اوگرا نے جون دو ہزار چھبیس کے لیے آر ایل این جی کی نئی قیمتوں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا، قیمتوں میں اضافہ

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی پالیسی گائیڈ لائنز کے مطابق جون دو ہزار چھبیس کے لیے ری گیسیفائیڈ لیکوئڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی نئی قیمتوں کا تعین کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ اطلاق یکم جون دو ہزار چھبیس سے ہوگا۔ جمعہ کے روز اوگرا کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفیکیشن کے مطابق، جون دو ہزار چھبیس سے سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سترہ اعشاریہ نو تین نو چار (17.9394) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ انیس اعشاریہ پانچ دو دو آٹھ (19.5228) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کیے گئے ہیں۔ دوسری طرف، سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے ٹرانسمیشن ریٹ سولہ اعشاریہ تین چھ سات نو (16.3679) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو اور ڈسٹری بیوشن ریٹ اٹھارہ اعشاریہ چھ تین چھ صفر (18.6360) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو طے کیے گئے ہیں۔

نوٹیفیکیشن کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، مئی دو ہزار چھبیس کے مقابلے میں جون کے مہینے کے لیے ایس این جی پی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ تین ایک پانچ سات (2.3157) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.82 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ تین آٹھ ایک (2.5381) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 14.94 فیصد) کا مقتدر اضافہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح، ایس ایس جی سی ایل کے ٹرانسمیشن ریٹ میں دو اعشاریہ دو سات چار آٹھ (2.2748) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.14 فیصد) اور ڈسٹری بیوشن ریٹ میں دو اعشاریہ پانچ نو تین چار (2.5934) امریکی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (یعنی 16.17 فیصد) اضافہ ریکارڈ ہوا ہے۔

ترجمان اوگرا نے اس مقتدر مہم کی تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جون دو ہزار چھبیس کے لیے آر ایل این جی کی ان قیمتوں کا حتمی تعین پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے تین کارگو اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے ایک اسپاٹ کارگو کی قیمتوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اوگرا حکام کے مطابق، آر ایل این جی کی قیمتوں کا یہ تفصیلی نوٹیفیکیشن عوامی معلومات کے لیے اوگرا کی باقاعدہ ویب سائٹ پر بھی آن لائن فراہم کر دیا گیا ہے۔

راولپنڈی انتظامیہ اور پولیس میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ، کمشنر، ڈی سی اور سی پی او سمیت پانچ اعلیٰ افسران تبدیل

منصور احمد, JULY 03,2026

راولپنڈی/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

حکومتِ پنجاب نے صوبائی انتظامیہ اور امن و امان کے نظام میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کرتے ہوئے راولپنڈی ڈویژن، ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے مجموعی طور پر پانچ اعلیٰ ترین افسران کو فوری طور پر تبدیل کر دیا ہے۔ چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی جانب سے جاری کردہ الگ الگ نوٹیفیکیشنز کے مطابق، ان تبادلوں میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر، سٹی پولیس آفیسر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر شامل ہیں، جنہیں فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے اور نئی تعیناتی کے مقامات پر رپورٹ کرنے کے سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ گورنر پنجاب کی حتمی منظوری سے جاری ہونے والے ان تمام احکامات پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کے مندرجات کے مطابق، کمشنر راولپنڈی ڈویژن محمد عبدالحکیم خٹک کا راولپنڈی سے تبادلہ کر دیا گیا ہے اور انہیں فوری طور پر سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جہاں بعد میں ان کی اگلی پوسٹنگ کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ضلعی انتظامیہ کی سطح پر راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر حسن وقار چیمہ کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا کر سروسز ڈیپارٹمنٹ لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ ان کی جگہ اب فیصل آباد کے ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ریٹائرڈ) ندیم ناصر کو راولپنڈی کا نیا ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا ہے۔

ضلعی بیوروکریسی میں مزید اکھاڑ پچھاڑ کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) راولپنڈی کیپٹن (ریٹائرڈ) شہریار شیرازی کا بھی تبادلہ کر کے انہیں لاہور رپورٹ کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ ان کی خالی ہونے والی نشست پر کیپٹن (ریٹائرڈ) طیب سمیع خان کو راولپنڈی کا نیا ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (ریونیو) مقرر کیا گیا ہے جو اس سے قبل لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) لاہور میں بطور ڈائریکٹر جنرل خدمات انجام دے رہے تھے۔ پولیس انتظامیہ اور تحصیل کی سطح پر بھی بڑی تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں، جہاں امن و امان کی نازک صورتحال کے پیشِ نظر سٹی پولیس آفیسر (سی پی او) راولپنڈی سید خالد محمود ہمدانی کو فوری طور پر تبدیل کر کے سنٹرل پولیس آفس پنجاب، لاہور رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ دوسری طرف، تحصیل کی سطح پر اسسٹنٹ کمشنر راولپنڈی (صدر) حاکم خان کو تبدیل کر کے ایڈمنسٹریشن ونگ سروسز ڈیپارٹمنٹ رپورٹ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں اور ان کی جگہ کوٹ مومن کے اسسٹنٹ کمشنر محمد اختر کو راولپنڈی کا نیا اسسٹنٹ کمشنر صدر تعینات کر دیا گیا ہے۔

سینیٹر فیصل واوڈا کا اسحاق ڈار سے استعفے کا مطالبہ؛ رضا ڈار پر سنگین الزامات کے بعد تندوتیز تنقید، پاکستان کو فیملی کارپوریشن کی طرح چلانے کا الزام

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ممتاز سیاستدان اور سینیٹر فیصل واوڈا نے رضا ڈار پر لگنے والے شرمناک الزامات کے بعد مقتدر نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے فوری طور پر عہدے سے استعفیٰ دینے کا مقتدر مطالبہ کر دیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک تندوتیز اور مقتدر بیان میں سینیٹر فیصل واوڈا نے سخت سوال اٹھایا کہ ان انتہائی سنگین الزامات کے سامنے آنے کے بعد اب کون اسحاق ڈار کے ساتھ پاکستان کے مقتدر پرچم تلے کھڑا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسحاق ڈار اس وقت ملک کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ بھی ہیں، اور اس وقت پورے پاکستان کو ایک فیملی کارپوریشن کی طرح چلایا جا رہا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق سینیٹر فیصل واوڈا نے انکشاف کیا کہ اسحاق ڈار کے مبینہ قریبی رشتے دار پر غیر ملکی خواتین کے ساتھ زیادتی، ہولناک تشدد اور بھتہ خوری جیسے مقتدر الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملزم مبینہ طور پر غیر ملکی خواتین کو بلا کر ان کے ساتھ درندگی کا مظاہرہ کرتا تھا، اور ایک غیر ملکی سفارت خانے کی براہِ راست اور تزویراتی مداخلت کے بعد ہی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔ فیصل واوڈا نے سنگین خدشہ ظاہر کیا کہ اب اس ہائی پروفائل کیس کو مبینہ زیادتی کے بجائے محض بھتہ خوری کے معمولی کیس تک محدود کرنے کی مقتدر کوششیں تیزی سے جاری ہیں، جبکہ مظلوم غیر ملکی خواتین کو جلد از جلد ملک سے واپس بھیجنے کی تزویراتی تیاریاں کی جا رہی ہیں تاکہ اس مقتدر اسکینڈل کو دبایا جا سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس حساس کیس میں دفعہ ایک سو چونسٹھ کا اہم قانونی بیان اب تک دانستہ طور پر سامنے نہیں لایا گیا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا کہ ماضی کے مقتدر ریکارڈ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کیس میں بھی من پسند میڈیکل رپورٹس حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے جمہوریت پر وار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے نام پر پانچ سو افراد کی ایک مخصوص ایلیٹ کلاس نے پورے ملک پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہ طویل عرصے سے ان جمہوری جماعتوں اور جمہوری جنازوں کو بے نقاب کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ عوام خود دیکھ لے کہ اس مقتدر واقعے پر حکومت ہو یا اپوزیشن، کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کا کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کچھ مقتدر پاکستانیوں کے انٹرنیشنل اسکینڈلز اور مخصوص ویڈیوز جلد منظرِ عام پر آئیں گی۔

تہران: چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی رسومات میں شرکت کے لیے تہران پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 03,2026

تہران/راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران پہنچ گئے ہیں۔ تہران کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر آمد کے موقع پر ایران کے وزیرِ دفاع، وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب سمیت اعلیٰ سول و ملٹری حکام نے پاکستانی وفد کا پرتپاک اور مقتدر استقبال کیا۔

اس مقتدر دورے کے دوران آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر ایرانی قیادت، مقتدرہ کے ارکان اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ حکومتِ پاکستان، افواجِ پاکستان اور ملک کے غیور عوام کی جانب سے برادر ملک ایران کو اس گہرے صدمے پر تعزیت کا مقتدر پیغام پہنچائیں گے اور اس مشکل گھڑی میں پاکستان کی جانب سے مکمل تزویراتی یکجہتی اور مقتدر حمایت کا اعادہ کریں گے۔ یہ دورہ پاک ایران تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

جامعہ اشرفیہ لاہور میں تمام مذاہب اور مکاتبِ فکر کے مشترکہ وفد کا تاریخی دورہ؛ بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال

کاشف عباسی , JULY 03,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

قومی یکجہتی، مذہبی رواداری اور بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک تاریخی پیش رفت کے طور پر قومی پیغامِ امن کمیٹی کے مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر پر مشتمل مشترکہ وفد نے پاکستان کے ممتاز ترین دینی ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور کا دورہ کیا ہے جہاں انتظامیہ، اساتذہ اور طلبہ کی جانب سے وفد کا والہانہ اور پرتپاک استقبال کیا گیا۔ جامعہ اشرفیہ کی قیادت نے اس دورے کو قومی اتحاد اور مقتدر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کی جانب ایک انتہائی مثبت اور تاریخی تزویراتی اقدام قرار دیا ہے۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر اور چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی قیادت میں آنے والے اس اعلیٰ سطحی وفد میں مسیحی، ہندو، شیعہ اور سنی مکاتبِ فکر کے ممتاز ترین نمائندے شامل تھے۔ وفد میں بشپ کامران، رمیش کمار، بھگت لال کھوکھر، علامہ محمد حسین اکبر، علامہ عارف واحدی، مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری، مولانا انوارالحق، مولانا یوسف کشمیری، انجینئر عثمان، مولانا زاہد محمود، حافظ مقبول احمد، علامہ توقیر عباس، علامہ سلمان نقوی، اور مولانا اکبر آصف میر سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے ممتاز علماء، مذہبی رہنما اور مقتدر دانشور بڑی تعداد میں شریک تھے۔ دورے کے دوران وفد اور جامعہ اشرفیہ کی مقتدر قیادت کے درمیان بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی، مذہبی رواداری، باہمی احترام، قومی اتحاد اور معاشرتی استحکام کے فروغ سے متعلق تفصیلی اور تعمیری تبادلۂ خیال کیا گیا، اور شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان میں امن، بھائی چارے، برداشت اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے تمام مذہبی و سماجی طبقات باہمی تعاون کے ساتھ اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں جاری رکھیں گے۔

شرکاء نے اس مشترکہ دورے کو قومی ہم آہنگی کی تاریخ کا ایک اہم ترین سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے نمائندوں کا ایک ہی مقتدر پلیٹ فارم پر متحد ہو کر ملک کے اتنے بڑے دینی ادارے کا دورہ کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان کے تمام مذہبی طبقات امن، رواداری اور ملکی اتحاد کے مشترکہ تزویراتی ایجنڈے پر مکمل متفق ہیں۔ انہوں نے پُرعزم امید کا اظہار کیا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے تحت اس نوعیت کے مقتدر مشترکہ اقدامات نہ صرف بین المذاہب اور بین المسالک روابط کو مزید مضبوط بنائیں گے بلکہ ملک بھر میں مستقل امن، قومی یکجہتی اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کی مقتدر تاریخ میں یہ پہلا منفرد موقع ہے کہ جب تمام مسالک و مذاہب کی اعلیٰ قیادت ایک دینی ادارے میں مشترکہ وفد کی صورت میں پہنچی اور ان کا بھرپور استقبال کیا گیا، جس پر قومی پیغامِ امن کمیٹی بلاشبہ مبارکباد کی مستحق ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پاکستانی فیکلٹی کے لیے جنوبی کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ 2027 کے لیے درخواستیں طلب کر لیں

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے پاکستانی جامعات کے تدریسی و فیکلٹی اراکین کے لیے جنوبی کوریا کی ممتاز سیول نیشنل یونیورسٹی کے مقتدر “پریذیڈنٹ فیلوشپ اسکالرشپ پروگرام” برائے اسپرنگ دو ہزار ستائیس کے تحت باقاعدہ درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ ایچ ای سی کے مطابق، یہ تزویراتی اسکالرشپ جمہوریہ کوریا کی سیول نیشنل یونیورسٹی کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے، جس کے لیے صرف پاکستانی جامعات کے فیکلٹی ممبران ہی درخواست دینے کے مقتدر اہل ہوں گے۔ خواہشمند اور اہل فیکلٹی اراکین کے لیے درخواستیں جمع کرانے کی مدت چھ جولائی سے نو جولائی دو ہزار چھبیس تک مقرر کی گئی ہے، جس کے بعد پورٹل بند کر دیا جائے گا۔

ایچ ای سی نے اپنے مقتدر اعلامیے میں واضح کیا ہے کہ وہ اس اسکالرشپ کی معلومات صرف سرکاری سفارتی ذرائع سے موصول ہونے کے بعد عام کر رہا ہے، جبکہ امیدواروں کے حتمی انتخاب، داخلے اور اسکالرشپ کی منظوری کا مکمل تزویراتی اختیار صرف سیول نیشنل یونیورسٹی کے پاس محفوظ ہوگا۔ اعلان کے مطابق، اس اسکالرشپ کے تحت ترقی پذیر ممالک کی جامعات میں خدمات انجام دینے والے ایسے تدریسی و تحقیقی فیکلٹی اراکین درخواست دے سکتے ہیں جو ابھی پی ایچ ڈی کی ڈگری نہیں رکھتے اور سیول نیشنل یونیورسٹی میں اسپرنگ دو ہزار ستائیس سیشن کے لیے پی ایچ ڈی پروگرام میں داخلہ حاصل کرنے کی تمام مطلوبہ مقتدر شرائط پوری کرتے ہوں۔

اس مقتدر فیلوشپ کے تحت منتخب ہونے والے خوش نصیب امیدواروں کو یونیورسٹی کی جانب سے مکمل ٹیوشن فیس، معقول ماہانہ وظیفہ، بین الاقوامی فضائی سفر کا ٹکٹ اور دیگر تمام مقتدر سفری و تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے دلچسپی رکھنے والے تمام ملکی امیدواروں کو سخت ہدایت کی ہے کہ وہ آن لائن درخواست دینے سے قبل اسکالرشپ کی اہلیت، شرائط اور درخواست کے پیچیدہ طریقہ کار کا بغور مطالعہ کر لیں اور کسی بھی تزویراتی غلطی سے بچنے کے لیے مقررہ مدت کے اندر اندر اپنی درخواستیں کامیابی سے جمع کرائیں۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت کی ملاقات، صحت کے شعبے میں تعاون اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر تبادلہ خیال

روزینہ اسماعیل, JULY 03,2026

جنیوا/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال سے جنیوا میں انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے ایک اہم تزویراتی ملاقات کی ہے، جس میں دونوں برادر ممالک کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون اور باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزارتِ صحت کی طرف سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کے نظام کو مزید مضبوط بنانے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات موجود ہیں، جنہیں اب صحت کے شعبے میں مقتدر تعاون کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔

وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے ملاقات کے دوران پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کو ملکی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ویکسین سازی کی قومی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے عملی اور تزویراتی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اہم ترین مقصد کے حصول کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک کلیدی اور قابلِ اعتماد ترقیاتی شراکت دار ہے، اور پاکستان انڈونیشیا کی جدید طبی ٹیکنالوجی اور وسیع تجربات سے بھرپور استفادہ کرنے کا خواہاں ہے۔ ملاقات میں پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی کی اب تک کی پیش رفت اور اس ضمن میں جاری حکومتی اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

انڈونیشیا کے وزیرِ صحت نے وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال کے مقتدر عزم کو سراہتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ ان کا ملک پاکستان میں مقامی سطح پر ویکسین سازی، جدید طبی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور افرادی قوت کی استعدادِ کار میں اضافے کے حوالے سے ہر ممکن تزویراتی تعاون فراہم کرے گا۔ دونوں وزرائے صحت نے اس پُرعزم عزم کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کو جدید، معیاری اور مؤثر طبی سہولیات کی بلاتعطل فراہمی کے لیے یہ مشترکہ مہم اور تزویراتی شراکت داری مستقل بنیادوں پر جاری رکھی جائے گی۔

وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر کے وفد کی ملاقات، کارگو سروسز کو مؤثر بنانے اور صنعتکاروں کو بہترین لاجسٹکس سہولیات کی فراہمی پر تبادلہ خیال

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی سے گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر احمد حسن مٹو کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطح کے مقتدر وفد نے وزارتِ ریلوے میں اہم تزویراتی ملاقات کی ہے۔ ریلوے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، وفد میں سابق ایم پی اے و سابق میئر گجرات حاجی ناصر محمود، سابق صدر گجرات چیمبر باؤ منیر احمد، ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین چوہدری عمران وڑائچ، عادل اشرف بھٹہ، عمران عباس، معصوم قمر، عبدالرحمن، عاقف سعید، عباس بٹ، قیصر لطیف، راجہ آصف، چیئرمین کمیٹی سرفراز نذر، سابق چیئرمین پولٹری ایسوسی ایشن حاجی زاہد محمود، حاجی جاوید اقبال اور چوہدری عدیل شامل تھے۔ ملاقات کے دوران ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت کے فروغ، کارگو سروسز کو جدید بنیادوں پر مزید مؤثر بنانے، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کو بہتر سہولیات کی فراہمی، لاجسٹکس کے نظام میں انقلابی بہتری اور گجرات سمیت مختلف صنعتی علاقوں کو ریلوے نیٹ ورک سے زیادہ فعال انداز میں منسلک کرنے سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران چیمبر کے وفد نے وفاقی وزیر کو کاروباری برادری کو درپیش مختلف مسائل اور اہم تجاویز سے آگاہ کیا اور ریلوے کارگو سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سامان کی بروقت ترسیل اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو قومی معیشت کا مؤثر اور تزویراتی ستون بنانے اور ریلوے کے ذریعے ملکی تجارت و صنعت کے فروغ کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کارگو آپریشنز کی استعداد بڑھانے، جدید سہولیات کی فراہمی اور کاروباری برادری کے ساتھ مسلسل مشاورت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے تاکہ ریلوے کو ملکی تجارت کے لیے ایک قابلِ اعتماد، تیز رفتار اور کم لاگت ذریعہ بنایا جا سکے۔ وفاقی وزیر نے وفد کو یقین دلایا کہ گجرات کی صنعتی برادری کی تمام قابلِ عمل تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا اور پاکستان ریلوے کی کارکردگی، کارگو سہولیات اور تجارتی خدمات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تمام مقتدر اقدامات اٹھائے جائیں گے، جس پر وفد نے وزیر ریلوے کی جانب سے مسائل کے حل کی یقین دہانی کو سراہا۔

زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں گزشتہ مالی سال کے دوران مجموعی طور پر تقریباً چار ارب ڈالر کا نمایاں اضافہ، حجم بائیس ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین مقتدر اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ملکی ذخائر میں مجموعی طور پر 3.954 ارب ڈالر کا نمایاں اور تزویراتی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون دو ہزار پچیس کے اختتام پر زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کا کل حجم 18.091 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں سے مرکزی بینک کے پاس 12.728 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.363 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے جو اس وقت ڈھائی ماہ کی ملکی درآمدات کے لیے کافی تھے۔ چوبیس جون دو ہزار چھبیس کو اختتام پذیر ہونے والے مالیاتی ہفتے تک زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کی مجموعی مالیت بڑھ کر 22.045 ارب ڈالر کی مقتدر سطح تک پہنچ چکی ہے، جس میں اسٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا حجم 16.527 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.517 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس مالیاتی سفر کے دوران اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں مجموعی طور پر 3.799 ارب ڈالر کا بھاری اضافہ ہوا جبکہ کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی 154 ملین ڈالر تک بہتر ہوئے۔ مالیاتی ماہرین اور مرکزی بینک کے حکام کے مطابق زرمبادلہ کے موجودہ ذخائر ملکی معاشی استحکام کے لیے انتہائی خوش آئند ہیں جو اب 2.91 ماہ کی ملکی درآمدات کی ضروریات کو باآسانی پورا کرنے کے لیے مؤثر اور کافی ہیں۔ اس مثبت تزویراتی ترقی سے ملکی کرنسی پر دباؤ میں کمی اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

آن لائن حج رجسٹریشن نظام کی ریکارڈ پذیرائی، پہلے گیارہ دنوں میں دو لاکھ سے زائد عازمین نے گھر بیٹھے رجسٹریشن مکمل کر لی

محمود احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کے نئے متعارف کردہ آن لائن حج رجسٹریشن نظام کو ملک بھر میں ریکارڈ پذیرائی حاصل ہوئی ہے، جس کے تحت پہلے گیارہ دنوں کے مختصر ترین عرصے میں دو لاکھ تین ہزار سات سو بائیس (2,03,722) عازمینِ حج نے گھر بیٹھے کامیابی سے اپنی ڈیجیٹل رجسٹریشن مکمل کر لی ہے۔ وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان عمر بٹ نے جمعہ کے روز اپنے ایک مقتدر بیان میں اس ڈیجیٹل کامیابی کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس جدید نظام کے ذریعے اب تک ایک لاکھ اسی ہزار عازمین نے باقاعدہ ویب پورٹل کا استعمال کیا، جبکہ چوبیس ہزار سے زائد عازمین نے مخصوص موبائل ایپلی کیشن کے ذریعے اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔

ترجمان کے مطابق، اس سال عازمین کی بڑی تعداد نے سرکاری اسکیم پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے، جس کے تحت ایک لاکھ چوون ہزار سے زائد عازمین نے سرکاری جبکہ انچاس ہزار عازمین نے پرائیویٹ حج اسکیم کا انتخاب کیا ہے۔ صوبائی بریک ڈاؤن کے تزویراتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پنجاب پچانوے ہزار عازمین کے ساتھ رجسٹریشن میں سب سے آگے ہے، جبکہ سندھ سے تریسٹھ ہزار، خیبرپختونخوا سے اٹھائیس ہزار، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے نو ہزار، بلوچستان سے پچپن سو، آزاد جموں و کشمیر سے بارہ سو اور گلگت بلتستان سے چھ سو عازمین نے اس جدید ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے اپنے پُرعزم سفری ارادے کو پایا۔

وزارتِ مذہبی امور نے اس نئے نظام میں مستقبل کی منصوبہ بندی کی سہولت بھی متعارف کرائی ہے، جس کے تحت سال دو ہزار اٹھائیس کے حج کے لیے چودہ سو، سال دو ہزار انتیس کے لیے ڈھائی سو، اور سال دو ہزار تیس کے طویل مدتی ارادے کے لیے ساڑھے تین سو عازمین نے ابھی سے اپنی دلچسپی کا مقتدر اظہار کر دیا ہے۔ ترجمان عمر بٹ نے مزید بتایا کہ اب تک رجسٹرڈ ہونے والے کل عازمینِ حج میں مردوں کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار جبکہ خواتین کی تعداد چوراسی ہزار پانچ سو ہے، اور یہ ڈیجیٹل عمل بغیر کسی تعطل کے انتہائی شفاف انداز میں جاری ہے۔

مالی وفاقیت کی مضبوطی سے پاکستان کا معاشی استحکام اور عوامی خدمات میں بہتری ممکن ہے، عالمی بینک کی نئی رپورٹ جاری

کاشف عباسی , JULY 03,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

عالمی بینک نے پاکستان میں معاشی استحکام برقرار رکھنے، عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مالی وفاقیت کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں حکومت کی تینوں سطحوں یعنی وفاق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ اور مؤثر تقسیم کو مضبوط بنانا معاشی بقا کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سن دو ہزار دس کی تاریخی اصلاحات، یعنی آئین کی اٹھارہویں ترمیم اور ساتواں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ مالی وفاقیت کے فروغ کی جانب ایک اہم تزویراتی پیش رفت تھیں، جن کے تحت عوامی خدمات کی فراہمی سے متعلق متعدد اہم ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کی گئیں اور ان کے مالی وسائل میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم مالیاتی نظام کی بعض ساختی کمزوریاں اب بھی مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے اور عوام تک معیاری خدمات کی مؤثر فراہمی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے تزویراتی اعداد و شمار کے مطابق، سن دو ہزار دس سے دو ہزار چوبیس کے دوران صوبائی آمدنی مجموعی قومی پیداوار کے چار فیصد سے بڑھ کر اوسطاً ساڑھے چھ فیصد تک پہنچ گئی، تاہم پانچ مختلف دائرہ اختیار میں ٹیکس نظام کی تقسیم سے ٹیکس دہندگان پر عمل درآمد کی لاگت بڑھی اور محصولات میں اضافے کی گنجائش محدود ہوئی۔ دوسری جانب، زرعی شعبہ جو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کا بیس فیصد سے زیادہ حصہ رکھتا ہے، اب بھی بڑی حد تک ٹیکس کے دائرے سے باہر ہے۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے بتایا کہ پاکستان نے اختیارات کو عوام کے قریب منتقل کر کے تاریخی قدم اٹھایا، مگر اس کے مکمل فوائد ابھی حاصل ہونا باقی ہیں۔ مالی وسائل کو ذمہ داریوں کے مطابق ہم آہنگ کرنا، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، اور اس بات کو یقینی بنانا کہ وسائل اسکولوں، صحت کے مراکز اور مقامی برادریوں تک موثر انداز میں پہنچیں، انتہائی ضروری ہے۔

رپورٹ میں اس تشویشناک امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ اختیارات کی منتقلی کے باوجود اب تک سرکاری اخراجات کو حقیقی ضروریات سے موثر طور پر ہم آہنگ نہیں کیا جا سکا۔ صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کا موجودہ فارمولا نہ تو مالی ضروریات کی مکمل عکاسی کرتا ہے اور نہ ہی صوبوں کو اپنی آمدنی بڑھانے کے لیے موثر ترغیبات فراہم کرتا ہے۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے بعد صوبائی اخراجات میں ہونے والے اضافے کا بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے بجائے انتظامی اخراجات پر صرف ہوا، اور مالی سال دو ہزار تئیس میں مجموعی صوبائی اخراجات کا اسی فیصد سے زائد حصہ جاری اخراجات کی مد میں استعمال ہوا۔ اسی طرح اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم غربت کی سطح یا عوامی خدمات کی حقیقی ضروریات کو مدنظر رکھنے کی بجائے اب بھی تاریخی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔

عالمی بینک کے لیڈ کنٹری اکانومسٹ اور رپورٹ کے مرکزی مصنف ٹوبیاس حق نے بتایا کہ مالی وفاقیت کا موجودہ ڈھانچہ اس بات پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے کہ آیا بچے فعال اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور آیا صحت کے مراکز میں ضروری ادویات دستیاب ہیں یا نہیں۔ آئندہ متوقع این ایف سی ایوارڈ اس نظام میں بہتری کا ایک اہم مقتدر موقع فراہم کرتا ہے، جس کے ذریعے ایسے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے جو اپنی آمدنی بڑھانے اور عوامی خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں مؤثر کردار ادا کریں، جبکہ زیادہ وسائل ان علاقوں کو دیے جائیں جہاں ضرورت سب سے زیادہ ہے۔ رپورٹ میں مخصوص اصلاحاتی پروگرام کی سفارش کرنے کے بجائے مختلف قابلِ عمل تزویراتی تجاویز پیش کی گئی ہیں جنہیں نئے این ایف سی ایوارڈ اور موجودہ آئینی فریم ورک کے اندر نافذ کیا جا سکتا ہے۔ ان تجاویز میں وفاقی مالی وسائل کو ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنا، ملکی محصولات میں اضافہ، مقامی حکومتوں کو زیادہ مستحکم مالی وسائل کی فراہمی، اور حکومت کی مختلف سطحوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو فروغ دینا شامل ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ

منصور احمد, JULY 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، اس اعلیٰ سطحی تزویراتی دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم ایران پہنچیں گے جہاں وہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کریں گے۔ اس اہم ترین دورے میں وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور کابینہ کے دیگر مقتدر ارکان پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی موجود ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ تہران میں قیام کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے اور پاکستانی عوام و حکومت کی جانب سے گہری تعزیت کا اظہار کریں گے۔ وہ اس مشکل اور گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم اور مقتدرہ کے ساتھ پاکستان کی مکمل تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔ دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ ایران کا یہ مقتدر دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے فروغ، باہمی تجارت کے حجم میں اضافے، سرمایہ کاری، اقتصادی تعاون اور علاقائی امن و سلامتی سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اہم شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

استنبول میں اپنے قیام کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی ایک اہم اور تزویراتی بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے۔ اس کانفرنس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، توانائی، آئی ٹی، تجارت اور نجکاری سمیت مختلف کلیدی شعبوں میں پاکستان کی سرمایہ کاری اور کاروباری صلاحیتوں کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کرنا ہے۔ اس مقتدر تقریب میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، بڑے سرمایہ کار، اعلیٰ سرکاری حکام اور کاروباری برادری کے نمائندے بھرپور شرکت کریں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا کہ وزیراعظم کا ایران اور ترکیہ کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا عالمی ترقیاتی اقدام کے تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب؛ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تجربات کی پیشکش

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے عالمی ترقیاتی اقدام کی بھرپور تزویراتی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے مضبوط بین الاقوامی شراکت داری، مالی وسائل میں خاطر خواہ اضافے اور عملی اقدامات پر زور دیا ہے تاکہ دو ہزار تیس کے ترقیاتی ایجنڈے کے آخری پانچ برسوں میں اہداف کے حصول کی رفتار کو تیز کیا جا سکے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے گروپ آف فرینڈز آف دی جی ڈی آئی اور اقوامِ متحدہ کی ٹاسک فورس برائے دو ہزار تیس ایجنڈا کے نفاذ کے لیے شراکت داری کے فروغ کے موضوع پر منعقدہ تیسرے پالیسی ڈائیلاگ سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے بین الاقوامی تعاون اور عملی ترقیاتی شراکت داری کے ذریعے مکالمے سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے چائنا انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ کوآپریشن ایجنسی کی اجلاس میں شرکت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کا ایک قابلِ اعتماد اور تزویراتی ترقیاتی شراکت دار قرار دیا۔ انہوں نے یکجہتی، جنوب۔جنوب تعاون اور ترقی پذیر ممالک کے لیے عملی نتائج کے حصول کے پلیٹ فارم کے طور پر عالمی ترقیاتی اقدام سے پاکستان کے غیرمتزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ مستقل مندوب نے پاکستان کی مقتدر ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے چین۔پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے ذریعے صنعتی تعاون کے فروغ، آفات سے بحالی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے شہری لچک کو مضبوط بنانے، نیز غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے اس ضمن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں میں پاکستان کے تجربات سے دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کی تزویراتی پیشکش بھی کی۔

اپنے مقتدر خطاب کے دوران سفیر عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ غربت کے خاتمے اور غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان گروپ آف فرینڈز کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے لیے تیار ہے، جن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام جیسے قومی سماجی تحفظ کے اقدامات شامل ہیں اور ہم دلچسپی رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ اس بات پر بھی کام کرنے کے خواہاں ہیں کہ ایسے ماڈلز کو کس طرح مزید وسعت دی جا سکتی ہے یا مختلف ممالک کے حالات کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ترجیحی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی کے طریقۂ کار کو مزید واضح بنانے پر بھی زور دیا اور تجویز پیش کی کہ ٹاسک فورس کے تحت ایسا مؤثر فالو اپ نظام قائم کیا جائے جو رکن ممالک کی ترجیحات کو عملی منصوبوں اور ترقیاتی شراکت داری سے جوڑ سکے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چین، گروپ آف فرینڈز اور اقوامِ متحدہ کے ساتھ مل کر یہ اقدام ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹھوس فوائد فراہم کرتا رہے گا، پاکستان اس مقتدر سفر میں ایک ثابت قدم شراکت دار ہے۔

خلیج میں کشیدگی کا حل صرف سفارت کاری میں ہے؛ ایران اور امریکہ کے درمیان ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ مقتدر سفارت کاری کی بڑی کامیابی، پاکستان کا اہم ترین بیان

محمود احمد, JULY 03,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

پاکستان نے خلیجی خطے کی موجودہ مخدوش صورتحال کا جامع اور حتمی حل صرف سفارت کاری، تعمیری مکالمے اور پرامن مذاکرات کے ذریعے نکالنے پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے درمیان طے پانے والی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پاکستان کی مضبوط اور پُرعزم سفارت کاری کی ایک مقتدر کامیابی کی عکاسی کرتی ہے۔ اجلاس میں بحرین کے معزز وزیرِ خارجہ، اور ایران و کویت کے مقتدر نمائندوں کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی حدود سے باہر کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے ایران کے خلاف بلاجواز حملوں اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کو نشانہ بنانے والے اقدامات کی واضح طور پر مذمت کرتے ہوئے بحرین اور کویت میں اپنے برادر ممالک کے ساتھ مکمل تزویراتی یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اپنے مقتدر مینوفیسٹو کے مطابق، پاکستان نے خطے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ اور قیمتی انسانی جانوں اور روزگار کے تحفظ کے ایک گہرے احساسِ ذمہ داری کے تحت اس ثالثی کا آغاز کیا۔ پاکستان کو یہ پختہ یقین ہے کہ کسی بھی مزید کشیدگی اور لڑائی کے تسلسل سے انسانی مصائب میں ہولناک اضافہ ہوگا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین نتائج پیدا ہوں گے۔ پاکستانی قیادت نے واضح کیا کہ ہماری یہ تزویراتی کوششیں جانیں بچانے، صورتحال میں کشیدگی کم کرنے اور منظم مکالمے کے لیے سازگار جگہ پیدا کرنے کے لیے ہیں، تاکہ فریقین دیرپا باہمی تفہیم اور حتمی معاہدے تک پہنچ سکیں۔ پاکستان نے اس نازک مرحلے پر اپنے کلیدی شراکت داروں خصوصاً قطر، سعودی عرب، ترکیہ، مصر اور چین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر بھرپور اعتماد اور تزویراتی حمایت کا اظہار کیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے خطے اور بین الاقوامی اہم فریقین کے ساتھ اپنی سفارتی مصروفیات کو غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے تاکہ ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مؤثر فالو اپ اور اس پر عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جا سکے، جیسا کہ اکیس جون دو ہزار چھبیس کو جاری ہونے والے پاکستان–قطر مشترکہ اعلامیے میں بھی باقاعدہ طے کیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور قطر نے دوحہ میں امریکی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ مقتدر ملاقاتیں کیں، جن میں اسلام آباد مفاہمتی یادداشت سے متعلق اہم امور پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے، جو لیک لوسرن سمٹ کے نتائج کی مضبوط بنیاد پر قائم ہے۔ فریقین نے آئندہ عرصے میں بات چیت کا یہ تزویراتی تسلسل جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے اور اگلا اجلاس جلد از جلد منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پاکستان کی قیادت اس وقت تمام فریقین، اپنے تزویراتی شراکت داروں اور علاقائی ممالک کے ساتھ مسلسل اور براہِ راست رابطے میں ہے۔ پاکستان مکالمے کو آگے بڑھانے اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے میں اپنا تعمیری کردار ادا کر رہا ہے تاکہ خلیج میں کسی بھی ممکنہ کشیدگی کو بروقت روکا جا سکے اور سفارتی عمل کو پٹری سے اترنے سے بچایا جائے۔ پاکستان کے نقطۂ نظر سے یہ امر انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ تمام تر چیلنجز کے باوجود بات چیت جاری ہے اور فریقین مذاکراتی میز پر موجود ہیں۔ رابطے کے تمام سفارتی ذرائع کھلے رکھے گئے ہیں اور پاکستان اپنی مقتدر کوششیں اس عظیم مقصد کے لیے جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے کہ خطے میں ایسا پائیدار امن، سلامتی اور استحکام قائم ہو جو تمام ممالک کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر، ریپبلک ٹی وی کی لائیو نشریات میں بھی بڑی سائبر دراندازی

منصور احمد, JULY 03,2026

نئی دہلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جولائی 2026ء

بھارتی نیوز چینلز مسلسل نامعلوم ہیکرز کے نشانے پر ہیں اور اب پاکستان مخالفت میں ہر صحافتی حد پار کر جانے والے معروف اینکر ارنب گوسوامی کے چینل “ریپبلک ٹی وی” کی لائیو نشریات میں بھی ایک بڑی اور حیران کن سائبر دراندازی سامنے آئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، دو جولائی کو لائیو اسٹریم کے دوران نامعلوم ہیکرز نے ارنب گوسوامی کے لائیو پروگرام کی اسکرین پر اپنے بینرز اور ویڈیوز چلا دیں۔ سائبر ماہرین کے مطابق، یہ حملہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے کیونکہ سائبر حملہ آور براہِ راست چینل کے براڈکاسٹ مینجمنٹ سسٹم تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، جس کے باعث نشریات پر کنٹرول حاصل کیا گیا۔

مسلسل کامیاب ہونے والے ان سائبر حملوں نے بھارت کی مجموعی ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر دفاع پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس سے قبل بھی بھارت کے متعدد بڑے میڈیا نیٹ ورکس ہیکرز کے حملوں کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سن ٹی وی نیٹ ورک، ٹی وی نو تیلگو، فریڈم ٹی وی لائیو اور فریڈم ٹی وی کنڑا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اے بی پی لائیو کو بھی حالیہ دنوں میں شدید سائبر سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کروڑوں کی ویورشپ رکھنے والے ان مقتدر بھارتی چینلز کا سائبر حملوں سے محفوظ نہ رہ سکنا انتہائی تشویشناک ہے اور ان پے در پے واقعات نے بھارتی ڈیجیٹل دفاع کے بلند بانگ دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔

انتخابات میں حصہ نہ لینا کوئی عارضی تزویراتی چال نہیں بلکہ عوامی امنگوں اور حقِ خودارادیت سے یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے، مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ دگرگوں صورتحال، راولاکوٹ سمیت مختلف علاقوں میں جاری عوامی دھرنوں اور پرامن مظاہرین پر ریاستی طاقت کے بے جا استعمال کے خلاف سخت مقتدر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے وہاں کے آئندہ انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کا حتمی اعلان کر دیا ہے۔ پارٹی کے مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، تحریکِ انصاف کا یہ فیصلہ کسی عارضی تزویراتی جوڑ توڑ یا سیاسی نفع نقصان کا حساب نہیں، بلکہ یہ کشمیری عوام کے حقوق، ان کے حقِ خودارادیت اور جمہوری جدوجہد کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا کھلا ثبوت ہے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جب کشمیری عوام اپنے جائز مطالبات کے لیے خود سڑکوں پر ہوں، تو پی ٹی آئی اقتدار کی روایتی سیاست کے لیے کسی ایسے انتخابی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جو زمینی حقائق سے عاری ہو۔

اعلامیے میں آزاد کشمیر کی موجودہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید مقتدر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر اہم ترین علاقوں میں ہزاروں شہری اپنے بنیادی معاشی و سیاسی مطالبات کے لیے دھرنا دیے بیٹھے ہیں، مگر مقتدرہ کی طرف سے طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں کئی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ پنجاب سے آزاد کشمیر کو اشیائے خوردونوش کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے، جس نے وہاں ایک بدترین انسانی بحران کو جنم دیا ہے۔ پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ ان مخدوش حالات میں الیکشن کا انعقاد کشمیری عوام کو مزید سیاسی و انتظامی عدم استحکام کی دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے موجودہ مقتدر حلقوں کی کشمیر پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومتی طرزِ عمل سے آزاد جموں و کشمیر کی تاریخی، آئینی اور جمہوری شناخت کو شدید مجروح کیا جا رہا ہے، اور دانستہ طور پر ایسا ماحول تخلیق کیا جا رہا ہے جس سے آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان موجود بنیادی فرق ہی مٹ جائے، جو پاکستان کی روایتی اور مقتدر کشمیر پالیسی کے لیے انتہائی مہلک اور تزویراتی طور پر نقصان دہ ہے۔ قیادت کی بلاجواز گرفتاریوں، میڈیا پر سخت ترین قدغنوں اور سیاسی کارکنوں پر جاری جبر کے سائے میں انتخابی عمل اپنی تمام تر ساکھ کھو چکا ہے۔

اعلامیے کے آخر میں پی ٹی آئی نے اپنی مقتدر شرائط پیش کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک آزاد کشمیر میں کسی بھی انتخابی عمل کا حصہ نہیں بنے گی جب تک حالات مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام جائز مطالبات افہام و تفہیم سے تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔ مزید برآں، موجودہ یکطرفہ انتخابی شیڈول پر نظرثانی کر کے تمام سیاسی قوتوں کو مساوی، آزادانہ اور منصفانہ ماحول فراہم کرنا لازم ہوگا۔ پارٹی نے اپنے تمام امیدواروں کو جاری کردہ یا تجویز کردہ ٹکٹوں کی سفارشات کو فی الفور معطل کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیاں مؤخر کر دی ہیں، اور اب تحریکِ انصاف کی مہم کا بنیادی مرکز و محور الیکشن لڑنا نہیں بلکہ کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگا۔

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر سفیر عاصم افتخار احمد کا مقتدر بیان

محمود احمد, JULY 02,2026

نیویارک/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اہم اجلاس میں عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمتِ عملی کے نویں جائزے پر پاکستان کا مقتدر تزویراتی مؤقف پیش کرتے ہوئے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جدوجہد میں ہمیشہ صفِ اول میں رہا ہے اور اس راہ میں بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ اپنے مقتدر خطاب میں انہوں نے فن لینڈ اور مراکش کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نویں جائزہ عمل کی مشترکہ سہولت کاری کی، جبکہ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کی جانب سے سعودی عرب کے اصولی بیان کی مکمل تائید کرتے ہوئے قرارداد کی منظوری کی توثیق کی۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک رہا ہے اور ہمارے خطے میں موجود بدخواہ مخالف عناصر، تحریکِ طالبان پاکستان ، بلوچ لبریشن آرمی مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ان سے وابستہ دیگر خطرناک پراکسی نیٹ ورکس کی پشت پناہی اور مالی معاونت کرتے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں صرف گزشتہ سال بارہ سو سے زائد معصوم پاکستانیوں کو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ہماری بھرپور کوششوں کے باوجود نویں جائزے کے عمل میں عالمی حکمتِ عملی کی خامیوں کو دور نہیں کیا جا سکا اور او آئی سی کے ان جائز خدشات کو شامل کرنے میں ناکامی ہوئی جن کے ارکان اس ناسور سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردی سے پاک مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کے سامنے ایک جامع اور مقتدر گیارہ (11) نکاتی تزویراتی ایجنڈا پیش کیا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

اول، جسمانی اور ورچوئل دونوں شعبوں میں ابھرنے والے نئے خطرات اور رجحانات کا جامع جائزہ لیا جائے؛ دوم، طویل عرصے سے حل طلب علاقائی تنازعات کے پائیدار اور حقیقت پسندانہ حل کے لیے قابلِ عمل راستے تجویز کیے جائیں؛ سوم، غیر ملکی ناجائز قبضے کے خاتمے اور انسانی حقوق کی بالادستی کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا جائے؛ چہارم، اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق عوام کے حقِ خودارادیت کے جائز حق کی توثیق کی جائے اور آزادی کی جائز جدوجہد کو دہشت گردی سے خلط ملط کرنے کی ہر کوشش کو یکسر مسترد کیا جائے؛ پنجم، ان ظالم ریاستوں کی سخت مذمت کی جائے جو غیر ملکی قبضے کا شکار مظلوم عوام کے خلاف منظم ریاستی دہشت گردی میں ملوث ہیں۔

ششم، زینوفوبیا، نسل پرستی اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے ٹھوس بین الاقوامی اقدامات کیے جائیں؛ ہفتم، پُرتشدد قوم پرست، انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسند، نو فاشسٹ اور مساجد کو نشانہ بنانے والے و قرآنِ مجید کی بے حرمتی کرنے والے بالادست نظریاتی گروہوں کا مؤثر مقابلہ کیا جائے؛ ہشتم، اسلاموفوبک بیانیوں اور متعصبانہ اصطلاحات جیسے کہ “اسلامک ٹیررازم” اور “ریڈیکل اسلام” کے امتیازی استعمال کو فوری ختم کر کے مسلمانوں کی بدنامی کا سدِباب کیا جائے؛ نہم، اقوامِ متحدہ کے انسدادِ دہشت گردی ڈھانچے اور پابندیوں کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں؛ دہم، سوشل میڈیا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو باضابطہ منظم کیا جائے تاکہ آن لائن انتہا پسندی، نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات کا مقابلہ ہو سکے؛ اور گیارہویں، ڈیجیٹل مالیاتی نظام، ورچوئل اثاثوں اور کرپٹو کرنسیوں کے مؤثر تزویراتی ضابطے کو یقینی بنایا جائے۔

اپنے مقتدر خطاب کے آخر میں پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے ایف اے ٹی ایفجیسے بین الحکومتی اداروں کے نظام پر بات کرتے ہوئے زور دیا کہ ان اداروں کو ہر صورت جامع، منصفانہ، شفاف اور مکمل غیر سیاسی ہونا چاہیے اور کسی بھی ملک کو یہ ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے کہ وہ ان تکنیکی فورمز کو اپنے داخلی یا سیاسی مقاصد کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ تین سال گزرنے کے باوجود حکمتِ عملی میں کوئی قابلِ ذکر بہتری نہ ہونا افسوسناک ہے اور اگرچہ اس تعطل کو ناکامی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم یہ عالمی برادری کے لیے ایک بیدار کرنے والا پیغام بھی ہے، پاکستان تمام رکن ممالک کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنا مقتدر کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کل سے ایران اور ترکیہ کا مقتدر سرکاری دورہ، مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت کریں گے

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کل تین سے پانچ جولائی تک ایران اور ترکیہ کے مقتدر سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے۔ ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے جمعرات کے روز یہاں پریس بریفنگ کے دوران اس تزویراتی دورے کی باقاعدہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اس دورے میں نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، دیگر وفاقی وزراء اور مقتدر سرکاری حکام پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہوگا۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی مقتدر رسومات میں شرکت کے لیے تہران جائیں گے، جہاں وہ پاکستانی عوام اور حکومت کی جانب سے ایرانی قیادت اور سوگوار خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کریں گے اور اس گہرے غم کی گھڑی میں برادر ایرانی قوم کے ساتھ پاکستان کی تزویراتی یکجہتی کا اعادہ کریں گے۔

ترجمان کے مطابق، ایران کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کی خصوصی دعوت پر استنبول روانہ ہوں گے، جہاں دونوں رہنماؤں کے مابین برادر ممالک کے دوطرفہ تعلقات کے تمام تزویراتی پہلوؤں پر تفصیلی بات چیت ہوگی جس میں باہمی تجارت کے حجم کو بڑھانے اور سرمایہ کاری کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ دونوں رہنما خطے کے امن و سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔ استنبول میں قیام کے دوران وزیراعظم پاکستان کی میزبانی میں منعقد ہونے والی اہم بزنس کانفرنس سے خصوصی خطاب بھی کریں گے، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے خصوصی اقتصادی زونز، متبادل توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجکاری سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں ترک سرمایہ کاروں کے لیے موجود شاندار مواقع کو اجاگر کرنا ہے، جبکہ اس کانفرنس میں ترکیہ کی ممتاز کاروباری شخصیات، مقتدر سرمایہ کار اور اعلیٰ سرکاری حکام شرکت کریں گے۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور ترکیہ کے یہ دورے دونوں برادر ممالک کے ساتھ پاکستان کے گہرے تاریخی، تزویراتی، ثقافتی اور دیرینہ برادرانہ تعلقات کے عکاس ہیں۔

محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کی مختلف اضلاع میں کامیاب کارروائیاں، اکتیس کلو گرام سے زائد منشیات برآمد، متعدد اسمگلر گرفتار

کاشف عباسی , JULY 02,026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

محکمہ ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول خیبرپختونخوا کے عملے نے صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی اور وزیر ایکسائز سید فخر جہان کی خصوصی ہدایات کے تحت پشاور، نوشہرہ، خیبر، ایبٹ آباد اور کوہاٹ میں منشیات کے خلاف مقتدر تزویراتی کارروائیاں کرتے ہوئے مجموعی طور پر 31.493 کلو گرام منشیات برآمد کر کے متعدد ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا کے ترجمان کے مطابق، گرفتار اسمگلروں کے خلاف متعلقہ ایکسائز تھانوں میں مقدمات درج کر کے مقتدر سطح پر مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، تھانہ ایکسائز نوشہرہ نے جی ٹی روڈ عجب باغ ایکسائز چیک پوسٹ پر ناکہ بندی کے دوران موٹر سائیکل کے ذریعے بھاری مقدار میں منشیات اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 18,000 گرام چرس برآمد کی، جبکہ پشاور میں ایکسائز بیورو آف انٹیلیجنس اینڈ انویسٹی گیشن اسکواڈ نے سروس روڈ کے قریب ایک موٹر سائیکل سوار سے 6,000 گرام چرس برآمد کر کے ملزم کو دھر لیا۔ اسی طرح تھانہ ایکسائز خیبر نے جمرود بائی پاس کے قریب انٹیلیجنس رپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے لیڈی کانسٹیبل کی مدد سے ایک خاتون اسمگلر کے قبضے سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے حراست میں لے لیا، جبکہ حال ہی میں قائم ہونے والے مقتدر تھانہ ایکسائز ضلع کوہاٹ نے ایک کامیاب کارروائی میں اسمگلر شاکر اللہ سے 3,600 گرام چرس برآمد کر کے اسے گرفتار کیا۔ مزید برآں، ہزارہ اسکواڈ B-7 نے حویلیاں انٹرچینج کے قریب کارروائی کرتے ہوئے ملزم نوید کے قبضے سے 293 گرام فائن کوالٹی ہیروئن برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ محکمہ ایکسائز کے مقتدر حکام نے واضح کیا ہے کہ صوبے بھر میں منشیات فروشوں اور بین الاضلاعی اسمگلروں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن جاری رہے گا اور نوجوان نسل کو اس ناسور سے محفوظ بنانے کے لیے کسی بھی غفلت یا رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔

شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی شروع، قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی تصدیق

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے شالیمار اور تیزگام ایکسپریس حادثات کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ انکوائری کے بعد سخت تادیبی کارروائی شروع کرنے کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے، جبکہ کراچی اور حیدرآباد سمیت ملک بھر میں ریلوے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ یہ اہم تزویراتی فیصلے جمعرات کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں قائمہ کمیٹی کے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت چیئرمین کی عدم موجودگی کے باعث رکن قومی اسمبلی رمیش لال نے اسمبلی کے مقتدر قواعد و ضوابط کے تحت کی۔ اجلاس میں ریلوے کی حفاظت، سابقہ سفارشات پر عمل درآمد، پاکستان ریلوے کی مجموعی کارکردگی اور محکمے کی بحالی کے اسٹریٹجک منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران سیکریٹری پاکستان ریلوے نے قائمہ کمیٹی کو حالیہ ریلوے حادثات پر جامع بریفنگ دی۔ انہوں نے سکھر ڈویژن کے لاکھہ روڈ اسٹیشن پر شالیمار ایکسپریس کے ٹکراؤ اور لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کے پٹری سے اترنے کے واقعات کی اصل وجوہات سے آگاہ کیا۔ کمیٹی کو مقتدر حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ انکوائری کمیٹیوں کی سفارشات کی روشنی میں سنگین غفلت کے مرتکب ذمہ دار افسران اور متعلقہ عملے کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے پاکستان ریلوے کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی کہ وہ ریلوے نیٹ ورک کے مختلف سیکشنز، بالخصوص کراچی اور حیدرآباد میں ریلوے کی زمینوں پر قائم تجاوزات کی تفصیلی رپورٹ آئندہ اجلاس میں ہر صورت پیش کرے۔

اس کے علاوہ وزارت ریلوے کو پابند کیا گیا کہ وہ اگلے اجلاس میں ریلوے کی جامع تنظیم نو، بحالی کے پلان اور کلیدی قومی منصوبوں ’ایم ایل ون‘ اور ’پیپری‘ پر اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دے۔ اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی ابرار احمد، وسیم قادر، محمد نعمان، صادق علی میمن، ڈاکٹر مہرین رزاق بھٹو، سید وسیم حسین، احمد سلیم صدیقی اور محمد الیاس چوہدری نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ وزارت ریلوے کے سیکریٹری، سیکریٹری پاکستان ریلوے بورڈ، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) پاکستان ریلوے اور دیگر اعلیٰ مقتدر حکام بھی اجلاس میں موجود تھے۔