈینگی کارروائیاں تیز

کاشف عباسی , August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

وفاقی دارالحکومت میں ڈینگی کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے مؤثر اقدامات اور لاروا کنٹرول آپریشنز کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ رواں سال یکم جنوری سے 6 اگست تک اسلام آباد بھر میں ڈینگی کے صرف 3 کیسز سامنے آئے ہیں۔

یہ پیش رفت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد عرفان نواز میمن کی زیرِ صدارت منعقدہ اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس میں سامنے آئی۔ اجلاس میں وفاقی دارالحکومت سمیت لاہور، فیصل آباد، ملتان اور راولپنڈی میں ڈینگی کی موجودہ صورتحال اور سال 2024، 2025 اور 2026 کے اعداد و شمار کا تفصیلی تقابلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گزشتہ 15 دنوں کے دوران ڈینگی ایس او پیز کی خلاف ورزی اور لاروا کی افزائش کا سبب بننے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اس دوران 170 افراد کو گرفتار، 35 مقامات کو سیل، 70 مقدمات درج اور 21 لاکھ روپے سے زائد کے بھاری جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔

بریفنگ میں مزید انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ پندرہ روز کے دوران مختلف ہاٹ سپاٹس سے 7,066 مثبت اور 499 منفی لاروا پوائنٹس رپورٹ ہوئے، جبکہ ‘انڈور ویکٹر سرویلنس’ مہم کے تحت اسلام آباد کے 1 لاکھ سے زائد گھروں کی تفصیلی انسپکشن مکمل کر لی گئی ہے۔

اجلاس میں سی ڈی اے، لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر عرفان نواز میمن نے تمام اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کی صحت کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ڈینگی کی روک تھام کے لیے تمام تر وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔