مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی مختلف اضلاع میں کامیاب کارروائیاں، اکتیس کلو گرام سے زائد منشیات برآمد، متعدد اسمگلر گرفتار

کاشف عباسی , JULY 02,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے عملے نے صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی خصوصی ہدایات کے تحت پشاور، نوشہرہ، خیبر، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں منشیات کے خلاف مقتدر تزویراتی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 31.493 کلو گرام منشیات برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کے ترجمان کے مطابق، گرفتار اسمگلروں کے خلاف متعلقہ ایکسائز تھانوں میں مقدمات درج کر کے مقتدر سطح پر مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے جی ٹی روڈ عجب باغ ایکسائز چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران موٹر سائیکل کے ذریعے بھاری مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 18,000 گرام چرس برآمد کی، جبکہ پشاور میں ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن اسکواڈ نے سروس روڈ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار سے 6,000 گرام چرس برآمد کر کے ملزم کو دھر لیا۔ اسی طرح تھانہ ایکسائز خیبر نے جمرود بائی پاس کے قریب انٹیلیجنس رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے ایک خاتون اسمگلر کے قبضے سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے حراست میں لے لیا، جبکہ حال ہی میں قائم ہونے والے مقتدر تھانہ ایکسائز ضلع کوہاٹ نے ایک کامیاب کارروائی میں اسمگلر شاکر اللہ سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کیا۔ مزید برآں، ہزارہ اسکواڈ B-7 نے حویلیاں انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم نوید کے قبضے سے 293 گرام فائن کوالٹی ہیروئن برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مقتدر حکام نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور بین الاضلاعی اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی غفلت یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔

شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی تصدیق

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔

اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔

مسافر نجی پرواز سے باکو جا رہے تھے، اٹلی کے غیر قانونی روٹ کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا معاہدہ ہوا تھا؛ ویزے اور ڈیجیٹل شواہد برآمد

محمود احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کی ایک منظم اور تزویراتی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کے دو بیٹوں کو مشکوک پائے جانے پر پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ تینوں مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز پی اے-468 کے ذریعے لاہور سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ تاہم، امیگریشن کلیئرنس کے عمل کے دوران ان کی مشکوک صورتحال اور سفری دستاویزات پر شبہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر سیکنڈری ویری فیکیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تلاشی اور ابتدائی تزویراتی تفتیش کے دوران مسافروں کے قبضے سے البانیہ کے ویزے اور سربیا کے غیر قانونی روٹ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے، جبکہ ان کے موبائل فونز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران مشتبہ بین الاقوامی ٹریول ایجنٹس کے ساتھ رابطوں اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ایک انسانی سمگلر (ایجنٹ) نے انہیں سنہری مستقبل کے جھانسے میں رکھ کر غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے لیے سربیا اور آذربائیجان کا ٹرانزٹ روٹ تیار کیا تھا۔ اس خطرناک مقصد کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا بھاری مالی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے چوتیس لاکھ روپے فی مسافر ایجنٹ کو پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مزید تادیبی قانونی کارروائی اور تفتیش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کا اعادہ ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان کی تاریخ کا بڑا توسیعی منصوبہ؛ مالی سال 27-2026 میں پندرہ ہزار سے زائد دیہات کی برق کاری اور سولہ لاکھ نئے کنکشنز کا ہدف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک بڑھانے کے لیے پندرہ ہزار تین سو ستائیس (15,327) دیہات کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے اور سولہ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو انچاس (1,689,849) نئے صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کا ایک مقتدر تزویراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت دیہی علاقوں تک بجلی کی پائیدار رسائی اور صارفین کی مجموعی تعداد میں ریکارڈ اضافہ تقسیمی شعبے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ’ویلتھ پاکستان‘ کو دستیاب پاور ڈویژن کی ایک باضابطہ دستاویز کے مطابق، یہ خطیر سرمایہ کاری اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جس کا تعلق بجلی تک رسائی رکھنے والی ملکی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ان مقتدر اقدامات سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور وولٹیج کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

دستاویز کے تزویراتی متن کے مطابق، دیہات کو بجلی فراہم کرنے کی اس مہم میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو سب سے بڑا ہدف سونپا گیا ہے، جس کے تحت مالی سال کے دوران آٹھ ہزار آٹھ سو چھہتر (8,876) دیہات کو بجلی سے منسلک کیا جائے گا۔ دیگر کمپنیوں کے اہداف درج ذیل جدول میں تفصیلاً دیکھے جا سکتے ہیں:

دستاویز کے مطابق، ملک کے مجموعی تقسیمی نظام کو تزویراتی طور پر مزید لچکدار اور مضبوط بنانے کے لیے 132 کے وی کی 799.5 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 132 کے وی نظام میں 2 ہزار 87 ایم وی اے کی اضافی ٹرانسفارمر استعداد شامل کی جائے گی۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 11 کے وی نظام میں بھی 1 ہزار 321.15 ایم وی اے کی اضافی استعداد پیدا کی جائے گی، جبکہ ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن فیڈرز کو بہتر بنانے کے لیے 11 کے وی کی 4 ہزار 134 کلومیٹر اور 400 وولٹ کی 1 ہزار 742 کلومیٹر طویل نئی بجلی کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعی منصوبہ اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ایک جانب بڑے شہروں میں صارفین کی صنعتی و خانگی مانگ کو پورا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں تک بجلی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے جہاں اب تک یہ بنیادی سہولت محدود یا یکسر ناپید تھی۔

عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج؛ ملزم چودہ سال قید کاٹ کر اور صدارتی معافی کے بعد رہا ہو چکا، سزا میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، ریمارکس

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملک کا آئین صدرِ مملکت کو کسی بھی ملزم کی سزا میں کمی یا مکمل معافی دینے کا مقتدر اختیار دیتا ہے، اور جب یہ آئینی اختیار ایک بار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں دوبارہ اضافے کے لیے انتہائی ٹھوس اور مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق دائر اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم اپنی قانونی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ جیل رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم نے چودہ (14) سال قید کاٹنے کے بعد باقی ماندہ سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے چودہ سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے کہ عدالت کے علم اور سابقہ فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے جیل میں کم از کم سترہ (17) سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس اہم قانونی سوال کا گہرا جائزہ کسی دوسرے مناسب اور متعلقہ مقدمے میں لیا جائے گا۔

دورانِ سماعت مقتدر عدالت نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے ایک بار فیصلہ دیا اور اس فیصلے پر باقاعدہ عملدرآمد بھی ہو چکا، اب اتنے عرصے بعد سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط ترین قانونی وجہ پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور اس مخصوص مقدمے میں یہ اختیار قانونی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا مکمل ہونے کے بعد بھی اس میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی سزا بڑھانے کی اپیل کو خارج کر دیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین کرکٹ کے فروغ کا تاریخی معاہدہ، جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا

منصور احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مقتدر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید ترین کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ ترجمان پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس تاریخی معاہدے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے دستخط کیے۔ اس تزویراتی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جدہ میں تعمیر ہونے والا جدید کرکٹ سٹیڈیم بین الاقوامی مقابلوں کے تمام جدید ترین تقاضوں پر پورا اترے گا اور وہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کرکٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آپریشنل معیارات اور کھیل کے فروغ کے مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ان کے مطابق پی سی بی سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی میں اپنا تزویراتی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں برادر ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی تعاون کے تحت جدید اور مربوط کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جس سے وہاں کے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب، چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم اور تزویراتی پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی کے وسیع تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب جلد کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین کھیلوں کے سفارتی روابط میں ایک نئے اور خوش آئند باب کا اضافہ ہے۔

صرف ڈی ایچ اے کراچی کی زمینوں کی مجموعی مالیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تمام کمپنیوں کے برابر ہے؛ پراپرٹی کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو چھت سے محروم کر چکا

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات اور نیکسٹ کیپیٹل کے ڈائریکٹر نجم علی نے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور مجموعی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تلخ حقیقت پر مبنی تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پراپرٹی کی قیمتوں کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں چھت کی نعمت سے محروم کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہاورڈ بزنس اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ نجم علی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک چونکا دینے والا موازنہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے اندازے کے مطابق صرف ڈی ایچ اے کراچی کی رئیل اسٹیٹ اور زمینوں کی مجموعی مالیت تقریباً اتنی ہی ہے جتنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج ملک کی تمام بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت ہے۔

پاکستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہر نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ پیداواری شعبوں کے بجائے ملک کا سارا سرمایہ زمینوں کے ڈھیر میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا حالیہ برسوں میں آنے والا عروج کبھی بھی کسی حقیقی معاشی ترقی یا ‘ویلیو کریئشن’ یعنی قومی پیداوار میں اضافے کا مرہونِ منت نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ غیرٹیکس شدہ پیسہ یا کالا دھن تھا جو حکومت اور اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھا، اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔

نجم علی نے اس کے بھیانک نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اندھی سرمایہ کاری اور مصنوعی مہنگائی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو ہوا ہے۔ نتیجہ یہ نکل چکا ہے کہ اب ملک کی اکثریت، خصوصاً مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ، پاکستان کے اندر اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر یا پلاٹ خریدنے کی سکت بھی مکمل طور پر کھو چکا ہے، کیونکہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ نجم علی پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کا ایک بڑا نام ہیں، وہ جے ایس انویسٹمنٹس کے سی ای او رہنے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان انگلینڈ اینڈ ویلز سے بھی وابستہ ہیں، اور ان کے اس بیان کو معاشی حلقوں میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ ڈھانچے پر ایک کڑی چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

سال دو ہزار تئیس سے اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے گھر فراہم کیے جا چکے؛ بچوں کو اسکالرشپ اور بیٹیوں کی شادی کے لیے جہیز فنڈز بھی جاری

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شہدا کے لواحقین کو گھروں کی فراہمی، بچوں کو معیاری تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔ سربراہ لاہور پولیس (سی سی پی او) بلال صدیق کمیانہ نے جمعرات کے روز یہاں جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں کہا کہ شہدائے پولیس کے خاندانوں کی ویلفیئر محکمہ پولیس کا اولین ایجنڈا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس فورس اپنے ان ہیروز کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور محکمہ زندگی کے ہر موڑ پر ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ سی سی پی او نے کہا کہ فرض کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے پولیس کے عظیم شہدا کے اہل خانہ کے لیے تاریخی ویلفیئر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہدا پیکیج کے تحت سال دو ہزار تئیس سے لے کر اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے مکانات فراہم کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ مالی مراعات کی تزویراتی مد میں شہدا کے چودہ خاندانوں کو سات کروڑ بیس لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں باوقار انداز میں زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ تعلیم اور سماجی ضروریات کے شعبے میں بھی لاہور پولیس نے ریکارڈ اقدامات کیے ہیں؛ پولیس ملازمین کے بچوں کے لیے اسکالرشپ کی مد میں ایک سو ستاسی خاندانوں میں چار کروڑ پچانوے لاکھ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کی شادیوں کے اخراجات میں معاونت کے لیے جہیز فنڈ کے تحت شہدا کے اکتیس خاندانوں کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔

سی سی پی او لاہور کے مطابق، سترہ خاندانوں کو گزارہ الائنس کی مد میں ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی ہے، جبکہ گروپ انشورنس کے تحت شہدا کے پندرہ خاندانوں کو انتیس لاکھ اکیالیس ہزار روپے سے زائد رقم دی گئی ہے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں اور باوقار انداز میں اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔

پاکستان ریلوے میں ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن، راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ریلوے اور آئی ٹی ٹیم نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان ریلوے کو جدید اور محفوظ بنانے کے لیے تمام جاری اور مجوزہ ڈیجیٹل منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے، عوام کی سہولت کے لیے تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر و تیز رفتار بنانے اور راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کے اہم تزویراتی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق جاری منصوبوں اور آئندہ سال کے اہداف کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان ریلوے اپنی اٹھتر سالہ تاریخ کی ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے میدان میں تمام سرکاری اداروں سے سب سے آگے ہے۔

اجلاس میں مسافروں کو فراہم کی جانے والی جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ رابطہ ایپ پر اس وقت سو سے زائد ٹرینیں دستیاب ہیں اور اب تک ریلوے کے ساٹھ بڑے اسٹیشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ مسافروں کی فوری معاونت کے لیے ریلوے ہیلپ لائن ایک سو سترہ کو چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں تربیت یافتہ آئی ٹی ایجنٹس ہر وقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے اب تک ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے تقریباً ستر فیصد مسافروں کی آمدورفت کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی میں ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشن‘ کا کامیابی سے افتتاح کیا جا چکا ہے اور اب کیے گئے فیصلے کے تحت دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

حکام نے اجلاس کو مال برداری اور انتظامی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران فریٹ مینجمنٹ سسٹم، رولنگ اسٹاک ٹریکنگ، ڈیجیٹل ویٹ برجز، ای انسپیکشن رجیم اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے ان تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کی خصوصی ہدایت جاری کیں۔ اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیے جانے والے متعدد بڑے ڈیجیٹل منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ان منصوبوں میں سترہ سو کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیسڈ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کا قیام اور ایک مکمل ’فریٹ ڈیجیٹلائزیشن ایکو سسٹم‘ کی تشکیل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جی پی ایس بیسڈ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مسافروں کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور جدید سگنلنگ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے ٹرین آپریشنز، حفاظت اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بھی زیرِ غور آئے۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر ریلوے نے تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ادارہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ریاض میں مقتدر ملاقات؛ ریاض کے جدید ترین یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر نائن ون ون کا تفصیلی دورہ

محمود احمد, JULY 02,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں برادر ممالک کے مابین دیرینہ تزویراتی شراکت داری اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مقتدر مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں بتایا کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی سے ریاض میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس اہم بیٹھک کے دوران دونوں مقتدر رہنماؤں نے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فول پروف بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس دستخط شدہ معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کا عکاس قرار دیا۔

اپنے اس مقتدر دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریاض ریجن میں واقع جدید ترین “یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر” (نائن ون ون) کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے سنٹر کے مختلف اہم شعبوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تمام متعلقہ سیکیورٹی اور سروسز کے اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی، روابط اور انضمام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے شہریوں، مقامی مقیم افراد اور زائرین کے لیے ہنگامی رپورٹس پر انتہائی تیز رفتار اور درست ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی انتھک کوششوں اور جدید ترین تکنیکی نظام کو خاص طور پر سراہا۔

واضح رہے کہ ریاض ریجن کا یہ مرکزی آپریشنز سنٹر (نائن ون ون) سعودی عرب کے اہم ترین سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں شمار ہوتا ہے، جو ریاض شہر کے علاوہ خطے کی بائیس گورنریٹس کو اپنی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے قائم اس جدید ترین کنٹرول روم میں باسٹھ آپریشنل ورکنگ یونٹس چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں، جو تمام ہنگامی نوعیت کی کالز کو موصول کر کے فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔ سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کا یہ مربوط نظام سعودی عرب کے تاریخی “وژن بیس تیس” اور “کوالٹی آف لائف پروگرام” کے اعلیٰ اہداف کے تحت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

عوام کی خدمت اور ان کے بنیادی مسائل کا فوری حل پاکستان پیپلز پارٹی کا اولین منشور ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی گفتگو

منصور احمد, JULY 02,2026

سکھر/خیرپور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کوٹ ڈیجی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ریجنل دفتر کا ایک مقتدر دورہ کیا اور وہاں علاقہ معززین و پارٹی کارکنان سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ اپنے انتخابی حلقے میں واقع پیپلز پارٹی کمب آفس پہنچیں، جہاں انہوں نے پارٹی کے مقامی رہنماؤں، خواتین ورکرز، مقتدر کارکنوں اور معززینِ علاقہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس تزویراتی موقع پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے علاقے کی خواتین سمیت عام عوام کے درپیش مسائل انتہائی تفصیل سے سنے اور ان کے فوری اور پائیدار حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ سرکاری افسران کو سخت احکامات جاری کیے۔

ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے شرکاء کو پختہ یقین دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ بلاامتیاز عوام کی خدمت اور ان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی و تزویراتی اقدامات کرتی رہے گی، کیونکہ یہی پارٹی قیادت کا اصل مشن ہے۔ اس مقتدر موقع پر پی پی پی تحصیل کوٹ ڈیجی کے سینئر رہنما، بلدیاتی نمائندے اور دیگر معززینِ علاقہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جنہوں نے اپنے مقتدر حلقے میں عوامی روابط مہم کو تیز کرنے پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے اور عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہو، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی حکومت کے عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھانے اور عوام کے بنیادی مسائل کے فوری حل کو اولین ترجیح دینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے جمعرات کے روز یہاں ان سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، وفاقی وزیر برائے پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمٰن خان کانجو اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طلحہٰ برکی بھی اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں موجود تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومتی اراکین اور وزراء عوامی خدمت کے مشن کو تیز کریں تاکہ عام آدمی کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور وہاں کے عوام کی سماجی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت تمام دستیاب وسائل کو ہر ممکن طور پر بروئے کار لائے گی اور ان خطوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔