مسافر نجی پرواز سے باکو جا رہے تھے، اٹلی کے غیر قانونی روٹ کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا معاہدہ ہوا تھا؛ ویزے اور ڈیجیٹل شواہد برآمد

محمود احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) امیگریشن نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک مقتدر کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلنگ کی ایک منظم اور تزویراتی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کامیاب کارروائی کے دوران ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے باپ اور ان کے دو بیٹوں کو مشکوک پائے جانے پر پرواز سے آف لوڈ کر کے حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ترجمان ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ تینوں مسافر نجی ایئرلائن کی پرواز پی اے-468 کے ذریعے لاہور سے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ تاہم، امیگریشن کلیئرنس کے عمل کے دوران ان کی مشکوک صورتحال اور سفری دستاویزات پر شبہ ہونے کے باعث انہیں فوری طور پر سیکنڈری ویری فیکیشن کاؤنٹر منتقل کیا گیا۔ تلاشی اور ابتدائی تزویراتی تفتیش کے دوران مسافروں کے قبضے سے البانیہ کے ویزے اور سربیا کے غیر قانونی روٹ سے متعلق اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد ہوئے، جبکہ ان کے موبائل فونز کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کے دوران مشتبہ بین الاقوامی ٹریول ایجنٹس کے ساتھ رابطوں اور رقوم کی منتقلی کا ریکارڈ بھی ملا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق، دورانِ تفتیش ملزمان نے اعتراف کیا کہ ایک انسانی سمگلر (ایجنٹ) نے انہیں سنہری مستقبل کے جھانسے میں رکھ کر غیر قانونی طریقے سے اٹلی پہنچانے کے لیے سربیا اور آذربائیجان کا ٹرانزٹ روٹ تیار کیا تھا۔ اس خطرناک مقصد کے لیے فی مسافر چالیس لاکھ روپے کا بھاری مالی معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے چوتیس لاکھ روپے فی مسافر ایجنٹ کو پہلے ہی ادا کیے جا چکے تھے۔ ایف آئی اے امیگریشن نے تینوں افراد کو حراست میں لے کر مزید تادیبی قانونی کارروائی اور تفتیش کے دائرے کو وسیع کرنے کے لیے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا ہے۔ ایف آئی اے کا اعادہ ہے کہ انسانی سمگلنگ کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور غیر قانونی امیگریشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پاکستان کی تاریخ کا بڑا توسیعی منصوبہ؛ مالی سال 27-2026 میں پندرہ ہزار سے زائد دیہات کی برق کاری اور سولہ لاکھ نئے کنکشنز کا ہدف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے مالی سال 2026-27 کے دوران ملک بھر میں بجلی کی فراہمی کا دائرہ کار غیر معمولی حد تک بڑھانے کے لیے پندرہ ہزار تین سو ستائیس (15,327) دیہات کو نیشنل گرڈ سے منسلک کرنے اور سولہ لاکھ نواسی ہزار آٹھ سو انچاس (1,689,849) نئے صارفین کو بجلی کے کنکشن فراہم کرنے کا ایک مقتدر تزویراتی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ اس جامع منصوبے کے تحت دیہی علاقوں تک بجلی کی پائیدار رسائی اور صارفین کی مجموعی تعداد میں ریکارڈ اضافہ تقسیمی شعبے کی اہم ترین ترجیحات میں شامل ہوگا۔ ’ویلتھ پاکستان‘ کو دستیاب پاور ڈویژن کی ایک باضابطہ دستاویز کے مطابق، یہ خطیر سرمایہ کاری اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جس کا تعلق بجلی تک رسائی رکھنے والی ملکی آبادی کے تناسب سے ہے۔ ان مقتدر اقدامات سے شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور وولٹیج کے نظام میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔

دستاویز کے تزویراتی متن کے مطابق، دیہات کو بجلی فراہم کرنے کی اس مہم میں گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) کو سب سے بڑا ہدف سونپا گیا ہے، جس کے تحت مالی سال کے دوران آٹھ ہزار آٹھ سو چھہتر (8,876) دیہات کو بجلی سے منسلک کیا جائے گا۔ دیگر کمپنیوں کے اہداف درج ذیل جدول میں تفصیلاً دیکھے جا سکتے ہیں:

دستاویز کے مطابق، ملک کے مجموعی تقسیمی نظام کو تزویراتی طور پر مزید لچکدار اور مضبوط بنانے کے لیے 132 کے وی کی 799.5 کلومیٹر طویل نئی ٹرانسمیشن لائنیں بچھائی جائیں گی، جبکہ 132 کے وی نظام میں 2 ہزار 87 ایم وی اے کی اضافی ٹرانسفارمر استعداد شامل کی جائے گی۔ اس گرینڈ منصوبے کے تحت 11 کے وی نظام میں بھی 1 ہزار 321.15 ایم وی اے کی اضافی استعداد پیدا کی جائے گی، جبکہ ہائی ٹینشن اور لو ٹینشن فیڈرز کو بہتر بنانے کے لیے 11 کے وی کی 4 ہزار 134 کلومیٹر اور 400 وولٹ کی 1 ہزار 742 کلومیٹر طویل نئی بجلی کی لائنیں بھی بچھائی جائیں گی۔ پاور ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ توسیعی منصوبہ اس امر کا عکاس ہے کہ حکومت ایک جانب بڑے شہروں میں صارفین کی صنعتی و خانگی مانگ کو پورا کر رہی ہے، جبکہ دوسری جانب دور دراز کے پسماندہ دیہی علاقوں تک بجلی کی رسائی کو یقینی بنا رہی ہے جہاں اب تک یہ بنیادی سہولت محدود یا یکسر ناپید تھی۔

عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل خارج؛ ملزم چودہ سال قید کاٹ کر اور صدارتی معافی کے بعد رہا ہو چکا، سزا میں اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی، ریمارکس

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم مقدمے کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ ملک کا آئین صدرِ مملکت کو کسی بھی ملزم کی سزا میں کمی یا مکمل معافی دینے کا مقتدر اختیار دیتا ہے، اور جب یہ آئینی اختیار ایک بار استعمال ہو چکا ہو تو سزا میں دوبارہ اضافے کے لیے انتہائی ٹھوس اور مضبوط قانونی بنیاد درکار ہوتی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے ملزم تحرین الیاس کی عمر قید کو سزائے موت میں تبدیل کرنے سے متعلق دائر اپیل اس بنیاد پر خارج کر دی کہ ملزم اپنی قانونی سزا مکمل کرنے کے بعد جیل سے رہا ہو چکا ہے۔

سماعت کے دوران ژوب، بلوچستان کے جیل سپرنٹنڈنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے ان سے استفسار کیا کہ جیل رپورٹ میں واضح لکھا گیا ہے کہ ملزم نے چودہ (14) سال قید کاٹنے کے بعد باقی ماندہ سزا پر صدرِ مملکت کی جانب سے عام معافی حاصل کی، لہٰذا یہ بتایا جائے کہ عمر قید کے قیدی کے لیے چودہ سال کی مدت کس قانون کے تحت مقرر کی گئی۔ سپریم کورٹ نے اہم ریمارکس دیے کہ عدالت کے علم اور سابقہ فیصلوں کے مطابق عمر قید کے قیدی کے لیے جیل میں کم از کم سترہ (17) سال قید کاٹنے کا اصول موجود ہے، تاہم چونکہ متعلقہ ملزم رہا ہو چکا ہے، اس لیے اس اہم قانونی سوال کا گہرا جائزہ کسی دوسرے مناسب اور متعلقہ مقدمے میں لیا جائے گا۔

دورانِ سماعت مقتدر عدالت نے قانونی نکتہ اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 302 کے تحت ایک سزا مکمل ہونے کے بعد دوسری سزا کیسے دی جا سکتی ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قتل ثابت ہونے پر ٹرائل کورٹ نے ایک بار فیصلہ دیا اور اس فیصلے پر باقاعدہ عملدرآمد بھی ہو چکا، اب اتنے عرصے بعد سزا بڑھانے کے لیے کوئی مضبوط ترین قانونی وجہ پیش کی جائے۔ عدالت نے مزید واضح کیا کہ صدرِ مملکت کو آئین کے تحت سزا میں کمی یا معافی دینے کا وسیع اختیار حاصل ہے اور اس مخصوص مقدمے میں یہ اختیار قانونی طور پر استعمال کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر سزا مکمل ہونے کے بعد بھی اس میں اضافہ ممکن بنانا مقصود ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی جانب سے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے ملزم تحرین الیاس کی سزا بڑھانے کی اپیل کو خارج کر دیا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین کرکٹ کے فروغ کا تاریخی معاہدہ، جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا

منصور احمد, JULY 02,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کے درمیان کرکٹ کے فروغ اور انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے ایک مقتدر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر باقاعدہ دستخط کر دیے گئے ہیں، جس کے تحت جدہ میں بین الاقوامی معیار کا جدید ترین کرکٹ سٹیڈیم تعمیر کیا جائے گا۔ ترجمان پی سی بی کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس تاریخی معاہدے پر چیئرمین پی سی بی محسن نقوی اور چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے دستخط کیے۔ اس تزویراتی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ جدہ میں تعمیر ہونے والا جدید کرکٹ سٹیڈیم بین الاقوامی مقابلوں کے تمام جدید ترین تقاضوں پر پورا اترے گا اور وہاں اعلیٰ معیار کی کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔

انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن کرکٹ انفراسٹرکچر کی ترقی، آپریشنل معیارات اور کھیل کے فروغ کے مختلف شعبوں میں مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ ان کے مطابق پی سی بی سعودی عرب میں کرکٹ کی ترقی میں اپنا تزویراتی کردار ادا کرنے پر فخر محسوس کرتا ہے اور یہ شراکت داری دونوں برادر ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاک سعودی تعاون کے تحت جدید اور مربوط کرکٹ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سعودی عرب میں کرکٹ کے فروغ اور کھلاڑیوں کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے جائیں گے، جس سے وہاں کے ٹیلنٹ کو بین الاقوامی سطح پر ابھرنے کا موقع ملے گا۔

دوسری جانب، چیئرمین سعودی عرب کرکٹ فیڈریشن شہزادہ سعود نے پاکستان کے تعاون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ شراکت داری صرف ایک کرکٹ سٹیڈیم کی تعمیر تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ سعودی عرب میں کرکٹ کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کی جانب ایک اہم اور تزویراتی پیش رفت ثابت ہوگی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پی سی بی کے وسیع تجربے اور تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھا کر سعودی عرب جلد کرکٹ کی دنیا میں اپنی منفرد شناخت بنانے میں کامیاب ہو جائے گا۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین کھیلوں کے سفارتی روابط میں ایک نئے اور خوش آئند باب کا اضافہ ہے۔

صرف ڈی ایچ اے کراچی کی زمینوں کی مجموعی مالیت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تمام کمپنیوں کے برابر ہے؛ پراپرٹی کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو چھت سے محروم کر چکا

روزینہ اسماعیل, JULY 02,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان کے ممتاز ماہرِ معاشیات اور نیکسٹ کیپیٹل کے ڈائریکٹر نجم علی نے ملک کے رئیل اسٹیٹ سیکٹر اور مجموعی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی سنسنی خیز اور تلخ حقیقت پر مبنی تجزیہ پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں پراپرٹی کی قیمتوں کا مصنوعی ابھار عام پاکستانیوں کو اپنے ہی ملک میں چھت کی نعمت سے محروم کر چکا ہے۔ تفصیلات کے مطابق، ہاورڈ بزنس اسکول اور یونیورسٹی آف مشی گن سے تعلیم یافتہ نجم علی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک چونکا دینے والا موازنہ پیش کرتے ہوئے لکھا کہ ان کے اندازے کے مطابق صرف ڈی ایچ اے کراچی کی رئیل اسٹیٹ اور زمینوں کی مجموعی مالیت تقریباً اتنی ہی ہے جتنی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں درج ملک کی تمام بڑی کمپنیوں کی مجموعی مالیت ہے۔

پاکستان کی سیاست اور معیشت پر گہری نظر رکھنے والے ماہر نے شدید افسوس کا اظہار کیا کہ پیداواری شعبوں کے بجائے ملک کا سارا سرمایہ زمینوں کے ڈھیر میں لگا ہوا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں رئیل اسٹیٹ کا حالیہ برسوں میں آنے والا عروج کبھی بھی کسی حقیقی معاشی ترقی یا ‘ویلیو کریئشن’ یعنی قومی پیداوار میں اضافے کا مرہونِ منت نہیں تھا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ وہ غیرٹیکس شدہ پیسہ یا کالا دھن تھا جو حکومت اور اداروں کی نظروں سے بچنے کے لیے کسی محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں تھا، اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر نے اسے یہ موقع فراہم کیا۔

نجم علی نے اس کے بھیانک نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس اندھی سرمایہ کاری اور مصنوعی مہنگائی کا سب سے بڑا نقصان عام عوام کو ہوا ہے۔ نتیجہ یہ نکل چکا ہے کہ اب ملک کی اکثریت، خصوصاً مڈل کلاس اور تنخواہ دار طبقہ، پاکستان کے اندر اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر یا پلاٹ خریدنے کی سکت بھی مکمل طور پر کھو چکا ہے، کیونکہ قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور جا چکی ہیں۔ یاد رہے کہ نجم علی پاکستان کی مالیاتی مارکیٹ کا ایک بڑا نام ہیں، وہ جے ایس انویسٹمنٹس کے سی ای او رہنے کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس ان انگلینڈ اینڈ ویلز سے بھی وابستہ ہیں، اور ان کے اس بیان کو معاشی حلقوں میں پاکستان کے رئیل اسٹیٹ ڈھانچے پر ایک کڑی چارج شیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

سال دو ہزار تئیس سے اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے گھر فراہم کیے جا چکے؛ بچوں کو اسکالرشپ اور بیٹیوں کی شادی کے لیے جہیز فنڈز بھی جاری

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

شہدا کے لواحقین کو گھروں کی فراہمی، بچوں کو معیاری تعلیم اور بہترین طبی سہولیات کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جا رہی ہے۔ سربراہ لاہور پولیس (سی سی پی او) بلال صدیق کمیانہ نے جمعرات کے روز یہاں جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں کہا کہ شہدائے پولیس کے خاندانوں کی ویلفیئر محکمہ پولیس کا اولین ایجنڈا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس فورس اپنے ان ہیروز کی لازوال قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی اور محکمہ زندگی کے ہر موڑ پر ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہے گا۔ سی سی پی او نے کہا کہ فرض کی راہ میں جانیں قربان کرنے والے پولیس کے عظیم شہدا کے اہل خانہ کے لیے تاریخی ویلفیئر اقدامات کیے گئے ہیں، جس کے تحت شہدا پیکیج کے تحت سال دو ہزار تئیس سے لے کر اب تک چودہ خاندانوں کو اٹھارہ کروڑ ستر لاکھ روپے مالیت کے مکانات فراہم کیے جا چکے ہیں۔

اس کے علاوہ مالی مراعات کی تزویراتی مد میں شہدا کے چودہ خاندانوں کو سات کروڑ بیس لاکھ روپے نقد ادا کیے گئے ہیں تاکہ وہ معاشرے میں باوقار انداز میں زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ تعلیم اور سماجی ضروریات کے شعبے میں بھی لاہور پولیس نے ریکارڈ اقدامات کیے ہیں؛ پولیس ملازمین کے بچوں کے لیے اسکالرشپ کی مد میں ایک سو ستاسی خاندانوں میں چار کروڑ پچانوے لاکھ روپے سے زائد کی رقم تقسیم کی گئی ہے۔ اسی طرح بیٹیوں کی شادیوں کے اخراجات میں معاونت کے لیے جہیز فنڈ کے تحت شہدا کے اکتیس خاندانوں کو ایک کروڑ چودہ لاکھ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی ہے۔

سی سی پی او لاہور کے مطابق، سترہ خاندانوں کو گزارہ الائنس کی مد میں ایک کروڑ پچیس لاکھ روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی ہے، جبکہ گروپ انشورنس کے تحت شہدا کے پندرہ خاندانوں کو انتیس لاکھ اکیالیس ہزار روپے سے زائد رقم دی گئی ہے تاکہ وہ کسی کے محتاج نہ رہیں اور باوقار انداز میں اپنی زندگی بسر کر سکیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے تمام دستیاب وسائل کا استعمال جاری رہے گا۔

پاکستان ریلوے میں ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن، راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کا فیصلہ

منصور احمد, JULY 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر ریلوے کی زیر صدارت پاکستان ریلوے میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری ریلوے، چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ریلوے اور آئی ٹی ٹیم نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان ریلوے کو جدید اور محفوظ بنانے کے لیے تمام جاری اور مجوزہ ڈیجیٹل منصوبوں کو وقت پر مکمل کرنے، عوام کی سہولت کے لیے تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر و تیز رفتار بنانے اور راولپنڈی کی طرز پر دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشنز‘ قائم کرنے کے اہم تزویراتی فیصلے کیے گئے۔ اجلاس کے دوران پاکستان ریلوے کی ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق جاری منصوبوں اور آئندہ سال کے اہداف کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق پاکستان ریلوے اپنی اٹھتر سالہ تاریخ کی ریکارڈ ڈیجیٹلائزیشن کر رہا ہے اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے میدان میں تمام سرکاری اداروں سے سب سے آگے ہے۔

اجلاس میں مسافروں کو فراہم کی جانے والی جدید سہولیات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ رابطہ ایپ پر اس وقت سو سے زائد ٹرینیں دستیاب ہیں اور اب تک ریلوے کے ساٹھ بڑے اسٹیشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ مسافروں کی فوری معاونت کے لیے ریلوے ہیلپ لائن ایک سو سترہ کو چوبیس گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کے لیے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں تربیت یافتہ آئی ٹی ایجنٹس ہر وقت خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بڑے ریلوے اسٹیشنز پر مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کی جا چکی ہے، جس سے اب تک ریلوے کے ذریعے سفر کرنے والے تقریباً ستر فیصد مسافروں کی آمدورفت کا احاطہ کیا جا رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ راولپنڈی میں ’اسمارٹ اینڈ سیف ریلوے اسٹیشن‘ کا کامیابی سے افتتاح کیا جا چکا ہے اور اب کیے گئے فیصلے کے تحت دیگر بڑے اسٹیشنز پر بھی جلد اس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

حکام نے اجلاس کو مال برداری اور انتظامی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران فریٹ مینجمنٹ سسٹم، رولنگ اسٹاک ٹریکنگ، ڈیجیٹل ویٹ برجز، ای انسپیکشن رجیم اور جدید اٹینڈنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ پر اب تک ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ وفاقی وزیر ریلوے نے ان تمام ڈیجیٹل خدمات کو مزید مؤثر، تیز رفتار اور عوام دوست بنانے کی خصوصی ہدایت جاری کیں۔ اجلاس کے دوران آئندہ مالی سال کے دوران شروع کیے جانے والے متعدد بڑے ڈیجیٹل منصوبوں پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ان منصوبوں میں سترہ سو کلومیٹر طویل فائبر آپٹک بیسڈ ٹرانسمیشن نیٹ ورک کا قیام اور ایک مکمل ’فریٹ ڈیجیٹلائزیشن ایکو سسٹم‘ کی تشکیل شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی، جی پی ایس بیسڈ ٹریکنگ سسٹم کے ذریعے مسافروں کو جدید ترین سفری سہولیات فراہم کرنے اور جدید سگنلنگ سسٹم کے نفاذ کے ذریعے ٹرین آپریشنز، حفاظت اور محکمے کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے منصوبے بھی زیرِ غور آئے۔ اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر ریلوے نے تمام جاری اور مجوزہ منصوبوں کی بروقت تکمیل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور مکمل طور پر ڈیجیٹل ادارہ بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی سعودی ہم منصب شہزادہ عبدالعزیز بن سعود سے ریاض میں مقتدر ملاقات؛ ریاض کے جدید ترین یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر نائن ون ون کا تفصیلی دورہ

محمود احمد, JULY 02,2026

ریاض/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

پاکستان اور سعودی عرب نے دونوں برادر ممالک کے مابین دیرینہ تزویراتی شراکت داری اور برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے لیے سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مقتدر مفاہمت کی یادداشت پر باقاعدہ دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیرِ داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نائف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اپنے مقتدر بیان میں بتایا کہ انہوں نے اپنی اعلیٰ قیادت کی خصوصی ہدایات کے تحت پاکستانی ہم منصب، وفاقی وزیرِ داخلہ و انسدادِ منشیات محسن رضا نقوی سے ریاض میں ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔ اس اہم بیٹھک کے دوران دونوں مقتدر رہنماؤں نے دوطرفہ سیکیورٹی تعاون کو فول پروف بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا اور اس دستخط شدہ معاہدے کو دونوں برادر ممالک کے گہرے اور مستحکم تعلقات کا عکاس قرار دیا۔

اپنے اس مقتدر دورے کے دوران وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ریاض ریجن میں واقع جدید ترین “یونیفائیڈ سیکیورٹی آپریشنز سنٹر” (نائن ون ون) کا تفصیلی معائنہ بھی کیا۔ انہوں نے سنٹر کے مختلف اہم شعبوں کا دورہ کیا جہاں انہیں تمام متعلقہ سیکیورٹی اور سروسز کے اداروں کے مابین بہترین ہم آہنگی، روابط اور انضمام کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال کی جانے والی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے بارے میں تزویراتی بریفنگ دی گئی۔ محسن نقوی نے شہریوں، مقامی مقیم افراد اور زائرین کے لیے ہنگامی رپورٹس پر انتہائی تیز رفتار اور درست ردعمل کو یقینی بنانے کے لیے سعودی حکام کی انتھک کوششوں اور جدید ترین تکنیکی نظام کو خاص طور پر سراہا۔

واضح رہے کہ ریاض ریجن کا یہ مرکزی آپریشنز سنٹر (نائن ون ون) سعودی عرب کے اہم ترین سیکیورٹی انفراسٹرکچر میں شمار ہوتا ہے، جو ریاض شہر کے علاوہ خطے کی بائیس گورنریٹس کو اپنی چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ایک ہی چھت تلے قائم اس جدید ترین کنٹرول روم میں باسٹھ آپریشنل ورکنگ یونٹس چوبیس گھنٹے متحرک رہتے ہیں، جو تمام ہنگامی نوعیت کی کالز کو موصول کر کے فوری کارروائی کو یقینی بناتے ہیں۔ سیکیورٹی اور ہنگامی خدمات کا یہ مربوط نظام سعودی عرب کے تاریخی “وژن بیس تیس” اور “کوالٹی آف لائف پروگرام” کے اعلیٰ اہداف کے تحت کامیابی سے کام کر رہا ہے۔

عوام کی خدمت اور ان کے بنیادی مسائل کا فوری حل پاکستان پیپلز پارٹی کا اولین منشور ہے، ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی گفتگو

منصور احمد, JULY 02,2026

سکھر/خیرپور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کوٹ ڈیجی میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ریجنل دفتر کا ایک مقتدر دورہ کیا اور وہاں علاقہ معززین و پارٹی کارکنان سے تفصیلی ملاقاتیں کیں۔ دورے کے دوران ڈاکٹر نفیسہ شاہ اپنے انتخابی حلقے میں واقع پیپلز پارٹی کمب آفس پہنچیں، جہاں انہوں نے پارٹی کے مقامی رہنماؤں، خواتین ورکرز، مقتدر کارکنوں اور معززینِ علاقہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس تزویراتی موقع پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے علاقے کی خواتین سمیت عام عوام کے درپیش مسائل انتہائی تفصیل سے سنے اور ان کے فوری اور پائیدار حل کے لیے موقع پر ہی متعلقہ سرکاری افسران کو سخت احکامات جاری کیے۔

ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے شرکاء کو پختہ یقین دلایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ بلاامتیاز عوام کی خدمت اور ان کے سماجی و معاشی مسائل کے حل کے لیے عملی و تزویراتی اقدامات کرتی رہے گی، کیونکہ یہی پارٹی قیادت کا اصل مشن ہے۔ اس مقتدر موقع پر پی پی پی تحصیل کوٹ ڈیجی کے سینئر رہنما، بلدیاتی نمائندے اور دیگر معززینِ علاقہ بھی بڑی تعداد میں موجود تھے، جنہوں نے اپنے مقتدر حلقے میں عوامی روابط مہم کو تیز کرنے پر ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی کوششوں کو شاندار الفاظ میں سراہا۔

عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے اور عوامی مسائل کا حل اولین ترجیح ہو، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 02,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنی حکومت کے عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھانے اور عوام کے بنیادی مسائل کے فوری حل کو اولین ترجیح دینے کی سخت ہدایت کی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، جنہوں نے جمعرات کے روز یہاں ان سے ایک مقتدر ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، وفاقی وزیر برائے پبلک افیئرز یونٹ رانا مبشر اقبال، وزیر مملکت برائے پاور عبدالرحمٰن خان کانجو اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طلحہٰ برکی بھی اس اعلیٰ سطحی تزویراتی ملاقات میں موجود تھے۔

ملاقات کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی و انتظامی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے واضح کیا کہ حکومتی اراکین اور وزراء عوامی خدمت کے مشن کو تیز کریں تاکہ عام آدمی کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی پائیدار ترقی، خوشحالی اور وہاں کے عوام کی سماجی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی حکومت تمام دستیاب وسائل کو ہر ممکن طور پر بروئے کار لائے گی اور ان خطوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو شفافیت کے ساتھ مقررہ مدت میں مکمل کیا جائے گا۔

کاہنہ ٹیوشن سینٹر سانحہ، شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل کی تشکیل کا مطالبہ، گورنر اور وزیراعلیٰ پنجاب کو خط ارسال

کاشف عباسی , JULY 02,026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جولائی 2026ء

لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر کی عمارت کی چھت گرنے کے دلخراش سانحے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل ٹربیونل تشکیل دینے کی باقاعدہ درخواست کرتے ہوئے گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب اور دیگر متعلقہ مقتدر حکام کو ایک باضابطہ خط ارسال کر دیا گیا ہے۔ جوڈیشل ایکٹوزم پینل کے سربراہ محمد اظہر صدیق ایڈووکیٹ کی جانب سے ارسال کیے گئے اس خط میں پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاہنہ سانحے کی شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر ہائی کورٹ کے جج پر مشتمل جوڈیشل ٹربیونل قائم کیا جائے۔

خط کے تزویراتی متن کے مطابق، اس غیر رجسٹرڈ ٹیوشن سینٹر میں چھت گرنے کے نتیجے میں چودہ معصوم بچے موقع پر جاں بحق جبکہ ایک خاتون ٹیچر شدید زخمی ہوئیں۔ خط میں حکام سے مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبے بھر میں کام کرنے والے تمام غیر رجسٹرڈ تعلیمی اداروں اور اکیڈمیوں کی فوری رجسٹریشن کو قانونی طور پر یقینی بنایا جائے، جبکہ ان عمارتوں کے حفاظتی ضوابط اور فٹنس سرٹیفکیٹس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے کسی بھی افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے کی روک تھام کو مستقل بنیادوں پر ممکن بنایا جا سکے۔ لاہور کے عوامی اور سماجی حلقوں نے بھی اس سانحے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے داخلوں کا باقاعدہ آغاز


علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے تعلیمی سفر کے 50 سال مکمل: سلور جوبلی کا انعقاد۔

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

سیالکوٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سمسٹر خزاں دو ہزار چھبیس کے تعلیمی داخلوں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، لہٰذا تمام خواہشمند طلبہ و طالبات مقررہ آخری تاریخ سے قبل آن لائن درخواستیں جمع کرا کے اس تعلیمی موقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ سیالکوٹ ریجنل کیمپس طلبہ کو داخلوں، امتحانات، اسائنمنٹس اور دیگر تمام تعلیمی امور میں ہر ممکنہ رہنمائی اور بہترین سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریجنل ڈائریکٹر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سیالکوٹ ریجن چوہدری حسن صفتیں چیمہ نے اپنے آفس میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے مقتدر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے تفصیلاً بتایا کہ میٹرک، ایف اے، آئی کام، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی بی اے، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ، سرٹیفکیٹ، ایم بی اے، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی سمیت مختلف تدریسی پروگراموں میں داخلے جاری ہیں، اور طلبہ اپنی اہلیت کے مطابق پسندیدہ پروگرام کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ریجنل ڈائریکٹر چوہدری حسن صفتین چیمہ نے داخلوں کے شیڈول کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میٹرک، ایف اے، ایسوسی ایٹ ڈگری، بی ایس، بی ایڈ، پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ اور سرٹیفکیٹ پروگرامز میں داخلہ حاصل کرنے کی آخری تاریخ دس اگست دو ہزار چھبیس مقرر کی گئی ہے، جبکہ ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی جیسے اعلیٰ تعلیمی پروگرامز کے لیے سترہ اگست دو ہزار چھبیس کی تاریخ طے ہے۔ اس کے علاوہ طلبہ اپنے مطلوبہ کورسز کا باقاعدہ اندراج چوبیس اگست دو ہزار چھبیس تک کرا سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام طلبہ اور والدین سے پرزور اپیل کی کہ وہ داخلے کے محفوظ عمل کے لیے صرف یونیورسٹی کے آفیشل اور سرکاری پورٹل سے ہی رجوع کریں اور کسی بھی قسم کی رہنمائی یا معلومات کے لیے سیالکوٹ ریجنل کیمپس سے براہِ راست رابطہ کریں، جہاں طلبہ کی فوری سہولت اور کونسلنگ کے لیے ایک خصوصی فیسیلیٹیشن ڈیسک فعال کر دیا گیا ہے۔

پاکستان کی اصل طاقت ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ باصلاحیت نوجوان نسل ہے، وفاقی وزیر احسن اقبال

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کا ایٹمی پروگرام نہیں بلکہ اس کی باصلاحیت نوجوان نسل ہے؛ قوموں کی حقیقی ترقی معدنی وسائل سے نہیں بلکہ انسانی وسائل، معیاری تعلیم، جدید مہارتوں اور پالیسیوں کے تسلسل سے وابستہ ہوتی ہے، اور مستقبل انہی قوموں کا ہوتا ہے جو اپنے نوجوانوں پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ انہوں نے یہ بات بدھ کے روز یہاں اڑان پاکستان “مٹی کی پکار” اوورسیز پاکستانیز سمر اسکالرز پروگرام دو ہزار چھبیس کی پروقار افتتاحی تقریب سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

وفاقی وزیر نے تفصیلاً بتایا کہ اس مقتدر پروگرام کے لیے دنیا کے چوون ممالک سے تقریباً دو ہزار درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے انتہائی شفاف اور میرٹ پر مبنی انتخابی عمل کے بعد دنیا کی ایک سو پچاس ممتاز جامعات سے تعلق رکھنے والے پینتالیس غیر معمولی اوورسیز پاکستانی طلبہ و طالبات کو منتخب کیا گیا۔ احسن اقبال نے منتخب اسکالرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ دو ماہ پر مشتمل یہ پروگرام اوورسیز پاکستانی طلبہ کو پاکستان کے مختلف قومی اداروں میں عملی تجربہ حاصل کرنے، پالیسی سازی کے عمل کو قریب سے سمجھنے اور ملکی ترقی میں اپنا تعمیری کردار ادا کرنے کا منفرد موقع فراہم کرے گا۔ اس سال پروگرام کی ایک اور منفرد خصوصیت یہ ہے کہ پاکستانی طلبہ کے ساتھ بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور قازقستان سے تعلق رکھنے والے تین غیر ملکی اسکالرز بھی شریک ہیں، جو اس اقدام کی بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ آئندہ چند ہفتوں کے دوران یہ نوجوان وزارتِ منصوبہ بندی کی سینئر قیادت کے ساتھ مل کر اڑان پاکستان کے فائیو ایز فریم ورک (یعنی برآمدات، توانائی، ماحولیات، ای پاکستان اور مساوات و بااختیار بنانا) کے تحت قومی ترقی کے مختلف شعبوں میں پالیسی سازی کو جدید خطوط پر استوار کریں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ (ن) کو ملک کی خدمت کا موقع ملا، نوجوانوں کو جدید مہارتیں فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی؛ ماضی میں حکومت نے ملک کو توانائی بحران اور دہشت گردی سے نکالا، جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) جیسے تاریخی منصوبوں کا آغاز کیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ دو ہزار سترہ میں عالمی ادارے پرائس واٹر ہاؤس کوپرز نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر پاکستان ترقی کی اسی رفتار سے آگے بڑھتا رہا تو دو ہزار تیس تک دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جائے گا، لیکن بعد ازاں ایک مصنوعی سیاسی تبدیلی کے نتیجے میں ملک شدید معاشی بحران کا شکار ہوا اور ڈیفالٹ کے دہانے تک پہنچ گیا۔ دو ہزار بائیز میں جب موجودہ حکومت نے ذمہ داریاں سنبھالیں تو سخت ترین فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا اور آج دنیا پاکستان کی معاشی بحالی کو سراہا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اس لیے ریاست پر یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ انہیں معیاری تعلیم اور باعزت روزگار کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں۔ اب سفارتی کامیابیوں کے بعد اصل معرکہ معاشی ترقی کا ہے جسے جیتنے کے لیے نوجوان نسل کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھی سفارشات ارسال کی ہیں تاکہ ملکی جامعات کے نصاب کو جدید دور کے تقاضوں، ٹیکنالوجی اور عالمی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔ انہوں نے اسکالرز کو تاکید کی کہ وہ ان چھ ہفتوں کو اپنی زندگی کا یادگار تجربہ بنائیں اور ہمیشہ مثبت سوچ کے ساتھ اپنے وطن کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

بین الصوبائی تعاون کے فروغ سے عوامی مسائل کے حل اور ملکی استحکام کو مزید تقویت ملے گی، صدر آصف علی زرداری

منصور احمد, JULY 01,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ ایوانِ صدر کے پریس ونگ سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اس اہم بیٹھک میں وفاقی حکومت سے متعلق بین الصوبائی امور، صوبوں کے مابین تعاون اور باہمی دلچسپی کے مختلف تزویراتی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے مابین مضبوط روابط کی ضرورت پر گہرا زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کے مؤثر فروغ سے نہ صرف عوام کے بنیادی مسائل کو مقامی اور صوبائی سطح پر حل کرنے میں مدد ملے گی، بلکہ ملکی ترقی، یکجہتی اور مجموعی استحکام کی جاری کوششوں کو بھی مزید تقویت حاصل ہوگی۔ ملاقات میں دونوں وزرائے اعلیٰ نے اپنے اپنے صوبوں کی ترقیاتی صورتحال اور وفاق کے ساتھ جاری پراجیکٹس کے حوالے سے صدرِ مملکت کو بریفنگ بھی دی۔

موسمی تغیرات کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی تعاون ناگزیر ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف

کاشف عباسی , JULY 01,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے موسمی تغیرات کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مون سون کی پیشگی تیاری کے لیے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں بشمول آزاد کشمیر و گلگت بلتستان کا ہنگامی دورہ کرنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت مون سون سیزن کی پیشگی تیاری اور موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی خطرات سے بچاؤ کے نظام پر ایک اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس بدھ کے روز یہاں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد لغاری، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، چیئرمین واپڈا اور تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور دیگر متعلقہ سرکاری اداروں کے مقتدر عہدیداران نے شرکت کی۔

اجلاس سے تزویراتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، لہٰذا موسمی تغیرات کے قومی سطح کے خطرات سے نبرد آزما ہونے کے لیے وفاقی اور صوبائی سطح پر موثر اور جامع تعاون انتہائی ناگزیر ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی اور چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا اسی ہفتے ہنگامی دورہ کرنے کی ہدایت کی تاکہ مون سون کی پیشگی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا سکے۔ انہوں نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی کی زیر نگرانی این ڈی ایم اے اور دیگر متعلقہ وفاقی وزارتوں پر مشتمل ایک مقتدر ایمرجنسی رسپانس کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو متعلقہ صوبائی اداروں سے عملی تعاون کے لیے کام کرے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر یہ ایمرجنسی رسپانس کمیٹی باقاعدگی سے ہفتہ وار ملاقاتیں کرے گی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وفاقی وزیر خزانہ اس کمیٹی میں مون سون کی ممکنہ تباہی کی صورت میں ہنگامی فنڈ کی تشکیل کے لیے پیشگی تیاری مکمل کریں۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ غیر ملکی اداروں کی مالی معاونت کے تحت چلنے والے منصوبے بھی قومی و مقامی اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے استعمال ہونے چاہئیں۔ وزیراعظم نے بتایا کہ قومی آبی تحفظ و سلامتی کے لیے وفاقی حکومت نے اس سال مالی بجٹ میں آبی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے تین سو تیس ارب روپے کی خطیر اضافی رقم مختص کی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ ماضی کے تجربات کی روشنی میں اس سال مون سون سیزن میں ممکنہ سیلابی صورتحال اور خطرات سے بچاؤ کے لیے اقدامات ایک جامع روڈ میپ کے تحت ترتیب دیے جائیں؛ تمام صوبے مقامی سطح پر خطرے سے دوچار اضلاع میں دریاؤں کی گزرگاہوں اور سیلاب کے ممکنہ راستوں میں تجاوزات اور دیگر مسائل کا پیشگی موثر حل یقینی بنائیں، جبکہ مون سون کے دوران تمام ادارے اپنی مکمل ادارہ جاری و تکنیکی استعداد کار کو عوام کی سہولت کے لیے بروئے کار لائیں۔ اجلاس میں چیئرمین این ڈی ایم اے نے رواں سال مون سون کی پیشگی تیاری، ممکنہ بارشوں، سیلابی صورتحال اور موسمیاتی تغیر کے رحجان پر تفصیلی بریفنگ دی۔ وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں رواں سال گرمی کی شدید لہر اور غیر معمولی موسمیاتی تغیرات کے امکانات واضح ہیں؛ پاکستان میں بھی گرمی کی شدید لہر اور جولائی کے مہینے میں غیر معمولی بارشیں متوقع ہیں جن کے لیے مجوزہ حکمت عملی کے تحت تمام درکار انتظامات مقتدر سطح پر کیے جا رہے ہیں۔ اجلاس میں وزیراعظم نے موسمیاتی تغیر اور مون سون کی ممکنہ تباہی سے یقینی بچاؤ کے لیے تمام وفاقی اور صوبائی متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مکمل ہم آہنگی کے ساتھ موثر تعاون اور جامع حکمت عملی کے تحت کام کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تغیرات جیسے قومی خطرات سے بطریق احسن نبرد آزما ہونے کے لیے باہمی تعاون اور ہنگامی اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔

پاک بھارت قونصلر رسائی معاہدہ، دونوں ممالک کے مابین قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا تبادلہ

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان اور بھارت نے دوطرفہ قونصلر رسائی کے تاریخی معاہدے کے تحت روایتی سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کی تحویل میں موجود قیدیوں کی تازہ ترین فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ بدھ کے روز دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، اکیس مئی دو ہزار آٹھ کو طے پانے والے دوطرفہ معاہدے کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ وہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو اپنی جیلوں میں بند قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کریں۔ اسی تزویراتی فریم ورک کے تحت، حکومتِ پاکستان نے اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کو اپنی تحویل میں موجود دو سو پچاس بھارتی قیدیوں کی سرکاری فہرست فراہم کی، جن میں باون سویلین قیدی اور ایک سو اٹھانوے ماہی گیر شامل ہیں۔ دوسری جانب، حکومتِ بھارت نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو اپنی جیلوں میں موجود چار سو انتالیس پاکستانی یا بظاہر پاکستانی قیدیوں کی تازہ فہرست مقتدر ذرائع سے فراہم کی ہے، جن میں تین سو چھیاسی سویلین قیدی اور ترپن ماہی گیر شامل ہیں۔

دفتر خارجہ کے مقتدر ترجمان کے مطابق، پاکستان نے بھارتی حکومت پر کڑا زور دیا ہے کہ وہ اپنی جیلوں میں اپنی مقررہ سزا مکمل کرنے والے ستانوے پاکستانی قیدیوں، جن میں چونسٹھ سویلین قیدی اور تینتیس ماہی گیر شامل ہیں، کو فوری طور پر رہا کر کے باوقار طریقے سے وطن واپس بھیجے کیونکہ ان تمام قیدیوں کی پاکستانی شہریت کی حتمی تصدیق مکمل ہو چکی ہے۔ پاکستان نے اس موقع پر بھارت سے یہ اہم تزویراتی مطالبہ بھی کیا کہ رہائی اور اپنے وطن واپسی کے منتظر تمام معصوم پاکستانی اور بظاہر پاکستانی قیدیوں کی جیلوں کے اندر مکمل حفاظت، سلامتی اور سماجی فلاح و بہبود کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

آفیشل بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت سے ان تمام بظاہر پاکستانی قیدیوں کو بھی جلد سے جلد قونصلر رسائی فراہم کرنے کا مقتدر مطالبہ کیا ہے جن کے مقدمات ابھی زیرِ التوا ہیں، تاکہ ان کی اصل شہریت کی بروقت اور قانونی تصدیق کا عمل جلد مکمل کیا جا سکے۔ دفتر خارجہ کے مطابق، حکومتِ پاکستان بھارتی جیلوں میں اس وقت محبوس تمام معصوم پاکستانی قیدیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور ان کی جلد از جلد وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ تزویراتی و سفارتی کوششیں مسلسل جاری رکھے گی تاکہ وہ جلد اپنے خاندانوں سے مل سکیں۔

پاکستان میں موسمیاتی اور انسانی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومت اور اقوامِ متحدہ کا باہمی اشتراک بڑھانے پر اتفاق

روزینہ اسماعیل, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امداد کے نو منتخب اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ نے ایک اعلیٰ سطحی اور مقتدر ملاقات کی ہے۔ اس اہم بیٹھک کے موقع پر اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے اعلیٰ نمائندگان بھی موجود تھے۔ بدھ کے روز وزارتِ موسمیاتی تبدیلی سے جاری کردہ آفیشل بیان کے مطابق، ملاقات کے آغاز میں وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے محمد یحییٰ کو اقوامِ متحدہ میں اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل برائے انسانی امور اور ڈپٹی ایمرجنسی ریلیف کوآرڈینیٹر کے باوقار عہدے پر تقرری پر دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے سابق ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر کی حیثیت سے محمد یحییٰ کی شاندار خدمات کو شاندار الفاظ میں سراہتے ہوئے پاکستان کے ساتھ ان کے مسلسل تزویراتی تعاون کی تعریف کی۔

ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی امداد سے متعلق خدمات اس عالمی ادارے کے سب سے اہم، قابلِ ستائش اور مؤثر ترین کرداروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر بالخصوص پاکستان میں قدرتی آفات، انسانی بحرانوں اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سنگین تزویراتی چیلنجز سے نمٹنے میں اقوامِ متحدہ کی انتھک کاوشوں کا اعتراف کیا۔ اس مقتدر ملاقات کے دوران وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی اور اقوامِ متحدہ کے متعلقہ اداروں کے درمیان باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے مختلف تزویراتی امکانات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت موسمیاتی مزاحمت ، ناگہانی آفات سے نمٹنے کی پیشگی تیاری، پائیدار ترقی، اور انسانی امداد سے متعلق اہم شعبوں میں مشترکہ پراجیکٹس شروع کرنے پر غور کیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے آئندہ برسوں میں مشترکہ تزویراتی تعاون کے لیے ترجیحی شعبوں کے حتمی تعین اور باہمی اشتراک پر مبنی دوررس منصوبہ بندی کے حوالے سے تفصیلی اتفاقِ رائے پیدا ہوا۔ دونوں مقتدر شخصیات نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قریبی اشتراک سے ایسے تمام ماحولیاتی اقدامات کو عملی اور مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا، تاکہ پاکستان میں موسمیاتی موافقت اور انسانی ترقی کے اہداف کا بہتر، تیز رفتار اور پائیدار حصول ہر صورت ممکن بنایا جا سکے۔

خواتین کو وراثت سے محروم کرنے کے خلاف سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، اکہتر سال بعد دو بہنوں کو شرعی اور قانونی حصہ دینے کا حکم

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کرنے کے خلاف ایک مقتدر اور تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے اکہتر سال بعد دو بہنوں کو قانون اور شریعت کے مطابق وراثت میں ان کا جائز حصہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر قرار دیا ہے کہ زبانی ہبہ (تحفہ) ثابت کرنے کا تمام تر قانونی بوجھ ہمیشہ اس فریق پر ہوگا جو اس سے براہِ راست فائدہ اٹھا رہا ہو۔ جسٹس شاہد بلال حسن اور جسٹس شکیل احمد پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نور محمد کی اپیل منظور کرتے ہوئے چودہ صفحات پر مشتمل مقتدر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے سول کورٹ، اپیلیٹ کورٹ اور ہائی کورٹ کے وہ تمام سابقہ فیصلے یکسر کالعدم قرار دے دیے جن میں زبانی ہبے کو درست تسلیم کر کے بہنوں اور والدہ کو وراثت سے محروم رکھا گیا تھا، جبکہ ریونیو حکام کو جائیداد کا تمام ریکارڈ قانون کے مطابق فوری درست کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے مقتدر فیصلے میں تحریر کیا ہے کہ وراثت خاندان کے مرد افراد کی کوئی مہربانی، صوابدید یا تحفہ نہیں بلکہ یہ خواتین کا شرعی اور قانونی حق ہے، جو مورث کے انتقال کے ساتھ ہی خودبخود تمام جائز وارثوں کو منتقل ہو جاتا ہے۔ نجی معاہدوں، خاندانی دباؤ یا فرسودہ رسم و رواج کے ذریعے خواتین کو اس بنیادی حق سے کسی صورت محروم نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتِ عظمیٰ نے اپنے تزویراتی فیصلے میں قرار دیا کہ خواتین کو وراثت سے دور رکھنے کے لیے جعلی ہبہ، جائیداد کا جعلی انتقال یا کسی بھی قسم کی جعلسازی اور فراڈ عدالتوں میں ہرگز برداشت نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ماتحت عدالتوں کو ایسی ہر مشکوک ٹرانزیکشن کا انتہائی باریک بینی اور احتیاط سے جائزہ لینا چاہیے۔ فیصلے میں مزید کہا گیا کہ خواتین کے وراثتی حقوق علامتی یا اختیاری نہیں بلکہ لازمی حقوق ہیں اور انہیں صرف کاغذی حد تک نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کا پورا حصہ ملنا چاہیے۔

مقتدر فیصلے کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت ہوا کہ انیس سو پچپن میں والد کے انتقال کے بعد دونوں بھائیوں نے مبینہ زبانی ہبے کا موقف اختیار کرتے ہوئے پوری وراثتی جائیداد اپنے نام منتقل کرا لی تھی، جبکہ اپنی سگی والدہ اور بہنوں کو وراثت سے مکمل طور پر محروم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ماتحت عدالتوں نے اس زبانی ہبے کو درست تسلیم کیا، تاہم وہ بارِ ثبوت کے بنیادی قانونی اصول کو نظر انداز کر گئیں؛ کیونکہ زبانی ہبہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ہمیشہ فائدہ حاصل کرنے والے فریق پر عائد ہوتی ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے اس قانونی اصول کے بالکل برعکس خود ہبے کو ہی ثبوت تصور کر لیا، جو قانون کے منافی تھا۔ عدالتِ عظمیٰ نے کیس میں تاخیر سے دعویٰ دائر کرنے کا اعتراض بھی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ محض اس ٹیکنیکل بنیاد پر خواتین کو ان کے ابدی قانونی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے اپیل منظور کرتے ہوئے تمام ماتحت عدالتوں کے فیصلے کالعدم قرار دے کر متعلقہ ریونیو حکام کو وراثتی ریکارڈ قانون کے مطابق درست کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت کی منظوری دے دی

محمود احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

عالمی بینک کے بورڈ آف ایگزیکٹو ڈائریکٹرز نے پنجاب میں ڈیجیٹل ترقی کو نئی رفتار دینے اور مقتدر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے 7 کروڑ ڈالر کی خطیر مالی معاونت کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ یہ تزویراتی معاونت “کنیکٹڈ پنجاب پروگرام” کے تحت فراہم کی جائے گی، جس کا بنیادی مقصد صوبے بھر میں براڈبینڈ انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھانا، سرکاری خدمات کو جدید ترین ڈیجیٹل نظام سے ہم آہنگ کرنا اور روایتی نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کردہ مقتدر بیان کے مطابق، یہ پروگرام پاکستان کے قومی ڈیجیٹل وژن سے مکمل ہم آہنگ ہے اور وفاقی حکومت کے ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے تحت تیار کیے جانے والے قومی ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگا، جس کا مقصد وفاقی سطح پر کی جانے والی ڈیجیٹل سرمایہ کاری، پالیسیاں اور ٹیکنالوجی پنجاب کے شہریوں، کاروباری اداروں اور سرکاری محکموں تک مؤثر انداز میں پہنچانا ہے۔

عالمی بینک کے مطابق، اس منصوبے کے لیے فراہم کی جانے والی 7 کروڑ ڈالر کی آئی ڈی اے فنانسنگ پنجاب حکومت کے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مساوی شراکتی فنڈز کے ساتھ مل کر 27 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کے مجموعی سرمایہ کاری پروگرام کا حصہ ہوگی۔ پاکستان میں عالمی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما امگابازر نے اس حوالے سے بتایا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل رابطہ محض ایک سہولت نہیں بلکہ پائیدار ترقی، روزگار اور مساوی مواقع کی مضبوط بنیاد بن چکا ہے؛ وفاقی حکومت نے پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لیے ایک جامع وژن پیش کیا ہے اور کنیکٹڈ پنجاب پروگرام اس وژن کو صوبے کے کروڑوں شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کا مقتدر ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ براڈبینڈ انفراسٹرکچر کی توسیع اور پنجاب کے ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے سے خصوصاً خواتین اور نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور معیاری سرکاری خدمات تک رسائی کے نئے تزویراتی امکانات پیدا ہوں گے۔

عالمی بینک کے مطابق، پنجاب میں براڈبینڈ نیٹ ورک کی توسیع میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں ریگولیٹری پیچیدگیاں اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے اخراجات شامل ہیں، اسی مقصد کے تحت یہ پروگرام رائٹ آف وے کے اجازت ناموں کے حصول کا عمل نمایاں طور پر آسان بنائے گا، جس کے تحت اجازت نامے جاری کرنے کا اوسط دورانیہ موجودہ 90 دن سے کم کر کے صرف 21 دن تک لایا جائے گا تاکہ نجی شعبے کی جانب سے فائبر آپٹک اور دیگر براڈبینڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو سکے۔ پروگرام کے تزویراتی اہداف کے مطابق، جون 2031ء تک پنجاب میں فکسڈ براڈبینڈ کی رسائی 78 لاکھ افراد سے بڑھ کر 99 لاکھ افراد تک پہنچ جائے گی، جس کے نتیجے میں تقریباً 21 لاکھ نئے شہری پہلی مرتبہ تیز رفتار انٹرنیٹ سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اسی عرصے میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں نجی شعبے کی جانب سے کم از کم 5 کروڑ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

منصوبے کا ایک اور اہم حصہ پنجاب کے سرکاری اداروں کی ڈیجیٹل صلاحیتوں میں اضافہ کرنا بھی ہے، جس کے لیے حکومت کے کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کو جدید بنایا جائے گا تاکہ مختلف سرکاری محکمے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی خدمات تیار کر سکیں اور انہیں بڑے پیمانے پر عوام تک پہنچا سکیں۔ عالمی بینک کے مطابق، اس اقدام سے جون 2031ء تک تقریباً 2 کروڑ 89 لاکھ افراد جدید ڈیجیٹل سرکاری خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں گے، جبکہ پروگرام میں خواتین کی ڈیجیٹل شمولیت کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، صوبے میں نقد لین دین پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک جدید ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ سسٹم قائم کیا جائے گا، جو ادائیگیوں، انوائسز اور حکومتی رپورٹنگ کو ایک مربوط ادائیگی کے نظام کے تحت ایک دوسرے سے منسلک کر دے گا۔

شمالی علاقہ جات میں سیاحوں کا غیر معمولی رش، پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں کے لیے اہم ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی

منصور احمد, JULY 01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 جولائی 2026ء

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن نے ذمہ دارانہ سیاحت آگاہی مہم کے تحت ملک کے مختلف حصوں بالخصوص شمالی علاقہ جات کی سیر کو جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اور مقتدر ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ ٹریول ایڈوائزری کے مطابق، اس وقت ملک کے شمالی پہاڑی علاقوں میں سیاحوں کا غیر معمولی اور ریکارڈ رش دیکھا جا رہا ہے، جس کے پیشِ نظر تمام سیاحوں اور خاندانوں سے پرزور اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے سفر پر روانگی سے قبل متعلقہ مقامات پر ہوٹل یا رہائش کی پیشگی بکنگ لازمی طور پر یقینی بنائیں تاکہ وہاں پہنچ کر انہیں کسی بھی قسم کی دشواری، پریشانی یا تزویراتی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پی ٹی ڈی سی نے سیاحوں پر گہرا زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ایک منظم منصوبہ بندی اور مقتدر حکمتِ عملی کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کریں تاکہ ان کا یہ سفر مکمل محفوظ اور خوشگوار رہ سکے۔ ٹریول ایڈوائزری میں سیاحوں کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پہاڑی راستوں پر سفر کے دوران ٹریفک قوانین کا خاص خیال رکھیں، محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ موسم کی تازہ ترین صورتحال پر نظر رکھیں، اپنے ساتھ ضروری ادویات اور فرسٹ ایڈ کٹ لازمی رکھیں اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر صفائی کا خاص خیال رکھتے ہوئے قدرتی ماحول کو آلودگی سے محفوظ بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ پی ٹی ڈی سی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی تزویراتی مسئلے یا ناگہانی ہنگامی صورتحال کی صورت میں سیاح فوری طور پر ٹورسٹ ہیلپ لائن چودہ بائیس پر رابطہ کر سکتے ہیں؛ ذمہ داری سے سفر کرنا اور ملک کے خوبصورت ماحول کا تحفظ کرنا ہر سیاح کی اجتماعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔