

کاشف عباسی , September 19,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
قومی ٹاسک فورس برائے انسداد پولیو کے اہم ترین اجلاس میں ملک گیر انسداد پولیو ویکسینیشن مہم کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے اجلاس کی صدارت کی اور ایک بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا کر اس اہم قومی مہم کا باضابطہ افتتاح کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق، وفاقی وزیر قومی صحت سید مصطفیٰ کمال، وفاقی و صوبائی حکام، ترقیاتی شراکت داروں اور متعلقہ اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی اور ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے تک تمام قومی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ پاکستان میں پولیو وائرس پر قابو پانے کی جدوجہد میں نمایاں اور مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔ سال 2024ء میں رپورٹ ہونے والے 74 اور 2025ء میں 31 کیسز کے مقابلے میں سال 2026ء میں اب تک پولیو کے صرف 4 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے 3 کیسز جنوبی خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں، جس کے باعث اس خطے کو خصوصی انسداد پولیو سرگرمیوں کا بنیادی مرکز بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیر احسن اقبال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ پولیو کا ایک کیس بھی اس بات کی علامت ہے کہ وائرس کی منتقلی کا خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا، لہذا والدین پولیو ورکرز کی آمد کو بالکل نظر انداز نہ کریں اور 5 سال سے کم عمر کے ہر بچے کو قطرے لازمی پلوائیں۔
وزیراعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق اور پاکستان انسداد پولیو پروگرام کے مطابق، 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہنے والی اس ذیلی قومی مہم کے دوران 115 ہائی رسک اضلاع میں تقریباً 31 ملین (3 کروڑ 10 لاکھ) بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس عظیم قومی ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 2 لاکھ 73 ہزار سے زائد تربیت یافتہ فرنٹ لائن پولیو ورکرز فیلڈ میں حصہ لیں گے۔ حکام نے زور دیا کہ پولیو کا خاتمہ صرف حکومت نہیں بلکہ تمام طبقات، میڈیا، مذہبی و سماجی رہنماؤں اور بالخصوص یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ سکیورٹی ادارے اور حکومت پولیو ورکرز کی مکمل تحفظ اور معاونت کو یقینی بناتے رہیں گے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
رپورٹ کردہ تمام ارقام (کیسز کی تعداد، بچوں کا ہدف اور پولیو ورکرز کی تعداد) قومی ٹاسک فورس کے اجلاس میں جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ مہم کا حتمی نفاذ 21 سے 27 ستمبر تک 115 مخصوص اضلاع میں یقینی بنایا جائے گا۔
ماخذ: ہیلتھ اینڈ نیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔