اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر برطانوی پابندی کا تاریخی اقدام: پاکستان کا خیرمقدم اور مسئلہ فلسطین کے پائیدار حل کا عزم

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان نے برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمد کی جانے والی تمام مصنوعات اور اشیائے صرف پر مکمل پابندی عائد کرنے کے جرات مندانہ فیصلے کا پرجوش اور غیر مشروط خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان وزارتِ دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں دوٹوک الفاظ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کا مسلسل اور متنازع پھیلاؤ بین الاقوامی قوانین، انسانی حقوق کے چارٹر اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی سراسر کھلی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس قسم کے غاصبانہ اقدامات نہ صرف آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے دو ریاستی حل کے حصول کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کو بھی شدید ترین خطرات سے دوچار کر رہے ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے برطانیہ کے اس اقدام کے ساتھ ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن سمیت دنیا کے دیگر متعدد باوقار ممالک کے ان اعلانات کا بھی پرتپاک خیرمقدم کیا ہے جن میں انہوں نے غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے خلاف بالکل اسی نوعیت کے سخت تجارتی و معاشی اقدامات پر غور کرنے اور بھرپور حمایت کا اظہار کیا ہے۔

دفترِ خارجہ کی جانب سے امید ظاہر کی گئی ہے کہ عالمی برادری کے یہ اجتماعی اور مربوط اقدامات مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جاری تمام غاصبانہ اور غیر قانونی سرگرمیوں کو سرسری طور پر مسترد کرنے کا ایک انتہائی واضح، دوٹوک اور سخت ترین پیغام ثابت ہوں گے۔

یاد رہے کہ برطانیہ کی حکومت نے 8 ستمبر کو باضابطہ اعلان کیا تھا کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار یا پیدا ہونے والی تمام اشیا کی برطانیہ درآمد پر پابندی عائد کرے گی۔ برطانوی حکومت کے مطابق یہ فیصلہ فرانس اور کینیڈا کے ساتھ مل کر کی گئی ایک مشترکہ سفارتی و اقتصادی کوشش کا حصہ ہے، جبکہ بستیوں کی توسیع، مالی معاونت اور انفراسٹرکچر میں براہِ راست مدد فراہم کرنے والی مخصوص کمپنیوں اور افراد کے خلاف بھی پابندیوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔ برطانوی انتظامیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ اقدامات براہِ راست اسرائیل کے ساتھ مجموعی دوطرفہ تجارت کو نشانہ نہیں بناتے بلکہ ان کا ہدف صرف غیر قانونی بستیوں اور ان کی توسیع سے جڑی مالی و تجارتی سرگرمیاں ہیں۔

بیان کے اختتام پر پاکستان نے ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کے ناقابلِ تسخیر حقِ خودارادیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی تمام تر سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر قائم ہو اور جس کا بابرکت دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

تارکینِ وطن ملک کا قیمتی اثاثہ، سفری دستاویزات کی فوری تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل قائم کرنے کی ہدایت: سینیٹر اعظم نذیر تارڑ

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا ہے کہ بیرون ملک مقیم تمام پاکستانی ملک کا انتہائی قیمتی معاشی و قومی اثاثہ ہیں، اور موجودہ حکومت ان کی سفری دستاویزات اور پاسپورٹ سے متعلق مسائل کے فوری حل اور سہولیات کی فراہمی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کی طرف سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کے مطابق وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کی صدارت میں پاسپورٹ رولز کمیٹی کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پاسپورٹ اینڈ امیگریشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے سینئر حکام اور نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے دوران وفاقی وزیر قانون نے سفری دستاویزات اور دیگر ضروری کاغذات کی بروقت، شفاف اور بغیر کسی تاخیر کے تصدیق کو یقینی بنانے کے لیے ایک مربوط، جدید اور تیز رفتار ڈیجیٹل نظام وضع کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ اعظم نذیر تارڑ نے حکام کو احکامات دیے کہ نادرست ریکارڈ کی تصدیق اور پاسپورٹس کے اجراء کے عمل کو سائلین کے لیے انتہائی آسان اور تیز بنایا جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تمام انتظامی تصدیقی مراحل کے لیے ایک واضح اور محدود ٹائم لائن مقرر کی جائے تاکہ اوورسیز پاکستانیوں کو سفارت خانوں یا پاسپورٹ دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں اور نہ ہی غیر ضروری تاخیر کا سامنا کرنا پڑے۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وزارتِ داخلہ کی سطح پر فوری الیکٹرانک طریقہ کار مرتب کرنے اور تمام ضروری تصدیقی کارروائیوں کو آن لائن پلیٹ فارم پر منتقل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم شہریوں کے تمام مسائل اور کاغذات کی ایک ہی جگہ پر تصدیق کے لیے جدید ون ونڈو پورٹل متعارف کرانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ وہ پاسپورٹ قوانین اور قواعد و ضوابط میں مزید بہتری لانے کے لیے فوری سفارشات اور تجاویز تیار کریں۔

وفاقی وزیر قانون نے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات دیے کہ وہ پاسپورٹ رولز کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس پورٹل اور آن لائن نظام کے حوالے سے ایک واضح اور قابلِ عمل لائحہ عمل پیش کریں تاکہ تمام تر کارروائی کو مکمل طور پر شفاف، موثر اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کا چوتھا اعلیٰ سطحی اجلاس: وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں اہم فیصلے منظور

منصور احمد,September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کے انتظامی، مالی، اور عملی (آپریشنل) امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد بنیادی فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلے توثیق کر کے نافذ العمل بنا دیے گئے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی مجموعی کارکردگی، ادارے کے انتظامی ڈھانچے، ہوابازی کے عملی امور اور مستقبل کی جامع اسٹریٹجی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، انتظامی امور کو زیادہ منظم و فعال کرنے، اور کمپنی کی آپریشنل استعداد کار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بورڈ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے اور اس کی انتظامی و آپریشنل صلاحیتوں میں ہر ممکن بہتری لائی جائے تاکہ یہ ادارہ وسیع الرقبہ صوبہ بلوچستان کے اندر اور باہر فضائی سفری سہولیات کی فراہمی میں اپنا کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے کہ کمپنی کے تمام مالی و انتظامی امور میں مکمل شفافیت، اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ نظم و نسق، اور کڑی نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام اہم فیصلوں پر بلا تاخیر اور بروقت عمل درآمد کے لیے ایک موثر اور شفاف عملدرآمد میکنزم تیار کیا جائے۔

بورڈ کے اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد، اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ادارے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں۔

پائیدار قومی ترقی اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے خواتین کو مکمل طور پر بااختیار بنانا ناگزیر ہے: قائم مقام صدر سید یوسف رضا گیلانی

کاشف عباسی , September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

قائم مقام صدر مملکت اور چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان میں پائیدار قومی، معاشی اور جمہوری ترقی اس وقت تک مکمل اور مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک ملک کی نیمی آبادی یعنی خواتین کو تمام ریاستی اداروں، معیشت اور پالیسی سازی میں مساوی نمائندگی اور قیادت کے مکمل مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔

اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے زیرِ اہتمام منعقدہ “پاکستان ویمن لیڈرشپ اینڈ پالیسی سمٹ 2026” کے عظیم الشان اور پروقار اجلاس سے بطور مہمانِ خصوصیہ خطاب کرتے ہوئے قائم مقام صدر نے چیمبر آف کامرس اور تمام دیگر شراکت داروں کی کاوشوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کانفرنس دو انتہائی اہم اور ناگزیر قومی ترجیحات یعنی خواتین کی قائدانہ صلاحیتوں کی آبیاری اور موثر و عملی پالیسی سازی کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کا سبب بنی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے سمٹ میں موجود معاشی ماہرین، صنعتکاروں اور پالیسی سازوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی حقیقی معاشی طاقت کو بیدار کرنے کے لیے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خواتین صرف ترقی اور فوائد سے مستفید ہونے والی محض صارفین نہ ہوں، بلکہ وہ معاشی میدان میں بحیثیت کامیاب تاجر، صنعتکار، پیش ور ماہر، ڈیجیٹل جدت کار اور قائدانہ کردار ادا کرنے والی رہنما کے طور پر معیشت کی بنیادی محرک بنیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چاہے کسی بھی دور دراز علاقے یا پس منظر سے تعلق رکھنے والی خاتون ہو، اسے معیاری تعلیم، مالی وسائل، جدید ترین ٹیکنالوجی، بین الاقوامی مارکیٹوں اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی تک بلاامتیاز مساوی اور آسان رسائی میسر ہونی چاہیے۔

قائم مقام صدر مملکت نے اپنے خطاب میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے انقلابی اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عالمی سطح پر تسلیم شدہ پروگرام کے ذریعے مالی معاونت کی رقم براہِ راست مستحق خواتین کے ہاتھوں میں پہنچانے سے گھریلو نظام کے اندر معاشی فیصلہ سازوں کے طور پر ان کے وجود کو بے پناہ تقویت ملی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض عارضی امداد نہیں بلکہ مالی انحصار سے خود مختاری اور باوقار بااختیاری کی جانب ایک اہم تاریخی تبدیلی کی علامت ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بینکوں اور مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی زیرِ قیادت کام کرنے والے کاروباروں اور نئے اسٹارٹ اپس کے لیے مالی سرمائے اور قرضوں کی فراہمی کے عمل کو انتہائی آسان اور سہل بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سطح پر ایک ایسا شفاف ماحولیاتی نظام قائم کرنا ہوگا جہاں جب کسی خاتون کے پاس کوئی بھی تخلیقی یا تجارتی تصور ہو تو اسے سستے اور آسان مالی وسائل، منڈیوں تک رسائی، اور میرٹ کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی تمام تر سہولیات بغیر کسی صنفی رکاوٹ کے فراہم کی جائیں۔

قائم مقام صدر نے پاکستان کی تاریخ کی ان عظیم اور جرات مند خواتین کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے تمام روایتی رکاوٹوں کو توڑ کر ملکی تاریخ کو نئی سمت دی۔ انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم شائستہ اکرام اللہ اور بالخصوص سابق وزیراعظم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک مسلم اکثریتی ملک کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بن کر ایسی چٹانوں کو توڑا جنہیں تسخیر کرنا طویل عرصے تک ناممکن سمجھا جاتا تھا، اور ان کا وہ تاریخی سفر آج بھی خواتین کو عوامی زندگی میں آگے آنے اور قیادت سنبھالنے کی مسلسل ترغیب دیتا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اعلان کیا کہ جب خواتین کی قیادت مضبوط ہوتی ہے تو خاندان خوشحال ہوتے ہیں، خواتین کی معاشی شمولیت سے قومیں ترقی کرتی ہیں اور جب خواتین پالیسی سازی میں شریک ہوتی ہیں تو جمہوریت زیادہ شفاف، منصفانہ اور پائیدار بنتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر قائم مقام صدر نے اسلام آباد چیمبر کے نمایاں ارکان میں شیلڈز اور اسناد بھی تقسیم کیں، جبکہ چیمبرز کی قیادت کی جانب سے قائم مقام صدر کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

بلوچستان میں خواتین اور کمسن بچیوں پر تشدد، تیزاب گردی اور قتل کے واقعات پر شدید تشویش: حقوقِ نسواں کی تنظیموں کا حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ

روزینہ اسماعیل, September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے بلوچستان میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران خواتین اور کمسن بچیوں کے خلاف مبینہ تشدد، بدترین قتل، تیزاب گردی، اور جنسی زیادتی کے واقعات میں اچانک ہونے والے خطرناک اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تمام متعلقہ سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری، شفاف اور مؤثر اقدامات کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

جاری کردہ مشترکہ پریس ریلیز میں دونوں معتبر حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے کچلاک میں 15 سالہ کمسن لڑکی کے مبینہ قتل، مستونگ کے علاقے کلی ببری میں ایک خاتون پر تیزاب پھینکنے اور شدید تشدد، تربت کے علاقے سے ایک خاتون کی لاوارث لاش ملنے، اور ضلع نوشکی کے علاقے احمد وال میں 9 سالہ معصوم بچی کے مبینہ جنسی استحصال، بے دردی سے قتل اور لاش چھپانے کے دلخراش واقعات کو معاشرے اور ریاست کے لیے انتہائی تشویشناک اور شرمناک قرار دیا ہے۔

تنظیموں کے نمائندوں نے واضح کیا کہ خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے سفاکانہ مظالم کا بڑھنا پورے معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے سنگین جرائم کے سدباب کے لیے صرف ابتدائی اطلاع یعنی مقدمات (ایف آئی آر) کا درج کر لینا ہی کافی نہیں ہوتا، بلکہ ملزمان کی فوری گرفتاری، سائنسی و جدید بنیادوں پر تفتیش، تیز ترین عدالت انصاف اور متاثرین کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط اور قائم بالذات نظام تشکیل دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ تنظیموں نے صوبائی حکومت، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان تمام واقعات کا سخت نوٹس لے کر ملزمان کو فوری کٹہرے میں لایا جائے۔

طبی اور فرانزک سہولیات کی عدم دستیابی پر گہری تشویش

ایواجی الائنس اور عورت فاؤنڈیشن نے صوبے بھر میں بنیادی طبی اور فرانزک سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال نوشکی میں ضروری پوسٹ مارٹم کے لیے لیڈی سرجن یا ماہر ڈاکٹروں کی غیر موجودگی اور بلوچستان کے تمام دیگر اضلاع میں پولیس سرجنز کی شدید قلت ایسے حساس ترین اور سنگین مقدمات کی سائنسی تحقیقات اور مظلوموں کو انصاف کی فراہمی کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ حقوقِ نسواں کی تنظیموں نے حکومتِ بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ تمام اضلاع، خصوصاً دور دراز علاقوں میں مناسب طبی، فرانزک، نفسیاتی اور قانونی سہولیات کی فراہمی فوری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو بلا تاخیر انصاف مل سکے۔

متاثرین کے تحفظ اور بحالی کے لیے مربوط نظام کی ضرورت

مشترکہ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ خواتین اور بچیوں پر تشدد کے خلاف ایک ایسا جامع قانونی و انتظامی ردِعمل وقت کی اہم ضرورت ہے، جس میں متاثرین کا مکمل تحفظ، ان کی رازداری، مفت طبی علاج، نفسیاتی علاج، اور مکمل قانونی امداد شامل ہو۔ دونوں تنظیموں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان پولیس، محکمہ صحت، پراسیکیوشن، محکمہ سماجی بہبود، اور محکمہ حقوقِ نسواں کے درمیان ایک ایسا مضبوط آن لائن اور عملی رابطہ نظام قائم کیا جائے تاکہ حساس مقدمات کی کارروائی میں حائل رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ پریس ریلیز کے اختتام میں واضح کیا گیا کہ خواتین اور بچوں کی حفاظت کے لیے نئی قانون سازی کے ساتھ ساتھ پہلے سے موجود قوانین پر بغیر کسی سیاسی و قبائلی مراعات کے، بلاامتیاز عمل درآمد یقینی بنانا ہو گا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے احتجاج کو تین ماہ مکمل: کئی اضلاع میں شٹر ڈاؤن ہڑتال

محمود احمد, September 09,2026

مظفرآباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ مطالبات اور احتجاجی تحریک کو مسلسل تین ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔ تحریک کے نوے دن پورے ہونے پر خطے کے مختلف شہروں میں ایک بار پھر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی ہے جس سے عوامی و تجارتی زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے حقوق اور چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری کے لیے رواں برس 9 جون کو بھمبر کے مقام سے دارالحکومت مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا تھا، جسے آج 9 ستمبر کو پورے تین ماہ مکمل ہو چکے ہیں۔

اس طویل احتجاجی سلسلے کو مزید تیز کرنے کے لیے تنظیم کی اعلیٰ قیادت نے رواں ماہ کی 5 تاریخ کو اپنے مطالبات کے حق میں پورے خطے میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کرنے کا نیا اعلان کیا تھا۔

اس ہڑتال کی کال پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جزوی شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہر کے مرکزی تجارتی علاقے پلیٹ اپر اڈہ میں واقع تمام بڑی مارکیٹس اور دکانیں مکمل طور پر بند ہیں، جبکہ دوسری جانب بینک روڈ اور ٹالی منڈی کے علاقوں میں کاروباری مراکز اور دکانیں کھلی ہیں۔ اس کے برعکس ضلع باغ اور ضلع کوٹلی میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے جہاں تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہیں۔

احتجاج اور ہڑتال کے باعث خطے بھر میں سڑکوں پر عمومی ٹرانسپورٹ اور گاڑیوں کی روانی معمول کے مقابلے میں انتہائی کم ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہریوں اور مسافروں کو شديد دشواری کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع باغ میں مقامی ضلعی انتظامیہ نے ہڑتال کرنے اور دکانیں بند رکھنے والے متعدد تاجروں کے خلاف سخت انتظامی کارروائی کرتے ہوئے ان کی دکانوں کو سیل کر دیا ہے، جس کے بعد علاقے میں انتظامیہ اور تاجروں کے مابین کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

بلوچستان میں پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کے خوفناک آپریشنز: خاران اور واشک میں 11 شدت پسند ہلاک

کاشف عباسی , September 09,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے باضابطہ جاری کردہ اعلامیے میں دعویٰ کیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے حساس اضلاع خاران اور واشک میں 6 اور 7 ستمبر کو کارروائیاں کرتے ہوئے 11 خطرناک شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

عسکری ترجمان آئی ایس پی آر کے باضابطہ بیان کے مطابق، شدت پسندوں کے ایک مسلح گروہ نے 6 ستمبر کو ضلع خاران کی مرکزی شاہراہ کو زبردستی بند کر کے ٹریفک کی عمومی روانی کو بری طرح متاثر کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی تھی۔ اطلاع ملتے ہی سکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر پیش قدمی کرتے ہوئے شدت پسندوں کو گھیر لیا، جہاں شدید فائرنگ کے تبادلے اور مقابلے کے نتیجے میں 8 شدت پسند موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

آئی ایس پی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ 7 ستمبر کو ضلع واشک کے پیچیدہ اور دور دراز علاقے میں شدت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاعات پر ان کے خفیہ ٹھکانے پر ہدف پر مبنی کارروائی کی گئی۔ سکیورٹی فورسز اور مسلح عناصر کے درمیان فائرنگ کے سخت تبادلے کے بعد مزید 3 شدت پسند انجام کو پہنچے۔

شعبہ تعلقات عامہ نے تصدیق کی ہے کہ ان دونوں کامیاب اور منظم کارروائیوں کے دوران شدت پسندوں کے تحویل سے 2.9 ٹن کی بڑی مقدار میں انتہائی حساس اور خطرناک بارودی مواد بھی برآمد کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ بم دھماکے اور آئی ای ڈیز تیار کرنے میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں صفائی اور سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ بلوچستان میں امن کو تباہ کرنے والے عناصر کا بلا تفریق مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔

ستمبر کی ملک گیر ذیلی انسدادِ پولیو مہم کے دوران 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے؛ ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے لیے خصوصی اقدامات مکمل

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے ستمبر میں منعقد ہونے والی آئندہ ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم سے قبل ملک بھر میں خدمات انجام دینے والے لاکھوں فرنٹ لائن ورکرز کے یومیہ معاوضے میں 28 فیصد کا بڑا اضافہ کرنے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔

حکومتی شیڈول کے مطابق یہ اہم ذیلی مہم 21 سے 27 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران بلوچستان، گلگت بلتستان، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ کے 115 مخصوص و حساس اضلاع میں پولیو ٹیمیں 3 کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائیں گی۔

وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو محترمہ عائشہ رضا فاروق کی قیادت میں پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام ملک بھر میں قطرے پلانے والی فرنٹ لائن ورک فورس کے لیے انتظامی و مالی معاونت کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔ معاوضے میں 28 فیصد اضافے کا یہ اہم ترین فیصلہ ملک بھر میں پولیو ورکرز کے ساتھ منعقد کیے گئے معلوماتی لسننگ سیشنز کے بعد کیا گیا، جن میں ورکرز نے پروگرام کی مرکزی قیادت سے براہِ راست بات چیت کرتے ہوئے فیلڈ کے تجربات، درپیش چیلنجز اور اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔

پروگرام کی جانب سے پولیو ورکرز کی حفاظت، عزت و وقار اور فلاح و بہبود کے تحفظ کے لیے متعدد بنیاد کاری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان اقدامات میں منتخب علاقوں میں قائم فرنٹ لائن ورکرز سپورٹ سینٹرز میں بنیادی سہولیات کی بہتری، تمام ورکرز کو باضابطہ شناختی کارڈز کا اجراء، اور فیلڈ میں ان کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نئی آپریشنل سیفٹی گائیڈ لائنز کی تیاری شامل ہے۔ یہ تمام تر پیش رفت وزیراعظم کی خصوصی ہدایات کی روشنی میں کی جا رہی ہے تاکہ پولیو ورکرز کی قربانیوں کا اعتراف کیا جا سکے۔

محترمہ عائشہ رضا فاروق نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے فرنٹ لائن ورکرز پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کی جدوجہد میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ہر روز ہر بچے تک پہنچنے اور کمیونٹیز کی مدد کے لیے انتہائی مشکل حالات میں اپنی ذمہ داریوں سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یومیہ معاوضے میں 28 فیصد اضافہ ورکرز کی انتھک محنت، لگن اور عظیم خدمات کا اعتراف ہے اور حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر ورکر فیلڈ میں خود کو محفوظ اور معزز محسوس کرے۔

فرنٹ لائن ورکرز کی انتھک خدمات اور سائنسی حکمتِ عملی کی بدولت پاکستان نے پولیو کے خاتمے میں تاریخی پیش رفت کی ہے۔ 1990ء کی دہائی کے اوائل میں جہاں سالانہ اندازاً 20,000 پولیو کیسز سامنے آتے تھے، وہیں ملک میں پولیو کیسز میں 99.8 فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ کیسز کی تعداد کم ہو کر سال 2025 میں 31 اور سال 2026 میں اب تک صرف 3 کیسز تک محدود رہ گئی ہے۔

پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام نے تمام والدین، سرپرستوں، دینی علماء، اور سول سوسائٹی سے اپیل کی ہے کہ وہ ستمبر کی مہم میں ان پولیو ٹیموں کا اپنے گھروں میں احترام کے ساتھ استقبال کریں اور پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے دو قطرے لازمی پلوائیں۔ پولیو پروگرام نے اس مشن میں گلوبل پولیو ایریڈیکیشن انیشی ایٹو (جی پی ای آئی) کے شراکت داروں کے مسلسل تعاون پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا۔

ڈیجیٹل سیکیورٹی اور فراڈ کی روک تھام کے لیے پی ٹی اے کا بڑا اقدام: غیر فعال سمز پر چلنے والے واٹس ایپ اکاؤنٹس بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ

منصور احمد,September 09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں سائبر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور مالیاتی و ڈیجیٹل فراڈ کی روک تھام کے لیے غیر فعال، منسوخ شدہ اور طویل عرصے سے زیرِ استعمال نہ رہنے والی سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر بلاک کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔

پی ٹی اے کے اعلیٰ حکام کے مطابق، موبائل آپریٹرز کی جانب سے منسوخ یا بند کی جانے والی سمز کے نمبرز پر پہلے سے بنے ہوئے واٹس ایپ اکاؤنٹس اکثر ناپسندیدہ اور غیر قانونی سرگرمیوں، آن لائن مالیاتی فراڈ، اور دھوکہ دہی کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس سیکیورٹی روزن کو بند کرنے اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پی ٹی اے نے ان تمام اکاؤنٹس کو مکمل طور پر بلاک کرنے کی پالیسی مرتب کی ہے۔

پی ٹی اے حکام نے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ غیر فعال سمز سے منسلک واٹس ایپ اکاؤنٹس کے خلاف کسی بھی وقت بلاکنگ کی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔ اتھارٹی نے تمام موبائل صارفین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کو فوری طور پر اپنے موجودہ، فعال اور ذاتی نام پر رجسٹرڈ موبائل نمبرز کے ساتھ منسلک کریں تاکہ ان کا اکاؤنٹ بغیر کسی پریشانی کے فعال رہے۔

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق جو صارفین اپنا پرانا موبائل نمبر تبدیل کر چکے ہیں یا ان کی سم غیر فعال ہو چکی ہے، وہ واٹس ایپ کی ترتیبات میں جا کر “چینج نمبر” کا آپشن فوری استعمال کریں۔ بروقت نمبر تبدیل کرنے سے صارفین اپنے واٹس ایپ اکاؤنٹس کا کنٹرول بحال رکھ سکیں گے اور ان کے ڈیٹا کا تحفظ بھی یقینی ہو سکے گا۔

پی ٹی اے نے صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے نام پر درج سمز کی موجودہ حیثیت کی باقاعدگی سے تصدیق کریں اور غیر فعال نمبرز کی صورت میں وقت ضائع کیے بغیر ضروری قانونی و انتظامی اقدامات مکمل کریں۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی اور حتمی مقصد سائبر کرائمز پر قابو پانا، جعلی و گمراہ کن پیغامات کا سدباب کرنا اور ملکی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

دفترِ خارجہ کا سعودی عرب پر حوثی حملوں پر شدید تشویش کا اظہار: یمن تنازع کے سیاسی و پُرامن حل کے لیے خطرہ قرار

منصور احمد,September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے سعودی عرب کے متعدد جنوبی شہروں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں آبادی اور اہم اقتصادی تنصیبات پر یمن کے حوثی جنگجوؤں کے متواتر حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام یمن تنازع کے پُرامن، سیاسی اور دیرپا حل کے لیے کی جانے والی عالمی و علاقائی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ عام شہریوں اور معاشی مراکز کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے یہ بزدلانہ حملے برادر اسلامی ملک سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی اور سنگین خلاف ورزی ہیں۔ دفترِ خارجہ نے زور دے کر کہا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدام پوری مشرقِ وسطیٰ کے امن، توازن اور پائیدار استحکام کے لیے گہرا خطرہ بن رہے ہیں۔

ترجمان نے پرزور الفاظ میں اعادہ کیا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اس کی سیکورٹی و سلامتی کے لیے اپنی مکمل اور غیر مشروط حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔

وزارتِ خارجہ کے بیان میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان، اقوامِ متحدہ کے چارٹر (منشور) اور تسلیم شدہ بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں سعودی عرب کے اپنے علاقے، عوام اور معاشی اثاثوں کے دفاع کے لیے اٹھائے جانے والے تمام تر ضروری اقدامات اور اس کے جائز عسکری و دفاعی حق کی مکمل طور پر پرزور حمایت کرتا ہے۔

ترجمانِ دفترِ خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ حکومتِ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے، پائیدار امن کی بحالی اور دیرپا استحکام کے حصول کے لیے ہر ممکن سفارتی کوششیں اور اپنا کلیدی کردار مسلسل جاری رکھے گی تاکہ خطہ مزید تصادم اور بے چینی سے محفوظ رہ سکے۔

پاکستان کی سعودی عرب میں شہری تنصیبات پر حوثی حملوں کی شدید مذمت: وزیراعظم شہباز شریف کا کامل یکجہتی کا اظہار

کاشف عباسی , September 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

پاکستان نے سعودی عرب کی حدود میں شہری علاقوں اور اہم توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حوثی جنگجوؤں کے حالیہ ڈرون و بیلسٹک میزائل حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں پر ایسے بزدلانہ حملے نہ صرف معصوم انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ ہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے نازک امن اور سلامتی کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے سماجی رابطے کی بین الاقوامی ویب سائٹ “ایکس” پر جاری کردہ اپنے خاص اور باضابطہ بیان میں سعودی عرب کے جنوبی شہروں میں شہری اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

وزیراعظم نے اپنے بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان شریر حملوں کے نتیجے میں متعدد بے گناہ افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین، سعودی قیادت اور برادر سعودی عوام کے ساتھ پاکستان کی جانب سے کامل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی پرتشدد عسکری کارروائیاں عام انسانی آبادی کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ علاقائی توازن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہیں۔

شہباز شریف نے پرزور انداز میں اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ کی طرح سعودی عرب کی جغرافیائی خودمختاری، ملک گیر سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اپنے مضبوط، تاریخی اور اصولی موقف پر قائم ہے۔ انہوں نے ان حملوں میں زخمی ہونے والے تمام افراد کی جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار اور خصوصی دعا بھی کی ہے۔

پاکستان کی جانب سے یہ اہم سفارتی بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی حکام کے مطابق یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے ابہا، خمیس مشیط، جیزان اور نجران میں کیے گئے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ان حملوں سے کچھ توانائی کی تنصیبات کا آپریشن بھی متاثر ہوا ہے۔

دوسری طرف حوثی عسکری ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن پر ہونے والے حالیہ سعودی فضائی حملوں کے جواب میں طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے سعودی عرب کے اقتصادی و عسکری مراکز پر جوابی حملہ کیا ہے۔ سرحد کے دونوں اطراف سے بڑھتی ہوئی اس شدید عسکری کشیدگی نے بین الاقوامی تجارتی راستوں اور عالمی توانائی کی منڈیوں کی سلامتی پر شدید تشویش کے بادل پھیلا دیے ہیں۔

پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی ایک روزہ سروس ڈلیوری رپورٹ جاری: ایک دن میں تقریباً دو لاکھ مریضوں کو طبی سہولیات فراہم

کاشف عباسی , September 08,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن پنجاب نے صوبے کے تمام اہم سرکاری ہسپتالوں اور ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز کی ایک روزہ شاندار سروس ڈلیوری رپورٹ باقاعدہ طور پر جاری کر دی ہے۔

رسمی رپورٹ میں فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 7 ستمبر کو صوبہ پنجاب کے مجموعی طور پر 57 مختلف سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1 لاکھ 98 ہزار 637 مریضوں کو بہترین اور مفت طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں سے 1 لاکھ 37 ہزار 997 مریضوں کا آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کے اندر علاج معالجہ کیا گیا، جبکہ 60 ہزار 640 انتہائی تشویشناک اور ہنگامی نوعیت کے مریضوں کو مختلف ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں فوری اور بروقت طبی خدمات مہیا کی گئیں۔

رپورٹ کے تفصیلی خاکہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت تمام اضلاع میں قائم سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں میں محض ایک دن کے دوران 2 ہزار 221 مریضوں کی مختلف ہنگامی و معطل شدہ سرجریز کامیابی سے انجام دی گئیں، 693 سی ٹی سکینز اور 1 ہزار 959 ایم آر آئی ٹیسٹ کیے گئے، جبکہ دل کے عارضے میں مبتلا 454 مریضوں کی انتہائی پیچیدہ انجیوگرافیز کے عمل کو مکمل کیا گیا۔

صوبائی محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اس کارکردگی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبائی ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 77 ہزار 800 مریضوں کے تفصیلی تشخیصی و لیبارٹری ٹیسٹ بھی انجام دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومتی پالیسی کے تحت ہسپتالوں میں آنے والے مستحق اور عام شہریوں کو 59.8 ملین روپے کی خطیر رقم کی مالیت کی ادویات بالکل مفت فراہم کی گئی ہیں تاکہ عوامی سطح پر صحت کے معیار کو بہتر اور آسان بنایا جا سکے۔

سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق: 18 مقدمات میں مطلوب اور روپوش تھے، لاہور پولیس

کاشف عباسی , September 07,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مختلف قانونی کیسز میں پولیس کو اشتہاری ملزم کے طور پر 18 مقدمات میں درکار تھے۔

ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش اور روپوشی کی حالت میں تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر ضروری سیکیورٹی و قانونی ضوابط کی تکمیل کے بعد انہیں جلد از جلد مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیشی ٹیمیں باقاعدہ تفتیش کی غرض سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور پولیس کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، امن و امان کی خرابی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائیاں زیرِ التواء ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے محض “سیاسی انتقام” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے پہلے دعوے پر ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور پولیس نے ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق، مختلف احتساب و انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے عدم پیشی پر ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ ادھر، حماد اظہر کی والدہ نے ان کی بازیابی اور تحفظ کی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔

پوری قوم کو پاک فضائیہ پر فخر ہے، شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی: یومِ فضائیہ پر وزیراعظم شہباز شریف کا پیغام

کاشف عباسی , September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے یومِ فضائیہ کے موقع پر پاک فضائیہ کے بہادر اور جری شاہینوں کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم کو پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر ہے اور ملکی دفاع کی خاطر اپنے پران نچھاور کرنے والے شہداء کی عظیم قربانیاں ہمیشہ قومی یادوں میں نقش رہیں گی۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری کیے گئے اپنے خصوصی اور اہم پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ یومِ فضائیہ کے پروقار موقع پر وہ پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں کی غیر معمولی جرات، اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ مہارت اور ناقابلِ تسخیر جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے تاریخی حقائق کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ ستمبر 1965ء کی جنگ میں پاکستانی فضائی حدود کے بہادرانہ دفاع سے لے کر مئی 2025ء کے معرکۂ حق کے دوران دشمن کو دیے گئے فیصلہ کن اور دندان شکن جواب تک، پاک فضائیہ نے شجاعت، فنی مہارت، درست نشانے اور ایثار و قربانی کی اپنی سدا بہار اور قابلِ فخر روایت کو پوری شان سے برقرار رکھا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غیر معمولی عملیاتی تیاری، جدید ترین ٹیکنالوجی اور سائنسی علوم میں مکمل مہارت، اور پاک فوج کی دیگر دفاعی شاخوں کے ساتھ بہترین عملیاتی ہم آہنگی کے ذریعے پاک فضائیہ نے بارہا دنیا پر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ہر آنے والے درپیش چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی جغرافیائی حدود اور خودمختاری کے دفاع کی مکمل اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی شہداء کو عقیدت و احترام سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وطن کے لیے جان دینے والے سرفروشوں کی لازوال داستانیں قوم کا اصل اثاثہ ہیں۔ پوری قوم اپنے شاہینوں کی ناقابلِ تسخیر جرات، بے مثال صلاحیتوں اور سرحدوں کے تحفظ کے لیے فراہم کی جانے والی خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان پر ہمیشہ فخر محسوس کرتی رہے گی۔

١٩٦٥ء سے ٢٠٢٦ء تک دنیا کے دفاعی تصورات تبدیل ہو چکے؛ اب جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں سے نہیں بلکہ سائبر، سپیس اور اے آئی سے جیتی جائیں گی

منصور احمد,September 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ فضائیہ کے تاریخی موقع پر کہا ہے کہ 1965ء سے لے کر 2026ء تک گزرنے والے ان دہائیوں میں دنیا کے دفاعی تصورات اور جنگی تزویرات میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں کسی بھی ملک کے دفاع کا تصور صرف روایتی ہتھیاروں جیسے ٹینکوں، توپوں اور جیٹ طیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت ، جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی نئے اور انتہائی طاقتور دفاعی محاذ بن چکے ہیں۔

7 ستمبر یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی اور فکر انگیز قومی پیغام میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سلامتی اور خودمختارانہ وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ان نئے اور ابھرتے ہوئے افق سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائنسی علوم اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نوجوان ہی ملکی سلامتی اور خودمختاری کے حقیقی اور مضبوط ترین محافظ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ہائبرڈ وارفیئر کے چیلنجز کے پیشِ نظر پاکستان کو علم، تحقیق، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اختراع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانا ہوگا۔

پروفیسر احسن اقبال نے آئندہ دہائیوں کے دفاعی تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی ، بغیر پائلٹ کے آپریشنل سسٹمز، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں محض غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے گاہک کے بجائے خود تحقیق اور مقامی اختراع کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا خودکفیل ملک بننے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ 2026ء کی جدید دنیا میں قومی سلامتی اب صرف عسکری یا روایتی طاقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ مستحکم و پائیدار معیشت، باصلاحیت اور ہنر مند انسانی وسائل ، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تسخیر قومی یکجہتی بھی کسی بھی ملک کی خودمختاری کے بنیادی ستون ہیں۔

پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی , September 07,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، عظیم شہداء اور جری غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی تاریخی خدمات، بے مثال قربانیاں اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، کوئٹہ سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر ہیرو راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ ان بہادر سپوتوں کا عظیم ایثار اور خون آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاک فضائیہ کی تاریخی اور حالیہ پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کر کے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس مؤثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر دنیا میں فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کا فضائی دفاع مکمل طور پر محفوظ اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 7 ستمبر کا دن محض ایک روایتی قومی دن نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے بے لوث وفاداری کے جذبے کی تجدید کا ایک خاص موقع ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنے شاہینوں کی فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم ان کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک فضائیہ کے غازیوں و موجودہ افسران و جوانوں کی مزید سربلندی اور کامرانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ کا افسوسناک واقعہ: بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی) کے ضلعی صدر عبدالرحمان لانگو فائرنگ سے جاں بحق

منصور احمد,September 06,2026

نوشکی / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے ایک افسوسناک واقعے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت عبدالرحمان لانگو نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس و سیکیورٹی حکام کے مطابق، یہ ٹارگٹڈ حملہ اتوار کی شب نوشکی شہر کے جنوب مغرب میں واقع علاقے کلی بٹو میں پیش آیا، جہاں مسلح ملزمان نے عبدالرحمان لانگو کو ان کی رہائش گاہ کے بالکل باہر اندھا دھند فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ فائرنگ اتنی شدید تھی کہ وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے، جبکہ حملہ آور رات کے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

نوشکی پولیس کے ایس ایچ او عبدالحئی پرکانی نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے ٹارگٹ کلنگ کے اس واقعے کے مختلف پہلوؤں اور ممکنہ محرکات کو سامنے رکھتے ہوئے وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ عبدالرحمان لانگو کا شمار نوشکی کی بااثر اور متحرک سیاسی و سماجی شخصیات میں ہوتا تھا۔ وہ بلوچستان عوامی پارٹی کے ضلعی صدر کی حیثیت سے ذمہ داریاں ادا کرنے کے علاوہ ماضی میں یونین کونسل باغک کے منتخب چیئرمین بھی رہ چکے تھے۔

واقعے کی خبر پھیلتے ہی نوشکی شہر اور گردونواح میں شدید تشویش، غم و غصے اور خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی ہے۔ فی الوقت کسی بھی کالعدم عسکریت پسند تنظیم یا کالعدم گروپ نے اس ہائی پروفائل قتل کی ذمہ داری قبول کرنے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سنسنی خیز واقعہ: کوئٹہ کراچی شاہراہ کے قریب سے 6 نامعلوم افراد کی لاشیں برآمد

کاشف عباسی , September 06,2026

مستونگ / کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

بلوچستان کے حساس اور مرکزی ضلع مستونگ سے اتوار کے روز 6 نامعلوم افراد کی گولیوں سے چھلنی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں شدید سنسنی، خوف اور تحفظات کی لہر دوڑ گئی ہے۔

حکومتی و سرکاری ذرائع نے واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ لاشیں کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کے قریب دو الگ الگ مقامات سے ملی ہیں۔ محکمہ داخلہ حکومتِ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی سے رابطہ کرنے پر انہوں نے لاشوں کی برآمدگی کی تصدیق کی اور بتایا کہ اس سلسلے میں مستونگ پولیس نے باقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔

مستونگ پولیس کے باضابطہ اعلامیے کے مطابق، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ڈی سی ہاؤس کے قریب سے 1 لاش جبکہ دتو موڑ کے مقام سے 5 افراد کی لاشیں ملیں۔ ایس ایچ او سٹی عبدالرؤف بلوچ کی نگرانی میں پولیس کی نگران ٹیم نے لاشوں کو ضروری قانونی کارروائی اور شناخت کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔

تاہم، اس دردناک واقعے کے بعد مقامی رہائشیوں نے شدید تحفظات اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مستونگ کے مقامی رہائشی مالک بلوچ نے بتایا کہ لاشیں علی الصبح سڑک کے کنارے پھینکی گئی تھیں اور کافی دیر تک کھلے آسمان تلے سڑک کنارے پڑی رہیں۔

مقامی ذرائع نے یہ حیران کن انکشاف بھی کیا کہ پولیس اور ریسکیو اہلکار لاشوں کو اٹھا کر کوئٹہ منتقل کرنے کے لیے لے گئے تھے، لیکن پراسرار طور پر کچھ ہی دیر بعد انہیں دوبارہ لا کر مستونگ کی شاہراہ کے کنارے رکھ کر چھوڑ دیا گیا۔ شہریوں کے مطابق بعد ازاں ان لاشوں کو کسی سرکاری یا فلاحی ایمبولینس کے بجائے ایک زمیاد (Zamyad) گاڑی میں لاڈ کر کے نامعلوم جگہ منتقل کیا گیا۔

واقعے کے حقائق جاننے اور لاشوں کی منتقلی کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات پر مستونگ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے نہ تو فون کالز کا جواب دیا اور نہ ہی پیغامات کا کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔

قانون کی حکمرانی اور قومی یکجہتی سے ہی پاکستان کا دفاع و استحکام ممکن ہے: یومِ دفاع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام

منصور احمد,September 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یومِ دفاع و شہداء کے موقع پر افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور موجودہ عسکری قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ستمبر ہماری قومی و سیکیورٹی تاریخ کا وہ سنہری اور یادگار دن ہے جب پوری قوم نے سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر غیر متزلزل قومی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، اپنے ایک اہم اور تفصیلی قومی بیان میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 1965ء کی جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں نے دشمن کی عددی برتری کے مقابلے میں جس غیر معمولی جرات، پیش ورانہ عزم اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ملکی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے۔

انہوں نے کہا کہ شہداء کی پاکیزہ قربانیاں اور غازیوں کا جذبہ آج بھی قوم کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر نے شہداء کے سوگوار اہل خانہ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے اپنے پیاروں کی قربانی کے بعد بے مثال صبر اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر کے قوم کے سر کو فخر سے بلند رکھا۔

سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان بنیادی طور پر ایک امن پسند ملک ہے جو خطے میں پائیدار امن، خوشحالی اور استحکام کے لیے مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور سفارتی ذرائع پر کامل یقین رکھتا ہے؛ تاہم ملک کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے باہم متحد اور پرعزم ہے۔

وزیرِ قانون نے زور دیتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی، جمہوری اقدار کی پاسداری، آئین و قانون کی حکمرانی اور مضبوط ریاستی ادارے ہی کسی بھی ملک کی حقیقی دفاعی اور معاشی خودمختاری کی بنیادی ضمانت ہوتے ہیں۔ انہوں نے پوری قوم پر زور دیا کہ ہم شہداء کی قربانیوں سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ایک پرامن، قانون کی بالادستی پر مبنی اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا فعال قومی کردار ادا کریں۔

جنگیں ہتھیاروں سے نہیں، ایمان اور عزمِ محکم سے جیتی جاتی ہیں: یومِ دفاع پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا پاک افواج کو زبردست خراجِ تحسین

کاشف عباسی , September 06,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 6 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے یومِ دفاعِ پاکستان (6 ستمبر) کے تاریخی موقع پر اپنے خصوصی اور تفصیلی پیغام میں پاک فوج کے تمام افسران، بہادر جوانوں، عظیم شہداء اور غازیوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا دفاع مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر ہے اور قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز نے اپنے پیغام میں کہا کہ پوری پاکستانی قوم کو اپنی نڈر اور پیشہ ور پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاکستان نیوی کے کردار پر بے حد فخر ہے۔ انہوں نے آپریشن ردالفساد، ضربِ عضب اور دہشت گردی کے خلاف دیگر داخلی سیکیورٹی معرکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے وطنِ عزیز سے عسکریت پسندی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کے بالکل نئے اور اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام عوام دہشت گردی کے خلاف جاری اس طویل جنگ میں اگلی صفوں پر لڑنے والے افسروں اور جوانوں کی سلامتی اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت دعا گو ہیں۔ انہوں نے 1965ء کے معرکے کی تاریخی حقیقت کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک افواج نے دشمن کے دانت کھٹے کر کے ہمیشہ کے لیے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنگیں محض ہتھیاروں، بارود اور عددی برتری سے نہیں بلکہ غیر متزلزل ایمان، شجاعت اور پکے یقین و جذبے کے ساتھ جیتی جاتی ہیں۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آج کا پاکستان ایک ناقابلِ تسخیر دفاعی صلاحیت رکھنے والی تسلیم شدہ ایٹمی طاقت ہے، اور ملک کے عوام اپنی افواج اور خودمختاری پر پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد ہیں۔ دھرتی کی دفاعی سرحدوں پر سینہ سپر بہادر سپوت ہی ہماری قومی سلامتی کا اصل اثاثہ اور فخر ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں پاکستان کو درپیش جیو پولیٹیکل چیلنجز اور اندرونی و بیرونی خطرات قوم سے بے مثال اتحاد اور یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں۔ ملک میں عدم استحکام اور انتشار پیدا کرنے والی دشمن قوتوں کے تمام مذموم عزائم کو پوری قومی طاقت، عزم اور اتفاق کے ساتھ ہر محاذ پر ناکام بنانا ہو گا۔