ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم کا انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کا دورہ، انسداد منشیات پالیسی کے اقدامات کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی مانیٹرنگ ٹیم نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد (آئی آئی یو آئی) کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے یونیورسٹی میں انسدادِ منشیات پالیسی پر عملدرآمد اور طلبہ کے تحفظ کے لیے کیے گئے حفاظتی و انسدادی اقدامات کا جامع جائزہ لیا۔

یونیورسٹی حکام کی جانب سے دی گئی تفصیلی بریفنگ کے بعد ایچ ای سی مانیٹرنگ ٹیم نے مرد اور خواتین کے مختلف کیمپسز اور سیکیورٹی مانیٹرنگ کے تمام پوائنٹس کا عملی معائنہ کیا۔ اس موقع پر ٹیم نے کیمپس میں نگرانی کے جدید آلات اور مانیٹرنگ کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط اور فعال بنانے سے متعلق مختلف تجاویز پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ایچ ای سی ٹیم نے آئی آئی یو آئی کی انتظامیہ کی جانب سے کیمپس کو منشیات اور تمباکو سے پاک رکھنے، اساتذہ و طلبہ میں مسلسل آگاہی کی مہمات چلانے اور ایچ ای سی کی قومی پالیسی پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔

موسمیاتی تبدیلی یورپ میں جنگلاتی آگ کے رقبے میں تین گنا تک اضافے کا باعث بن سکتی ہے: جرمن تحقیق

محمود احمد, August 21,2026

برلن (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

جرمنی میں شائع ہونے والی ایک جدید بین الاقوامی تحقیق کے نتائج سے یہ تشویشناک بات سامنے آئی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حرارت کی وجہ سے روان صدی کے اختتام تک یورپ میں جنگلاتی آگ کے متاثرہ رقبے میں نمایاں اور ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔

جریدے “گلوبل چینج بائیولوجی” میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں پوٹسمڈ انسٹی ٹیوٹ فار کلائمیٹ امپیکٹ ریسرچ کے اہم محقق مائیک بلنگ کی قیادت میں سائنسدانوں نے بتایا کہ شدید گرمی، خشکی اور تیز ہواؤں جیسے موسمی حالات بگڑنے سے یورپ بھر میں آگ کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں 1.8 ڈگری کا اضافہ ہوتا ہے تو جلنے والے رقبے میں 39 فیصد اضافہ ہوگا، جبکہ 3.6 ڈگری درجہ حرارت بڑھنے کی صورت میں یہ اضافہ 192 فیصد تک پہنچ جائے گا جس سے متاثرہ رقبہ موجودہ حالت کے مقابلے میں تین گنا بڑھ جائے گا۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ وسطی یورپ، مغربی یورپ کے وسیع حصے اور بحیرہ روم کے علاقے اس کی سب سے شدید زد میں آئیں گے۔

تاہم ماہرین نے یہ نقطہ بھی اجاگر کیا ہے کہ آگ کے خطرات صرف موسم پر نہیں بلکہ زمین کے استعمال، بروقت نشاندہی اور روک تھام پر بھی منحصر ہیں۔ تحقیق کے مطابق اگر آگ کی بروقت نشاندہی، کنٹرول اور بہتر انتظامی اقدامات کو عمل میں لایا جائے تو شدید ترین درجہ حرارت کے منظر نامے میں بھی جنگلاتی آگ سے متاثرہ رقبے کو 72 فیصد سے 92 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے متاثرین کے عالمی دن پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ کا پیغام: شہدا اور ان کے اہل خانہ کے حقوق و وقار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے

منصور احمد, August 21,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 21 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے دہشت گردی کے تمام متاثرین اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے حقوق، انصاف اور وقار کا تحفظ ریاست کی اولین اور اہم ذمہ داری ہے۔

ترجمان وزارتِ قانون و انصاف کے مطابق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے “دہشت گردی کے متاثرین کی یاد اور انہیں خراجِ عقیدت پیش کرنے کے عالمی دن” کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں شہدا کے اہل خانہ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سیکیورٹی فورسز کے بسالت مند اہلکاروں اور عام شہریوں کی قربانیوں کو قوم قدر اور احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ قربانیاں ہماری قومی یادداشت کا مستقل حصہ ہیں۔

وفاقی وزیرِ قانون نے اس بات پر زور دیا کہ متاثرین کو انصاف اور قانونی معاونت کی بروقت فراہمی ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کی بنیاد ہے، اور انتہا پسندی، عدم برداشت اور نفرت کے مکمل خاتمے کے لیے اجتماعی کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانون کی حکمرانی اور متاثرین کی بحالی کا مؤثر نظام حکومت پاکستان کی ترجیحات میں شامل ہے اور پاکستان امن، انسانی حقوق اور آئین کی پاسداری کے عزم پر قائم ہے۔

مغربِی کنارے میں اسرائیلی فوجی آپریشن: کرفیو کے باعث 40 ہزار فلسطینی گھروں تک محدود، انسانی بحران سنگین

محمود احمد, August 20,2026

اسلام آباد / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہِ انسانی امور (او سی ایچ اے) نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے الخلیل کے نزدیک الظاہریہ میں جاری اسرائیلی ملٹری آپریشن اور نافذ کردہ کرفیو کے نتیجے میں اندازاً 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہری اپنے ہی گھروں میں قید ہو کر رہ گئے ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی روزانہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز کی جانب سے علاقے میں عمارتوں کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کر دیے گئے ہیں اور سڑکوں کو مٹی کے ڈھیروں سے بند کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بچوں اور معمر افراد سمیت ہزاروں لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پا رہے اور نہ ہی انہیں خوراک، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی تک رسائی مل رہی ہے۔ او سی ایچ اے کے مطابق تقریباً سات فلسطینی گھروں کو فوجی پوچھ گچھ کے مراکز میں تبدیل کر دیا گیا ہے جبکہ خاندانوں کو ایک ہی کمرے میں بند کر کے رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ غزہ سٹی کی بندرگاہ کے قریب اسرائیلی فضائی حملے میں 7 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے، جس سے انسانی امدادی سرگرمیاں اور شہریوں کا محفوظ مقامات تک پہنچنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے تمام سیکیورٹی آپریشنز میں بین الاقوامی قوانین کے احترام اور عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کا آغاز: پبلک اناؤنسمنٹس میں کمی، ڈیجیٹل ڈسپلے پر انحصار بڑھے گا

محمود احمد, August 20,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ نے اپنے بین الاقوامی ٹرمینل نمبر 5 پر ’سائلنٹ ایئرپورٹ‘ پراجیکٹ کے پہلے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ہوائی اڈے پر غیر ضروری پبلک اناؤنسمنٹس اور شور و غل کو کم کر کے مسافروں کو ایک پرسکون، اور آرام دہ سفر کا ماحول فراہم کرنا ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس پراجیکٹ کے تحت اب بلند آواز میں ہونے والے اعلانات کو صرف ڈیپارچر گیٹس تک ہی محدود رکھا جائے گا۔ مسافروں کو فلائٹ سے متعلق تمام ضروری معلومات اور اپ ڈیٹس فراہم کرنے کے لیے اب جدید ڈیجیٹل ڈسپلے سکرینز اور مختلف آن لائن چینلز کا استعمال کیا جائے گا۔ مسافر ایئرپورٹ کے آفیشل واٹس ایپ نمبر، ویب سائٹ، موبائل نوٹیفیکیشنز اور ’آسک می‘ ٹیم کے ذریعے اپنی پروازوں کی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ باخبر رہ سکیں گے۔ ایئرپورٹ انتظامیہ نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کے اگلے مراحل کا اعلان طے شدہ وقت پر کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ عالمی سطح پر بھی بہترین خدمات کے لیے جانا جاتا ہے۔ برطانیہ کے عالمی ادارے ‘سکائی ٹریکس’ کے انڈیکس میں اس ایئرپورٹ نے مشرقِ وسطیٰ کے بہترین ایئرپورٹس میں چوتھی جبکہ 30 سے 40 ملین مسافروں کی کیٹیگری میں نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

بیجنگ: چینی صدر شی جن پنگ کا ہنگری کے نئے صدر اندریس باکا کو مبارکباد کا پیغام

محمود احمد, August 19,2026

اسلام آباد / بیجنگ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

چین کے صدر شی جن پنگ نے اندریس باکا کو ہنگری کے صدر کا عہدہ سنبھالنے اور منتخب ہونے پر مبارکباد کا کا پیغام بھیجا ہے। چینی صدر نے اپنے پیغام میں چین اور ہنگری کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تاریخی اور مضبوط شراکت داری قائم ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ ہنگری ان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا تھا، اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ سفارتی تعلقات کے قائم ہونے کے 77 سالوں کے دوران، دونوں ممالک نے ہمیشہ باہمی احترام، مساوات اور باہمی فائدے کے اصولوں کی پاسداری کی ہے، جس سے مختلف شعبوں میں نتیجہ خیز تعاون حاصل ہوا ہے۔

صدر شی نے مزید کہا کہ وہ چین اور ہنگری کے تعلقات کی ترقی کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں اور نئے صدر باکا کے ساتھ مل کر روایتی دوستی کو آگے بڑھانے، سیاسی اعتماد کو فروغ دینے، اور مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے خواہا ں ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دونوں ممالک کے عوام کی بہتری کے لیے “نئے عہد میں چین-ہنگری ہمہ موسمی جامع تزویراتی شراکت داری” کو پائیدار اور دور رس انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری کا ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے’ کا خیرمقدم: اسے ملک و خطے کی تاریخ کا سنگِ میل قرار دے دیا

کاشف عباسی , August 08,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کو ملکی تاریخ کی ایک عظیم اور اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں اور سلامتی مزید مضبوط ہوگی۔

پاکستان پیپلز پارٹی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان کے مطابق پی پی پی چیئرمین نے اپنے ردِعمل میں کہا کہ مکہ دفاعی معاہدہ تینوں برادر ممالک یعنی سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی کامل ضمانت ہے، جو عالمی اور علاقائی امن کے قیام کے لیے بھی ایک تاریخی دستاویز ثابت ہوگی۔

بلاول بھٹو زرداری نے اس معاہدے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی و دفاعی کاوشوں کی بھرپور پذیرائی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ خطے اور اسلامی دنیا میں پائیدار امن، تحفظ اور یکجہتی کا سنگِ بنیاد ثابت ہوگا۔

یاد رہے کہ مکہ مکرمہ کے قصر الصفا میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے درمیان کسی بھی ایک ریاست پر بیرونی مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس کا اجتماعی طور پر دفاعی جواب دیا جائے گا۔

او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ کی جانب سے ‘مکہ دفاعی معاہدے’ کا پرتپاک خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

اسلام آباد / جدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے پوری مسلم دنیا اور خطے کے لیے ایک سنگِ میل اسٹریٹجک پیش رفت قرار دیا ہے۔

او آئی سی کے آفیشل ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری کردہ تہنیتی اور خیرسگالی کے پیغام میں سیکرٹری جنرل نے اس عظیم پیش رفت پر مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے تینوں برادر اسلامی ممالک کی دانشمندانہ قیادت اور ان تھک کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جس کی بدولت یہ اہم اتحاد اور دفاعی معاہدہ ممکن ہو سکا۔

حسین ابراہیم طہٰ نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے اور پوری امتِ مسلمہ میں سلامتی، پائیدار امن اور سیاسی استحکام کے لیے ایک بنیاد اور کلیدی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔

سیکرٹری جنرل او آئی سی کا مزید کہنا تھا کہ ‘مکہ دفاعی معاہدہ’ عالمی و علاقائی سطح پر تیزی سے بڑھتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک کے درمیان یکجہتی، مشترکہ مفادات کے تحفظ اور تعمیری شراکت داری کو فروغ دینے کے پختہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ: بحرین کی جانب سے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تاریخی معاہدے کا خیرمقدم

محمود احمد, August 08,2026

منامہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

سلطنتِ بحرین نے سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان طے پانے والے تاریخی “مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے” کا پرجوش خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کے دفاعی توازن اور پائیدار امن کی سمت ایک انتہائی اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

بحرین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مکہ مکرمہ میں سعودی ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان، وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان کے دستخطوں سے طے پانے والا یہ معاہدہ وسیع علاقائی دفاعی نظام میں ایک کلیدی اضافہ ہے۔ بیان میں تینوں برادر ممالک کی شاندار دفاعی صلاحیتوں، سیکیورٹی انضمام اور پیش ورانہ عسکری مہارت کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا گیا ہے۔

بحرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ تاریخی دفاعی معاہدہ علاقائی سلامتی، باہمی استحکام اور عالمی بین الاقوامی ذمہ داریوں سے تینوں ممالک کی دیرینہ وابستگی اور ماضی کے شاندار ریکارڈ کا مظہر ہے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ تحریری شراکت داری خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اجتماعی دفاعی نظام کو بھی یکجہتی، ہم آہنگی اور اسٹریٹجک انضمام کے ذریعے مزید فعال اور مضبوط بنائے گی۔

سلطنتِ بحرین نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی سلامتی خود بحرین کی اپنی سلامتی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے، اور بحرین ان تمام اقدامات اور معاہدوں کی مکمل حمایت کرتا ہے جو قومی خودمختاری کا تحفظ یقینی بنائیں۔ بحرین نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ وہ علاقائی سالمیت کی پاسداری اور تمام تنازعات کے سیاسی و سفارتی حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرتا رہے گا۔

پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔

سانحہ براڈ پیک: جاں بحق کوہ پیماؤں کی میتیں اسلام آباد منتقل، ریکوری آپریشن مکمل

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

براڈ پیک پر پیش آنے والے المناک حادثے میں جان کی بازی ہارنے والے غیر ملکی و مقامی کوہ پیماؤں کی میتیں اسکردو سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچا دی گئی ہیں۔ دشوار گزار اور شدید برفانی علاقے سے میتوں کو نکالنے کا پیچیدہ آپریشن پاک فوج کے ہیلی کاپٹروں، تجربہ کار پاکستانی کوہ پیماؤں اور نیپالی شیرپاز کی مشترکہ کوششوں سے کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ 30 جولائی کو براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے باعث 10 کوہ پیما جاں بحق ہو گئے تھے، جس کے بعد کئی روز تک شدید ترین موسمی حالات کے باوجود ریسکیو اور ریکوری آپریشن جاری رکھا گیا۔ ریکور کی جانے والی میتوں میں نیپال سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما نرمل پورجا سمیت متعدد غیر ملکی کوہ پیماؤں کی میتیں شامل ہیں۔

حکام اور سفارتی ذرائع کے مطابق کوہ پیماؤں کی میتیں اب ان کے آبا و اجداد کے ممالک میں روانگی کے لیے تیار ہیں۔ نرمل پورجا کی میت جلد برطانیہ روانہ کی جائے گی جہاں انہیں مکمل فوجی اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کیا جائے گا۔ جبکہ چینی کوہ پیما کی میت چین اور نیپالی شیرپاز کی میتیں نیپال بھیجی جا رہی ہیں۔ اس سے قبل یکتا شیرپا کی میت نیپال اور عمانی خاتون کوہ پیما کی میت پہلے ہی عمان منتقل کی جا چکی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے دیگر کوہ پیماؤں کے جسدِ خاکی کی منتقلی کے تمام قانونی اور سفارتی مراحل تیزی سے طے کیے جا رہے ہیں۔ تاھم اس المناک حادثے میں تین افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی، ایک نیپالی شیرپا اور ایک امریکی خاتون کوہ پیما شامل ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری رکھا جائے گا۔

سری لنکا کی جیلوں میں بیک وقت ہنگامہ آرائی، کورووٹا جیل میں 2 قیدی ہلاک، متعدد زخمی

محمود احمد, August 07,2026

کولمبو (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سری لنکا کے شہر رتنا پورہ کے قریب کورووٹا جیل میں ہنگامہ آرائی کے دوران 2 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سری لنکا کے وزیرِ برائے امورِ عوامی سلامتی آنندا وجے پالا نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ کورووٹا جیل میں جمعے کی صبح تقریباً ساڑھے چھ بجے بدامنی شروع ہوئی، جس میں 2 قیدی ہلاک اور 13 دیگر زخمی ہوئے جو رتنا پورہ ٹیچنگ ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

ملک بھر کی جیلوں میں بیک وقت بدامنی

وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں نیگمبو، ماہارا، میگزین، کورووٹا اور پالانسینا سمیت متعدد جیلوں میں بدامنی رپورٹ ہوئی ہے، جو مربوط انداز میں پیش آنے کے شواہد ملنے پر تخریب کاری اور سازش کا شبہ ظاہر کرتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان واقعات کے فوری محرکات منشیات اور جرائم پیشہ سرگرمیوں سے جڑے ہیں۔

وزیر کے مطابق میگزین جیل میں تقریباً 40 قیدیوں نے جمعرات رات ساڑھے دس بجے ایک وارڈ سے فرار کی کوشش کی، جس میں ایک قیدی ہلاک اور 10 دیگر زخمی ہوئے۔ پالانسینا جیل میں تقریباً 30 قیدی ناشتے کے بعد جیل کی چھت پر چڑھ گئے اور اندر واپس جانے سے انکار کر دیا، جہاں پولیس اور جیل حکام صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کی یقین دہانی

وزیر نے کہا کہ سکیورٹی فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ صورتحال پر قابو پاتے ہوئے قیدیوں کی جان کی حفاظت کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ باقی تمام جیلوں کے واقعات پر قابو پا لیا گیا ہے اور عوامی سلامتی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

سی پیک زرعی تعاون: چین کی جانب سے پاکستان کو جدید زرعی مشینری کے 258 یونٹس موصول

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زرعی تعاون پروگرام میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر چین سے جدید زرعی مشینری اور آبپاشی کے آلات کے 258 یونٹس پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد ملک کے زرعی شعبے کو جدید اور سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ تمام جدید آلات پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل (پارک) کے ایگریکلچرل انجینئرنگ انسٹی ٹیوٹ نے نیشنل ایگریکلچرل ریسرچ سینٹر (نارک) اسلام آباد میں موصول اور اسمبل کیے۔ باضابطہ افتتاح کے بعد اس مشینری کو پارک اور تمام صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کو 75، سندھ کو 45، خیبرپختونخوا کو 38، بلوچستان کو 36 جبکہ پارک کو 64 یونٹس فراہم کیے گئے ہیں۔

موصول ہونے والے 258 یونٹس میں 9 مختلف اقسام کی مشینری شامل ہے، جن میں 40 ٹریکٹر، 20 روٹری ٹلرز، 30 روٹری ٹلج فرٹیلائزر ڈرلز، 40 کرالر ٹائپ رائس-ویٹ کمبائن ہارویسٹرز، 8 کارن ہارویسٹرز، 40 انٹر ٹلج ویڈرز، 40 ٹرمرز، 20 ہوز ریل آبپاشی نظام اور 20 شمسی توانائی سے چلنے والے واٹر پمپنگ سسٹمز شامل ہیں۔

یہ تمام معاونت وزیراعظم کے زرعی جدیدکاری اقدام کا حصہ ہے جسے حال ہی میں منظور ہونے والی قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2026ء اور قومی سیڈ پالیسی 2026ء کی مکمل حاصل ہے۔ ان پالیسیوں کے تحت اعلیٰ کوالٹی کے بیج، جینیاتی تحقیق اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کے تجارتی فروغ کے لیے فریم ورک فراہم کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کا ایک اہم ترین پہلو پارک اور چائنیز اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز (سی اے اے ایس) کے درمیان سٹریٹجک شراکت داری ہے۔ حکومت نے پارک کو سی اے اے ایس کی طرز پر ازسرِنو منظم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نارک اسلام آباد میں پانچ جدید ‘سینٹرز آف ایکسی لینس’ قائم کیے جا رہے ہیں جو جینوم تحقیق، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈرونز، روبوٹکس اور زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ پر کام کریں گے۔

علاوہ ازیں، وزیراعظم کے ایک ہزار پاکستانی زرعی گریجویٹس کو چین بھیجنے کے تربیتی پروگرام کے تحت اب تک 885 گریجویٹس اپنی تربیت مکمل کر چکے ہیں جبکہ باقی 115 گریجویٹس جلد چین روانہ ہوں گے۔ یہ تمام تربیت یافتہ ماسٹر ٹرینرز ملک بھر کے کسانوں، محققین اور زرعی اداروں کو جدید ٹیکنالوجی سے روشناس کرائیں گے۔

ایرانی ویمن فٹبالرز فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ کو آسٹریلیا کی شہریت مل گئی

محمود احمد, August 07,2026

تہران / برسبین (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

ایرانی ویمن فٹبال ٹیم کی دو اہم کھلاڑیوں فاطمہ پسندیدہ اور عاطفہ رمضانی زادہ نے باضابطہ طور پر آسٹریلیا کی شہریت حاصل کر لی ہے۔ دونوں کھلاڑیوں نے رواں برس کے آغاز میں ایرانی حکومت پر شدید تنقید کی تھی جس کے بعد سے وہ غیر یقینی صورتحال کا شکار تھیں۔

22 سالہ فاطمہ پسندیدہ اور 34 سالہ عاطفہ رمضانی زادہ نے ریاست کوئنزلینڈ کے شہر برسبین میں منعقدہ ایک سرکاری تقریب کے دوران آسٹریلیا کے وزیرِ امیگریشن ٹونی برک کے ہاتھوں شہریت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر ان کے دوست احباب اور برسبین میں مقیم ایرانی برادری کے افراد نے بھی شرکت کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔

شہریت کا حلف اٹھانے کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عاطفہ رمضانی زادہ کا کہنا تھا کہ یہ دن ان کی زندگی کا ایک یادگار اور ناقابلِ فراموش لمحات میں سے ایک ہے، آسٹریلیا نے انہیں ایک نئی زندگی شروع کرنے کا بہترین موقع فراہم کیا ہے، تاہم ان کی ایرانی شناخت ہمیشہ ان کے وجود کا حصہ رہے گی۔ اسی طرح فاطمہ پسندیدہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی ماہ کی مشکلات اور تشویش کے بعد یہ دن ان کے لیے بے حد خوش آئند ہے اور وہ خود کو بے حد خوش نصیب محسوس کر رہی ہیں۔

واضح رہے کہ یہ دونوں کھلاڑی ان سات ایرانی فٹبالرز کے گروپ میں شامل تھیں جنہیں رواں برس مارچ میں ویمنز ایشین کپ کے دوران آسٹریلوی حکومت کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، دیگر پانچ خواتین کھلاڑیوں نے بعد ازاں اپنا ارادہ تبدیل کر کے ایران واپس جانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان دونوں کھلاڑیوں کو شہریت ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب آسٹریلوی حکومت اپنے ویزا قوانین سخت کرنے اور امیگریشن کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ آسٹریلیا میں مقیم یہ دونوں ایرانی فٹبالرز اس وقت اے لیگ ویمنز کلب ‘برسبین روار’ کے ساتھ اپنی تربیت جاری رکھے ہوئے ہیں اور وہ آسٹریلیا میں ہی اپنے پیشہ ورانہ فٹبال کیریئر کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی پہلی پختون خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی عہدے سے ریٹائر، فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد

کاشف عباسی , August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

سپریم کورٹ آف پاکستان کی ممتاز اور خیبرپختونخوا سے تعاق رکھنے والی پہلی خاتون جج جسٹس مسرت ہلالی اپنی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد عہدے سے ریٹائر ہو گئی ہیں۔ ان کے اعزاز میں سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان کی زیرِ صدارت فل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

اس تاریخی و وقار تقریب میں سپریم کورٹ کے ججز، لاء افسران اور وکلا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز نے اسلام آباد سے بالمشافہ شرکت کی جبکہ 4 ججز نے کراچی اور 3 ججز نے لاہور رجسٹری سے ویڈیو لنک کے ذریعے حصہ لیا۔

اپنے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس مسرت ہلالی جذبات سے مغلوب ہو گئیں اور اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین کی بے حد مشکور ہیں جن کی تربیت، دعاؤں اور رہنمائی کی بدولت وہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچیں۔ اپنے والد کا ذکر کرتے ہوئے ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ کم وقت گزارنے کا موقع ملا لیکن زندگی کے اہم اسباق انہی سے سیکھے۔ انہوں نے بتایا کہ جب وہ جج مقرر ہوئیں تو اسی دوران ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا جس کا دکھ انہیں آج بھی ہے کہ وہ اپنی والدہ کو اس منصب پر فائز نہ دیکھ سکیں۔

جسٹس مسرت ہلالی نے چیف جسٹس پاکستان اور تمام ساتھی ججز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی دوستی، اعتماد اور تعاون نے ہر مرحلے پر ان کو حوصلہ دیا۔ اپنے عدالتی سفر کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ خیبرپختونخوا کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے بار کا انتخاب جیتا، جس کے بعد وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس اور پھر صوبے سے سپریم کورٹ کی پہلی خاتون جج بننے کے تاریخی اعزاز کی حامل رہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ججز آتے جاتے رہتے ہیں لیکن آئین اور انصاف کی حکمرانی ہمیشہ قائم رہنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مکمل اطمینان کے ساتھ ریٹائر ہو رہی ہیں کیونکہ جو کچھ بھی انہوں نے حاصل کیا وہ والدین کی دعاؤں، محنت اور ساتھی ججز کی حمایت سے ممکن ہوا۔

فل کورٹ ریفرنس کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی قانون، عدالتی خدمات، اعلیٰ پیشہ ورانہ دیانت اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کے کلیدی کردار کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

بھارت میں سنسنی خیز واقعہ: گجرات کے ضلع موربی میں کنویں کے اندر پانی میں بے تحاشا ہلچل، سائنسدان اور زلزلے کے ماہرین بھی حیران

محمود احمد, August 07,2026

گجرات (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

بھارتی ریاست گجرات کے ضلع موربی کے ایک گاؤں ویرپارڈا میں پیش آنے والے ایک عجیب و غریب اور پرسرار واقعے نے مقامی آبادی سمیت ماہرین اور انتظامیہ کو حیرت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک کسان پران جیون بھائی سردیا کے کھیت میں واقع 18 فٹ گہرے کنویں کے اندر گزشتہ پانچ دنوں سے پانی میں غیر معمولی تسلسل کے ساتھ لہریں اور شدید ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔

زمین میں زلزلے کا خوف اور مقامی لوگوں کا ہجوم

واقعہ دو اگست سے شروع ہوا جب کسان نے دیکھا کہ کنویں کا پانی مسلسل اچھل رہا ہے اور کنویں کے کناروں سے باہر گر رہا ہے۔ یہ خبر پھیلتے ہی آس پاس کے دیہاتوں سے بڑی تعداد میں لوگ اس پرسرار منظر کو دیکھنے کے لیے جمع ہو گئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کچھ لوگوں میں زلزلے یا پراسرار زمینی تبدیلیوں کے حوالے سے افواہیں پھیلنے لگیں۔

سائنسدانوں اور ماہرین ارضیات کی ابتدائی تحقیقات

عوام میں پھیلتی تشویش کے بعد ضلعی کلیکٹر سواپنل کھارے اور جیولوجسٹ جے ایس وادھیر کی قیادت میں ماہرین نے موقع کا معائنہ کیا۔

ماہرین ارضیات نے گاندھی نگر کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے مشاورت کے بعد واضح کیا ہے کہ اس علاقے میں زلزلے کا کوئی اثر یا زیرِ زمین فالٹ لائن موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق:

علاقے میں ہونے والی شدسد بارشوں کے بعد زیرِ زمین پانی کا لیول تیزی سے بڑھا ہے، جس کی وجہ سے چٹانوں کے مساموں میں موجود ہوا پر دباؤ پڑا اور وہ کنویں کے راستے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے پانی میں یہ ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔

اس کے علاوہ شاہراہ کے قریب ہونے کے باعث تیز ہوا کا بہاؤ اور زیرِ زمین دباؤ بھی اس لہر جیسے اثر کا سبب بن رہا ہے۔

جامع تحقیقات کی ہدایت

ضلعی انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔ گجرات حکومت کی خصوصی سائنسی ٹیم کو سائٹ کے تفصیلی معائنے اور حتمی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے۔

سول ایوارڈز کا مقصد قومی ہیروز کا اعتراف اور آنے والی نسلوں کی حوصلہ افزائی ہے: پروفیسر احسن اقبال

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی نے آئینِ پاکستان اور مقررہ قانونی ضوابط کے مطابق سائنس، تعلیم، ادب، فن اور عوامی خدمت کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات انجام دینے والی ممتاز شخصیات کی نامزدگیوں کا حتمی جائزہ لے لیا ہے۔

پاکستان سول ایوارڈز کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح خالص میرٹ کی بنیاد پر ان قومی ہیروز کو اعزازات سے نوازنا ہے جنہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں، انتھک محنت اور خدمات کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے۔

پروفیسر احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ جب کوئی قوم اپنے حقیقی معماروں اور محسنوں کی خدمات کا اعتراف کرتی ہے، تو یہی عزت و احترام آنے والی نسلوں کے لیے تحریک، حوصلہ اور وطنِ عزیز کی خدمت کے جذبے کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ بنتا ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ سول ایوارڈز کی فراہمی کا عمل مکمل شفافیت، انصاف اور میرٹ پر استوار رکھا جائے گا تاکہ ملک کے حقیقی محسنوں کی پذیرائی ممکن ہو سکے۔

کنگڈم ویلی فراڈ اسکینڈل: قومی احتساب بیورو کی تحقیقات شروع، متاثرین سے درخواستیں طلب

منصور احمد, August 07,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 07 اگست 2026ء

قومی احتساب بیورو (نیب) نے کنگڈم ویلی پرائیویٹ لمیٹڈ اور دیگر کے خلاف عام شہریوں سے دھوکہ دہی کے ذریعے کروڑوں روپے ہتھیانے اور سنگین خرد برد کے الزامات پر باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

نیب کے ریجنل بیورو اسلام آباد/راولپنڈی کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق اس نجی ہاؤسنگ منصوبے کے متاثرین کو کہا گیا ہے کہ وہ ایک ماہ کے اندر اپنی تمام تر تحریری درخواستیں اور ثبوت نیب دفاتر میں جمع کروائیں۔

نیب حکام کے مطابق متاثرین اپنی درخواستوں کے ساتھ اپنے قومی شناختی کارڈ کی کاپی، بیانی حلفی، سرمایہ کاری کا باقاعدہ معاہدہ، اصل الاٹمنٹ لیٹر اور بینک ادائیگیوں کی تمام تر رسیدیں و ثبوت لازمی منسلک کریں۔ اس اقدام کا مقصد عوام الناس کی محنت کی کمائی کو فراڈ سے بچانا اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔

اسلام آباد میں جدید ترین آئی ٹی پارک کا باقاعدہ افتتاح جلد ہوگا: وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کا دورہ اور تعمیراتی کام کا جائزہ

روزینہ اسماعیل, August 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں زیرِ تعمیر ملک کے سب سے بڑے اور جدید ترین آئی ٹی پارک کا تفصیلی دورہ کیا اور جاری تعمیراتی کام کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران انہوں نے عمارت کے مختلف فلورز کا معائنہ کیا، جبکہ متعلقہ حکام نے انہیں منصوبے کی تکمیل، کام کی رفتار اور مختلف شعبہ جات کے حوالے سے جامع بریفنگ دی۔

وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیر نے کام کے معیار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے تعمیراتی اور تکمیلی امور کو مزید معیاری بنانے کے لیے خصوصی ہدایات جاری کیں۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ جدید ترین سہولیات سے آراستہ یہ آئی ٹی پارک وزیراعظم پاکستان کی جانب سے ملک کے ہونہار نوجوانوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے ذریعے پاکستانی جدید ٹیکنالوجی تک برابری کی رسائی حاصل کر کے عالمی سطح پر روزگار کے نئے مواقع تلاش کرے گی اور قومی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد میں قائم ہونے والا یہ آئی ٹی پارک ملک میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے فروغ، بین الاقوامی معیار کے انفراسٹرکچر اور روزگار کی فراہمی میں سنگِ میل ثابت ہوگا، اور اس اہم قومی منصوبے کا باقاعدہ افتتاح بہت جلد متوقع ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔