پنجاب اسمبلی نے ‘انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026’ کثرتِ رائے سے منظور کر لیا

منصور احمد, August 31,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

پنجاب صوبائی اسمبلی نے انسدادِ دہشت گردی (پنجاب ترمیمی) بل 2026 باقاعدہ طور پر منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت دہشت گردی اور ہائی سیکیورٹی مقدمات کی سماعت کے دوران ججز، پراسیکیوٹرز، تفتیش کاروں، وکلاء اور گواہوں کی جان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کی راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بل پارلیمانی سیکرٹری برائے پارلیمانی امور خالد محمود رانجھا نے ایوان میں پیش کیا۔ بل کی منظوری کے دوران اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی تمام ترامیم کثرتِ رائے سے مسترد کر دی گئیں۔ اپوزیشن ارکان نے کارروائی کے دوران ایوان سے واک آؤٹ کیا، جس کے باعث ان کی ترامیم بھی منظور نہ ہو سکیں اور ایوان نے بل کو اصل شکل میں پاس کر دیا۔

بل کے متن کے مطابق اس قانون کا بنیادی مقصد انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں میں زیرِ سماعت حساس مقدمات اور عدالتی کارروائیوں کو مکمل طور پر محفوظ بنانا اور ججز، وکلاء، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے قانونی فریم ورک کو مضبوط کرنا ہے۔

اس قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالتوں کو محفوظ ٹیکنالوجی، ویڈیو کانفرنسنگ اور الیکٹرانک لنکس کے ذریعے مقدمات کی سماعت اور دیگر عدالتی کارروائیاں انجام دینے کا کامل اختیار حاصل ہو گا۔ خصوصی سیکیورٹی اور لاجسٹک مسائل کی صورت میں مقدمات کی سماعت جیل سے ویڈیو لنک کے ذریعے کی جا سکے گی اور تمام عدالتی کارروائی کی آڈیو و ویڈیو ریکارڈنگ محفوظ کی جائے گی۔

اس کے علاوہ ججز، پراسیکیوٹرز، پولیس افسران اور گواہوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر ان کی شناخت اور چہرہ یا آواز خفیہ رکھنے کے لیے وائس موڈیفکیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ بعض حساس مقدمات کی سماعت محفوظ اور مخصوص مقامات یعنی کیمرہ عدالتوں میں کی جا سکے گی اور وہاں رسائی صرف متعلقہ اور مجاز افراد تک محدود ہوگی۔

حکومت کا موقف ہے کہ دہشت گردی کے خلاف موجودہ قانونی فریم ورک ہائی سیکیورٹی مقدمات کی محفوظ سماعت کے لیے ناکافی تھا، اسی لیے جدید تقاضوں کے مطابق یہ نئی شقیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل، انسانی وقار اور بنیادی شہری آزادیوں سے متعلق آئینی ضمانتیں برقرار رہیں گی۔

قانون کے تحت حکومت گریڈ 20 یا اس کے مساوی عہدے کے ایک افسر کو خصوصی سیکیورٹی مقدمات کے لیے نامزد کرے گی۔ یہ افسر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت کے بعد اس بات کا تعین کرے گا کہ کون سے مقدمات غیر معمولی حفاظتی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اس نامزد اتھارٹی کو متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ کاری اور قانون پر عملدرآمد یقینی بنانے کے مکمل اختیارات حاصل ہوں گے جبکہ اس افسر کی شناخت اور تفصیلات بھی مکمل طور پر خفیہ رکھی جائیں گی۔

بلوچستان اسمبلی میں تیزاب گردی کے خلاف سخت قانون سازی کی متفقہ قرارداد منظور

محمود احمد, August 31,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

بلوچستان صوبائی اسمبلی نے صوبے بھر میں تیزاب پھینکنے کے دلخراش واقعات کی روک تھام اور ملزمان کو کڑی سزائیں دینے کے لیے مؤثر و جامع قانون سازی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک اہم قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی ہے۔

یہ قرارداد خواتین پارلیمانی کاکس کی جانب سے ایوان میں پیش کی گئی، جسے تمام حکمران و اپوزیشن ارکان نے اتفاقِ رائے سے منظور کیا۔ قرارداد پیش کرتے ہوئے رکنِ صوبائی اسمبلی شاہدہ رؤف نے حال ہی میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر ہونے والے تیزاب حملے کے بہیمانہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی صرف ایک فرد یا خاتون پر حملہ نہیں بلکہ خواتین کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور باوقار زندگی کے حق پر بھی سنگین اور ناقابلِ برداشت حملہ ہے۔

قرارداد کے متن میں نشاندہی کی گئی کہ بلوچستان میں خواتین کے خلاف تیزاب گردی جیسے سنگین اور روح فرسا جرائم وقتاً فوقتاً پیش آتے رہے ہیں، تاہم ان کے مکمل سدباب اور ملزمان کو قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے صوبائی سطح پر فی الوقت کوئی جامع اور مخصوص قانون موجود نہیں ہے۔ شاہدہ رؤف نے ایوان کو بتایا کہ یہی قانونی خلا ایسے گھناؤنے جرائم کے خاتمے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تیزاب حملے متاثرہ افراد کی جسمانی، ذہنی اور نفسیاتی صحت کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور نجی زندگی پر بھی ناقابلِ تلافی اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے فوری بنیادوں پر سخت قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

قرارداد کے ذریعے بلوچستان حکومت سے باقاعدہ سفارش کی گئی ہے کہ وہ موجودہ قوانین کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ضروری ترامیم تجویز کرے یا تیزاب حملوں کی مکمل روک تھام کے لیے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک نیا اور جامع قانون متعارف کرائے۔

استنبول میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس: پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کا سٹریٹیجک و دفاعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

منصور احمد, August 31,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور مسلح افواج کے سربراہان کا ایک اہم اور اعلیٰ سطحی مشترکہ اجلاس منعقد ہوا ہے۔ یہ اجلاس تینوں برادر اسلامی ممالک کے مابین طے پانے والے ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت قائم کردہ ‘سٹریٹیجک سیاسی و دفاعی کمیٹی’ کا پہلا باقاعدہ اجلاس تھا۔

اجلاس کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ اعلامیے کے مطابق، تینوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا سمیت پورے خطے میں پائیدار امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مکہ معاہدے کے طے شدہ فریم ورک کے تحت مل کر کام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے بین الاقوامی و علاقائی بحرانوں کے پرامن اور سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کشیدگی میں کمی اور فریقین کے مابین تحمل کے فروغ کی حمایت جاری رکھنے پر کامل اتفاق کیا ہے۔

اعلامیے کے مطابق، تینوں مسلم ممالک نے مکہ معاہدے کے تحت اپنے سہ فریقی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے اہم انتظامی اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔ اس اہم پیش رفت کا بنیادی مقصد باہمی یکجہتی کو مضبوط بنانا، مشترکہ دفاعی صلاحیت کو زیادہ موثر و فعال بنانا اور علاقائی امن کی عالمی کوششوں میں مثبت کردار ادا کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب میں ایک ‘مستقل سیکریٹریٹ’ قائم کیا جائے گا جس کی انتظامی سربراہی سیکریٹری جنرل کے پاس ہوگی۔ اعلامیے میں باضابطہ طور پر یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ابتدائی تین برس کی مدت کے لیے سیکریٹری جنرل کا یہ بااثر عہدہ پاکستان کے پاس رہے گا۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب دفاعی صنعت کے شعبے میں تعمیری تعاون، جدید ملٹری ٹیکنالوجی کی مشترکہ تیاری و پیداوار، اور مشترکہ جنگی مشقوں کے ذریعے اپنی دفاعی صلاحیتوں اور مسلح افواج کے باہمی رابطہ کار کو مزید مضبوط اور جدید بنائیں گے۔ اعلامیے کے اختتام پر واضح کیا گیا ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے پر منظم عملدرآمد کے ذریعے یہ تینوں پیش پیش ممالک خطے میں پائیدار امن، عدم تشدد اور استحکام کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہیں گے۔

سی پیک کا شاہکار ساہیوال کول پاور پلانٹ: 1.912 ارب ڈالر کی لاگت، 1320 میگاواٹ بجلی اور پاک چین تکنیکی پیش رفت کی مکمل کہانی

منصور احمد, August 31,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت قائم کردہ ’ساہیوال کول پاور پلانٹ‘ نے پاکستان کے توانائی کے شعبے میں انقلاب برپا کرتے ہوئے ملک کی مجموعی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ قادرآباد، ضلع ساہیوال میں واقع اس عظیم الشان پاور پروجیکٹ کی مجموعی پیداواری صلاحیت 1,320 میگاواٹ ہے، جو کہ 660 میگاواٹ کے دو جدید یونٹس پر مشتمل ہے۔ سی پیک کے باضابطہ ریکارڈز کے مطابق اس منصوبے کی مجموعی لاگت تقریباً 1.912 ارب ڈالر ہے۔

ساہیوال کول پاور پلانٹ ایک ایسے کٹھن اور بحرانی وقت میں ریکارڈ مدت کے اندر مکمل ہوا جب پاکستان شدید ترین پاور کرائسز اور ہولناک لوڈشیڈنگ کا شکار تھا، اور بجلی کی عدم دستیابی ملک کی صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کی تباہی کا باعث بن رہی تھی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد قومی گرڈ کو بڑے پیمانے پر بلاتعطل اور مسلسل بجلی فراہم کر کے ملک کی بنیادی معاشی ضروریات کو پورا کرنا تھا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں جدید ’سپر کریٹیکل کوئلہ فائرڈ ٹیکنالوجی‘ کے استعمال کی پہلی اور سب سے بڑی مثال ہے۔ اس جدید ترین تکنیک اور نصب کیے گئے ماحولیاتی سسٹمز کے ذریعے پلانٹ کی ایندھن کارکردگی میں زبردست اضافہ ہوا جبکہ کاربن اور دیگر گیسوں کے اخراج کو عالمی معیار کے مطابق نمایاں حد تک کم رکھا گیا ہے۔

ساہیوال پاور پلانٹ کی اہمیت محض 1320 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں، بلکہ اس منصوبے نے بڑے پیمانے کے توانائی پروجیکٹس کی منصوبہ بندی، تعمیر، آپریشنل مینجمنٹ اور پاک چین تکنیکی تعاون کے میدان میں گرانقدر تجربات فراہم کیے ہیں۔ ایسے دیو ہیکل بجلی گھر کو محفوظ انداز میں چلانے کے لیے انجینئرنگ، آپریشنز، مینٹیننس، فنانس، ماحولیاتی تحفظ اور سیکیورٹی سمیت تمام شعبوں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری قائم کی گئی ہے، جو قومی گرڈ کی پائیداری کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

یہ منصوبہ مقامی افرادی قوت کی فنی تربیت اور پاکستانی انجینئرز کی صلاحیتوں کو نکھارنے کا بڑا ذریعہ بنا۔ پاکستانی انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے چینی ماہرین کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کام کرتے ہوئے جدید پاور جنریشن ٹیکنالوجی کو چلانے اور سنبھالنے کا عملی تجربہ حاصل کیا، جس سے ملکی توانائی کے شعبے کی تکنیکی استعداد کو غیر معمولی تقویت ملی۔ ماہرین کے مطابق پاکستان کے توانائی کے مستقبل کے لیے شمسی، ہوائی اور پن بجلی کے ساتھ ساتھ ساہیوال پاور پلانٹ جیسی قابلِ اعتماد بیس لوڈ پاور کی موجودگی اشد ضروری ہے۔ یہ پروجیکٹ محض ایک بجلی گھر نہیں بلکہ سی پیک کے توانائی وژن، پائیدار بنیادی ڈھانچے اور پاکستان کی صنعتی و معاشی ترقی کا ایک تاریخی باب ہے۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی استنبول میں ترک ہم منصب حاقان فیدان سے اہم ملاقات: دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال

محمود احمد, August 30,2026

استنبول/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے استنبول میں ترکی کے وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ایک اعلیٰ سطحی اور اہم ملاقات کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مابین ہونے والی اس ملاقات میں پاک ترکی دوطرفہ برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، خطے کی تازہ ترین جیو پولیٹیکل صورتحال اور باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترکی کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری بیان کے مطابق اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور معاشی شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر کامل اتفاق کیا گیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اس وقت ترکی کے اعلیٰ سطحی سرکاری دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ تاریخی ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کے تحت تشکیل دی جانے والی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے پہلے افتتاحی اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔

اس اہم سٹریٹجک اجلاس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے دفاعی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کے فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی اس اعلیٰ سطحی سیاسی و دفاعی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکی پہنچ چکے ہیں۔ اس کمیٹی کے انعقاد کو پاکستان، ترکی اور دیگر اتحادی ممالک کے درمیان سیکیورٹی، مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو بڑھانے اور خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے ایک غیر معمولی اور سنگِ میل پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان کا لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں سے خطاب: نوجوانوں کو ہنر مند بنانے اور روزگار کی فراہمی کے لیے بڑے اقدامات کا اعلان

کاشف عباسی , August 30,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام اور مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ پارٹی کے مخلص اور محنتی کارکنان ہماری جماعت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کے روشن وژن کے تحت ملک بھر کے نوجوانوں کو معیارِ تعلیم، جدید فنی تربیت ، کاروبار، نجی سٹارٹ اپس اور روزگار کے وسیع مواقع فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے حلقے کے عوامی مسائل سے ہرگز غافل نہیں ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

اتوار کے روز لاہور کے صوبائی حلقہ پی پی 172 میں مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے بتایا کہ ہر یونین کونسل کی سطح پر پارٹی تنظیم، یوتھ ونگ، لیبر ونگ، لائرز ونگ، تاجر ونگ اور خواتین ونگ کو مکمل طور پر بااختیار بنایا گیا ہے، جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے لیے مقرر کیے گئے کوآرڈینیٹرز کے ذریعے شہریوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے فوری حل کے لیے مسلسل رابطہ کاری کا نظام قائم کر دیا گیا ہے۔

اپنے خطاب کے دوران انہوں نے عالمی اور علاقائی ماحولیاتی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیر اب پورے خطے کے لیے ایک سنگین اور حقیقی خطرہ بن چکا ہے۔ حالیہ شدید گرمی کی لہر، ہمالیائی گلیشیئرز کے پگھلنے، کلاڈ برسٹ اور غیر معمولی بارشوں نے عالمی سطح پر نئے اور درپیش چیلنجز پیدا کر دیے ہیں، جس کی حالیہ مثال چین اور نیپال کی سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلابی ریلے ہیں۔ انہوں نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ٹرانسفارمرز کی خرابی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گرمی میں اضافے سے سسٹم پر اضافی دباؤ آتا ہے، تاہم پی پی 172 میں تبدیل کیے جانے والے ٹرانسفارمرز کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جا رہا ہے اور بجلی سے متعلق مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جا رہا ہے۔

عوامی سہولیات اور بنیادی انفراسٹرکچر کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ یو سی 93 میں 146 سڑکوں کے سیوریج سسٹم کا کام مکمل ہونے کے بعد باقاعدہ افتتاح کر دیا گیا ہے، جبکہ سڑکوں، گلیوں، بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی کے منصوبوں پر کام تیزی سے جاری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ نوجوانوں کو جدید ہنر سکھانے کے لیے سبزہ زار میں قائم ٹیکنیکل ایجوکیشن کا ادارہ رواں سال دسمبر یا جنوری تک مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔ اس ادارے کے ذریعے وہ اپنے حلقے کے کم از کم 2,000 نوجوانوں کو چھ ماہ کے اندر مفت ٹریننگ دلا کر بیرونی ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کریں گے، جبکہ نجی تعاون سے کل 10,000 طلبہ و طالبات کو تربیت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

صحت کے شعبے میں بڑے ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے رانا مشہود احمد خان نے سوڈیوال کے رانا عبدالرحیم ہسپتال میں 7 جبکہ حاجی ابراہیم ہسپتال میں مزید 4 ڈائیلاسز مشینیں فراہم کرنے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان ہسپتالوں میں نایاب ادویات کی فراہمی اور آئندہ دو ماہ کے اندر مریضوں کے تمام طبی ٹیسٹ بالکل مفت کرانے کا انتظام مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گلشن راوی میں لاہور کے جدید ترین فلٹریشن پلانٹس میں سے ایک کا افتتاح آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

بین الاقوامی تعلیمی اور سفارتی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ چین کے حالیہ دورے کے دوران 50 چینی یونیورسٹیوں اور 70 ٹیکنیکل و میڈیکل اداروں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے، جبکہ امریکہ کے دورے میں 25 امریکی اور 13 میڈیکل یونیورسٹیوں کے ساتھ اہم معاہدے طے پائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گزشتہ روز لاہور میں منعقدہ بین الاقوامی ہیلتھ کانفرنس اور ایکسپو میں 21 ممالک کے سفیروں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر مضبوط روابط قائم کر رہا ہے۔ رانا مشہود احمد خان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنے حلقے اور ملک کے نوجوانوں کی ترقی، تعلیم اور صحت کے لیے اپنے تمام سرکاری اور ذاتی وسائل کا استعمال جاری رکھیں گے۔

ملکی ڈیموں میں قابلِ استعمال پانی کا مجموعی ذخیرہ 11.39 ملین ایکڑ فٹ سے تجاوز کر گیا، سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 98 ہزار کیوسک سے زائد ریکارڈ

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ملک کے مختلف دریاؤں، اہم بیراجوں اور بنیادی آبی ذخائر میں پانی کی آمد و اخراج اور واٹر لیول سے متعلق تازہ ترین ہنگامی اعدادوشمار جاری کر دیے ہیں۔ واپڈا کی جانب سے جاری کردہ ڈیٹا کے مطابق ملک کے اہم ڈیموں میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ تربیلا ڈیم اپنی انتہائی ذخیرہ اندوزی کی حد کو چھو چکا ہے۔

واپڈا کے مطابق، دریائے سندھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج دونوں ایک لاکھ 82 ہزار 100 کیوسک ریکارڈ کیے گئے۔ دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 22 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ خیرآباد پل پر پانی کی آمد اور اخراج ایک لاکھ 95 ہزار 600 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 19 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 7 ہزار 400 کیوسک رہا، جبکہ دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 72 ہزار 100 کیوسک اور اخراج 50 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

ملک کے اہم بیراجوں کی صورتحال کے مطابق جناح بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 37 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 29 ہزار 500 کیوسک رہا۔ چشمہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 98 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 80 ہزار کیوسک، جبکہ تونسہ بیراج پر آمد ایک لاکھ 79 ہزار 700 کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 58 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ سندھ کے بیراجوں میں گدو بیراج پر آمد 2 لاکھ 44 ہزار 800 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 8 ہزار 800 کیوسک، سکھر بیراج پر آمد 2 لاکھ 98 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 46 ہزار 200 کیوسک، اور کوٹری بیراج پر آمد ایک لاکھ 58 ہزار 400 کیوسک جبکہ اخراج ایک لاکھ 15 ہزار 700 کیوسک رہا۔ پنجاب میں تریموں بیراج پر آمد 28 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 17 ہزار 600 کیوسک، جبکہ پنجند بیراج پر آمد 46 ہزار کیوسک اور اخراج 31 ہزار 800 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔

آبی ذخائر کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ تربیلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ہے، جبکہ ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح اپنی انتہائی گنجائش یعنی 1550 فٹ تک پہنچ چکی ہے اور یہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.580 ملین ایکڑ فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ منگلا ڈیم میں (جس کا کم از کم لیول 1050 فٹ اور انتہائی سطح 1242 فٹ ہے) پانی کی موجودہ سطح 1219.30 فٹ تک پہنچ گئی ہے جہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 5.534 ملین ایکڑ فٹ ہے۔ اسی طرح چشمہ بیراج کے ذخیرے میں پانی کی موجودہ سطح 648.50 فٹ (انتہائی سطح 649 فٹ) ریکارڈ کی گئی ہے اور وہاں قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.285 ملین ایکڑ فٹ موجود ہے۔

خواتین مسافروں کی طویل قطار پر اضافی سرچ کاؤنٹر کھولنے کا حکم، ڈراپ آف لین پر ٹریفک رش پر تشویش کا اظہار، توسیعی کام جلد مکمل کرنے کی ہدایت

منصور احمد, August 30,2026

اسلام آباد/لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے دفاع خواجہ محمد آصف نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اعلیٰ سطحی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی و اندرونِ ملک سفر کرنے والے مسافروں کے لیے کیے گئے سفری انتظامات کا باریک بینی سے معائنہ کیا اور ایئرپورٹ پر جاری اہم انفراسٹرکچر ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا موقع پر جائزہ لیا۔ ایئرپورٹ آمد پر قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر اور دیگر اعلیٰ سول ایوی ایشن حکام نے وفاقی وزیر دفاع کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی (PAA) کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، دورے کے دوران وزیر دفاع نے ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس (ASF) کے سیکنڈ ہولڈ (انٹرنیشنل) ایریا کی چیکنگ کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر خواتین مسافروں کی طویل قطار کا فوری نوٹس لیتے ہوئے خواجہ آصف نے متعلقہ حکام کو کلیئرنس کے عمل کو تیز تر بنانے اور مسافروں کی سہولت کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اضافی سرچ کاؤنٹرز فوری طور پر کھول کر آپریشنل کرنے کی سخت ہدایت کی۔

وفاقی وزیر دفاع نے ایئرپورٹ پر نئے تعمیر شدہ امیگریشن ایریا کا بھی تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے امیگریشن کاؤنٹرز پر تعینات عملے کی کارکردگی اور وہاں جاری بقیہ تعمیراتی کام کی رفتار کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران قائم مقام چیف آپریٹنگ آفیسر و ایئرپورٹ منیجر نے وزیر دفاع کو جاری توسیعی و ترقیاتی کاموں، اور اس دوران مسافروں کی جلد پراسیسنگ اور دیگر سفری سہولیات کے لیے کیے گئے متبادل انتظامات سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

خواجہ آصف نے انٹرنیشنل ڈپارچر کے جوائنٹ سرچ ایریا سمیت دیگر مسافر سہولیات کا بھی معائنہ کیا اور مجموعی انتظامات پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بین الاقوامی مسافروں کے لیے خدمات کے اعلیٰ معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر دفاع نے زیرِ تعمیر ڈومیسٹک ڈپارچر ایریا کا بھی دورہ کیا، جہاں انہیں جاری سول ورکس، مجوزہ جدید سہولیات اور منصوبے کی مجموعی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ایئرپورٹ کے بیرونی حصے میں ڈپارچر ڈراپ آف لین پر گاڑیوں اور ٹریفک کے شدید رش پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خواجہ آصف نے ہدایت کی کہ مسافروں کی آسان اور محفوظ رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اس لین کی نمایاں توسیع کا کام ترجیحی بنیادوں پر اور بلا تاخیر مکمل کیا جائے۔

کے پی ٹی کے تحت بھٹ آئی لینڈ کراچی میں 35 واں مفت میڈیکل کیمپ: 513 ساحلی رہائشیوں کو مفت طبی سہولیات، ادویات اور لیبارٹری ٹیسٹس کی فراہمی

روزینہ اسماعیل, August 30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے ملک کی بین الاقوامی بندرگاہوں کو روزگار کے مواقع، ٹیکس محصولات کی جمع آوری، لاجسٹکس سپلائی چین، صنعتی و تجارتی سرگرمیوں، اور واٹر فرنٹ کی جدید تخلیقِ نو کے ذریعے بندرگاہی شہروں کی پائیدار ترقی میں فعال کردار ادا کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بندرگاہیں اور ساحلی شہر تاریخی و معاشی طور پر ایک دوسرے کے لازمی جزو ہیں، اور اس باہمی رشتے کو مزید مضبوط کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر نے اس بات کی نشاندہی کی کہ بندرگاہی سرگرمیوں سے حاصل ہونے والے اقتصادی فوائد کا دائرہ کار اکثر پورٹ کی حدوں سے نکل کر پورے ملک تک پھیل جاتا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ماحولیاتی اور سماجی اثرات عموماً پورٹ کے قریبی شہروں اور آبادیوں پر ہی مرتکز رہتے ہیں۔ شہری اقتصادی ترقی میں بندرگاہوں کے کلیدی کردار پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے آس پاس کی مقامی ساحلی کمیونٹیز کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں پورٹ اتھارٹیز کے روایتی کردار کو فعال طریقے سے بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری کے “ہیلتھ کیئر بیونڈ باؤنڈریز” (حدود سے پار صحت کی سہولیات) کے وژن پر عملدرآمد کرتے ہوئے، کراچی پورٹ ٹرسٹ نے کراچی کے سمندری جزیرے ‘بھٹ آئی لینڈ’ میں اپنے 35 ویں مفت طبی کیمپ کا انعقاد کیا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ساحلی و جزیراتی آبادیوں تک معیاری طبی علاج کی رسائی کو ممکن بنانا تھا۔ کیمپ کے دوران کی ماہر طبی ٹیم نے جزیرے کے 513 غریب رہائشیوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں مفت ادویات کے ساتھ ساتھ لیبارٹری ٹیسٹس کی سہولیات بھی فراہم کیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ بھٹ آئی لینڈ کا میڈیکل کیمپ حکومتِ پاکستان کے اس جامع وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں کے جوار میں مقیم کمزور آبادیوں کو پائیدار قومی ترقی کے فوائد میں برابر کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔ پورٹ حکام کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، طبی کیمپ سے مستفید ہونے والوں میں 202 مرد، 201 خواتین اور 110 بچے شامل تھے، جبکہ موقع پر ہی 70 کے قریب ضروری لیبارٹری ٹیسٹ بھی سرانجام دیے گئے۔

طبی معائنے کے دوران ہیپاٹائٹس بی اور سی کی بروقت تشخیص کے لیے ایک خصوصی سکریننگ ڈرائیو بھی چلائی گئی تاکہ جزیرے کی پسماندہ آبادی میں متعدی بیماریوں کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیمپ کے اعداد و شمار کے مطابق، رپورٹ ہونے والے تقریباً 70 فیصد کیسز جلد سے متعلق بیماریوں سے متعلق تھے، جبکہ سانس کی تکالیف، معدے کی شکایات، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے دائمی مریض بھی پائے گئے۔ اس کے علاوہ کے سپیچ تھراپسٹ نے ماؤں کے لیے بچوں میں اعصابی عوارض اور بولنے کی تاخیر پر شعور بیدار کرنے کے سیشنز منعقد کیے، جس میں ابتدائی تشخیص اور تھراپی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ وفاقی وزیر نے کے پی ٹی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ساحلی جزائر کے رہائشیوں کو ان کے گھر کی دہلیز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی مہم کو بلاتعطل جاری رکھے۔

گل پلازہ کراچی آتشزدگی: 72 افراد کی ہلاکت، انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں بدانتظامی اور اداروں کی غفلت کی نشاندہی

روزینہ اسماعیل, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اگست 2026ء

کراچی کے گنجان اور تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع مشہور تجارتی مرکز ‘گل پلازہ’ میں رواں سال 17 جنوری 2026ء کو لگنے والی ہولناک اور قیامت خیز آگ محض ایک اتفاقی حادثہ نہیں تھی، بلکہ اس دلخراش سانحے کے پسِ پشت برسوں کی مجرمانہ بدانتظامی، عمارت میں کی جانے والی مبینہ غیر قانونی ساخت کاری و تبدیلیاں، حفاظتی ضوابط پر عملدرآمد میں مکمل ناکامی اور متعدد متعلقہ سرکاری و انتظامی اداروں کی جانب سے اپنی آئینی و قانونی ذمہ داریوں سے مجرمانہ گریز جیسے سنگین عوامل کارفرما تھے۔

واقعے کے تقریباً آٹھ ماہ بعد سندھ ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں قائم ایک رکنی ‘کمیشن آف انکوائری’ نے اپنی 78 صفحات پر مشتمل جامع تفتیشی رپورٹ باضابطہ طور پر جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں اس تلخ اور دردناک حقیقت کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس ہولناک آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم 72 معصوم افراد دم گھٹنے، جھلسنے اور ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہوئے۔

انکوائری کمیشن نے واقعے کے دوران سندھ حکومت، بلدیہ عظمیٰ کراچی ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور ريسکیو اداروں کے کردار اور ردِعمل کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہوئے یہ بنیادی اور اہم سوال اٹھایا ہے کہ جس وقت سو سے زائد شہری عمارت کے اندر زہریلے دھوئیں، آگ کے شعلوں اور اندھیرے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، اس وقت انہیں بحفاظت باہر نکالنے اور بچانے کی بنیادی قانونی ذمہ داری آخر کس ادارے پر عائد ہوتی تھی؟ کمیشن کے سامنے پیش ہوتے ہوئے کراچی کے معروف شہری منصوبہ ساز عارف حسن نے اس وقت کے ڈزاسٹر ردِعمل اور فائر فائٹنگ کی صورتحال کو “انتظامی افراتفری اور فکری مفلوجیت” کا نام دیا۔

سندھ ہائی کورٹ کے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے متأثرین کے بیانات نے سماعت کے دوران دل دہلا دیے؛ ایک جاں بحق ہونے والے نوجوان کی عمر رسیدہ اور غمزدہ والدہ نے کمیشن کے سامنے روتے ہوئے بیان دیا کہ “سانحے کے وقت خاندان اور سرکاری انتظامیہ دونوں اس بھیانک منظر کے محض تماشائی بنے رہے، فرق صرف اتنا تھا کہ اندر جل کر مرنے والے ہمارے اپنے جگر کے ٹکڑے تھے”۔

کمیشن کے تفصیلی مندرجات کے مطابق، آگ ہفتہ 17 جنوری 2026ء کی دوپہر کو شارٹ سرکٹ اور عمارت میں غیر قانونی طور پر بنائے گئے کپڑے اور پلاسٹک کے گوداموں سے شروع ہوئی، جس نے سیڑھیوں کے راستوں پر تجاوزات ہونے کے باعث پوری ملٹی سٹوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر سفارش کی ہے کہ تمام قصوروار افسران، عمارت کے مالکان اور غفلت کے مرتکب ملازمین پر مجرمانہ غفلت کے مقدمات درج کیے جائیں اور شہر کی تمام تجارتی عمارات کا فوری سیفٹی آڈٹ کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔

اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کا منشیات سمگلنگ کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن: ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام منشیات برآمد، 3 ملزمان گرفتار

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

اینٹی نارکوٹکس فورس نے ملک بھر میں منشیات کی سمگلنگ اور غیر قانونی سپلائی کے نیٹ ورکس کے خلاف اپنی جاری وسیع پیمانے کی مہم اور کریک ڈاؤن کو تیز کرتے ہوئے متعدد کامیاب اور اہم کارروائیوں کے نتیجے میں ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی 75.57 کلوگرام سے زائد منشیات برآمد کر کے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ اے این ایف ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ کارروائیاں ملک کے مختلف بین الاقوامی ایئرپورٹس، سرحدی اضلاع اور کوریئر سروسز کے دفاتر میں انٹیلی جنس معلومات اور چیکنگ کے جدید نظام کی مدد سے انجام دی گئیں۔

ہفتے کے روز ترجمان اے این ایف کی جانب سے جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان کے مطابق، پہلی کارروائی اسلام آباد کے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر عمل میں لائی گئی جہاں جدہ روانہ ہونے والے ایک مسافر کی مشکوک حرکات کا جائزہ لینے اور ابتدائی سکیننگ کے بعد اس کے پیٹ سے 126 گرام وزنی، کوکین سے بھرے 17 کیپسولز برآمد کیے گئے۔ دوسری کارروائی کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کی گئی، جہاں بحرین جانے والے مسافر کے سامان کی تلاشی کے دوران اس کے بیگ کی تہوں سے 627 گرام اعلیٰ کوالٹی کی ہیروئن برآمد ہوئی۔ بعد ازاں گرفتار مسافر کی فوری نشاندہی پر اے این ایف کی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے اس کے ایک اور ساتھی اور نیٹ ورک کے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے قبضہ سے 200 گرام آئس (میتھمفیٹامائن) برآمد کی۔

ترجمان اے این ایف نے مزید بتایا کہ اندرونِ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں بھی اہم کارروائیاں کی گئی ہیں۔ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ضلع چاغی کے علاقے دالبندین میں ایک مشکوک گاڑی کو روک کر تلاشی لی، جس کی خفیہ جگہوں میں چھپائی گئی 75 کلوگرام افیون برآمد کر کے منشیات کی بڑی کھیپ کو سمگل ہونے سے بچا لیا گیا۔ اس کے علاوہ، سپینی روڈ کوئٹہ میں واقع ایک کوریئر کمپنی کے دفتر میں بیرونِ ملک بھیجے جانے والے ایک پارسل کی باریک بینی سے تفتیش کے دوران کاسمیٹکس کی مصنوعات اور ڈبوں میں مہارت سے چھپائی گئی 1.4 کلوگرام چرس برآمد کی گئی۔

دریں اثناء، پشاور کے یونیورسٹی روڈ پر قائم کوریئر سروس کے دفتر میں بھی اے این ایف نے کامیاب سرچ آپریشن کیا۔ تفتیش کے دوران بیرونِ ملک ارسال کیے جانے والے ایک واٹر پمپ کے مکینیکل حصوں میں سے 35 گرام افیون اور 180 گرام وزنی ایکسٹیسی کی 260 گولیاں برآمد کی گئیں۔ ترجمان اے این ایف کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان، برآمد شدہ منشیات اور گاڑی کو قبضے میں لے کر انسدادِ منشیات ایکٹ 1997 کے تحت باقاعدہ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں، جبکہ تمام نیٹ ورکس کے ماسٹر مائنڈز کا سراغ لگانے کے لیے اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

حکومت ایکسپلوریشن اور ریفائننگ سیکٹر میں تاریخی اصلاحات، بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے منصوبوں پر کام کر رہی ہے: علی پرویز ملک کا کاروباری برادری سے خطاب

منصور احمد, August 29,2026

اسلام آباد/کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی کے اپنے اہم ترین دورے کے دوران اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی قیادت اور پاکستان کے سب سے بڑے قومی ایندھن فراہم کنندہ ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔ ان اہم اجلاسوں کے دوران ملک کی مجموعی توانائی سلامتی پیٹرولیم کے شعبے میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے اور منافع بخش مواقع، ایندھن کی سپلائی چین کے استحکام، بنیادی ڈھانچے کو جدید بنانے اور حکومت کی جانب سے کی جانے والی جاری تزویراتی اصلاحات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر کے دورے کے موقع پر وفاقی وزیر پیٹرولیم نے چیمبر کی سینئر قیادت، مختلف ملٹی نیشنل انڈسٹریز سے وابستہ نمایاں شخصیات، غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نمائندگان اور میڈیا کے نمائندوں سے تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے شرکا کو وفاقی حکومت کی جانب سے ملک میں تیل و گیس کی تلاش ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور پیٹرولیم شعبے میں سرمایہ کاری دوست ماحولیات کے قیام کے لیے کیے جانے والے ہمہ گیر اقدامات اور پالیسی ترامیم سے تفصیل سے آگاہ کیا۔ انہوں نے ملک کو درپیش توانائی کے چیلنجز کا تدارک کرنے کے لیے بانڈڈ اسٹوریج اور اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر کے قیام کی اہمیت اور ان پر پیش رفت کو خصوصی طور پر اجاگر کیا۔

وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے اجلاس کے تمام شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومتِ پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسا جدید اور متحرک پیٹرولیم شعبہ تشکیل دینا ہے جو عالمی سطح پر زیادہ مسابقتی، سرمائے کی فراہمی کے لیے انتہائی سازگار اور ملک کی طویل المدتی و پائیدار توانائی ضروریات سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت اپ اسٹریم (ایکسپلوریشن)، مڈ اسٹریم (ریفائننگ) اور ڈاؤن اسٹریم مارکیٹس میں دور رس اصلاحات نافذ کر رہی ہے، جبکہ انڈسٹری سے وابستہ تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل اور پائیدار رابطے کے ذریعے عملی نوعیت کے درپیش مسائل حل کیے جا رہے ہیں تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال اور مستحکم بنایا جا سکے۔

اجلاس کے دورانکے ارکان اور سینئر قیادت نے صنعت کے نقطہ نظر کو پیش کرتے ہوئے زور دیا کہ پالیسی، قوانین اور ٹیکس کے نظام میں مسلسل اور طویل المدتی تسلسل، مکمل شفافیت اور سرمایہ کاروں کو مناسب سیکیورٹی کی فراہمی وہ بنیادی عوامل ہیں جو عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط بنا سکتے ہیں۔ کے صدر یوسف حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم کا شعبہ پاکستان کی معاشی سرگرمیوں، اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی جانب سے کاروباری برادری کے ساتھ اس مثبت اور مسلسل رابطے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جاری مذاکرات صنعتی مسائل کے حل اور حکومت کے اصلاحاتی اہداف کے حصول میں اہم ثابت ہوں گے۔

اسی اجلاس میں کے چیف ایگزیکٹو اور سیکرٹری جنرل محمد عبدالعلیم نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے پیش گوئی کے قابل اور مستحکم ریگولیٹری ماحول کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان مسلسل دوطرفہ رابطوں اور زیر التوا معاشی و قانونی معاملات کے بروقت اور شفاف حل سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد مزید بڑھے گا جس سے پیٹرولیم انڈسٹری میں اربوں ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ کی جانب سے حکومت کے ساتھ توانائی کی سلامتی اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اس مثبت مکالمے کو آئندہ بھی جاری رکھنے کے مکمل عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بعد ازاں، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کراچی میں واقع پی ایس او ہاؤس کا دورہ کیا جہاں انہوں نے پاکستان اسٹیٹ آئل کی اعلیٰ انتظامیہ سے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران قومی توانائی سلامتی کے تحفظ، پیٹرولیم پروڈکٹس کی سپلائی چین کے مسلسل استحکام، اسٹریٹجک اسٹوریج کی گنجائش میں توسیعی منصوبوں، اور ادارے کی جدید ترین ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سمیت متعدد بنیادی امور پر باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ ملک میں ایندھن کی سپلائی کے لاجسٹک انفراسٹرکچر کو جدید بنانے اور ایندھن کی کارکردگی و پائیداری کو عالمی معیار پر لانے کے لیے بھی تجاویز زیرِ غور آئیں۔

وزیر داخلہ و پیٹرولیم کے اس دورے کے دوران علی پرویز ملک نے عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود ملک بھر میں پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل اور ہموار فراہمی کو یقینی بنانے پر پی ایس او کی پیشہ ورانہ کارکردگی کی بھرپور تعریف کی اور قومی پیٹرولیم سپلائی چین کے استحکام میں کمپنی کے کلیدی کردار کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے اعادہ کیا کہ حکومت پیٹرولیم شعبے کو ری سائیکل کرنے، اسے جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے ادارے کو اپنی مکمل اور بلا مشروط حمایت فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے پی ایس او کی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اسٹریٹجک ذخائر کی گنجائش بڑھانے کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، جدید مانیٹرنگ اور آٹومیشن سے بھرپور استفادہ کریں تاکہ ایندھن کی ترسیل کے وقت اور آپریشنل اخراجات میں نمایاں کمی لائی جا سکے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا دورہ، امیگریشن عمل کا جائزہ، سسٹم میں خرابی کا فوری نوٹس اور متبادل انتظامات کا حکم

محمود احمد, August 29,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 29 اگست 2026ء

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کراچی میں واقع جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا ایک اہم اور تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بین الاقوامی پروازوں کی روانگی اور آمد کے کاؤنٹرز پر امیگریشن کے مجموعی عمل، مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور عملے کی کارکردگی کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ اپنے اس اچانک اور ہنگامی دورے کے دوران وزیر داخلہ نے بیرونی ممالک سفر کرنے والے عام مسافروں اور خاندانوں کے پاس جا کر ان سے خود ملاقات کی، اور ان سے امیگریشن پراسیس میں درپیش سہولیات، متوقع تاخیر اور عملے کے رویے سے متعلق تفصیلات دریافت کیں، جس پر مسافروں نے اپنے خدشات اور خیالات کا اظہار کیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے ہفتے کے روز اسلام آباد اور کراچی سے جاری ہونے والے ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے دورے کے عین دوران ایئرپورٹ کا مرکزی امیگریشن سسٹم اچانک تکنیکی خرابی کے باعث ڈاؤن ہو گیا۔ امیگریشن سسٹم بند ہوتے ہی لائنوں میں لگے مسافروں کی روانگی کا عمل سست روی کا شکار ہوا، جس پر وزیر داخلہ نے معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے تاخیر کا سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر موقع پر سے ہی متعلقہ اعلیٰ حکام اور آئی ٹی ماہرین سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے حکام کو سخت احکامات جاری کرتے ہوئے امیگریشن سسٹم میں پیدا ہونے والی اس تکنیکی خرابی اور نیٹ ورک سست روی کو فوری طور پر دور کرنے کی ہدایت کی۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن حکام اور ایئرپورٹ انتظامیہ کو واضح الفاظ میں ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ “سسٹم ڈاؤن ہونے یا کسی بھی غیر متوقع تکنیکی خرابی کی صورت میں ہنگامی بنیادوں پر متبادل طریقہ کار اور مینوئل پروسیسنگ کا بندوبست ہر وقت تیار رکھا جائے، کیونکہ بین الاقوامی مسافروں کی سہولت کے پیشِ نظر امیگریشن پراسیس کسی بھی صورت اور کسی بھی قیمت پر رکنا نہیں چاہیے”۔ انہوں نے انتظامیہ کو واضح کیا کہ مسافروں کا وقت اور ان کی عزتِ نفس نہایت محترم ہے اور سسٹم کی بحالی کے کام کو جنگی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔

دورے کے اختتام پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے امیگریشن کنٹرول اور فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے افسران کو ملک گیر سطح پر جعلسازی روکنے اور جعلی دستاویزات پر بیرونِ ملک سفر کرنے کی کوشش کرنے والے گینگ اور مسافروں کے خلاف فی الفور سخت ترین قانونی ایکشن لینے کا حکم دیا۔ محسن نقوی نے دو ٹوک موقف اپناتے ہوئے کہا کہ نامکمل، مشکوک اور بغیر تصدیق شدہ پاسپورٹ یا ویزا دستاویزات کے حامل کسی بھی فرد کو کسی صورت ایئرپورٹ سے سفر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس سلسلے میں سیکیورٹی اور سکیننگ پر کوئی بھی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

پمز ہسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کا سانحہ: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذمہ داری قبول کر لی، پارلیمنٹ میں بڑا اعلان

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قومی صحت، خدمات، ضوابط و رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) ہسپتال اسلام آباد میں نومولود بچوں کے جاں بحق ہونے کے دلخراش واقعہ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمان کے سامنے پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔ جمعہ کے روز ایوان بالا (سینیٹ) کے اجلاس میں اس دردناک سانحے پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ اس سے زیادہ اندوہناک واقعہ نہیں ہو سکتا، معصوم بچے اپنی جانوں سے چلے گئے اور اس پر کوئی بھی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکتی۔ انہوں نے واضح اور سخت الفاظ میں اعلان کیا کہ اس معاملے پر کسی بھی شخص کو بچایا نہیں جائے گا، نہ ہی کوئی رپورٹ چھپائی جائے گی؛ جو بھی ذمہ دار ہوگا، “ایک آدمی بھی سپیئر (معاف) نہیں ہوگا”۔

مصطفیٰ کمال نے ایوان کو بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس کی ابتدائی رپورٹ 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ انہوں نے کمیٹی کی مدت 40 دن سے آگے تک کھلی رکھنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس تحقیقات کو محض چند دنوں کی رسمی کارروائی تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ جب تک تمام ادارے اور ماہرین آئندہ ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل پر متفق نہ ہوں، کام جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارتِ صحت کے پاس گزشتہ 14 ماہ کا مکمل ریکارڈ اور معلومات موجود ہیں جو تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کی جائیں گی اور تمام متعلقہ افسران و عملے کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا تاکہ تمام حقائق قوم کے سامنے آ سکیں۔

وفاقی وزیر نے پمز کے اس سانحے کو ہیلتھ کیئر سسٹم میں موجود سنگین خامیوں کی نشاندہی کا ایک اہم موقع قرار دیا۔ انہوں نے افسوسناک اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً چار لاکھ بچے اور ہزاروں مائیں زچگی کے دوران ایسے اسباب سے جاں بحق ہو جاتی ہیں جن کی جانیں بروقت اور بہتر علاج سے بچائی جا سکتی ہیں۔ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف پمز کے موجودہ واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کر کے سزا دینا نہیں، بلکہ صحت کے پورے نظام میں بنیادی اور پائیدار اصلاحات لانا ہے تاکہ آئندہ کسی بھی بچے یا ماں کی جان محض انتظامی غفلت یا نظام کی کمزوری کی وجہ سے ضائع نہ ہو۔

نوجوان تاجر میر رضا قتل کیس: جوڈیشل کمیشن کے دو پولیس اہلکاروں، ایدھی ڈرائیور اور ڈاکٹر اسامہ کو نوٹسز، سماعت 1 ستمبر تک ملتوی

محمود احمد, August 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

کراچی میں وافلکس کے 25 سالہ شریک مالک میر رضا علی کی پراسرار ہلاکت کی تحقیقات کرنے والے سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال پر مشتمل ون مین جوڈیشل کمیشن نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے جائے وقوعہ پر پہنچنے والے دو پولیس اہلکاروں، لاش جناح ہسپتال منتقل کرنے والے ایدھی کے ڈرائیور اور ابتدائی پوسٹ مارٹم کرنے والے ایم ایل او ڈاکٹر اسامہ کو باضابطہ نوٹسز جاری کر دیے ہیں۔ جمعے کے روز جوڈیشل کمیشن کے آغاز پر میر رضا کے والد، والدہ اور ہمشیرہ پیش ہوئے جبکہ قانون دان جبران ناصر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ یاد رہے کہ نوجوان تاجر میر رضا 28 جولائی کو گھر سے نکلے تھے اور بعد ازاں ان کی لاش گلستانِ جوہر بلاک 1 میں شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی، جس کے ابتدائی پوسٹ مارٹم پر سنگین سوالات اٹھنے کے بعد قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا۔ کمیشن نے کیس کی مزید سماعت یکم ستمبر 2026ء تک ملتوی کر دی ہے۔

سماعت کے دوران وکیل جبران ناصر نے کمیشن کو بتایا کہ سابقہ انویسٹیگیشن ٹیم نے کیس میں مجرمانہ غفلت برتی، جبکہ 29 جولائی کو بااثر افراد یا پولیس افسران کے پہنچنے سے قبل دوپہر سوا 12 بجے نرسری کے ایک ملازم کی اطلاع پر محض دو پولیس اہلکار جائے وقوعہ پر آئے تھے، جس کے بعد لاش ایدھی ایمبولینس کے ذریعے جناح ہسپتال منتقل کی گئی جہاں ڈاکٹر اسامہ نے متنازعہ پوسٹ مارٹم کیا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس عمر سیال نے حکم دیا کہ سندھ حکومت اردو، انگریزی اور سندھی اخبارات میں اشتہار شائع کرائے جس میں میر رضا کیس سے متعلق معلومات دینے والے شخص کے لیے ایک لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا جائے، نیز سندھ حکومت کو متعلقہ پولیس افسران، ڈاکٹرز کی فہرست، گواہوں کے بیانات اور تمام اصل میڈیکل ریکارڈز جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

کارروائی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے فیروز آباد پولیس کی جانب سے انصاف کے لیے احتجاج کرنے والے پرامن شہریوں اور نوجوانوں پر مقدمات درج کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ 29 دن گزرنے کے باوجود اصل قاتلوں کا تعاقب نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے بتایا کہ جسٹس عمر سیال نے جوڈیشل کمیشن کی کارروائی مکمل شفافیت کے لیے عوام کے لیے کھلی رکھی ہے اور واضح کیا ہے کہ کمیشن کا کام حقائق تلاش کرنا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری اور چالان عدالت میں پیش کرنا تفتیشی پولیس کی ذمہ داری ہے۔

ملک کی 5 بڑی آئل ریفائنریوں میں 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بریک تھرو: ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر علی پرویز ملک کی اہم پیش رفت

کاشف عباسی , August 28,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک نے پاکستان کی پانچ بڑی آئل ریفائنریوں—پاک عرب ریفائنری لمیٹڈ، پاکستان ریفائنری لمیٹڈ ، نیشنل ریفائنری لمیٹڈ ، سائنرجیکو اور اٹک ریفائنری لمیٹڈ کی اعلیٰ انتظامیہ سے الگ الگ اور اہم ملاقاتیں کی ہیں۔ ان ملاقاتوں میں براؤن فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی پر عملدرآمد، ریفائنریوں کی مالی و آپریشنل کارکردگی اور ملکی توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تمام پانچوں ریفائنریوں کی انتظامیہ نے پالیسی کے تحت اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرنے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اعادہ کر دیا ہے۔ ان معاہدوں پر ستمبر 2026ء کے آغاز میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں پاکستان کے ریفائننگ سیکٹر میں تقریباً 6 ارب ڈالر کی خطیر غیر ملکی و ملکی سرمایہ کاری آئے گی۔

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے اس پیش رفت کو ملکی توانائی کے تحفظ کے لیے میل پتھر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریفائنریوں کی جدید کاری سے پاکستان میں یورو فائیو معیار کی پٹرولیم مصنوعات کی مقامی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔ اس اقدام سے پٹرول اور ڈیزل کی مہنگی درآمدات پر پاکستان کا انحصار نمایاں حد تک کم ہوگا اور مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی کمی اور استحکام آئے گا۔ وفاقی وزیر نے پارکو اور پی آر ایل کی جانب سے حال ہی میں آبنائے ہرمز کے بحران کے دوران بلا تعطل پٹرولیم سپلائی کا سلسہ برقرار رکھنے پر ان کی آپریشنل کارکردگی کو سراہا اور حب میں مجوزہ اسٹریٹجک ‘آئل سٹی’ اور اسٹوریج کمپلیکس منصوبے کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا، جو ملک کی ایندھن کی ذخیرہ اندوزی اور سپلائی چین کو پائیدار بنائے گا۔

ملاقاتوں کے دوران اٹک ریفائنری، سائنرجیکو اور نیشنل ریفائنری کے منیجنگ ڈائریکٹرز نے پالیسی کے لیے اپنی مطلوبہ تیاریاں مکمل ہونے کی تصدیق کی اور پٹرولیم ڈویژن کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وفاقی حکومت ریفائننگ انڈسٹری کو درپیش قانونی اور آپریشنل مسائل کے حل اور 6 ارب ڈالر کے اس میگا اپ گریڈیشن پروگرام پر بروقت عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن سہولت کاری اور تعاون فراہم کرتی رہے گی۔

لاہور میں زیرِ زمین پانی کی کمی کا توڑ: 31 ارب روپے کی لاگت سے نہری پانی کو صاف کرنے کا سرفیس واٹر منصوبہ تیار

منصور احمد, August 28,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبائی دارالحکومت لاہور میں پانی کی شدید قلت اور زیرِ زمین آبی ذخائر میں مسلسل کمی پر قابو پانے کے لیے 31 ارب روپے کا ایک عظیم الشان سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ تیار کیا ہے، جس کے تحت شہر کا پینے کے پانی کے لیے زیرِ زمین پانی پر 99 فیصد انحصار کم کر کے سطحی پانی کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ منصوبے کے پہلے مرحلے کے تحت بی آر بی کینال سے روزانہ 54 ملین گیلن پانی حاصل کر کے اسے جدید پلانٹ کے ذریعے صاف کر کے شہریوں کو پینے کے لیے فراہم کیا جائے گا۔ واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی (واسا) لاہور اس وقت شہر بھر میں 594 گہرے ٹیوب ویل چلا رہی ہے جن کے ذریعے روزانہ 329 ملین گیلن زیرِ زمین پانی نکال کر فراہم کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے شہر میں زیرِ زمین پانی کی سطح سالانہ تین سے پانچ فٹ تک تیزی سے گر رہی ہے۔ واسا حکام کے مطابق سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے منصوبے کے PC-I کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد اب حتمی منظوری کے لیے دستاویزات قومی اقتصادی کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی (ایکنک) کو پیش کی جائیں گی۔

واسا لاہور کے وائس چیئرمین اور رکن پنجاب اسمبلی چوہدری شہباز احمد نے بتایا کہ حتمی منظوری ملتے ہی منصوبے پر عملی کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ بھینی روڈ کے قریب قائم کیے جانے والے سرفیس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی ابتدائی صلاحیت 100 کیوسک یعنی 54 ملین گیلن یومیہ ہوگی، جسے بعد میں مرحلہ وار بڑھا کر 1,000 کیوسک یعنی 540 ملین گیلن یومیہ تک توسیع دی جائے گی۔ یہ پراجیکٹ ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی مالی معاونت سے جاری 23 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے ‘لاہور واٹر اینڈ ویسٹ واٹر مینجمنٹ پراجیکٹ’ کا ایک بنیادی حصہ ہے، جس میں لاریچ کالونی سے گلشنِ راوی تک ٹرینچ لیس ٹیکنالوجی کے ذریعے جدید ٹرنک سیور بچھانا بھی شامل ہے تاکہ وسطی لاہور میں برساتی نالوں اور سیوریج پر بوجھ کم کیا جا سکے۔

ایریگیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پنجاب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام ذاکر حسن سیال نے اس منصوبے کو لاہور کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اور اسلام آباد کی طرح لاہور کو بھی سطحی پانی کے منصوبوں پر منتقل ہونا ہوگا کیونکہ ہمارا زیرِ زمین واٹر بجٹ اس وقت منفی ہو چکا ہے جہاں ری چارجنگ کی نسبت پانی نکالنے کی شرح کہیں زیادہ ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نہری پانی کی صفائی اور سپلائی سے جہاں واٹر ٹیبل پر دباؤ کم ہوگا، وہی واسا کو بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے تاکہ پارکوں اور شجرکاری کے لیے زیرِ زمین پانی کا بلاجواز استعمال روکا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس پر ابتدائی سرمایہ کاری بڑی ہے، تاہم لاہور کے پینے کے پانی کی پائیدار فراہمی کے لیے اس کے طویل مدتی فوائد کہیں زیادہ ہوں گے۔

کاسا-1000 پاور پراجیکٹ: پاکستان میں کنورٹر اور الیکٹرو اسٹیشنز کا کام 99 فیصد مکمل، تجارتی آپریشنز مئی 2028ء میں شروع ہونے کا امکان

کاشف عباسی , August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان نے انتہائی اہم اور بین الاقوامی علاقائی توانائی منصوبے ‘کاسا-1000’ کے تحت بجلی کی ترسیل اور تجارت کے بنیادی ڈھانچے پر پیش رفت بڑی حد تک مکمل کر لی ہے، جس کے تحت کنورٹر اسٹیشن پر مجموعی کام 99.7 فیصد جبکہ اس سے منسلک گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن پر 99.5 فیصد تک کام کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات اور منصوبے کی تازہ ترین صورتِ حال کے مطابق پاکستان میں 500 کلو وولٹ بائی پول ہائی وولٹیج ڈائریکٹ کرنٹ کنورٹر اسٹیشن کے ساتھ 66 کلو وولٹ گراؤنڈنگ الیکٹرو اسٹیشن تعمیر کیا جا رہا ہے۔ کنورٹر اسٹیشن پر انجینئرنگ اور ڈیزائن کا 97 فیصد، خریداری کا 100 فیصد، سول ورکس اور تنصیب کا 99.9 فیصد، جبکہ ٹیسٹنگ و کمیشننگ کا 99 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب الیکٹرو اسٹیشن کی تنصیب اور سول ورکس 99 فیصد جبکہ ٹیسٹنگ اور کمیشننگ 98 فیصد تک مکمل ہے۔

دستاویز کے مطابق اگرچہ پاکستان کی جانب کا ڈھانچہ تکمیل کے اخری مراحل میں ہے، تاہم اس کی حتمی کمیشننگ افغانستان میں ٹرانسمیشن لائن کی تعمیر مکمل ہونے تک معطل اور زیرِ التوا رہے گی، جس کے ستمبر 2027ء تک مکمل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس دوران یہ اسٹیشنز یکم اپریل 2026ء سے 29 فروری 2028ء تک بین الاقوامی کمپنی میسرز ہٹاچی کی دیکھ بھال اور تحویل میں رہیں گے، جبکہ اس منصوبے کے باقاعدہ تجارتی آپریشنز یکم مئی 2028ء سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ مالیاتی تفصیلا ت کے مطابق پاکستانی حصے کے لیے عالمی بینک کے دو قرضوں کی سہولت حاصل ہے، جس میں 12 کروڑ ڈالر والے پہلے قرضے سے 82.86 فیصد رقم جبکہ 6 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے دوسرے قرضے سے 87.41 فیصد رقم استعمال کی جا چکی ہے، اور دونوں معاہدوں کی حتمی اختتامی تاریخ 31 دسمبر 2028ء مقرر ہے۔

پاکستان ریلوے کے 10 ویٹ اِن موشن پلوں کی ڈیجیٹلائزیشن: پرومِس سسٹم سے منسلک کرنے کا کام 15 ستمبر تک مکمل ہوگا

منصور احمد, August 27,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

پاکستان ریلوے نے نظام کو جدید تر بنانے کے لیے اپنے اہم ترین انفراسٹرکچر کی ڈیجیٹلائزیشن کا ایک بڑا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے 10 ویٹ اِن موشن پلوں کو ڈیجیٹلائز کر کے پاکستان ریلوے آپریشنل اینڈ مینجمنٹ انٹیگریٹڈ سروسز ایکوسسٹم (پرومِس) کے مرکزی ڈیش بورڈ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق اس اہم منصوبے پر عمل درآمد سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کی ویٹ اِن موشن پلوں کی کمپیوٹرائزیشن اور عمل درآمد کی صورتحال سے متعلق دی گئی سفارشات کے جواب میں کیا جا رہا ہے۔ اس جدید مربوط نظام کے عملی طور پر فعال ہونے کے بعد ریلوے حکام کو ریئل ٹائم یعنی حقیقی وقت میں مانیٹرنگ، تیز رفتار رپورٹنگ اور دقیق اعداد و شمار کی بنیاد پر اہم ترین آپریشنل فیصلے کرنے کی مکمل سہولت اور صلاحیت میسر آئے گی۔

منصوبے کی پیش رفت سے متعلق دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ آزمائشی بنیادوں پر پہلے ہی ایک ویٹ اِن موشن پل کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹلائز کر کے پرومِس ڈیش بورڈ کے ساتھ جوڑا جا چکا ہے، جس کا آپریشنل ڈیٹا کامیابی کے ساتھ لائیو اور ریئل ٹائم میں ڈیش بورڈ پر موصول اور ظاہر ہو رہا ہے۔ اس پہلے کامیاب تجربے نے ریلوے کے بنیادی ڈیجیٹل فریم ورک کی توثیق کر دی ہے اور باقی نو پلوں پر اس ٹیکنالوجی کی تنصیب کے لیے راہ ہموار کر دی ہے۔ اس وقت باقی تمام نو نامزد ویٹ اِن موشن پلوں کی ڈیجیٹلائزیشن کا کام تیزی سے جاری ہے اور اس پراجیکٹ کو مکمل کرنے کی حتمی مقررہ تاریخ 15 ستمبر 2026ء طے کی گئی ہے۔ مقررہ وقت پر کام مکمل ہونے سے تمام ویٹ اِن موشن پل مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک ہو جائیں گے جس سے ریلوے میں شفافیت، حادثات کی روک تھام اور مرکزی سطح پر نگرانی کا ایک جدید باب شروع ہو گا۔

پمز ہسپتال میں آتشزدگی عمران خان کے خلاف سازش ہو سکتی ہے: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا شدید خدشات اور الزامات کا اظہار

کاشف عباسی , August 27,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پمز (پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز) کے نرسری وارڈ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے اور معصوم نومولود بچوں کی شہادت پر انتہائی گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے ایک سنسنی خیز اور سنگین ادعا پیش کیا ہے۔ پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پمز ہسپتال میں ہونے والا یہ آتشزدگی کا واقعہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو نشانہ بنانے یا ان کے خلاف بچھایا گیا کوئی خفیا جال بھی ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پمز ہسپتال کی نرسری میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے والے معصوم نوزائیدہ بچوں کا کسی سیاسی احتجاج یا اقتدار کی کشمکش سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ بے زبان بچے اپنے حق میں بول بھی نہیں سکتے تھے، اس لیے اس دل دوز واقعے کے پیچھے مجرمانہ غفلت اور سازش شامل ہے جس کی شفاف، اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

بقايا خطاب کے دوران عمران خان کے حالیہ طبی معائنے اور ہسپتال منتقلی کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے سنگین الزامات عائد کیے کہ ابھی چند دن قبل بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بھی طبی معائنے اور علاج کی غرض سے اسی پمز ہسپتال لایا گیا تھا، جس سے یہ شک پختہ ہوتا ہے کہ شاید ان کے لیے بھی وہاں کوئی خطرناک جال بچھایا گیا تھا تاکہ مستقبل میں کسی حادثے یا آتشزدگی کی آڑ میں ان کی جان لی جا سکے، باقی واللہ اعلم، یہ لوگ اپنے مقاصد کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں اور بعد میں کسی بھی حادثے کا بہانہ تراش سکتے ہیں۔ اس المناک واقعے کے تناظر میں سہیل آفریدی نے صوبائی محکمہ صحت کو فوری ہدایات جاری کی ہیں کہ خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں آتشزدگی سے بچاؤ، ایمرجنسی ایگزٹ اور ہنگامی سیفٹی انتظامات کا تفصیلی آڈٹ کیا جائے اور ہسپتالوں کے حفاظتی ضوابط کا ازسرِنو جائزہ لے کر عملے کو فائر فائٹنگ کی تربیتی مشقیں کروائی جائیں تاکہ مریضوں کی مکمل حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔