پاکستان ریلوے نے دو بڑے ٹرین حادثات کی تحقیقاتی رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں پیش کر دی؛ نو ملازمین کے خلاف سخت کارروائی کا آغاز

منصور احمد, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان ریلوے نے مارچ دو ہزار چھبیس میں ہونے والے دو بڑے ٹرین حادثات کی حتمی انکوائری رپورٹ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے سامنے پیش کر دی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹ میں دونوں ہائی پروفائل حادثات کی بنیادی وجوہات انسانی غفلت اور تکنیکی خرابیوں کو قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 9 ذمہ دار ملازمین کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق، ملک بھر میں ایک سال کے دوران مجموعی طور پر 135 چھوٹے بڑے ٹرین حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 34 حادثات ریلوے ٹریک کی سنگین خرابی کی وجہ سے پیش آئے جبکہ کل حادثات کا 35 فیصد حصہ بغیر عملے کے ریلوے کراسنگز پر ہونے والے حادثات پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مقتدر مندرجات کے مطابق، مہراب پور کے مقام پر شالیمار ایکسپریس اور مال گاڑی میں ہونے والا ہولناک تصادم ڈرائیور کی سنگین غفلت اور سگنل توڑنے کے باعث ہوا، جس میں ایک ملازم جاں بحق اور متعدد بوگیاں الٹ گئیں۔ ریلوے حکام نے اس حادثے میں ڈرائیور فیاض محمد، اسسٹنٹ ڈرائیور آصف سعید، سینئر ٹرین ایگزامنرز آصف حسین اور ولی اللہ خان سمیت ہیڈ ٹرین ایگزامنر عمران نثار کو براہِ راست، جبکہ سٹیشن ماسٹر اسد اللہ کو بالواسطہ طور پر ذمہ دار نامزد کیا ہے۔ دوسری جانب، لودھراں-بہاولپور سیکشن پر تیزگام ایکسپریس کو پیش آنے والا دوسرا بڑا حادثہ تکنیکی مانیٹرنگ میں کوتاہی کا نتیجہ تھا، جہاں ڈائننگ کار کی فرنٹ ٹرالی میں نقص کے باعث ٹرین کی 8 کوچز پٹری سے اتریں اور متعدد مسافر زخمی ہوئے۔ اس فٹنس غفلت پر ثاقب غفور اور منہاس انور کو براہِ راست، جبکہ ہیڈ عمران شریف کو بالواسطہ ذمہ دار قرار دے کر ایکشن شروع کر دیا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ کے دوران چیئرمین ریلوے مظہر علی شاہ نے بتایا کہ ملک میں سالانہ 35 سے 38 ہزار ٹرینوں کی آمدورفت ہوتی ہے جس سے حادثات کی شرح محض 0.02 فیصد بنتی ہے، اور ریلوے انتظامیہ محدود وسائل کے باوجود اپنے محنتی عملے کی مدد سے انجنوں، بوگیوں اور ٹریکس کی بحالی کا کام انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے کمیٹی کو فراہم کردہ سالانہ اعداد و شمار کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریک کی خرابی اور بغیر عملے کے پھاٹکوں کے علاوہ، ریلوے سٹاف کی غفلت کے باعث 32 حادثات، رولنگ اسٹاک کی خرابیوں کی وجہ سے 30، تخریب کاری کے نتیجے میں 10، جبکہ باقی حادثات قدرتی آفات و دیگر وجوہات کے باعث پیش آئے۔ ریلوے انتظامیہ نے قائمہ کمیٹی کو پختہ یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام حادثات پر قابو پانے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تزویراتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ؛ بیراجوں پر پانی کے بہاؤ کی صورتحال مستحکم، مجموعی قابلِ استعمال ذخیرہ تسلی بخش

روزینہ اسماعیل, JULY 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) نے ملک کے مختلف دریاؤں، بیراجوں اور بڑے آبی ذخائر میں پانی کی آمد، اخراج اور ذخیرے کے تازہ ترین اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ پیر کے روز جاری کردہ سرکاری رپورٹ کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد 2 لاکھ 49 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اسی طرح دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 54 ہزار 600 کیوسک، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج 2 لاکھ 18 ہزار کیوسک رہا۔ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 39 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 70 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 41 ہزار 300 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ملک کے اہم بیراجوں کے اعدادوشمار کے مطابق، جناح بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 26 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 33 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 3 ہزار کیوسک رہا۔ تونسہ بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 92 ہزار 900 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 70 ہزار 600 کیوسک، گدو بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 55 ہزار 400 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 14 ہزار 200 کیوسک، سکھر بیراج میں پانی کی آمد ایک لاکھ 6 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 53 ہزار 400 کیوسک، جبکہ کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 38 ہزار کیوسک اور اخراج صفر ریکارڈ کیا گیا۔ تریموں بیراج میں پانی کی آمد 35 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 20 ہزار کیوسک جبکہ پنجند بیراج میں پانی کی آمد 14 ہزار 600 کیوسک اور اخراج صفر رہا۔

آبی ذخائر کی صورتحال کے مطابق، تربیلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1480.52 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ اور انتہائی سطح 1550 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.101 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ منگلا ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1166.05 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے؛ یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.391 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 646.40 فٹ ہے، جبکہ اس کا کم از کم لیول 638.15 فٹ اور انتہائی سطح 649 فٹ ہے؛ یہاں آج قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.189 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو زراعتی مقاصد کے لیے انتہائی معاون ہے۔

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے زیرِ اہتمام 51 ویں انٹرنیشنل نتھیا گلی سمر کالج کا باضابطہ آغاز؛ پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز سائنسدان پاکستان پہنچ گئے

منصور احمد, JULY 06,2026

نتھیا گلی/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پاکستان اٹامک انرجی کمیشن (پی اے ای سی) کے زیرِ اہتمام 51 ویں سالانہ بین الاقوامی نتھیا گلی سمر کالج 2026 کا باضابطہ اور مقتدر آغاز ہو گیا ہے، جس کے باعث پاکستان ایک بار پھر عالمی سائنسی برادری کی توجہ کا محور بن چکا ہے۔ اس تاریخی سائنسی میلے میں شرکت کے لیے دنیا کے پانچ براعظموں کے 20 ممالک سے ممتاز اور مایہ ناز سائنسدان پاکستان پہنچ چکے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام کی قائم کردہ یہ مقتدر عالمی سائنسی روایت گزشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل جاری ہے، جو پاکستان کے تزویراتی اور سائنسی وقار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس سال سمر کالج میں 45 عالمی شہرت یافتہ سائنسدان مصنوعی ذہانت ، جدید صنعت، صحت، زراعت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور توانائی جیسے جدید ترین سائنسی موضوعات پر خصوصی نشستوں میں سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

انٹرنیشنل سمر کالج کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی اے ای سی ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے کہا کہ نتھیا گلی سمر کالج نصف صدی سے سائنسی تعاون کا عالمی مرکز بنا ہوا ہے اور پروفیسر عبدالسلام کا وژن آج بھی دنیا بھر کے سائنسدانوں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی ماہرین کی بھرپور شرکت کو پاکستان پر عالمی سائنسی اعتماد کا مقتدر اظہار قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ سائنس اور ٹیکنالوجی ہی کسی بھی ملک کی قومی ترقی کی بنیادی طاقت ہوتی ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت اور کوانٹم ٹیکنالوجی جیسی جدید ایجادات اب مستقبل کا رخ بدل رہی ہیں۔ ڈاکٹر راجہ علی رضا انور نے زور دیا کہ پاکستان کو عالمی صف میں شامل رہنے کے لیے سائنسی تحقیق کے میدان میں اپنی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانا ہوگا، کیونکہ ہمارے نوجوان سائنسدان ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہیں۔

چیئرمین پی اے ای سی نے ادارے کی مقتدر خدمات اور قومی دھارے میں اس کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ اس وقت پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے چھ نیوکلیئر پاور پلانٹس قومی گرڈ کو بلا تعطل صاف اور سستی توانائی فراہم کر رہے ہیں، جو ملکی ترقی میں اہم سنگِ میل ہے۔ اس کے علاوہ، انسانی صحت کے شعبے میں پی اے ای سی کے زیرِ انتظام چلنے والے 21 جدید کینسر ہسپتال اور مراکز ملک بھر کے 80 فیصد کینسر کے مریضوں کو علاج معالجے کی مقتدر سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمیشن اپنی جدید زرعی تحقیق کے ذریعے ملک میں غذائی تحفظ کو یقینی بنانے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے میں مصروفِ عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی اے ای سی بنیادی سائنس اور جدید تحقیق میں مسلسل آگے بڑھ رہا ہے اور بین الاقوامی سائنسی تعاون ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے، کیونکہ علم، تحقیق اور جدت ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی واحد ضمانت ہیں۔

لاہور ڈیفنس غیر ملکی خاتون زیادتی کیس؛ تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے میچ کر گیا، تفتیش میں اہم پیشرفت

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے مقتدر علاقے ڈیفنس (ڈی ایچ اے) میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے ہائی پروفائل کیس میں تفتیش کے دوران ایک بہت بڑی اور مقتدر پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں واقعے میں ملوث تین مرکزی ملزمان کا ڈی این اے متاثرہ خاتون سے مکمل طور پر میچ کر گیا ہے۔ پنجاب فارنزک سائنس لیبارٹری کی جانب سے جاری کردہ مقتدر رپورٹ کے مطابق، پولیس کے ہاتھوں گرفتار تین مرکزی ملزمان کے حاصل کردہ ڈی این اے نمونے متاثرہ غیر ملکی خاتون کے نمونوں سے بالکل مطابقت رکھ چکے ہیں، جس سے ملزمان کے خلاف سائنسی شواہد پختہ ہو گئے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق، اس دلدوز اور گھناؤنے واقعے میں ’نواز‘ نامی شخص کا مرکزی اور کلیدی کردار سامنے آیا ہے۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم نواز نے ہی سب سے پہلے مذکورہ غیر ملکی خاتون کو زبردستی اپنی ہوس کا نشانہ بنایا اور ناصرف خود یہ سنگین جرم کیا، بلکہ اس نے جائے وقوعہ پر موجود اپنے دیگر جرائم پیشہ ساتھی ملزمان کو بھی اس قبیح فعل کے لیے باقاعدہ اکسایا۔ تفتیشی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ملزم نواز کے اکسانے پر ہی وہاں موجود دیگر دو مقتدر ملزمان ساجد اور سکندر نے بھی باری باری غیر ملکی خاتون کو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے مقدمے کی شفافیت کے لیے مجموعی طور پر آٹھ گرفتار ملزمان کے ڈی این اے سیمپلز کراس میچنگ کے لیے فارنزک لیبارٹری بھجوائے تھے، جن میں سے تین کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دیگر ملزمان کے سیمپلز کا مزید تزویراتی تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کے حوالے سے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق، اب تک پولیس کی مقتدر ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے مجموعی طور پر آٹھ ملزمان کو حراست میں لے لیا ہے۔ واقعے کے روز گاڑی کے ایکسیڈنٹ کے بعد غیر ملکی لڑکیاں خوفزدہ ہو کر ایک قریبی اسٹور میں چھپ گئی تھیں، جہاں سے پولیس نے انہیں فوری طور پر اپنی حفاظتی تحویل میں لیا تھا۔ تفتیشی حکام نے پُرعزم الفاظ میں واضح کیا ہے کہ فارنزک لیبارٹری سے ڈی این اے رپورٹ مثبت آنے اور متاثرہ خاتون کا دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے مقتدر بیان پہلے ہی ریکارڈ ہونے کے بعد، اب تمام ملزمان کے خلاف ٹھوس سائنسی و قانونی چالان مکمل کر کے سخت سزا کے لیے فوری طور پر متعلقہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پنجاب پولیس کا سنگین جرائم میں مطلوب عناصر کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن؛ رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر سے 87 ہزار سے زائد اشتہاری مجرمان گرفتار

منصور احمد, JULY 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

پنجاب پولیس نے صوبے بھر میں امن و امان کی صورتحال کو مستحکم رکھنے اور سنگین جرائم میں مطلوب مقتدر اشتہاریوں، عادی مجرمان اور عدالتی مفروروں کے خلاف تزویراتی کریک ڈاؤن جاری رکھتے ہوئے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ پنجاب پولیس کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعداد و شمار کے مطابق، پولیس ٹیموں نے رواں سال لاہور سمیت صوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک پچاسی ہزار سے زائد کی ریکارڈ سطح کو عبور کرتے ہوئے مجموعی طور پر ستاسی ہزار سے زائد مقتدر اشتہاری مجرمان کو قانون کے شکنجے میں جکڑ لیا ہے۔

ترجمان پنجاب پولیس نے گرفتاریوں کی مقتدر تفصیلات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا کہ گرفتار ہونے والے خطرناک اشتہاری مجرمان میں انتہائی سنگین جرائم میں مطلوب ’اے کیٹگری‘ کے 23 ہزار 583 اور ’بی کیٹگری‘ کے 63 ہزار 881 اشتہاری شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، صوبہ بھر سے مختلف عدالتوں کو مطلوب 27 ہزار سے زائد عدالتی مفروروں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 4 ہزار 331 اور ’بی کیٹگری‘ کے 23 ہزار سے زائد مفرور شامل ہیں جنہوں نے قانون سے بچنے کے لیے روپوشی اختیار کر رکھی تھی۔

سرکاری رپورٹ کے مطابق، معاشرے کے امن کو تہہ و بالا کرنے والے 10 عادی مجرمان کے خلاف بھی گھیرا تنگ کیا گیا اور رواں سال 10 ہزار 632 عادی مجرم گرفتار کیے گئے، جن میں ’اے کیٹگری‘ کے 3 ہزار 832 اور ’بی کیٹگری‘ کے 6 800 مجرم شامل ہیں۔ ترجمان نے صوبائی دارالحکومت کی کارکردگی کا مقتدر حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف لاہور میں پولیس نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے 19 ہزار 103 اشتہاری مجرمان، 8 ہزار 938 عدالتی مفرور اور 4 ہزار 214 عادی مجرموں کو گرفتار کر کے جیل منتقل کیا ہے، جس سے شہر میں جرائم کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی ہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی ایمانداری؛ سوات ایکسپریس وے پر شہری کا گمشدہ بٹوا نقد رقم اور اہم دستاویزات سمیت واپس لوٹا دیا

منصور احمد, JULY 06,2026

سوات/چکدرہ (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس نے سوات ایکسپریس وے پر فرض شناسی اور دیانتداری کی ایک اعلیٰ مثال قائم کرتے ہوئے ایک شہری کا سڑک پر گم ہونے والا قیمتی بٹوا، جس میں ہزاروں روپے نقد اور اہم ترین دستاویزات موجود تھیں، بحفاظت اصل مالک کو تلاش کر کے واپس لوٹا دیا ہے۔ ترجمان موٹروے پولیس کی جانب سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، سوات ایکسپریس وے پر چکدرہ کے مقام کے قریب معمول کی پیٹرولنگ کے دوران موٹروے پولیس کے الرٹ افسران کو سڑک پر ایک لاوارث بٹوا ملا۔

حکام کے مطابق، جب بٹوے کی باقاعدہ تلاشی لی گئی تو اس میں انیس ہزار روپے سے زائد کی نقد رقم، مختلف بینکوں کے مقتدر اے ٹی ایم کارڈز، قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) اور دیگر اہم سرکاری و ذاتی دستاویزات محفوظ تھیں۔ موٹروے پولیس کے پیٹرولنگ افسران نے بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر تزویراتی کارروائی کا آغاز کیا اور بٹوے کے اندر موجود ڈرائیونگ لائسنس پر درج موبائل نمبر کے ذریعے اصل مالک کا کامیابی سے سراغ لگایا۔ افسران نے شہری سے فوری رابطہ قائم کر کے اسے بٹوا ملنے کی خوشخبری سنائی۔

اطلاع ملتے ہی متعلقہ مقتدر شہری شدید حیرت اور خوشی کے عالم میں فوری طور پر موٹروے پولیس کے قریبی قائم دفتر پہنچا، جہاں موٹروے پولیس کے افسران نے تمام ضروری قانونی، دفتری اور شناختی تصدیق مکمل کرنے کے بعد پوری نقد رقم، کارڈز اور تمام قیمتی اشیاء سمیت بٹوا باقاعدہ طور پر شہری کے حوالے کر دیا۔ اپنا گمشدہ بٹوا تمام اثاثوں سمیت محفوظ پا کر شہری نے گہرے تشکر کا اظہار کیا اور موٹروے پولیس کی اس بے مثال دیانتدارانہ، مخلصانہ اور پیشہ ورانہ کارروائی کو دل سے سراہتے ہوئے موقع پر موجود تمام پولیس افسران کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار؛ خاتون کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنا بے مثال جرأت ہے

کاشف عباسی , JULY 06,026

لاہور/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاک فضائیہ کے غیور افسر گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایک مظلوم خاتون کی جان اور عزت کے مقتدر تحفظ کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے بے مثال جرأت، بہادری اور اعلیٰ فرض شناسی کی ایک لازوال مثال قائم کی ہے۔ پی ایم آفس کے میڈیا ونگ سے پیر کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم اپنے ایسے بہادر سپوتوں کی قربانیوں کو ہمیشہ انتہائی قدر، فخر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

وزیراعظم نے شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق کے تمام اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور مقتدر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم شہید کے مقتدر خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے عاجزانہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے، انہیں اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ اور ارفع مقام عطا کرے اور لواحقین کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق دے۔ اس کے ساتھ ہی، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے متعلقہ سیکیورٹی اور انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ اس دلدوز واقعے کی فوری، مکمل اور شفاف تحقیقات کر کے ذمہ دار ملعون عناصر کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ انصاف کے مقتدر تقاضے پورے ہو سکیں۔

موجودہ گندم پالیسی وفاقی حکومت کی ناکامی کا ثبوت ہے؛ بیس ارب سے زائد کا نقصان اور بدانتظامی کرپشن کے گڑھ ہونے کی گواہی ہے، خالد نواز سدھرآئچ

منصور احمد, JULY 05,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی و صوبائی کسان ونگز نے پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) سے متعلق حالیہ آڈٹ رپورٹ میں کیے گئے سنسنی خیز انکشافات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس رپورٹ کو ملکی غذائی تحفظ، زرعی معیشت اور قومی خزانے کے لیے ایک سنگین تزویراتی خطرہ قرار دیا ہے۔ کسان ونگ کے مرکزی آرگنائزر شیخ وقاص اکرم کی زیرِ صدارت منعقدہ کسان ونگ کے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے ایک مقتدر اجلاس میں اس رپورٹ پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، جس میں مشترکہ طور پر واضح کیا گیا کہ یہ محض ایک ادارے کی ناکامی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی مجموعی گندم پالیسی کی مکمل ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اجلاس میں ہونے والے فیصلوں اور شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کسان ونگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات خالد نواز سدھرآئچ نے اتوار کے روز اپنے جاری کردہ مقتدر بیان میں کہا کہ اس آڈٹ رپورٹ نے پاکستان کے تمام عوام اور بالخصوص کسان کمیونٹی میں شدید غم وغصے اور اضطراب کی لہر پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسان کمیونٹی اور پی ٹی آئی کسان ونگز کی یہ مشترکہ رائے ہے کہ عوام کے سامنے جوابدہی سے آزاد فارم پینتالیس کی حکومت قومی مفادات کا تحفظ کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق پاسکو کو صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں بیس ارب روپے سے زائد کا خطیر مالی نقصان برداشت کرنا پڑا، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں مجموعی خسارہ اکیس ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے، اور اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ دوسو ستاون ارب روپے سے زائد کی بھاری رقم مختلف سرکاری اداروں سے تاحال وصول نہیں کی جا سکی۔

خالد نواز سدھرآئچ نے گندم کی مبینہ خرد برد، باردانہ کی غیر شفاف اور ناقص تقسیم، غیر قانونی خریداریوں اور سنگین انتظامی بے ضابطگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات نے ثابت کر دیا ہے کہ حکومتی ادارے بدانتظامی اور کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاسکو کا بنیادی تزویراتی مقصد کسانوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنا، گندم کی مارکیٹ کو مستحکم رکھنا اور ملک کے غذائی ذخائر کو محفوظ بنانا تھا، مگر ناقص حکومتی پالیسوں نے اس اہم قومی ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور اب حکومت اس ادارے کو ہی ختم کرنے کی راہ پر گامزن ہے، جو مستقبل میں ملکی غذائی تحفظ کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کرے گا۔ پی ٹی آئی کسان ونگ نے حکومت سے سخت سوال کیا کہ گندم اور دیگر زرعی اجناس کو ذخیرہ کرنے والے پاسکو کے ملکیتی گودام کسانوں کا استحصال کرنے والے مخصوص نجی افراد یا اداروں کے حوالے کس منطق کے تحت کیے گئے، کیونکہ عوام کو یہ جاننے کا پورا حق ہے کہ ان مقتدر قومی اثاثوں کا نجی استعمال کن بنیادوں پر کیا جا رہا ہے۔

ترجمان کسان ونگ نے فلورملز مالکان کی جانب سے گندم کے ذخائر کی مبینہ سرکاری ضبطگی کے الزامات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر نجی شعبے کے قانونی ذخائر کو طاقت کے ذریعے قبضے میں لیا جا رہا ہے تو یہ آزاد منڈی کے دعووں کی کھلی نفی اور کاروباری اعتماد کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، جس کی فوری اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ گندم پالیسی نے کسان اور صارف دونوں کو بیک وقت شدید مالی نقصان پہنچایا ہے، کیونکہ فصل کٹائی کے وقت کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا جبکہ چند ماہ بعد غریب عوام کو آٹا اور گندم مہنگے داموں خریدنا پڑتی ہے، جس کا پورا فائدہ صرف مڈل مین، ذخیرہ اندوزوں اور مخصوص مفاداتی گروہوں کو پہنچایا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کسان ونگز اور کسان کمیونٹی نے مشترکہ طور پر مطالبہ کیا ہے کہ پاسکو آڈٹ میں سامنے آنے والی تمام بے ضابطگیوں، مالی بدعنوانیوں، گندم کی خرد برد، باردانہ اسکینڈل اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کی فوری طور پر ایک آزاد اور شفاف مقتدر تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار عناصر کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وزارتِ اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ کا بڑا فیصلہ؛ رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کی منظوری

روزینہ اسماعیل, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے اوورسیز پاکستانیز و ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ چوہدری سالک حسین کی خصوصی ہدایت پر ورکرز ویلفیئر فنڈ کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے مزید ایک لاکھ بچوں کو بالکل مفت تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کا مقتدر فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق، اس اہم ترین اور پُرعزم اقدام کا بنیادی مقصد محنت کش خاندانوں کے بچوں کو معیاری تعلیم تک مساوی و مقتدر رسائی فراہم کرنا اور انہیں مالی مشکلات یا کٹھن حالات کے باعث تعلیم کے بنیادی حق سے محروم ہونے سے ہر صورت بچانا ہے۔

سرکاری اعلامیے کے مطابق، اس فلاحی منصوبے کے تحت رجسٹرڈ محنت کشوں کے تمام مستحق بچوں کو جماعتِ اول سے لے کر انٹرمیڈیٹ (بارہویں جماعت) تک تمام مقتدر تعلیمی سہولیات اور اخراجات فراہم کیے جائیں گے۔ وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین نے متعلقہ انتظامی حکام کو سخت تزویراتی ہدایت جاری کی ہے کہ ایک لاکھ بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی کے اس بڑے منصوبے پر فوری، شفاف اور مؤثر انداز میں عملدرآمد کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، کیونکہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی حق ہے اور اسے کسی بھی مخصوص طبقے کی مراعات نہیں سمجھا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت وزیراعظم محمد شہباز شریف کے وژن کے مطابق محنت کش خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے، اور اس انقلابی منصوبے کے ذریعے جہاں ایک لاکھ بچوں کو علم کے زیور سے آراستہ کیا جائے گا، وہی ایک لاکھ خاندانوں کو بہتر اور محفوظ مستقبل کی ایک نئی امید فراہم ہوگی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ ورکرز ویلفیئر فنڈ کو ایک جدید، مؤثر اور مکمل طور پر عوام دوست ادارہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک کے محنت کش طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور مقتدر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ چوہدری سالک حسین کا پُرعزم الفاظ میں کہنا تھا کہ محنت کشوں کے بچوں کی بہترین تعلیم ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی اصل ضمانت ہے؛ جس ہاتھ نے محنت مزدوری کر کے پاکستان کو بنایا ہے، اب اسی کے بچے پڑھ لکھ کر پاکستان کا مقتدر مستقبل لکھیں گے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ اس منصوبے کے ذریعے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی تعلیمی سہولیات کا دائرہ کار ملک بھر میں مزید وسیع کیا جائے گا، جس سے ہزاروں محنت کش خاندان براہِ راست مستفید ہوں گے۔

وزارت مذہبی امور کا گزشتہ سال کے پرائیویٹ حجاج کرام سے فیڈ بیک طلب؛ شکایات اور تجاویز جمع کرانے کے لیے بیس جولائی کی ڈیڈ لائن مقرر

روزینہ اسماعیل, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے گزشتہ سال نجی اسکیم کے تحت فریضۂ حج ادا کرنے والے پرائیویٹ حجاج کرام سے ان کے حج آرگنائزرز (منظم) اور شیئر ہولڈر کمپنیوں کے حوالے سے باقاعدہ فیڈ بیک طلب کر لیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ مقتدر نوٹیفیکیشن کے مطابق، تمام پرائیویٹ حجاج کرام اپنی متعلقہ حج کمپنیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی شکایات، تحفظات، اعتراضات یا تعمیری تجاویز آئندہ بیس جولائی تک وزارت کو جمع کروا سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا ہے کہ حجاج کرام اپنی دستخط شدہ شکایات کو لازمی طور پر پختہ ثبوتوں اور دستاویزی شواہد کے ساتھ وزارت کے متعلقہ حکام کو ارسال کریں۔

وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، موصول ہونے والی تمام شکایات اور فیڈ بیک کی مکمل جانچ پڑتال طے شدہ سرکاری طریقہ کار اور میرٹ کے مطابق کی جائے گی، جبکہ نجی منظم اور شیئر ہولڈر کمپنیوں کے مستقبل کے حج لائسنسوں کا حتمی فیصلہ ان کی اسی سالانہ کارکردگی اور حجاج کے اطمینان کی بنیاد پر ہوگا۔ ترجمان نے پُرعزم الفاظ میں بتایا کہ ان موصولہ شکایات کو حج کمپنیوں کے لائسنسوں کی ری ویلیڈیشن، سالانہ تجدید اور خلاف ورزی کی صورت میں منسوخی کے مقتدر عمل کے دوران بنیادی معیار کے طور پر مدنظر رکھا جائے گا۔

ترجمان نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ مذہبی امور نے حجاج کے حقوق کے تحفظ کے لیے پہلے ہی تمام منظم اور شیئر ہولڈر کمپنیوں سے پانچ فیصد پرفارمنس گارنٹی حاصل کر رکھی ہے۔ پرائیویٹ حجاج کرام اپنی تمام تحریری شکایات بذریعہ ڈاک یا وزارت کے باقاعدہ ای میل ایڈریس پر بیس جولائی دو ہزار چھبیس تک ہر صورت ارسال کر دیں۔ وزارتِ مذہبی امور نے دوٹوک انداز میں واضح کیا ہے کہ بیس جولائی کی مقررہ تاریخ گزرنے کے بعد موصول ہونے والی کوئی بھی شکایت یا اعتراض قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہوگا اور نہ ہی اس پر کوئی انتظامی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد زون کی بڑی کامیابی؛ ویزا فراڈ کے مقدمے میں ملوث ملزم سے بیس لاکھ روپے نقد برآمد، رقم شکایت کنندہ کے حوالے

محمود احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے ویزا فراڈ کے خلاف ایک بڑی اور مقتدر کارروائی کرتے ہوئے مقدمے میں ملوث ملزم سے بیس لاکھ روپے کی خطیر نقد رقم برآمد کر لی ہے اور تمام قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد یہ پوری رقم باقاعدہ طور پر اصل شکایت کنندہ کے حوالے کر دی ہے۔ اتوار کے روز ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار نے اس مقتدر مہم کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ خطیر رقم ویزا فراڈ کے ایک پیچیدہ مقدمے کی تفتیش کے دوران ملزم کے قبضے سے برآمد کی گئی تھی، جسے بعد میں تمام ضروری اور مقتدر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ کو واپس لوٹا دیا گیا ہے۔

سرکاری اہلکار نے تفتیش کے حوالے سے مزید واضح کیا کہ ایف آئی اے کی یہ کامیاب کارروائی اس بات کا واضح اور پُرعزم ثبوت ہے کہ ادارہ نہ صرف ویزا فراڈ اور انسانی اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف انتہائی مؤثر کارروائی کے لیے پرعزم ہے بلکہ متاثرہ شہریوں کے حقوق کی بحالی اور ان کے مالی مفادات کے مقتدر تحفظ کو بھی ہر صورت یقینی بنا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ویزا فراڈ مقدمے کی مزید تفتیش ابھی تزویراتی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ اس نیٹ ورک یا فراڈ میں ملوث دیگر پوشیدہ افراد کا بھی سراغ لگا کر انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، اسلام آباد زون معصوم شہریوں کے حقوق کے تحفظ، ویزا فراڈ کے مکمل خاتمے اور دیگر تمام سنگین مالی جرائم کے خلاف بلا امتیاز و مؤثر قانونی کارروائی کے ذریعے ملک میں قانون کی عملداری اور مقتدر انصاف کو یقینی بنانے کے لیے اپنی دن رات کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایسے جعل ساز عناصر کا قلع قمع کیا جا سکے۔

بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، حافظ طاہر اشرفی

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے ملک میں مذہبی ہم آہنگی، فرقہ وارانہ امن اور مختلف مذاہب کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام شہریوں کی عبادت گاہوں کا تحفظ کرنا ریاست کی اولین اور بنیادی ذمہ داری ہے۔ میڈیا چینلز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور قومی ہم آہنگی کے لیے ناگزیر ہے، اور معاشرے میں سماجی اتحاد، رواداری اور برداشت کے فروغ کے لیے تمام طبقات کو مل کر مقتدر کردار ادا کرنا چاہیے۔

چیئرمین علماء کونسل نے صبر، برداشت اور باہمی احترام کو دیرپا امن کے قیام کے لیے کلیدی اقدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان اصولوں کے تحفظ اور فروغ کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ اور پُرعزم کوششیں کرنا ہوں گی، تاکہ ملک کے اندر اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کے نظام کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے آئین نے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو مکمل مذہبی آزادی فراہم کی ہے، اور اسی تزویراتی پالیسی کے تحت سکھ برادری سمیت دیگر تمام اقلیتی برادریوں کے لیے محفوظ و پرامن ماحول مہیا کیا جا رہا ہے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے مزید بتایا کہ ملک میں مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے مقتدر اقدامات کیے جا رہے ہیں اور تمام متعلقہ ادارے بیرونِ ملک سے آنے والے زائرین کو ان کے دوروں کے دوران ہر ممکن سفارتی و انتظامی سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر متحرک ہیں۔ انہوں نے اپنے مقتدر بیان کا اختتام اس عزم پر کیا کہ بین المذاہب ہم آہنگی اور تمام برادریوں کے درمیان باہمی احترام کا فروغ حکومت اور ریاست کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہے، جبکہ مذہبی مقامات پر بہتر انتظامات اور سیکیورٹی کی فراہمی دراصل رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے جاری مقتدر کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔

پاک فضائیہ کے بہادر گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایونیو پر خاتون کا تحفظ کرتے ہوئے مبینہ ملزم کی فائرنگ سے شہید

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

پاک فضائیہ کے مقتدر اور بہادر افسر گروپ کیپٹن عاصم نائنتھ ایونیو پر ایک مظلوم خاتون کی عزت اور جان بچاتے ہوئے مبینہ ملزم کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عینی شاہدین کے مطابق، اتوار کے روز گروپ کیپٹن عاصم اسلام آباد کے نائنتھ ایونیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے سڑک کنارے ایک موٹرسائیکل سوار کو ایک خاتون کے ساتھ زور آزمائی کرتے اور اس کا ہاتھ زبردستی کھینچتے ہوئے دیکھا۔ گروپ کیپٹن عاصم نے ایک ذمہ دار اور پُرعزم شہری ہونے کے ناطے فوری طور پر اپنی گاڑی موڑی اور خاتون کی مدد کے لیے موٹرسائیکل کے قریب پہنچے، جس پر وہ متاثرہ لڑکی گاڑی کی دوسری طرف پناہ لینے کے لیے بھاگ آئی۔

اسی اثناء میں موٹرسائیکل پر سوار مبینہ ملزم سعد نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ شدید بدکلامی اور تکرار شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں طیش میں آ کر ان پر سیدھی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں گروپ کیپٹن عاصم شدید زخمی ہو گئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی جامِ شہادت نوش کر گئے، جبکہ ملزم فائرنگ کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ پولیس حکام کے مطابق، متاثرہ خاتون نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ ملزم سعد اس کے دفتر میں اس کا ساتھی (کولیگ) تھا، جس نے اسے صبح کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی، تاہم وہ مقررہ راستہ تبدیل کر کے اسے زبردستی کہیں اور لے جانا چاہتا تھا جس کے لیے وہ موٹرسائیکل پر اس کے ساتھ زور آزمائی کر رہا تھا۔ خاتون نے روتے ہوئے واضح کیا کہ گروپ کیپٹن عاصم نے عین وقت پر مداخلت کر کے اپنی جان پر کھیل کر مجھے درندے سے مکمل تحفظ فراہم کیا۔

اس وقت اسلام آباد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مفرور ملزم سعد کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ مقتدر شہید گروپ کیپٹن عاصم نے اپنے سوگواران میں ایک بیوہ، بیٹی اور بیٹا چھوڑے ہیں۔ گروپ کیپٹن عاصم کی اس عظیم اور بے مثال قربانی کو اس وقت ملک بھر میں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے، اور قومی و سماجی میڈیا پر انہیں خواتین کے تحفظ اور مقتدر شہری اقدار کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے ایک لازوال ہیرو کے طور پر یاد کیا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گروپ کیپٹن عاصم کی یہ قربانی اس حقیقت کی کھلی عکاس ہے کہ پاک فوج کے غیور سپاہی صرف ملکی سرحدوں کے ہی نہیں، بلکہ وطن کی بیٹیوں کی عزت و ناموس کے بھی سچے رکھوالے ہیں۔

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی کا کاشغر میں این ایل سی کے لاجسٹکس مرکز کا دورہ؛ پاک چین تجارت اور رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا کردار قابلِ تحسین قرار

محمود احمد, JULY 05,2026

کاشغر/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی نے کاشغر میں نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) کے لاجسٹکس مرکز کا اہم دورہ کیا ہے، جہاں انہیں این ایل سی کی سرحد پار لاجسٹکس سرگرمیوں، جدید ترین آپریشنز اور فراہم کردہ سہولیات پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اتوار کے روز موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، کاشغر اور تاشکرگن میں این ایل سی کی جانب سے قائم کردہ یہ جدید سہولیات پاک چین دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے کے لیے ایک انتہائی اہم اور کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ مراکز چین، وسطی ایشیائی ممالک بشمول قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر عالمی منڈیوں تک تجارتی سامان کی بلا رکاوٹ ترسیل میں بہترین معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

سفارت خانہ پاکستان کے مطابق، چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے عظیم منصوبے کی کامیابی میں این ایل سی کا مؤثر اور کلیدی کردار مسلسل جاری ہے۔ این ایل سی نے اس تجارتی نیٹ ورک کو مزید وسعت دینے کے لیے چین میں سو فیصد ملکیتی لاجسٹکس کمپنی بھی قائم کر رکھی ہے، جبکہ این ایل سی کے بیڑے میں شامل جدید ترین گاڑیاں پاک چین تجارتی روابط کو روز بروز مزید مضبوط بنانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ کارپوریشن کی یہ بین الاقوامی خدمات پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تجارتی روابط کو ایک بالکل نئی اور مضبوط جہت دے رہی ہیں۔ اس موقع پر چین میں متعین پاکستانی سفیر خلیل ہاشمی نے این ایل سی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاک چین تجارت اور علاقائی رابطوں کے فروغ میں این ایل سی کا یہ مقتدر کردار بلاشبہ انتہائی قابلِ تحسین اور ملکی معیشت کے لیے اہم ہے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کا اورلینڈو میں ‘اپنا’ کنونشن سے خطاب؛ مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک گرنے اور ترسیلاتِ زر اکتیس ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا اعلان

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد تک گرنے اور سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر اکتیس ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کے ساتھ ہی ’اڑان پاکستان‘ کا معاشی نظم و ضبط اب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھانے والی پیچیدہ سفارت کاری کا حوالہ دیتے ہوئے پُرعزم الفاظ میں کہا کہ پاکستان نے دنیا پر ثابت کر دیا ہے کہ وہ کوئی کمزور ریاست نہیں، بلکہ اپنے قدموں پر کھڑا ہوتا ہوا ایک مضبوط ملک ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ منصوبہ بندی و ترقی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، پروفیسر احسن اقبال نے اورلینڈو میں انچاسویں ‘اپنا’ سالانہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا۔

وفاقی وزیر نے شرکاء کو بتایا کہ ’اڑان پاکستان‘ کے ذریعے حکومت قومی سوچ کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہے، اور ملکی تاریخ میں پہلی بار آبادی اور انسانی وسائل کو معاشی منصوبہ بندی میں کوئی معمولی حاشیہ بنانے کے بجائے معاشی ترقی کا پہلا باب بنایا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت ‘فائیو ایز’ کے مقتدر اصولوں کی بنیاد پر سال دو ہزار سڑتالیس تک تین ٹریلین ڈالر کی معیشت کا بڑا ہدف لے کر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ پیچیدہ ملکی سفارت کاری جس نے واشنگٹن اور تہران کو ایک میز پر بٹھایا اور دوسری طرف بدترین حالات میں بھی اپنی سرحدوں کا مضبوط دفاع، ان دونوں عوامل سے پاکستان نے دنیا میں اپنا لوہا منوایا ہے، مگر یاد رہے کہ حقیقی استحکام صرف سرحدوں پر نہیں جیتا جاتا، بلکہ یہ ہمارے کلینکس، ہمارے ڈیٹا سسٹمز اور ہماری معاشی منصوبہ بندی سے جیتا جاتا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے زور دیا کہ آگے کا راستہ آسان نہیں ہے اور اب تمام تر دارومدار صرف اس معاشی منصوبے پر سخت عمل درآمد پر ہے۔ انہوں نے اورلینڈو میں مقیم سمندر پار پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم ’اپنا‘ کی کمیونٹی کو ایک سیدھا اور سادہ پیغام دیا کہ وہ اب پاکستان پر صرف یقین مت رکھیں بلکہ اسے بنانے میں حکومت کا عملی ساتھ دیں۔ انہوں نے تارکینِ وطن پر زور دیا کہ وہ اپنی مہارت، جدید سسٹمز اور اپنا وژن وطنِ عزیز واپس لے کر آئیں، کیونکہ اب مستقبل کی مقتدر تعمیر ہی ہمارا اگلا سب سے بڑا مشن ہے۔

ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی زمین پر قبضہ نہیں ہوگا، مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا حق محفوظ ہے: شزہ فاطمہ، اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ اور وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے ایک اہم مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی کی ذاتی زمین پر زبردستی قبضہ کیا جائے گا، اور وہ اپنے خلاف لگائے گئے بے بنیاد مالی الزامات پر قانونی کارروائی کا پورا حق رکھتے ہیں۔ اتوار کے روز ہونے والی اس پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ ملک میں مکمل اتفاقِ رائے کے ساتھ قانون سازی کی جا رہی ہے اور اس بل کے حوالے سے عوام اور پارلیمان کو حقائق سے آگاہ کرنا انتہائی ضروری تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیلی کام کا پرانا قانون موجودہ دور کی جدید ضروریات سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور اس نئے بل کا بنیادی مقصد وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک بھر میں تیز ترین انٹرنیٹ کی فراہمی کو بہتر اور ممکن بنانا ہے، جو بطور آئی ٹی منسٹر ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

وفاقی وزیر آئی ٹی نے میڈیا میں ہونے والے پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ یہ بل چھ مہینے تک قومی اسمبلی میں پڑا رہا اور پھر اسے سینیٹ سے کمیٹی میں بھیج کر روکا گیا، جو کہ جمہوریت کا حسن ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس بل کو لے کر ان کے اور سیکریٹری آئی ٹی کے خلاف بلاوجہ میڈیا میں واویلا مچایا گیا اور بے بنیاد مالی فائدے حاصل کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ انہوں نے خود وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ ان الزامات کی اعلیٰ سطح پر انکوائری کرائی جائے، جبکہ انہوں نے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی اسپیکٹرم نیلامی بھی شفاف طریقے سے کی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ٹیلی کام بل کو لے کر میڈیا میں بے جا تشہیر کی گئی اور یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس قانون کے ذریعے کسی کی ذاتی پراپرٹی پر قبضہ ہونے جا رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کمیٹی کو اس بل کے عمل میں کسی کو بھی نوازے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملے، اور قومی اسمبلی سے یہ بل چھ اہم ترامیم کے ساتھ منظور ہوا ہے۔ وزیر قانون نے واضح کیا کہ ملک کی خواتین اور نوجوان اس وقت گھر بیٹھے فری لانسنگ کے ذریعے روزگار کما رہے ہیں اور یہ بل بنیادی طور پر ان ہاؤسنگ سوسائٹیز کے حوالے سے تھا جو معاہدے کر کے مکر جاتی ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہریوں کی ذاتی زمینوں سے فائبر آپٹک گزارنے کے لیے مالکان کی باقاعدہ اجازت لینا قانونی طور پر لازمی ہے، اور اگر کوئی شہری انٹرنیٹ کے لیے اپنی ذاتی پراپرٹی نہیں دینا چاہتا تو یہ اس کا قانونی حق ہے، حکومت کسی کی ذاتی پراپرٹی کو زبردستی متاثر نہیں کرے گی۔

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کا پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایم بی سومرو کی خوش دامن کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (پی آر اے) کے صدر ایم بی سومرو کی خوش دامن کے انتقال پر گہرے دکھ، رنج اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کے روز سینیٹ سیکرٹریٹ سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے پی آر اے کے صدر ایم بی سومرو اور ان کے تمام اہل خانہ سے دلی تعزیت اور مقتدر ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس انتہائی کٹھن گھڑی میں وہ غمزدہ خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

انہوں نے مرحومہ کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے خصوصی دعا کرتے ہوئے التجا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے جوارِ رحمت میں اعلیٰ جگہ عطا فرمائے، ان کی کامل مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں بلند مقام نصیب کرے اور تمام سوگوار خاندان کو یہ ناقابلِ تلافی صدمہ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔

کارگل جنگ کے ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، ملک بھر میں خصوصی دعائیں

کاشف عباسی , JULY 05,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

کارگل جنگ کے عظیم ہیرو اور نشانِ حیدر پانے والے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کا یومِ شہادت آج ملک بھر میں انتہائی عقیدت، مقتدر احترام اور قومی جذبے کے ساتھ منایا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، اس اہم موقع پر ملک بھر کی مساجد میں شہدائے وطن کے بلندیِ درجات، مغفرت اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، بقا اور تزویراتی استحکام کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔ مساجد اور مقتدر فورمز پر علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید اور دیگر شہداء کی دفاعِ وطن کے لیے پیش کی جانے والی لازوال قربانیوں پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

علماء کرام نے اپنے خطبات اور بیانات میں اس بات پر خصوصی زور دیا کہ وطنِ عزیز کی حفاظت اور جغرافیائی حدود کے دفاع کے لیے اپنی معزز جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہداء پوری قوم کا حقیقی سرمایۂ افتخار ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہداء کی یہ عظیم قربانیاں قوم کی اجتماعی ذمہ داری اور ایک مقدس امانت ہیں، جنہیں کسی بھی صورت فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مذہبی دانشوروں کا کہنا تھا کہ شہدائے پاکستان کی ان بے مثال قربانیوں نے ہی وطن کے امن، بقا، آزادی اور ملکی استحکام کو ہمیشہ کے لیے مضبوط اور مقتدر بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ زندہ اور باوقار قومیں اپنے مقتدر شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ یاد رکھتی ہیں۔

مقررین نے مزید کہا کہ جو قومیں اپنے شہداء کے لہو اور ان کی تزویراتی قربانیوں کی قدر کرتی ہیں، وہ دنیا میں ہمیشہ عزت، اتحاد اور پائیدار استحکام کی راہ پر گامزن رہتی ہیں۔ انہوں نے کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی پاک فوج میں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جرات، بے پناہ بہادری اور حب الوطنی کی ایک ایسی روشن مثال قائم کی ہے جو ہماری آنے والی تمام نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔ علماء نے عزم ظاہر کیا کہ شہداء کی یہ لازوال قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور بلند قومی وقار کی سب سے مضبوط اور پُرعزم علامت ہیں۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا کیپٹن کرنل شیر خان شہید کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت

منصور احمد, JULY 05,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 جولائی 2026ء

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے نشانِ حیدر پانے والے قوم کے عظیم ہیرو کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو ان کے یومِ شہادت پر شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔ اتوار کے روز وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اپنے پیغام میں کہا کہ وطنِ عزیز کے اس عظیم اور بہادر بیٹے کو پوری قوم کا سلام ہو، کیونکہ معرکہ کارگل کے فلک بوس پہاڑ کیپٹن کرنل شیر خان شہید کی لازوال بہادری اور شجاعت کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے کارگل کے محاذ پر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیتے ہوئے مقتدر جرات کے ساتھ دشمن کی فوج پر لرزہ طاری کر دیا تھا۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے شہید کے پُرعزم کردار کو سراہتے ہوئے مزید کہا کہ دشمن کا ہراول دستوں کی طرح بھرپور مقابلہ کرنے والا قوم کا یہ دلیر سپاہی آج بھی ہر پاکستانی کے دل میں زندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید نے بے مثال جرات سے لڑتے ہوئے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا اور جوانمردی و ملکی دفاع کی ایک ایسی مقتدر تاریخ رقم کی جو ہماری آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔ وزیرِ داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کیپٹن کرنل شیر خان شہید جیسے بہادر اور پُرعزم جوانوں کی موجودگی میں کوئی بھی دشمن وطنِ عزیز پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہیں کر سکتا، اور پوری قوم اپنے ان مقتدر شہداء کی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقات؛ باہمی تجارت کو پانچ ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ

محمود احمد, JULY 04,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، روابط، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت پاکستان اور ترکیہ کی اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام اہم پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کردہ اپنے ایک مقتدر بیان میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بتایا کہ تاریخی شہر استنبول میں صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات ان کے لیے باعثِ مسرت اور بڑا اعزاز تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کی گفتگو میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔

وزیر اعظم نے واضح کیا کہ ملاقات کے دوران اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا گیا کہ مختلف علاقائی و عالمی اختلافات کے پائیدار حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مکالمہ، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد مؤثر اور دیرپا راستہ ہیں۔ انہوں نے صدر رجب طیب اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک نے اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کے حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر کے متفقہ ہدف تک پہنچانے کے پُرعزم عزم کا دوبارہ اعادہ کیا ہے۔

اپنے دورے کی مزید تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے استنبول میں منعقدہ پاکستان–ترکیہ بزنس کانفرنس میں بھی شرکت کی، جہاں انہیں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ انہوں نے ترک تاجروں کے پُرعزم جذبے، جدت اور کاروباری صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس سے ان کے اس یقین کو مزید تقویت ملی ہے کہ صدر رجب طیب اردوان کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی و تجارتی شراکت داری اب ایک نئے، مضبوط اور روشن دور میں داخل ہو رہی ہے۔