جرمنی میں یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کا شاندار انعقاد: برلن اور ہیمبرگ میں دیس سے دور پاکستانی کمیونٹی کی زبردست تقاریب

منصور احمد,September 06,2026

برلن / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان کے عظیم قومی موقع پر جرمنی کے اہم ترین شہروں برلن اور ہیمبرگ میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی برادری کی جانب سے پروقار اور پرجوش خصوص تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔ ان تقاریب میں جرمنی بھر سے پاکستانی تارکینِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور 6 ستمبر 1965ء کی معرکہ آرائی میں سرحدوں کی حفاظت کرنے والے افواجِ پاکستان کے جری شہداء اور غازیوں کو عقیدت کے پھول پیش کیے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، جرمنی کے دارالحکومت برلن میں مرکزی تقریب کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ (ن) جرمنی کے جنرل سیکرٹری اور پی او ای ایف یورپ کے چیف آرگنائزر محمد انصر بٹ کی جانب سے کیا گیا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 6 ستمبر 1965ء کی تاریخی اور تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی اور بھارتی جارحیت کے سامنے پاک افواج اور قوم کی بے مثال جرات اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کل بھی اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے تھے اور آج بھی ملک کے تمام ریاستی اداروں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔

دوسری جانب، جرمنی کے صنعتی شہر ہیمبرگ میں پاکستان جرمن سوسائٹی کے نائب صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی جرمنی کے سیکرٹری اطلاعات فرید شاہ نے ایک الگ باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اپنے خطاب میں فرید شاہ نے 1965ء کی جنگ کو قومی تاریخ کا ایک سدا بہار اور سنہری باب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معرکے نے قوم کے غیر متزلزل اتحاد کو ثابت کیا۔ انہوں نے عسکری و سیاسی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کی عظیم قربانیوں کو سلام پیش کیا۔

علاوہ ازیں، سینٹرل ملٹی کلچرل مسجد کے بانی صدر غضنفر الدین احمد کے زیراہتمام منعقدہ خصوصی تقریب میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے بالخصوص قرآنی خوانی اور دعائیں کی گئیں۔ غضنفر الدین احمد نے 1965ء کی جنگ کے دوران سابق صدر ایوب خان کے تاریخی قومی خطاب کا حوالہ دیا جس نے قوم میں دفاع کا بے مثال جذبہ بیدار کیا تھا۔ تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے معروف وی لاگر اور کالم نگار شاہ رخ محمود نے بھی شرکت کی اور 1965ء کے معرکے میں لاہور کے شہریوں کے تاریخی اور جری کردار کا احاطہ کیا۔

جرمنی میں منعقدہ ان تمام تقاریب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ تارکینِ وطن اپنے دیس اور پاک سرزمین سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود جذباتی، سیاسی اور دفاعی طور پر پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور افواجِ پاکستان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

پنجاب کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق، جبکہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب

روزینہ اسماعیل, September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پنجاب کے زیادہ تر اہم دریاؤں میں پانی کی آمد و رفت اور بہاؤ اس وقت معمول کے مطابق ریکارڈ کیا جا رہا ہے، تاہم بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث دریائے سندھ میں دو مقامات پر نچلے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے ترجمان کی جانب سے یکم اور 6 ستمبر کو جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، دریائے چناب، جہلم، راوی اور ستلج میں پانی کا بہاؤ بالکل نارمل ہے اور تمام تمام کنٹرول سٹرکچرز محفوظ ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی مختلف پہاڑی روڈ کوہیوں میں بھی فی الوقت پانی کی آمد اور بہاؤ معمول کے مطابق دیکھا جا رہا ہے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے انکشاف کیا کہ دریائے سندھ میں کالاباغ اور تونسہ کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کالاباغ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 72 ہزار کیوسک جبکہ تونسہ بیراج پر 3 لاکھ 6 ہزار کیوسک درج کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ اور نارووال کے قریب واقع برسات نالہ ڈیک (کنگرا کے مقام پر) بھی اس وقت نچلے درجے کی سیلابی کیفیت میں ہے۔ پانی کے ذخائر کی صورتحال کے مطابق تربیلا ڈیم اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق 100 فیصد جبکہ منگلا ڈیم 79 فیصد تک بھر چکا ہے۔

محکمہ موسمیات اور پی ڈی ایم اے کے ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پنجاب کے بیشتر اضلاع بشمول لاہور، سرگودھا، شیخوپورہ، فیصل آباد، چکوال، راولپنڈی، حافظ آباد، جھنگ، سیالکوٹ، ساہیوال، قصور، گوجرانوالہ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، جوہر آباد، منڈی بہاؤالدین، گجرات، مری، نورپور تھل اور اٹک میں مون سون کی شدید بارشیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے پنجاب، محمد سیف انور جپہ نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی خصوصی ہدایت پر سیلابی خطرے سے دوچار علاقوں میں فوری طور پر تمام سہولیات سے لیس فلڈ ریلیف کیمپس قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان کیمپس میں ممکنہ متاثرین کے لیے عارضی رہائش، پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات، طبی ٹیمیں اور دیگر بنیادی ضروریات فراہم کی جا رہی ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موسم کی بدلتی صورتحال اور سیلابی خدشات کے پیشِ نظر مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ انہوں نے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ غیر ضروری طور پر دریاؤں، نہروں، برسات نالوں اور پانی کی گزرگاہوں پر سیر و تفریح یا پکنک سے سخت گریز کریں۔ خاص طور پر والدین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی سخت نگرانی کریں اور انہیں ہرگز ڈوبنے کے خطرے والی نہروں یا سیلابی نالوں میں نہانے کی اجازت نہ دیں۔ کسی بھی ہنگامی کیفیت میں ضلاعی انتظامیہ اور ریسکیو 1122 کی ہدایات پر فوری عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

یومِ دفاع و شہداءِ پاکستان: سی ڈی اے اور ایم سی آئی کا مسلح افواج اور شہداء کے اہل خانہ سے بھرپور یکجہتی اور عقیدت کا اظہار

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد نے پوری پاکستانی قوم کے ساتھ مل کر 6 ستمبر ‘یومِ دفاع و شہداء’ کے تاریخی اور پروقار موقع پر پاکستان کی بہادر مسلح افواج، غازیوں اور شہداء کے لائقِ تحسین اہل خانہ کے ساتھ بھرپور عقیدت، احترام اور یکجہتی کا باضابطہ اظہار کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور سی ڈی اے کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ تفصیلی بیان کے مطابق، اس عظیم اور قابلِ فخر قومی دن کی مناسبت سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد بھر کو سبز و سفید قومی اور علامتی پرچموں سے سجا دیا گیا۔ شہر کی تمام اہم ترین شاہراہوں، چوراہوں، عوامی مقامات، قومی یادگاروں اور ریاستی عمارتوں—بالخصوص پارلیمنٹ ہاؤس—پر قومی پرچم پوری شان و شوکت کے ساتھ آویزاں کیے گئے، جس سے وفاقی دارالحکومت حب الوطنی، قومی یکجہتی اور شاندار قومی جذبوں کا مرکز بن گیا۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ یومِ دفاع محض ایک کیلنڈر کی تاریخ نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے شہداء کی یاد، ان کے عظیم ایثار پر تشکر اور تجدیدِ عہد کا ایک مقدس دن ہے۔ یہ دن ہمیں ان سرحدوں کے محافظوں کی غیر معمولی بہادری، جرات، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے دی جانے والی بے مثال قربانیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے اپنا آج ہمارے امن، وقار اور محفوظ کل پر قربان کر دیا۔

بیان میں شہداء کے سوگوار خاندانوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہر شہید کے پیچھے ایک ایسا صابر خاندان ہے جس نے ملک و قوم کی خاطر ناقابلِ تصور جدائی اور نقصان برداشت کیا۔ کسی ماں باپ نے اپنا لختِ جگر کھویا، کسی بیوی نے سہاگ اور کسی بچے نے اپنے والد کا سایہ، مگر ان خاندانوں کا حوصلہ، صبر اور حب الوطنی پوری قوم کے لیے فخر، طاقت اور تحریک کا سرچشمہ ہے۔ قوم شہداء کے ان عظیم خاندانوں کے دکھ میں برابر کی شریک ہے اور ان کی احسان مند رہے گی۔

سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی قیادت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم سب مل کر ایک پُرامن، خوشحال، مضبوط، سرسبز اور متحد پاکستان کی تعمیر میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ شہری انتظامیہ نے واضح کیا کہ اسلام آباد پاکستان کے تمام محافظوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور ان کی یہ لازوال قربانیاں تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ زندہ و جاوید رہیں گی۔

نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ: وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے 100 ٹن انسانی امداد کی ایمرجنسی کھیپ روانہ

کاشف عباسی , September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر حکومتِ پاکستان نے حالیہ موصلادھار بارشوں، شدید سیلاب اور تباہ کن لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ دوست ملک نیپال کی امدادی و بحالی کی سرگرمیوں میں فوری معاونت کے لیے 100 ٹن سے زائد وزنی انسانی امدادی سامان کی بڑی کھیپ کھٹمنڈو روانہ کر دی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ اور وزارتِ خارجہ کی جانب سے اتوار کے روز جاری کردہ باضابطہ ہنگامی بیان کے مطابق، قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے اعلیٰ زیرِ اہتمام تیار کی گئی اس امدادی کھیپ کو خصوصی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا گیا۔

دفترِ خارجہ کے ترجمان نے امدادی سامان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ اس ایمرجنسی ریلیف پیکج میں نیپال کے شدید متاثرہ علاقوں اور بے گھر ہونے والے لینڈ سلائیڈنگ و سیلاب متاثرین کے لیے واٹر پروف خیمے، گرم کمبل، فلور چٹائیاں، حفظانِ صحت کی ضروری کٹس، ایمرجنسی ادویات اور فرسٹ ایڈ کا ضروری سامان شامل کیا گیا ہے تاکہ متاثرین کی بنیادی ضروریات کو فوری طور پر پورا کیا جا سکے۔

اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امدادی سامان کی روانگی اور خصوصی چارٹرڈ فلائٹ کی منتقلی کے حوالے سے ایک وقار تقریب کا بھی انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے حکومتِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان میں تعیّنات نیپال کے سفیر، وزارتِ خارجہ، این ڈی ایم اے اور سول ایوی ایشن کے اعلیٰ ترین عسکری و سول حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری اور حکام نے کہا کہ پاکستان اور نیپال کے درمیان گہرے دوستانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ مشکل اور آزمائش کی اس گھڑی میں 100 ٹن امدادی سامان کی فراہمی حکومت اور عوامِ پاکستان کی جانب سے نیپال کی حکومت اور اس کے مصیبت زدہ عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی، خیر سگالی اور انسانی ہمدردی کے غیر متزلزل عزم کا واضح ثبوت ہے۔

یومِ دفاعِ پاکستان پر وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ کا اہم پیغام؛ کسانوں، سائنسدانوں اور عسکری محافظوں کی مشترکہ محنت کو قومی مضبوطی کا ضامن قرار دیدیا

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ 6 ستمبر کا تاریخی دن ہمیں یہ بنیادی سبق یاد دلاتا ہے کہ وطنِ عزیز کی دفاعی اور سیاسی حفاظت صرف جغرافیائی سرحدوں پر نبرد آزما ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ ملک کے ہر زرعی، معاشی اور انتظامی شعبے میں دیانت داری اور ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق، وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ قومی پیغام میں وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ جن عظیم شہیدوں اور غازیوں نے وطن کی سلامتی کے لیے اپنا آج قربان کیا، ان کی لازوال جدوجہد ہی ہماری آنے والی نسلوں کے محفوظ، باوقار اور پرامن کل کی حتمی ضمانت ہے۔

رانا تنویر حسین نے ملک کو درپیش معاشی و غذائی درپیش چیلنجز پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کی حقیقی خودمختاری کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم عسکری دفاع کے ساتھ ساتھ اپنی بنیادی غذائی ضروریات میں بھی اپنے پاؤں پر مستقل بنیادوں پر کھڑے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سیکیورٹی اور غذائی تحفظ ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے بنیادی قومی مفادات ہیں، جنہیں جدا نہیں کیا جا سکتا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کے محنت کش کسان، زرعی سائنسدان، مزدور اور عسکری محافظ سب یکساں طور پر پاکستان کی دفاعی اور معاشی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں اپنا تاریخی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یومِ دفاع ہمیں اپنی تمام تر قومی صلاحیتوں اور قدرتی وسائل کو بروئے کار لا کر پاکستان کو مزید مضبوط اور خودکفیل بنانے کا درس دیتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جدید ترین دور میں قومی طاقت کا انحصار روایتی دفاع کے ساتھ ساتھ معاشی، زرعی، اور غذائی استحکام پر پنہاں ہے۔ موجودہ حکومت جہاں ایک طرف ملک کو خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے پرعزم ہے، وہاں دوسری طرف اسے زرعی طور پر مستحکم اور خودکفیل بنانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے یومِ دفاع پر پاکستان کی بہتری، خودکفالت اور قومی خدمت کا عزم بھی دہرایا۔

خلیجی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تجارتی خسارے میں تاریخی کمی: درآمدات میں 44 فیصد کی ڈرامائی کیپنگ

منصور احمد, September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ تجارتی خسارہ رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے ماہ جولائی میں ڈرامائی اور نمایاں حد تک کم ہو گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ خلیجی ممالک سے پٹرولیم، گیس اور توانائی کی درآمدات میں ہونی والی بڑی کمی اور برآمدات میں معمولی بہتری ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ اعداد و شمار کے مطابق، جولائی 2026 کے دوران مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے پاکستان کی مجموعی برآمدات 5.6 فیصد اضافے کے ساتھ 271.60 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو گزشتہ مالی سال کے اسی ماہ (جولائی 2025) میں 257.16 ملین ڈالر تھیں۔ دوسری جانب، خطے کے ممالک سے پاکستان کی برآمدات (درآمدی حجم) میں 44.3 فیصد کی نمایاں اور حیران کن کمی دیکھی گئی اور یہ حجم 1.578 ارب ڈالر سے گھٹ کر صرف 879.98 ملین ڈالر پر آ گیا۔

درآمدات میں اس بڑی سیکیورنگ کی بدولت جولائی میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مجموعی تجارتی خسارہ سکڑ کر تقریباً 608.4 ملین ڈالر رہ گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.32 ارب ڈالر سے زائد کا ایک بھاری تجارتی بوجھ تھا۔

اسٹیٹ بینک کے جزوی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات ، سعودی عرب اور اردن کے لیے پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ قطر، کویت اور بحرین کے لیے پاکستانی برآمدی حجم میں کچھ کمی آئی۔ دوسری جانب درآمدی محاذ پر سب سے بڑا جھٹکا توانائی کی خرید کو لگا؛ بالخصوص متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے پٹرولیم مصنوعات اور مائع قدرتی گیس کی آمد میں شدید کمی دیکھی گئی، تاہم بحرین اور اردن سے معمولی اضافہ سامنے آیا۔

پاکستان اپنی قومی اور صنعتی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے خلیجی ممالک پر بری طرح انحصار کرتا ہے جہاں سے تیل، ایل این جی اور دیگر خام کیمیکلز درآمد کیے جاتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال 2025-26 کے کل اعداد و شمار بھی بتاتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ سے پاکستان کی کل درآمدات 4 فیصد کمی کے ساتھ 16.413 ارب ڈالر رہی تھیں۔

توانائی کے معاشی و تکنیکی ماہر فرحان محمود نے اس پیش رفت کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ خلیجی ممالک بالخصوص قطر سے گیس کی درآمد میں اچانک اور نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان ماضی میں قطر سے روزانہ تقریباً 700 ملین مکعب فٹ گیس درآمد کرتا تھا، جو کہ سپلائی چین کے درپیش مسائل اور علاقائی دباؤ کے باعث اب ڈرامائی طور پر کم ہو کر صرف 450 ملین مکعب فٹ پر آ گئی ہے۔

معاشی ماہرین اور انرجی اینالسٹس کا ماننا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید جغرافیائی و سیاسی کشیدگی ، سمندری راستوں کی ناکہ بندی، اور عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ براہِ راست پاکستان کے تجارتی خسارے اور درآمدی بل پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

پنجاب کو بین الاقوامی سرحد سے زیادہ ہمسایہ صوبوں سے خطرہ ہے: وزیراعلیٰ مریم نواز کا انٹیلی جنس فیوژن سنٹر کے افتتاح پر بڑا اور متنازع بیانیہ

منصور احمد, September 05,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

پاکستان کے صوبہ پنجاب کی وزیرِ اعلیٰ مریم نواز نے داخلی سیکیورٹی اور دہشت گردی کے تناظر میں ایک انتہائی اہم اور بحث طلب بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کو بیرونی یا ہمسایہ ممالک کی نسبت اپنے ہی ہمسایہ صوبوں کی سرحدی حدود سے دہشت گردی اور امن و امان کا زیادہ بڑا خطرہ لاحق ہے۔

سنیچر کے روز صوبائی دارالحکومت لاہور میں جدید ترین ’پرووینشل انٹیلی جنس فیوژن اینڈ تھریٹ اسیسمنٹ سنٹر پنجاب‘ کی باضابطہ افتتاح تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کی سب سے بڑی ترجیح یہ ہے کہ پنجاب کے عوام کو مکمل تحفظ محسوس ہو اور وہ ایک محفوظ اور پائیدار ماحول میں زندگی بسر کریں۔

تقریب کے دوران سیکیورٹی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے ٹرائی بارڈر علاقوں کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ پنجاب کو دہشت گردی اور سیکیورٹی تھریٹ کا جتنا سامنا اپنے پڑوسی ممالک سے ہے، اس سے کہیں زیادہ خطرہ ہمسایہ صوبوں سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہی سرحدی راستوں کو استعمال کرتے ہوئے عسکریت پسند اور دہشت گرد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ پنجاب کی جغرافیائی سرحدیں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ مشرق میں بھارت سے ملتی ہیں۔

اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز نے دعویٰ کیا کہ پنجاب پر ہمیشہ سب کی نظریں ہوتی ہیں، تاہم تمام تر درپیش چیلنجز کے باوجود پنجاب ایک محفوظ صوبہ بن چکا ہے جہاں سیکیورٹی فورسز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے جدید ترین مصنوعی ذہانت اور اربوں روپے کے ٹیکنالوجی پراجیکٹس پر کام کیا گیا ہے۔

انہوں نے ماضی کا موازنہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جب انہوں نے وزیراعلیٰ کا عہدہ سنبھالا تو یہ تلخ حقیقت سامنے آئی کہ امن قائم کرنے والے سیکیورٹی اہلکاروں کے مقابلے میں شدت پسندوں کے پاس زیادہ جدید ٹیکنالوجی، ڈیوائسز اور نائٹ وژن گلاسز موجود ہوتے تھے اور وہ انتہائی باقاعدہ منصوبہ بندی سے حملے کرتے تھے۔ تاہم اب حکومت نے سیکیورٹی اداروں کو جدید ترین نظام، ڈرونز اور تھرمل کیمروں سے لیس کر دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے سی سی ٹی وی کیمروں کو نشانہ بنانے کی پالیسی کے پیش نظر اب کیمروں کی بلٹ پروفنگ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس اور لاء انفورسمنٹ ایجنسیز کی سرحدی چیک پوسٹوں کی کایا پلٹ دی گئی ہے؛ ماضی کی مٹی کی بوریوں کی عارضی دیواروں کی جگہ اب اونچی اور محفوظ ترین سیمنٹڈ کنکریٹ والز اور سیف رومز بنا دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی اچانک دہشت گردانہ حملے کی صورت میں اہلکار اپنی حفاظت یقینی بناتے ہوئے موثر جواب دے سکیں۔

یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کا ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے ہر قربانی دینے کے عزم کا اعادہ

منصور احمد, September 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 ستمبر 2026ء

دفاعِ وطن، بقائے وطن اور پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ملک کی مسلح افواج ہر لمحہ اور ہر آن مکمل تیار ہیں۔ یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر افواجِ پاکستان نے ملک کی سلامتی، خودمختاری اور بقا کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق افواجِ پاکستان کے افسران اور جوانوں نے اپنے خصوصی اور جذباتی پغامات میں کہا ہے کہ پاک فوج کا ہر ایک جوان وطنِ عزیز کا حقیقی محافظ ہے اور ہم اس کی بقا اور سلامتی کے سچے امین ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ اس پاک سرزمین کی سرحدوں کی نگہبانی کے ساتھ ساتھ ملک کے حال اور روشن مستقبل کے خیرخواہ بھی ہیں۔

افواجِ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی دشمن نے اس پاک دھرتی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا، پاک افواج کے غازیوں اور شہیدوں نے سینہ سپر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی حفاظت اور سلامتی کو سب سے مقدم رکھا ہے۔ وطن سے عشق کے جذبے کے تحت پاک فوج نے ہر آزمائش میں اپنی قومی ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھایا ہے اور ایک پاکستانی ہونے پر ہمیشہ دل سے فخر کیا ہے۔

مسلح افواج کے ترجمانوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاک افواج اور ملک کی غیرت مند عوام اس دھرتی کے خوابوں اور قوم کی امیدوں کو باہم متحد ہو کر آگے بڑھائیں گے۔ 6 ستمبر یومِ دفاع کے موقع پر وطن کے ان بے باک محافظوں نے مسلسل محنت، لگن اور مکمل اتحاد کے ساتھ پاکستان کو اس کی حقیقی منزلِ مقصود تک پہنچانے کے پختہ عزم کا اعادہ بھی کیا ہے۔

بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: دو دنوں میں 48 عسکریت پسند ہلاک

منصور احمد, September 04,2026

راولپنڈی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں انٹیلی جنس معلومات پر مبنی وسیع پیمانے کی کارروائیوں کے دوران گزشتہ دو روز میں مجموعی طور پر 48 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق گزشتہ 12 سے 24 گھنٹوں میں سیکیورٹی فورسز نے مستونگ، کوئٹہ، قلات اور سبی کے اضلاع میں ‘فتنہ الخوارج’ (کالعدم تحریکِ طالبان) اور ‘فتنہ الہندوستان’ (بلوچ علیحدگی پسند گروپس) سے تعلق رکھنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف متعدد آپریشنز کیے۔ ان تازہ کارروائیوں میں 36 عسکریت پسند اور شدت پسند ہلاک کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 4 ستمبر کو ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور فورسز کے ساتھ شدید فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 6 عسکریت پسند ہلاک ہو گئے۔

ضلع قلات میں بھی انٹیلی جنس کی بنیاد پر ایک اور کامیاب آپریشن کیا گیا، جہاں فورسز نے شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانے پر چھاپہ مارا اور فائرنگ کے تبادلے میں 2 عسکریت پسندوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

علاوہ ازیں ضلع سبی کے علاقے بھاگ میں سیکیورٹی فورسز نے مقامی آبادی کے تعاون سے فوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن بھاگ پر دہشت گردوں کے حملے کی ایک بڑی کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 2 شدت پسند مارے گئے، جبکہ علاقے میں ممکنہ شرپسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں پاک فوج کا بڑا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن: 12 عسکریت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 04,2026

راولپنڈی / قلات (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے دعویٰ کیا ہے کہ بلوچستان کے ضلع قلات میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ایک کامیاب کارروائی کے دوران 12 عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے جمعے کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق یہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 2 ستمبر کو قلات کے دشوار گزار علاقے میں انجام دیا گیا۔ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کے ٹھکانے کی مسلسل نگرانی اور نشاندہی کے بعد فورسز کی جانب سے انتہائی مہارت سے فوری ‘سرجیکل ایکشن’ کیا گیا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے اس حتمی اور موثر سرجیکل ایکشن کے نتیجے میں ٹھکانے پر موجود تمام 12 عسکریت پسند موقع پر ہی مارے گئے، جبکہ ان کی کمین گاہ کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔

کارروائی کے دوران عسکریت پسندوں کے زیرِ استعمال بھاری مقدار میں جدید اسلحہ، گولا بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) بنانے کے لیے رکھے گئے بارودی مواد کے بڑے ذخیرے کو بھی قبضے میں لے کر موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ترجمان کے مطابق علاقے میں عسکریت پسندوں کے مکمل خاتمے کے لیے آپریشن اور معائنہ کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے۔

دو سالوں میں 133 ارب روپے کی منشیات تلف؛ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح

کاشف عباسی , September 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سخت اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب اور موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر کے تلف کی جا چکی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور اداروں کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضہ میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ دو سال کے عرصے میں 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کر کے تلف کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جاری یہ مہم محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع اور منظم جدوجہد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبے کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔

خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال اور پاک افغان تعلقات پر اہم مشاورت: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے پاکستانی سفیر عبید الرحمٰن نظامانی کی ملاقات

کاشف عباسی , September 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

نائب وزیراعظم و وفاقی وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے وزارتِ خارجہ اسلام آباد میں ایک اہم اور اعلیٰ سطح کی ملاقات کی ہے۔

وزارتِ خارجہ کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق، اس ملاقات کے دوران پاک افغان باہمی تعلقات، سفارتی امور اور خطے کی مجموعی اور بالخصوص تیزی سے بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ملاقات کے دوران نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور پاکستانی سفیر کے درمیان بارڈر مینجمنٹ، انسدادِ دہشت گردی اور پاکستان کے قومی سلامتی سے جڑے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے افغان امور پر پاکستانی سفارتخانے کے کردار کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ہدایت کی کہ علاقائی صورتحال بالخصوص امن، استحکام اور سیکیورٹی پر اثر انداز ہونے والے تمام تر معاملات پر مسلسل اور گہری نظر رکھی جائے تا کہ قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

مکہ معاہدہ اجتماعی دفاع اور علاقائی استحکام کا تاریخی سنگِ میل ہے: وفاقی وزیر احسن اقبال کا جامعہ لاہور کی بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب

منصور احمد, September 03,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والا تاریخی ‘مکہ معاہدہ’ تینوں اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع اور خطے میں پائیدار استحکام کی جانب ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے، تاہم اس معاہدے کی طویل المدتی کامیابی اور افادیت کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ اس سٹریٹجک تعاون کو معاشی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور انسانی وسائل کی ترقی میں کس حد تک تبدیل کیا جاتا ہے۔

جامعہ لاہور میں “مکہ معاہدہ اور طاقت کی نئی تشکیل” کے عنوان سے منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کی بین الاقوامی کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی سیاسی و معاشی منظرنامہ ایک بڑی تاریخی تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں یک قطبی عالمی نظام زوال پذیر ہے اور ایک نیا کثیر قطبی نظام وجود میں آ رہا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے 7 اگست 2026ء کو مکہ مکرمہ میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے درمیان طے پانے والے دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ تینوں میں سے کسی بھی ایک ملک پر مسلح حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد کسی بھی ریاست کے خلاف نہیں اور نہ ہی کوئی نیا محاذ کھولنے کا مقصد رکھتا ہے، بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت طاقت کے ذریعے امن، یکجہتی اور دفاعی صلاحیت کو یقینی بناتا ہے۔

وفاقی وزیر نے تینوں ممالک کی صلاحیتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی مالیاتی و توانائی کی قوت، ترکیہ کی صنعتی و دفاعی بنیاد اور پاکستان کی اعلیٰ عسکری صلاحیت، جغرافیائی رابطے اور عظیم الشان نوجوان آبادی مل کر اس اتحاد کو لازوال طاقت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکی کی ٹیکنالوجی، سعودی سرمایہ کاری اور پاکستانی انسانی وسائل کو یکجا کر کے اسے وسیع تر معاشی اور تکنیکی شراکت داری میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان کی قومی پالیسی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی اگلی بڑی جدوجہد “معرکۂ ترقی” ہے، جس کے تحت ‘اڑان پاکستان’ منصوبے کے ذریعے 2035ء تک ملکی معیشت کو 1 ٹریلین ڈالر اور 2047ء تک 3 ٹریلین ڈالر تک پہنچانے کا حدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کوانٹم کمپیوٹنگ، بائیوٹیکنالوجی اور خلائی سائنسز میں مہارت حاصل کریں کیونکہ جنگی طیارے سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں لیکن جامعات قوموں کے مستقبل کا دفاع کرتی ہیں۔

انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

درخت ہمارا قومی اثاثہ اور نئی نسل کی بہترین آبیاری ہیں: سبی میں مون سون شجرکاری مہم کا باضابطہ آغاز، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر ہمایوں کا پیغام

روزینہ اسماعیل, September 02,2026

سبی/کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے شجرکاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ درخت ہمارا قومی اثاثہ ہیں اور ان کی آبیاری کرنا درحقیقت ہماری آنے والی نئی نسل کے محفوظ مستقبل کی آبیاری کے مترادف ہے۔ انہوں نے سبی کے تمام شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ جاری مون سون شجرکاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ شہر کو آلودگی سے بچا کر ایک پرفضا ماحول قائم کیا جا سکے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر میں مون سون شجر کاری مہم کے باضابطہ افتتاح کے موقع پر میڈیا اور حاضرین سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں نے خود پودا لگا کر اس مہم کا باقاعدہ آغاز کیا۔

افتتاحی تقریب میں عدلیہ اور قانون سے وابستہ متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ایڈیشنل سیشن جج سبی عزیز احمد مینگل، جوڈیشل مجسٹریٹ شکیل احمد لاشاری، سپرنٹنڈنٹ سید فرید شاہ، شیر دل مرغزانی، سبی بار کے جنرل سیکرٹری ایڈووکیٹ سید نوید شاہ، عبدالواحد درانی ایڈووکیٹ، محمد انیس ایڈووکیٹ اور سبی پریس کلب کے صدر سعید الدین طارق نے بھی اپنے ہاتھوں سے پودے لگا کر اس قومی مہم میں اپنا حصہ ڈالا۔ اس موقع پر ناظم جنگلات سبی ڈویژن سید طارق شاہ اور محکمہ جنگلات کے دیگر اعلیٰ آفیسران بھی موجود تھے۔

میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سبی طاہر ہمایوں کا مزید کہنا تھا کہ درخت لگانا ایک صدقہ جاریہ اور اخلاقی فریضہ ہے۔ درخت نہ صرف ماحول میں مثبت تبدیلی اور درجہ حرارت میں بہتری کا باعث بنتے ہیں بلکہ سخت گرمی میں سایہ اور آکسیجن بھی فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شجرکاری صرف ماحولیاتی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ آئندہ نسلوں کی صحت اور بہتر مستقبل کی ضامن ہے۔ شہر کے مختلف شاہراہوں اور مقامات پر درخت لگانے سے نہ صرف سبی کی قدرتی خوبصورتی میں اضافہ ہوگا بلکہ شدید موسمیاتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

پاک بحریہ کی کراچی میں عظیم الشان بحری جنگی مشق ‘سی سپارک-2026’ کا باضابطہ آغاز، آپریشنل صلاحیتوں اور جنگی تیاریوں کا بھرپور مظاہرہ

کاشف عباسی , September 02,2026

راولپنڈی/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

پاکستان کے سیکیورٹی ماحول اور سمندری سرحدوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاک بحریہ کی کراچی میں تاریخی اور میجر میری ٹائم ایکسرسائز ‘سی سپارک-2026’ کا شاندار و باضابطہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں پاک بحریہ اپنی مکمل جنگی تیاریوں، حربی حکمتِ عملی اور آپریشنل صلاحیتوں کا بھرپور عملی مظاہرہ کر رہی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے اس اہم جنگی مشق کی افتتاحی بریفنگ کی صدارت کی۔ اس موقع پر پاک مسلح افواج کے مختلف اہم شعبوں کے اعلیٰ اور سینئر عسکری افسران بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔

اس وسیع المیعاد مشق کے دوران پاکستان نیوی کی روایتی چیلنجز اور ابھرتے ہوئے تمام تر بحری خطرات کے خلاف جنگی صلاحیت کو سخت اور کٹھن جانچ کے عمل سے گزارا جا رہا ہے۔ مشق میں جدید ترین بحری جہازوں، آبدوزوں، جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون نظام (UAVs)، میرینز، کمانڈوز اور سپیشل فورسز کے ساتھ ساتھ پاک فوج اور پاک فضائیہ کے مشترکہ جنگی وسائل کو مکمل طور پر مربوط کیا گیا ہے۔

افتتاحی بریفنگ سے قبل چیف آف دی نیول سٹاف نے پاک بحریہ کے فلیٹ یونٹس کا تفصیلی دورہ کیا اور سمندر میں جاری آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔

تربیت میں مصروف افسران اور جوانوں سے اپنے جوشیلے خطاب میں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف نے زور دے کر کہا کہ خطے کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیکیورٹی ماحول میں غیر متزلزل جنگی تیاری، تینوں مسلح افواج کے درمیان مزید مؤثر انضمام، حالات کے مطابق خود کو فوری ڈھالنے کی صلاحیت اور زمینی و معلوماتی شعبوں میں اعلیٰ مؤثریت ہر صورت ناگزیر ہے۔

انہوں نے بتایا کہ مشق ‘سی اسپارک-2026’ کا بنیادی مقصد ملٹی ڈومین آپریشنز کی مشق کرنا ہے، جس میں سمندری، فضائی، زمینی، سائبر اور خلائی معاون صلاحیتوں کو ایک جگہ مربوط کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انفارمیشن انوائرنمنٹ میں آپریشنز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے تاکہ سمندر میں فعال کارروائیوں کے ساتھ ہم آہنگی برقرار رکھتے ہوئے معلوماتی جنگ میں دشمن پر فیصلہ کن برتری حاصل کی جا سکے۔

غیر ملکی جہازوں پر انحصار کم کرنے، مقامی شپنگ اور بندرگاہوں کو جدید بنانے کے لیے وزیراعظم ٹاسک فورس کے 99 نکاتی بحری روڈ میپ پر تیزی سے عملدرآمد جاری

منصور احمد, September 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

پاکستان کے وسیع سمندری وسائل کو ملک کی حقیقی معاشی طاقت میں تبدیل کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت بحری شعبے میں مکمل خود انحصاری کے لیے جامع اور ہنگامی اقدامات کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے۔

100 ارب ڈالر سے زائد کی بلیو اکانومی کی شاندار صلاحیت رکھنے والے پاکستان میں بندرگاہوں، شپنگ، شپ بلڈنگ، لاجسٹکس اور ماہی گیری کے شعبوں میں انقلابی اصلاحات کے ذریعے غیر ملکی انحصار کم کرنے اور قومی بحری صنعت کو مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر بلیو اکانومی کی اس استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پالیسی ساز سطح پر اصلاحات کا عمل تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وسیع ساحلی اور سمندری خطے میں 100 ارب ڈالر سے زائد کی بحری معیشت کا حجم موجود ہے، تاہم افسوسناک طور پر ماضی میں ملک اپنے بحری وسائل اور قومی بحری اثاثوں سے مطلوبہ اور مناسب معاشی فوائد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ماضی کی پالیسیوں کی وجہ سے ملکی کارگو کی ایک بہت بڑی مقدار غیر ملکی جہازوں کے ذریعے منتقل ہوتی رہی جس کے باعث پاکستان کی قومی شپنگ انڈسٹری کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ بندرگاہوں کی ڈریجنگ، ماہی گیری کی جدید کشتیوں کی تیاری اور دیگر اہم بحری خدمات میں بھی غیر ملکی کمپنیوں پر انحصار مسلسل برقرار رہا۔ اس بیرونی انحصار کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ اربوں ڈالر کے معاشی نقصانات اور زرِ مبادلہ کے نچوڑ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ ہمارے قومی کارگو کی نقل و حمل میں پاکستانی شپنگ انڈسٹری کا حصہ تشویشناک حد تک محض 11 فیصد تک محدود رہا۔

انہی سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت 99 نکاتی بحری روڈ میپ پیش کیا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کے بحری شعبے کو جدید، مسابقتی اور مکمل خود انحصار بنانا ہے۔

اس جامع روڈ میپ کے تحت بندرگاہوں کی صلاحیت میں اضافہ، شپنگ لائنز، لاجسٹکس، شپ بلڈنگ اور ماہی گیری سمیت بحری معیشت کے تمام اہم ستونوں میں اصلاحات اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی کام کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت کا حتمی مقصد پاکستان کی بلیو اکانومی کی اس وسیع صلاحیت کو فعال بناتے ہوئے مقامی شپنگ صنعت کو مضبوط کرنا، قومی بحری اثاثوں سے پیداوار بڑھانا اور غیر ملکی ڈائریکٹ انحصار ختم کرنا ہے، تاکہ بحری شعبہ ملکی تجارت، روزگار کی فراہمی، بیرونی سرمایہ کاری اور پائیدار معاشی ترقی کا سب سے مؤثر ذریعہ بن کر ابھرے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان کے ارکانِ صوبائی اسمبلی کی اہم ملاقات: سیاسی صورتحال، امن و امان اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو

منصور احمد, September 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 1 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے ڈیرہ غازی خان سے تعلق رکھنے والے ارکانِ صوبائی اسمبلی نے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی ہے، جس میں خطے کی مجموعی سیاسی صورتحال، امن و امان کے قیام اور عوام کو درپیش مسائل سمیت مختلف اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان وزیراعلیٰ ہاؤس کی جانب سے جاری باضابطہ بیان کے مطابق ملاقات کرنے والے وفد میں ارکانِ صوبائی اسمبلی احمد خان لغاری، علی احمد لغاری، اسامہ عبدالکریم، حنیف پتافی، اسامہ لغاری اور صلاح الدین خان شامل تھے۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے تمام ارکانِ اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے متعلقہ انتخابیک حلقوں میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ اور معیار کی کڑی نگرانی خود یقینی بنائیں۔

ملاقات کے دوران ارکانِ صوبائی اسمبلی نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو ان کے حالیہ کامیاب دورۂ چین پر دل سے مبارکباد پیش کی اور ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بس سروس شروع کرنے پر انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ارکانِ اسمبلی نے کہا کہ ڈی جی خان کے لیے الیکٹرو بس سروس ایک حقیقی گیم چینجر منصوبہ ثابت ہو رہا ہے اور وہاں کے عوام اس سہولت کی فراہمی پر پنجاب حکومت کے بے حد ممنون ہیں۔

ارکانِ اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی موثر اور حکمتِ عملی پر مبنی پالیسیوں کے باعث ڈی جی خان میں امن و امان کی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ خاص طور پر تاریخ میں پہلی بار کچے کے حساس اور پرخطر علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال میں آنے والی نمایاں بہتری صوبے میں گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بتایا کہ ان کے دورۂ چین کا بنیادی مقصد پنجاب کو مصنوعی ذہانت کا علاقائی ہب بنانا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پنجاب میں بھی بہت جلد چینی طرز پر کینسر اور دیگر مہلک امراض کی قبل از وقت تشخیص کے لیے جدید ترین اور سائنسی طریقہ علاج متعارف کرایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ ڈیرہ غازی خان میں جدید الیکٹرو بسوں سے عام شہریوں کو پروقار سفر کرتے دیکھ کر انہیں دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ صوبائی تاریخ میں پہلی بار لاہور کی طرز پر جنوبی پنجاب کے اضلاع اور دیگر تمام علاقوں میں بھی یکساں طور پر بڑے اور پائیدار ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ڈی جی خان سمیت پنجاب کے دیگر تمام شہروں میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت، ڈرینج سسٹم، صاف پانی کی فراہمی اور بیوٹی فکیشن کے بنیادی منصوبے تیزی سے جاری و ساریں ہیں۔

نئے صوبوں کی غیر متوقع تقسیم تباہی کا باعث بن سکتی ہے: لاڑکانہ میں مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو

کاشف عباسی , August 31,2026

لاڑکانہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں کے قیام اور ان کی تقسیم کا سوال پہلے بھی اٹھتا رہا ہے، صوبے بنتے رہتے ہیں لیکن اس وقت پاکستان میں ایسا کوئی سازگار ماحول ہے اور نہ ہی انتظامی تیاری۔ اگر ماحول اور تیاری کے بغیر صوبوں کی تقسیم کی گئی تو اس کا نتیجہ شدید تباہی کی صورت میں نکلے گا۔

لاڑکانہ میں صحافیوں سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو جو مالی و انتظامی وسائل مل چکے ہیں، وہ کچھ حلقوں سے ہضم نہیں ہو رہے اور غیر سیاسی لوگوں سے ایسی باتیں کروائی جا رہی ہیں جن کی کوئی سیاسی یا آئینی حیثیت نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2018ء اور 2024ء کے عام انتخابات کے نتائج کو بالکل تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی انتخابی عمل میں کسی بھی ادارے کی بالواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں نے ہمیشہ اپنا اقتدار بچانے کے لیے حالات کے ساتھ سمجھوتے کیے، اگر تمام سیاستدان اپنے اصولوں پر ڈٹے رہیں اور غیر سیاسی مداخلت کو مل کر روکیں تو وہ خود طاقتور ہو سکتے ہیں۔

ملک میں امن و امان کی سنگین صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدامنی نے عام عوام کی زندگی کو فلج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف طاقت کا استعمال بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے، بلکہ تمام متعلقہ فریقوں کی باہمی مشاورت سے ہی اس کا حقیقی حل نکالا جا سکتا ہے۔

سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی سیاسی رہنما کو جیل میں رکھنے کے حامی نہیں ہیں اور تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے، چاہے وہ شدید سیاسی مخالف ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے سیاسی قیادت کو مشورہ دیا کہ کردار کشی کی سیاست کے بجائے مہذب انداز میں اختلافِ رائے کا اظہار کیا جائے۔

اپنی بات مکمل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سیاست میں کوئی حتمی یا آخری حد نہیں ہوتی؛ ہم نے ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف تاریخ کی سب سے بڑی تحریک بھی چلائی اور بعد میں ایم آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ان کے ساتھ اتحادی کے طور پر بھی رہے۔

سندھ طاس معاہدے پر عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی و قانونی مؤقف کی تاریخی فتح ہے: ڈاکٹر طارق فضل چوہدری

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت کا متفقہ فیصلہ پاکستان کے اصولی، قانونی اور سفارتی مؤقف کی ایک بہت بڑی تاریخی کامیابی ہے، جس سے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل، ختم یا غیر مؤثر کرنے کی تمام تر کوششوں کو عالمی سطح پر واضح اور حتمی قانونی شکست ہوئی ہے۔

پیر کے روز سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے ایک اہم باضابطہ بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت نے اپنے فیصلے میں بالکل واضح کر دیا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل، منسوخ یا غیر مؤثر نہیں بنا سکتا۔ انہوں نے اجاگر کیا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مکمل طور پر فعال و مؤثر ہے اور اس کی پاسداری پاکستان اور بھارت دونوں ممالک پر یکساں طور پر قانونی و بین الاقوامی لازمی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے خودمختاری، مبینہ معاہداتی خلاف ورزی، دہشت گردی اور دیگر من گھڑت بنیادوں پر پیش کیے جانے والے تمام دلائل عالمی ثالثی عدالت کے سامنے مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے۔ عدالت کے اس تاریخی فیصلے نے دنیا بھر پر ثابت کر دیا ہے کہ کوئی بھی ملک یکطرفہ طور پر اپنے طور پر طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رتلے پن بجلی منصوبے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے عبوری اقدامات پاکستان کے موقف کی ایک اور اہم ترین تائید ہیں۔ عدالت نے رتلے پن بجلی منصوبے کی مخصوص متنازع تعمیراتی سرگرمیوں پر باقاعدہ پابندیاں عائد کی ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان اپنے قانونی و آبی حقوق پر بلا کم و کاست ثابت قدم رہا اور عالمی عدالت نے ہمارے موقف کی مکمل توثیق کر دی ہے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے اپنے بیان کے اختتام پر زور دیا کہ یہ فیصلہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون اور عالمی معاہدوں کی پاسداری کی فتح ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو کمزور کرنے کی تمام بھارتی کوششوں کو شدید ترین قانونی دھچکا لگا ہے اور پاکستان سفارتی محاذ پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اپنی روایتی ہٹ دھرمی ترک کر کے عالمی قوانین، بین الاقوامی معاہدوں اور عدالت کے فیصلوں کا احترام کرے۔