کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل کی تشکیل کا مطالبہ، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کو خط ارسال

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل تشکیل دینے کی باقاعدہ درخواست کرتے ہوئے گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام کو ایک باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے ارسال کیے گئے اس خط میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاہنہ سانحے کی شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل ٹربیونل قائم کیا جائے۔

خط کے تزویراتی متن کے مطابق، اس غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر میں چھت گرنے کے نتیجے میں چودہ معصوم بچے موقع پر جاں بحق جبکہ ایک خاتون ٹیچر شدید زخمی ہوئیں۔ خط میں حکام سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں کام کرنے والے تمام غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی فوری رجسٹریشن کو قانونی طور پر یقینی بنایا جائے، جبکہ ان عمارتوں کے حفاظتی ضوابط اور فٹنس سرٹیفکیٹس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے کسی بھی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے کی روک تھام کو مستقل بنیادوں پر ممکن بنایا جا سکے۔ لاہور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے داخلوں کا باقاعدہ آغاز


علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی سفر کے 50 سال مکمل: سلور جوبلی کا انعقاد۔

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے تعلیمی داخلوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، لہٰذا تمام خواہشمند طلبہ و طالبات مقررہ آخری تاریخ سے قبل آن لائن درخواستیں جمع کرا کے اس تعلیمی موقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ سیالکوٹ ریجنل کیمپس طلبہ کو داخلوں، امتحانات، اسائنمنٹس اور دیگر تمام تعلیمی امور میں ہر ممکنہ رہنمائی اور بہترین سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن چوہدری حسن صفتیں چیمہ نے اپنے آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ میٹرک، ایف اے، آئی کام، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی بی اے، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ، سرٹیفکیٹ، ایم بی اے، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف تدریسی پروگراموں میں داخلے جاری ہیں، اور طلبہ اپنی اہلیت کے مطابق پسندیدہ پروگرام کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ریجنل ڈائریکٹر چوہدری حسن صفتین چیمہ نے داخلوں کے شیڈول کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میٹرک، ایف اے، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز میں داخلہ حاصل کرنے کی آخری تاریخ دس اگست دو ہزار چھبیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی پروگرامز کے لیے سترہ اگست دو ہزار چھبیس کی تاریخ طے ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ اپنے مطلوبہ کورسز کا باقاعدہ اندراج چوبیس اگست دو ہزار چھبیس تک کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام طلبہ اور والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ داخلے کے محفوظ عمل کے لیے صرف یونیورسٹی کے آفیشل اور سرکاری پورٹل سے ہی رجوع کریں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا معلومات کے لیے سیالکوٹ ریجنل کیمپس سے براہِ راست رابطہ کریں، جہاں طلبہ کی فوری سہولت اور کونسلنگ کے لیے ایک خصوصی فیسیلیٹیشن ڈیسک فعال کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ باصلاحیت نوجوان نسل ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے؛ قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے، اور مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز یہاں اڑان پاکستان “مٹی کی پکار” اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام دو ہزار چھبیس کی پروقار افتتاحی تقریب سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر نے تفصیلاً بتایا کہ اس مقتدر پروگرام کے لیے دنیا کے چوون ممالک سے تقریباً دو ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی ایک سو پچاس ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے پینتالیس غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا۔ احسن اقبال نے منتخب اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے، پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔ اس سال پروگرام کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی اسکالرز بھی شریک ہیں، جو اس اقدام کی بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارتِ منصوبہ بندی کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک (یعنی برآمدات، توانائی، ماحولیات، ای پاکستان اور مساوات و بااختیار بنانا) کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں پالیسی سازی کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی؛ ماضی میں حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہاؤس کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو دو ہزار تیس تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔ دو ہزار بائیز میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج دنیا پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ریاست پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اب سفارتی کامیابیوں کے بعد اصل معرکہ معاشی ترقی کا ہے جسے جیتنے کے لیے نوجوان نسل کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ ملکی جامعات کے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اسکالرز کو تاکید کی کہ وہ ان چھ ہفتوں کو اپنی زندگی کا یادگار تجربہ بنائیں اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

بین الصوبائی تعاون کے فروغ سے عوامی مسائل کے حل اور ملکی استحکام کو مزید تقویت ملے گی، صدر آصف علی زرداری

منصور احمد, JULY 01,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی حکومت سے متعلق بین الصوبائی امور، صوبوں کے مابین تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف تزویراتی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے مابین مضبوط روابط کی ضرورت پر گہرا زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے مؤثر فروغ سے نہ صرف عوام کے بنیادی مسائل کو مقامی اور صوبائی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ ملکی ترقی، یکجہتی اور مجموعی استحکام کی جاری کوششوں کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔ ملاقات میں دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں کی ترقیاتی صورتحال اور وفاق کے ساتھ جاری پراجیکٹس کے حوالے سے صدرِ مملکت کو بریفنگ بھی دی۔

موسمی تغیرات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مون سون کی پیشگی تیاری کے لیے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے مقتدر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لہٰذا موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اسی ہفتے ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مون سون کی پیشگی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی زیر نگرانی این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایک مقتدر ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو متعلقہ صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی باقاعدگی سے ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی وزیر خزانہ اس کمیٹی میں مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت چلنے والے منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے تین سو تیس ارب روپے کی خطیر اضافی رقم مختص کی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون سیزن میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں؛ تمام صوبے مقامی سطح پر خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی موثر حل یقینی بنائیں، جبکہ مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاری و تکنیکی استعداد کار کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال مون سون کی پیشگی تیاری، ممکنہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیر کے رحجان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال گرمی کی شدید لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں؛ پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی کے مہینے میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام درکار انتظامات مقتدر سطح پر کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موسمیاتی تغیر اور مون سون کی ممکنہ تباہی سے یقینی بچاؤ کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موثر تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیرات جیسے قومی خطرات سے بطریق احسن نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی تعاون اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

پاک بھارت قونصلر رسائی معاہدہ، دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا تبادلہ

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

پاکستان میں موسمیاتی اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اور اقوامِ متحدہ کا باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد کے نو منتخب اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اہم بیٹھک کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اعلیٰ نمائندگان بھی موجود تھے۔ بدھ کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے محمد یحییٰ کو اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کے باوقار عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد یحییٰ کی شاندار خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ان کے مسلسل تزویراتی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق خدمات اس عالمی ادارے کے سب سے اہم، قابلِ ستائش اور مؤثر ترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف تزویراتی امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت ، ناگہانی آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، پائیدار ترقی، اور انسانی امداد سے متعلق اہم شعبوں میں مشترکہ پراجیکٹس شروع کرنے پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے آئندہ برسوں میں مشترکہ تزویراتی تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے حتمی تعین اور باہمی اشتراک پر مبنی دوررس منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ دونوں مقتدر شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قریبی اشتراک سے ایسے تمام ماحولیاتی اقدامات کو عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی موافقت اور انسانی ترقی کے اہداف کا بہتر، تیز رفتار اور پائیدار حصول ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، اکہتر سال بعد دو بہنوں کو شرعی اور قانونی حصہ دینے کا حکم

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اکہتر سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں ان کا جائز حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا تمام تر قانونی بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوگا جو اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے چودہ صفحات پر مشتمل مقتدر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست تسلیم کر کے بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا تمام ریکارڈ قانون کے مطابق فوری درست کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی، صوابدید یا تحفہ نہیں بلکہ یہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام جائز وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے دور رکھنے کے لیے جعلی ہبہ، جائیداد کا جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ عدالتوں میں ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماتحت عدالتوں کو ایسی ہر مشکوک ٹرانزیکشن کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا پورا حصہ ملنا چاہیے۔

مقتدر فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ انیس سو پچپن میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے مبینہ زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جبکہ اپنی سگی والدہ اور بہنوں کو وراثت سے مکمل طور پر محروم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے اس زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم وہ بارِ ثبوت کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کر گئیں؛ کیونکہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے بالکل برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس میں تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض اس ٹیکنیکل بنیاد پر خواتین کو ان کے ابدی قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کا غیر معمولی رش، پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں کے لیے اہم ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے ذمہ دارانہ سیاحت آگاہی مہم کے تحت ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی علاقہ جات کی سیر کو جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اور مقتدر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، اس وقت ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کا غیر معمولی اور ریکارڈ رش دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام سیاحوں اور خاندانوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر پر روانگی سے قبل متعلقہ مقامات پر ہوٹل یا رہائش کی پیشگی بکنگ لازمی طور پر یقینی بنائیں تاکہ وہاں پہنچ کر انہیں کسی بھی قسم کی دشواری، پریشانی یا تزویراتی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں پر گہرا زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک منظم منصوبہ بندی اور مقتدر حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں تاکہ ان کا یہ سفر مکمل محفوظ اور خوشگوار رہ سکے۔ ٹریول ایڈوائزری میں سیاحوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کا خاص خیال رکھیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں، اپنے ساتھ ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ کٹ لازمی رکھیں اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے قدرتی ماحول کو آلودگی سے محفوظ بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ پی ٹی ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تزویراتی مسئلے یا ناگہانی ہنگامی صورتحال کی صورت میں سیاح فوری طور پر ٹورسٹ ہیلپ لائن چودہ بائیس پر رابطہ کر سکتے ہیں؛ ذمہ داری سے سفر کرنا اور ملک کے خوبصورت ماحول کا تحفظ کرنا ہر سیاح کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا قیمتی اثاثہ ہیں، بہبود کے منصوبوں میں مزید تیزی لائی جائے، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سخت ہدایت

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بہبود اور ان کے مسائل کے فوری حل کے لیے جاری تمام تزویراتی منصوبوں اور اقدامات میں مزید تیزی لانے کی سخت ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی قوم کا انتہائی قیمتی اثاثہ ہیں جو دنیا بھر میں اپنی شبانہ روز محنت کی کمائی پاکستان بھیج کر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معیشت کی مضبوطی میں اپنا مقتدر حصہ ڈالتے ہیں۔ بدھ کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور منیجنگ ڈائریکٹر او پی ایف افضال بھٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے وزیراعظم ہاؤس میں ان سے ایک اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات کی۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مختلف مسائل کے مستقل حل اور ان کی سہولت کے لیے فاؤنڈیشن کی جانب سے اٹھائے گئے حالیہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اس موقع پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کو بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی سماجی و معاشی بہبود اور ان کو ہر ممکنہ ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے او پی ایف کے مستقبل کے لائحہ عمل پر ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔ وزیراعظم نے اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن کے اب تک کے مقتدر اقدامات اور کارکردگی پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا اور اعلیٰ حکام کو ہدایت کی کہ تارکینِ وطن کے حقوق کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی کو مزید بہتر بنانے کے لیے ایک جامع اور فول پروف لائحہ عمل مرتب کر کے جلد از جلد پیش کیا جائے تاکہ اس پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ ملاقات کے دوران چیئرمین بورڈ آف گورنرز سید قمر رضا اور ایم ڈی او پی ایف افضال بھٹی نے عالمی امن، علاقائی استحکام اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے مقتدر تحفظ کے لیے وفاقی حکومت اور وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک تزویراتی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے ایک اور اہم تعمیراتی ہدف حاصل کر لیا، مین ڈیم پر فل سکیل آر سی سی ٹرائل کا باقاعدہ آغاز

منصور احمد, JULY 01,2026

داسو/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ نے تعمیراتی میدان میں ایک اور مقتدر اور اہم ترین سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جس کے تحت پراجیکٹ پر فل سکیل رولر کمپیکٹڈ کنکریٹ (آر سی سی) ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ فل سکیل ٹرائل پراجیکٹ کے مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ کام شروع کرنے سے پہلے ایک لازمی اور تزویراتی مرحلہ ہے۔ اس وقت انجینئرز اور تکنیکی ماہرین پر مشتمل مقتدر ٹیمیں مین ڈیم سائٹ کے بالکل قریب واقع مخصوص ٹرائل سیکشن میں آر سی سی بچھانے کے اس فل سکیل ٹرائل میں مصروف ہیں۔ اس اہم ترین مشق کا بنیادی مقصد تعمیراتی طریقہ کار کی گہرائی سے جانچ اور توثیق کرنا، ڈیم کی تعمیر کے یکساں اور اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنانا، لاجسٹک اور آپریشنل سسٹم کا تفصیلی جائزہ لینا، ممکنہ تکنیکی چیلنجز کی پیشگی نشاندہی کرنا اور پراجیکٹ پر موجود افرادی قوت کو جدید عملی تربیت فراہم کرنا ہے۔

مقتدر انجینئرز کے مطابق، ٹیسٹنگ سمیت یہ فل سکیل ٹرائلز مسلسل چار ماہ تک جاری رہیں گے، جس کے دوران کنٹریکٹر، کنسلٹنٹس اور واپڈا کی ماہر ٹیمیں ٹرائل کے تمام باریک تکنیکی پہلوؤں کا تفصیلی سائنسی تجزیہ کریں گی۔ اس ٹرائل کی کامیاب تکمیل کے بعد مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا باقاعدہ آغاز رواں سال کے آخر میں شیڈول ہے، تاہم مین ڈیم پر آر سی سی ورکس کا حتمی آغاز گنی ایریا سے درکار اہم تعمیراتی میٹریل پوزولان کی بروقت دستیابی پر منحصر ہے، کیونکہ گزشتہ دس سال پر محیط طویل کوششوں کے باوجود گنی ایریا کی قانونی تحویل اب تک واپڈا کو حاصل نہیں ہو پائی ہے۔ اس فل سکیل آر سی سی ٹرائل کے ساتھ ساتھ داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے تئیس مختلف ورک فرنٹس پر بھی تعمیراتی سرگرمیاں تیز رفتاری سے جاری ہیں، جن مقتدر ورک فرنٹس میں مین ڈیم کی بنیاد، زیرِ زمین پاور ہاؤس اور زیرِ زمین ٹرانسفارمر ہال کی تعمیر قابلِ ذکر ہے، جبکہ آر سی سی کی بڑے پیمانے پر تیاری کے لیے درکار کرشنگ اور بیچنگ پلانٹس کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔

یہ امر انتہائی قابلِ ذکر ہے کہ بجلی کی سالانہ پیداوار کے لحاظ سے داسو پاکستان کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہے، جو ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے نیشنل گرڈ کو ہر سال اکیس ارب یونٹ بجلی فراہم کرنے کی مقتدر صلاحیت رکھتا ہے۔ پراجیکٹ کی کل پیداواری صلاحیت چار ہزار تین سو بیس میگاواٹ ہے اور اسے دو تزویراتی مراحل میں تقسیم کر کے مکمل کیا جا رہا ہے، جہاں ہر مرحلے کی انفرادی پیداواری صلاحیت دو ہزار ایک سو ساٹھ میگاواٹ ہے۔ واپڈا اس وقت پراجیکٹ کے پہلے مرحلے پر انتہائی سرگرمی سے کام کر رہا ہے، جس کی کامیاب تکمیل کے بعد قومی گرڈ کو سالانہ بارہ ارب یونٹ صاف، ماحول دوست اور انتہائی کم لاگت پن بجلی فراہم کی جائے گی، جو ملک میں جاری توانائِی کے بحران پر قابو پانے کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگی۔

نائب مستقل مندوب عثمان جدون کا اقوامِ متحدہ کی پلجنگ کانفرنس سے مقتدر خطاب؛ یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی قبضے اور قانون سازی کو مسترد کرتے ہوئے فنڈز میں اضافے کا اعلان

محمود احمد July 01,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے امدادی و تعمیرِ نو کے ادارے (یو این آر ڈبلیو اے) کے تزویراتی مینڈیٹ کے تحفظ اور اسے مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے عالمی برادری سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس مقتدر ادارے کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنے کے لیے خاطر خواہ، مستقل اور قابلِ پیش گوئی مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کو نشانہ بنانے والی یکطرفہ اسرائیلی قانون سازی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کے سراسر منافی قرار دیا اور اس کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے یو این آر ڈبلیو اے کے دفاتر پر اسرائیلی چھاپوں اور ان پر زبردستی قبضے کے اقدامات کی بھی سخت مذمت کرتے ہوئے ادارے کے مینڈیٹ اور اس کی عملی خودمختاری کو کمزور کرنے کی ہر مذموم کوشش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں یو این آر ڈبلیو اے کی تزویراتی معاونت کے لیے منعقدہ مقتدر پلجنگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے بین الاقوامی قانون کے تحت یو این آر ڈبلیو اے کو حاصل تمام مراعات اور استثنیٰ کا مکمل احترام یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران یو این آر ڈبلیو اے کی مقتدر خدمات کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ لاکھوں معصوم فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے ایک ناگزیر سہارا ہے، جو انتہائی دشوار اور جنگی حالات میں انہیں تعلیم، صحت، امداد، تحفظ اور پناہ جیسی بنیادی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ یو این آر ڈبلیو اے محض ایک انسانی امدادی ادارہ نہیں بلکہ فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے منصفانہ اور پائیدار سیاسی حل تک بین الاقوامی برادری کی اجتماعی ذمہ داری کا عملی مظہر ہے۔

سفیر عثمان جدون نے اپنے تزویراتی خطاب میں اس بات پر گہرا زور دیا کہ جانیں بچانے والی امدادی خدمات انجام دینے والے انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو کبھی بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے موجودہ تنازع کے آغاز سے اب تک اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے تین سو بانوے یو این آر ڈبلیو اے اہلکاروں کی ہلاکتوں کا عالمی سطح پر احتساب کرنے کا مقتدر مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یو این آر ڈبلیو اے کے مینڈیٹ کو فلسطینی پناہ گزینوں کے حتمی سیاسی تصفیے کے مسئلے سے کسی صورت الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق مسئلے کا حل ادارے کو ختم کرنا نہیں بلکہ غاصب اسرائیلی قبضے کا فوری خاتمہ، بین الاقوامی قانون اور متعلقہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کو ممکن بنانا، اور انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کو عملی شکل دینا ہے، جس میں القدس الشریف ایک آزاد اور خودمختار ریاستِ فلسطین کا مستقل دارالحکومت ہو۔

سفیر عثمان جدون نے عالمی برادری کو مقتدر حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ یو این آر ڈبلیو اے اس وقت تقریباً بائیس کروڑ امریکی ڈالر کے سنگین بجٹ خسارے کا سامنا کر رہا ہے، جس کے باعث لاکھوں ضرورت مند فلسطینی پناہ گزینوں کو بنیادی خدمات کی فراہمی شدید خطرے سے دوچار ہو چکی ہے۔ انہوں نے یو این آر ڈبلیو اے کے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیت، غیر متزلزل عزم اور انتھک خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارے کے لیے مستقل، پائیدار اور بڑھتی ہوئی مالی معاونت محض ایک ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کی اخلاقی و قانونی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے پاکستان کی جانب سے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان رواں سال یو این آر ڈبلیو اے کے لیے اپنی مالی معاونت میں مقتدر اضافہ کرے گا اور انہوں نے تمام رکن ممالک پر بھی زور دیا کہ وہ اپنی موجودہ مالی معاونت کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے مزید بڑھائیں۔

بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی واقعے کو حقائق کے برعکس پیش کرنا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی ,june 30,026

کراچی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین تزویراتی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پیش آنے والے کسی بھی افسوسناک واقعے کو سوشل میڈیا پر حقائق کے برعکس پیش کرنا نہ صرف معصوم عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے بلکہ اس سے صوبے کے بارے میں ایک منفی تاثر بھی جنم لیتا ہے جس کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔ منگل کے روز وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی خصوصی طور پر کراچی پہنچے اور دشت کے علاقے میں افسوسناک حادثے کا شکار ہو کر جاں بحق ہونے والے تاجر مرحوم علی مرتضیٰ کی رہائش گاہ گئے، جہاں انہوں نے سوگوار اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا، مرحوم کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی اور پسماندگان کو صبرِ جمیل کی تلقین کی۔

اس مقتدر موقع پر میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے اور اس حوالے سے کسی بھی سطح پر کوئی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے تزویراتی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد عناصر اب اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ریاست ان کے ناپاک عزائم کے خلاف پوری قوت اور عزم کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن جب سامنے ہو تو اس کا مقابلہ کرنا آسان ہوتا ہے تاہم گرے زونز میں کارروائی کرنا ہمیشہ ایک مشکل کام ہوتا ہے، لیکن ہماری سیکیورٹی فورسز اور ریاست ہر قسم کے چیلنج سے نمٹنے کی بھرپور اور کامل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ دشت میں پیش آنے والے انفرادی واقعے کو سوشل میڈیا پر توڑ مروڑ کر اور حقائق کے برعکس پیش کیا جا رہا ہے، ایسے گمراہ کن بیانیے کو روکنا اور سچ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ صوبے کی تمام بڑی شاہراہوں پر روزانہ ہزاروں کلومیٹر کا سفر کرنے والے لاکھوں شہری مکمل محفوظ انداز میں اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں، لہٰذا ایک انفرادی واقعے کو بنیاد بنا کر پورے صوبے کی امن و امان کی صورتحال کو خراب دکھانا سراسر ناانصافی ہے۔ میر سرفراز بگٹی نے مرحوم علی مرتضیٰ کے غمزدہ اہل خانہ کو یقین دلایا کہ بلوچستان حکومت اس مشکل گھڑی میں انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے ایک بڑے ہمدردانہ اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم تاجر کی معصوم بچیوں کی مکمل کفالت اور ان کی اعلیٰ تعلیم و تربیت کی تمام تر مالی ذمہ داری بلوچستان حکومت اٹھائے گی تاکہ متاثرہ خاندان کو معاشی و سماجی طور پر ایک مضبوط سہارا فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ حکومت امن و امان کے مستقل قیام اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی مقتدر کوششیں مزید مؤثر انداز میں جاری رکھے گی۔

خصوصی بچوں کے لیے عالمی بہترین طریقہ کار اور معاون خدمات متعارف کرانے کا فیصلہ؛ حکومت پاکستان آٹزم کے حامل افراد کو جامع اور موثر ماحول فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے

روزینہ اسماعیل june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں “سینٹر آف ایکسی لینس فار آٹزم” کے ایڈوائزری بورڈ کے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس کی صدارت کی ہے، جس میں ادارے کی اب تک کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور آٹزم سپیکٹرم ڈس آرڈر سے متاثرہ معصوم بچوں کے لیے جامع تعلیم، ابتدائی طبی و نفسیاتی مداخلت اور دیگر معاون خدمات کو مزید مؤثر و فعال بنانے کے تزویراتی اقدامات پر غور کیا گیا۔ دفترِ خارجہ سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے موقع پر حکومتِ پاکستان کے اس پختہ عزم کا اعادہ کیا گیا کہ ملک میں آٹزم کے حامل تمام افراد کے لیے ایک جامع، ہمدردانہ اور مؤثر معاون ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کا مفید شہری بن سکیں۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مقتدر حکام نے کمیٹی کو اسلام آباد میں آٹزم سے متاثرہ بچوں کے لیے قائم کیے جانے والے اس جدید ترین سینٹر آف ایکسی لینس کے سلسلے میں اب تک کیے گئے عملی اقدامات اور تزویراتی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر آٹزم کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ملک کے معروف ترین طبی و تعلیمی ماہرین کی قیمتی آراء اور تجاویز بھی طلب کی گئیں تاکہ سینٹر کے ڈھانچے کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق استوار کیا جا سکے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے متعلقہ وفاقی اداروں کو سخت ہدایت جاری کی کہ ان خصوصی بچوں کی نازک ضروریات کے مطابق معیاری تعلیم، جدید تھراپی اور دیگر ضروری خدمات کی فراہمی کے لیے دنیا بھر میں رائج بہترین تزویراتی طریقہ کار کو اپنایا جائے اور حکومت کے اس مخلصانہ عزم پر تیز رفتاری سے عمل درآمد کرتے ہوئے اس اسٹیٹ آف دی آرٹ سینٹر آف ایکسی لینس کو جلد از جلد فعال کیا جائے۔ اس مقتدر اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز برائے تعلیم و صحت اور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ ترین حکام نے بھی شرکت کی۔

مالی سال کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کر لی، ملکی معیشت کا حجم چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا، وزارتِ خزانہ

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزارتِ خزانہ نے ملکی معیشت کے حوالے سے مقتدر اور انتہائی مثبت اعداد و شمار جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کی معیشت نے گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین شرح نمو حاصل کرتے ہوئے تین اعشاریہ سات فیصد کی رفتار سے ترقی کی ہے، جبکہ ملکی معیشت کا مجموعی حجم بڑھ کر چار سو باون اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ جون 2026ء کی ماہانہ اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق، سال کے آغاز میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور عالمی مارکیٹ میں اجناس کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کے باوجود حکومت نے بہترین تزویراتی حکمتِ عملی سے معاشی استحکام برقرار رکھا، جس کی بدولت زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں مجموعی طور پر شاندار ترقی کا رجحان دیکھنے میں آیا اور ملک کی اوسط مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں رہتے ہوئے مقررہ ہدف کے اندر برقرار رہی۔

رپورٹ کے مطابق جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران سخت مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں ریکارڈ اضافے اور صوبائی سرپلس کی بدولت مالیاتی خسارے میں واضح کمی آئی، جبکہ بنیادی مالیاتی سرپلس جی ڈی پی کے تین اعشاریہ پانچ فیصد تک پہنچ گیا۔ وزارتِ خزانہ نے بتایا کہ بیرونی شعبے کی کارکردگی بھی انتہائی مستحکم رہی جس میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر، آئی ٹی برآمدات، مستحکم شرح مبادلہ اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری نے کلیدی کردار ادا کیا، جس کے باعث جولائی تا مئی مالی سال 2025-26 کے دوران ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ دو سو پچپن ملین ڈالر سرپلس میں رہا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے عالمی مالیاتی ادارے کے پروگراموں پر کامیاب عمل درآمد، اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فچ اور موڈیز کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں مقتدر بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں پاکستان نے چار سال بعد کامیاب یورو بانڈ جاری کیا، پانڈا بانڈ متعارف کرایا جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا کے ایس ای-100 انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو کر ایشیا کی تیز ترین ترقی کرتی ہوئی مارکیٹوں میں شامل ہو گیا۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زرعی شعبے نے سیلاب کے شدید نقصانات کے باوجود مالی سال 2025-26 میں دو اعشاریہ نو فیصد ترقی کی جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے اس شعبے کی شرح نمو کا تزویراتی ہدف تین اعشاریہ چھ فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب بڑے پیمانے کی صنعت نے جولائی تا اپریل کے دوران چھ اعشاریہ چار فیصد کی شاندار ترقی ریکارڈ کی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اس شعبے میں ایک اعشاریہ پانچ فیصد کی منفی کمی ہوئی تھی۔ مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مئی 2026ء میں مہنگائی کی سالانہ شرح گیارہ اعشاریہ سات فیصد رہی جبکہ جولائی تا مئی کے دوران اوسط مہنگائی محض چھ اعشاریہ سات فیصد ریکارڈ کی گئی۔ وفاقی محصولات جولائی تا اپریل کے دوران پانچ اعشاریہ اٹھ فیصد اضافے کے ساتھ آٹھ ہزار چھ سو ایک ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں جولائی تا مئی کے دوران نو اعشاریہ سات فیصد اضافے سے گیارہ ہزار دو سو اٹھائیس اعشاریہ اٹھ ارب روپے رہیں۔ اسی عرصے میں مجموعی حکومتی اخراجات میں نو اعشاریہ نو فیصد کی نمایاں کمی آئی جس کی بڑی وجہ سود کی ادائیگیوں میں اکیس اعشاریہ نو فیصد کی ریکارڈ کمی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے مقتدر تجزیے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کے باعث جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نرمی سے درآمدی مہنگائی اور تیل کے درآمدی بل میں واضح کمی آئے گی، جبکہ جون 2026ء کے دوران مہنگائی گیارہ سے بارہ فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ وزارتِ خزانہ نے پرامید انداز میں واضح کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت آئندہ بھی ترقی کی یہ شاندار رفتار برقرار رکھنے کی بھرپور تزویراتی صلاحیت رکھتی ہے؛ بڑے پیمانے کی صنعت، زرعی شعبے کی جاندار کارکردگی، مضبوط بیرونی کھاتوں، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی اشاریوں کے باعث ملک کا معاشی استحکام مستقبل میں مزید مضبوط اور پائیدار ہوگا۔

پنجاب بھر میں سرکاری نرخنامے کی کھلی خلاف ورزی، دکانداروں نے قیمتیں پانچ سو روپے فی کلو تک پہنچا دیں؛ سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ سے پریشان عوام کا وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے منافع خوروں کے خلاف فوری کریک ڈاؤن کا مطالبہ

منصور احمد june 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے جولائی کے مہینے کے لیے ایل پی جی کی سرکاری قیمتوں میں اڑسٹھ روپے فی کلو گرام کی مقتدر کمی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے جس کے بعد نئی سرکاری قیمت دو سو اکیانوے روپے فی کلو مقرر کر دی گئی ہے، تاہم اس تزویراتی ریلیف کے برعکس ملک بھر اور خاص طور پر پنجاب میں کہیں بھی سرکاری قیمت پر ایل پی جی دستیاب نہیں ہے۔ مارکیٹ میں ایل پی جی مافیا اور دکانداروں نے قیمتوں میں خودساختہ اور بے تحاشہ اضافہ کر کے سرکاری نرخنامے کی دھجیاں اڑا دی ہیں، جس نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو صارفین کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ گیس مافیا ضلعی انتظامیہ کی ناک کے نیچے شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہے اور پبلک کو منافع خوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع سے حاصل ہونے والی مقتدر معلومات کے مطابق، اس سرکاری قیمت کے برعکس صوبائی دارالحکومت لاہور سمیت پنجاب کے مختلف چھوٹے بڑے شہروں میں دکاندار ایل پی جی چار سو اسی روپے سے لے کر پانچ سو روپے فی کلو تک کی ہوشربا اور غیر قانونی قیمت پر فروخت کر رہے ہیں۔ مقتدر ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس مافیا اور دکانداروں کو پوچھنے والا کوئی ادارہ موجود نہیں ہے، جس کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ منافع خور اپنی مرضی سے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں دس سے بیس روپے فی کلو تک کا خودساختہ اضافہ کر دیتے ہیں۔ گیس کی قیمتوں میں اس من مانے اور غیر قانونی اضافے کی وجہ سے گھریلو صارفین کو شدید ترین معاشی مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ مہنگائی کے اس دور میں اب غریب آدمی کے لیے گیس سلنڈر بھروانا پہنچ سے بالکل باہر ہوتا جا رہا ہے۔

اس مقتدر صورتحال پر شدید احتجاج کرتے ہوئے شہریوں اور گھریلو صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سوئی گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ نے جینا محال کر رکھا ہے اور دوسری طرف ایل پی جی مافیا نے اوپن مارکیٹ میں لوٹ مار مچا رکھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اوگرا کے سرکاری نرخ صرف کاغذوں اور نوٹی فکیشن کی حد تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ مقتدر عوامی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور تمام اضلاع کی ضلعی انتظامیہ سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ان بے لگام منافع خوروں اور گیس مافیا کے خلاف فوری طور پر سخت ترین تزویراتی کریک ڈاؤن کیا جائے، دکانوں پر چھاپے مار کر بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور اوگرا کی مقرر کردہ سرکاری قیمت پر ایل پی جی کی فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو حقیقی ریلیف مل سکے۔

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے حادثے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک حادثے کے نتیجے میں ہونے والے قیمتی جانی نقصان پر انتہائی گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ منگل کے روز وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اس ناگہانی حادثے میں معصوم بچوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں اور لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے، جبکہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی مخلصانہ دعا کی ہے۔ وزیراعظم نے انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ حادثے میں زخمی ہونے والے تمام بچوں اور افراد کی جلد صحت یابی کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں اور انہیں ہسپتالوں میں ہر ممکن اور بہترین طبی امداد فوری طور پر فراہم کی جائے۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے سوشل پروٹیکشن والٹس کے نظام کی جانب منتقل ہو رہا ہے؛ بی آئی ایس پی کا منتقل کردہ ہر ایک روپیہ مقامی معیشت میں دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا کرتا ہے

منصور احمد june 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

چیئریٹر بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان سے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے، جس میں پاکستان کے اندر مستحق خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تحفظ کے موجودہ اقدامات کو مزید سہل، شفاف اور تزویراتی طور پر مؤثر بنانے کے لیے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ منگل کے روز جاری کردہ آفیشل اعلامیے کے مطابق، اس اہم بیٹھک کے دوران بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت بی آئی ایس پی سے مستفید ہونے والی خواتین کے لیے جدید ہنر مندی اور مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق تربیت کے مواقع فراہم کرنے پر بات چیت کی گئی، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام کے تحت ماں اور بچے کی صحت سے متعلق آگاہی کے فروغ کے لیے خصوصی خواتین بینیفشری کونسلز کے قیام، کاروباری مواقع کی فراہمی کے ذریعے خواتین کی معاشی خودمختاری کو فروغ دینے اور اس کے ساتھ ساتھ معاشرے کے پسماندہ طبقات بشمول خواجہ سراؤں اور غیر شادی شدہ مستحق خواتین کے لیے معاون اقدامات اٹھانے پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے حالیہ ورلڈ بینک کی تزویراتی تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے وفد کو بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ذریعے فراہم کی جانے والی مالی معاونت نہ صرف غریب خاندانوں کو سہارا دے رہی ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کو مقتدر سطح پر مضبوط بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس عالمی تحقیق کے مطابق، بی آئی ایس پی کے ذریعے مستحقین کو منتقل کیے جانے والے ہر ایک روپے کے بدلے مقامی مارکیٹ اور معیشت میں تقریباً دو اعشاریہ چوتیس روپے کی حقیقی آمدن پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے سماجی تحفظ کے شعبے میں بین الاقوامی اداروں کے ساتھ باہمی اشتراک، تجربات کے تبادلے اور ایک دوسرے کے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مستحق خواتین تک مؤثر رسائی اور زیادہ مثبت نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈیجیٹل اور روایتی آگاہی مہمات کو مزید مقتدر اور مضبوط بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

سینیٹر روبینہ خالد نے ایک بڑے تزویراتی اقدام کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ بی آئی ایس پی اس وقت ایک کروڑ سے زائد مستحق خواتین کے لیے ڈیجیٹل سوشل پروٹیکشن والٹس کے جدید نظام کی جانب تیزی سے منتقل ہو رہا ہے، جو کہ ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے اپنی نوعیت کے سب سے بڑے تزویراتی اقدامات میں سے ایک ہے اور جس کا بنیادی مقصد خواتین کو محفوظ، مکمل شفاف اور انتہائی باوقار انداز میں مالی سہولیات اور وظائف تک براہِ راست رسائی فراہم کرنا ہے۔ یو این ویمن کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ فہمیدہ خان نے خواتین کی معاشی بااختیاری کے لیے بی آئی ایس پی کے ان مقتدر اقدامات کو بھرپور انداز میں سراہا اور اس پروگرام کو ایک کامیاب اور مؤثر ماڈل قرار دیا جو پاکستان میں پسماندہ خواتین کی زندگیوں میں مثبت اور دیرپا تبدیلی لانے میں سماجی تحفظ کے حقیقی کردار کو واضح طور پر اجاگر کرتا ہے۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے مشترکہ وسائل کے فروغ، تکنیکی سطح پر باقاعدہ مشاورت کے تسلسل اور آئندہ کے تزویراتی لائحہ عمل کی تیاری کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر کامل اتفاق کیا۔

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ بھارتی معطلی غیر قانونی اور جنوبی ایشیا کے امن کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہے، اسلام آباد بین الاقوامی سیمینار کا مقتدر اعلامیہ

کاشف عباسی ,june 30,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جون 2026ء

پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت، وفاقی وزراء، بین الاقوامی قانونی ماہرین اور عالمی پالیسی تجزیہ کاروں نے بھارت کی جانب سے تاریخی سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ اور غیر قانونی طور پر معطل کرنے کے فیصلے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے کہ نئی دہلی کے یہ جارحانہ اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ایک ہولناک تزویراتی تصادم اور جنگ کے خطرات کو بھی ہوا دے رہے ہیں۔ منگل کے روز وفاقی دارالحکومت میں انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل سٹڈیز کے زیرِ اہتمام وزارتِ اطلاعات و نشریات کے خصوصی اشتراک سے ’’سندھ طاس معاہدہ: امن اور علاقائی استحکام کا ایک ذریعہ‘‘ کے عنوان سے ایک مقتدر بین الاقوامی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں متفقہ طور پر واضح کیا گیا کہ 1960ء کا یہ معتبر معاہدہ ایک بین الاقوامی طور پر پابند تصفیہ ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل، منسوخ یا تبدیل کرنے کا قانونی اختیار نہیں رکھتا۔ سیمینار کے مختلف فیزز سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ عالمی موسمیاتی بحران کے اس نازک دور میں بھارت کی جانب سے معاہدے کے تحت لازمی آبی ڈیٹا کی فراہمی روکنا اور معائنہ جاتی سرگرمیوں کو التواء میں ڈالنا درحقیقت پانی کو بطور عسکری ہتھیار استعمال کرنے کی ایک مذموم اور خطرناک کوشش ہے، جو پاکستان کے چوبیس کروڑ سے زائد عوام کی زندگیوں، غذائی تحفظ اور روزگار کے لیے براہِ راست وجودی خطرہ ہے۔ ماہرین نے یاد دلایا کہ پاکستان کی اسی فیصد سے زائد قابلِ کاشت اراضی اور زرعی معیشت کا انحصار دریائے سندھ کے نظام پر ہے، اس لیے ڈیٹا کا تبادلہ اور معمول کے طریقہ کار انسانی سلامتی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہیں۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اپنے مقتدر خطاب میں کہا کہ بھارت نے اس تاریخی معاہدے کو معطل کر کے خطے کو ایک بڑے تنازعے کی بھٹی میں جھونک دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرحد پار دریا ممالک کو دور کرنے کے بجائے قریب لانے کا ذریعہ ہوتے ہیں، اور پاکستان نے اسی جذبے کے تحت ماضی میں نمایاں رعایتیں دے کر یہ معاہدہ برقرار رکھا تاکہ طویل المدتی پیش بینی اور استحکام میسر آ سکے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے کا سختی سے نوٹس لے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ پاکستان کی قدیم تہذیب اور شناخت کی بنیاد ہے اور پاکستانیوں کو اس کے پانیوں پر ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا موقف بالکل واضح ہے کہ اس معاہدے میں کسی قسم کی یکطرفہ ترمیم ممکن نہیں؛ یہ باہمی رضامندی سے وجود میں آیا تھا اور اس میں تبدیلی کے لیے بھی باہمی رضامندی ہی درکار ہے۔ اگر پاکستان کا پانی روکنے کی کوشش کی گئی تو ہماری قومی قیادت اور مسلح افواج عوام کے حق کے تحفظ کے لیے مؤثر اور دندان شکن جواب دینے کا کامل عزم رکھتی ہیں۔ یکطرفہ معطلی کی ناکام کوششوں سے بھارت کو خود عالمی فورمز پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے بھارت کے ان غیر قانونی اقدامات کو پاکستان کے خلاف باقاعدہ جنگی اقدام تصور کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے تزویراتی موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر آبنائے ہرمز کی بندش کے ساتھ دنیا میں امن کا تصور ممکن نہیں، تو کوئی یہ کیسے توقع کر سکتا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے باوجود خطے میں امن اور استحکام قائم رہے گا؛ بھارت نے ہماری شہ رگ پر وار کر کے پانی کو ہتھیار بنایا ہے، جو کہ ایک وجودی حملہ ہے؛ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، لیکن ہماری دفاعی صلاحیت کا مقصد ہی ایسے وجودی خطرات کو کچلنا ہے۔ انہوں نے پانی سمیت عالمی مشترکہ وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے خلاف ایک نئے بین الاقوامی کنونشن کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق مسعود ملک نے اس بحران کو انصاف کا بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت واضح کر چکی ہے کہ بھارت پاکستان کے مغربی دریاؤں پر یکطرفہ آبی ذخائر نہیں بنا سکتا، لیکن نئی دہلی عدالت کے فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے؛ اگر یہ مضبوط ترین معاہدہ، جو تین جنگوں میں بھی قائم رہا، سبوتاژ ہو گیا تو دنیا کا کوئی بھی آبی معاہدہ محفوظ نہیں رہے گا۔

پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ نے کہا کہ معاہدے کا آرٹیکل نو تنازعات کے حل کا واضح طریقہ کار دیتا ہے اور بھارت کا ڈیٹا روکنا خود اس کے اپنے دستخطوں کی توہین ہے۔ سابق وزیر دفاع انجینئر خرم دستگیر خان نے بھارت کی عسکری چالوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بگلیہار اور سلال ڈیموں کے گیٹ بند کرنے اور مغربی دریاؤں پر آبی منصوبوں کی تیز رفتار غیر قانونی تعمیر کی تفصیلات پیش کیں۔ سابق نگراں وفاقی وزیر قانون احمر بلال صوفی نے بین الاقوامی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی دریا عالمی اثاثے ہیں، بھارت ان پر ملکیت کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور اس کی جانب سے معطلی کا اعلان خود اس کے جرم کا اعتراف ہے، جس پر پاکستان کو تزویراتی جواب کا پورا قانونی حق حاصل ہے۔ سابق وزیر مملکت خارجہ حنا ربانی کھر نے آرٹیکل بارہ کا حوالہ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ معاہدے میں کسی بھی تبدیلی کا طریقہ کار طے ہے، بھارت عالمی غیر یقینی صورتحال کا فائدہ اٹھا کر مکر رہا ہے، لہٰذا پاکستان کو عالمی سفارت کاری کے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لانے چاہئیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے سابق صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عامر ریاض نے نئی دہلی کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ایک پنج نکاتی حکمتِ عملی پیش کی، جس میں قانونی و سفارتی طریقہ کار، تکنیکی و آپریشنل تیاری، ڈومیسٹک واٹر مینجمنٹ سسٹم کی پائیداری، اپنی ریڈ لائنز کی واضح تعریف اور مربوط ڈیٹرنس یعنی مضبوط دفاعی ردِعمل کو بروئے کار لانا شامل ہے؛ کیونکہ بھارت دریائے سندھ پر دو، جہلم پر پانچ بشمول کشن گنگا اور چناب پر متعدد ڈیمز بنا کر پاکستان کو تنہا اور کمزور کرنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

سیمینار میں عالمی طاقتوں کے ماہرین نے بھی بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کے موقف کی کھل کر تائید کی۔ بیجنگ میں سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن کے نائب صدر پروفیسر وکٹر گائو نے بھارتی معطلی کو انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا اور تجویز دی کہ چین کو اس معاہدے کا حصہ بنا کر اسے سہ فریقی فریم ورک دیا جائے۔ انہوں نے بھارت کو یاد دلایا کہ وہ خود چین کے لیے زیریں کنارے کا ملک ہے؛ اگر بھارت نے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے پانی روکا، تو چین بالائی کنارے کا ملک ہونے کے ناطے بھارتی عزائم کا راستہ روک سکتا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن کے لیے پاکستانی وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کا مضبوط امیدوار قرار دیا۔ روسی ماہر ڈاکٹر روکسولانا زیگون نے بالائی علاقوں میں بھارتی ڈیموں کی تعمیر کو خطے کے عدم استحکام کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے، اشتعال انگیز بیانات کے باوجود پاکستانی پالیسی سازوں کے مقتدر اور ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ اور عالمی پالیسی ماہر لاری واٹکنز نے واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان کے خطوط کا جواب نہ دینا اور ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا روکنا بین الاقوامی قانون کے اصولوں اور ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اپنے اختتامی کلمات میں آئی آر ایس کے صدر جوہر سلیم نے واضح کیا کہ پائیدار امن صرف بین الاقوامی قوانین کے احترام اور اداروں کی قدر سے ہی ممکن ہے؛ دیرپا آبی تحفظ کا انحصار شفافیت اور پیش بینی پر ہے، اور آگے بڑھنے کا واحد مقتدر راستہ یہی ہے کہ سندھ طاس معاہدے پر اس کے متن اور روح دونوں کے مطابق مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔