

محمود احمد, May 06,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 6 مئی 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ آئندہ مذاکرات یا امن معاہدے کے لیے دوبارہ پاکستان جانے کے امکان پر کہا ہے کہ اس بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔
نیویارک پوسٹ کے مطابق صدر ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ آیا اخبار کو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے اگلے دور کی کوریج کے لیے دوبارہ پاکستان بھیجنے کی تیاری کرنی چاہیے، جس پر انہوں نے امکان کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ابھی ایسا کرنا قبل از وقت ہوگا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ معاہدے پر سفارتی کوششیں جاری تھیں۔ رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک ابتدائی مفاہمتی دستاویز پر پیش رفت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جبکہ ایران امریکی تجویز کا جائزہ لے رہا تھا۔
امریکی صدر نے اسی دوران کہا کہ ایران کے ساتھ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اچھی بات چیت ہوئی ہے اور معاہدہ طے پانے کا امکان موجود ہے۔ تاہم انہوں نے مذاکرات کے کسی حتمی مقام یا اگلے براہِ راست اجلاس کے بارے میں کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
پاکستان اس مذاکراتی عمل میں اہم سفارتی کردار ادا کر رہا تھا۔ پاکستان میں امریکا اور ایران کے درمیان پہلے مذاکرات بھی ہو چکے تھے، جبکہ بعد ازاں اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کے لیے ایک اہم ذریعہ بنا رہا۔
ٹرمپ نے اس سے قبل بھی پاکستان کے ممکنہ کردار اور اسلام آباد میں مذاکرات کے انعقاد کے امکان کا ذکر کیا تھا، تاہم 6 مئی کے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ دوبارہ براہِ راست مذاکرات یا پاکستان کے سفر کے بارے میں فیصلہ ابھی جلدی ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
6 مئی 2026ء کو صدر ٹرمپ کے بیان کا مطلب یہ نہیں تھا کہ مذاکرات کا عمل ختم ہو گیا ہے۔ ان کا مؤقف یہ تھا کہ پاکستان میں اگلے براہِ راست مذاکرات یا امن معاہدے کے لیے سفر کے بارے میں بات کرنا ابھی قبل از وقت ہے۔ اسی وقت امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے اور مجوزہ معاہدے پر بات چیت جاری تھی۔
ماخذ: نیویارک پوسٹ، Anadolu، Reuters

